سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

(13)حضرت زہرا (سلام الله) کی باہدف عزاداری - محمد عباس ہاشمی

قرآن کریم فرماتا ہے:النَّبِىُّ اوْلى‏ بِالْمُؤْمِنينَ مِنْ انْفُسِهِمْ‏ "(احزاب/ 6) پیغمبرؐ مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں" پیغمبر ؐ مومنین پر اولٰی ہیں ، پیغمبرؐ کا مومنین کے جان و مال میں تصرف کا ارادہ خود ان مومنین کے ارادے پر مقدم ہے ،پیغمبر ؐکا مومنین پر حق ہے کہ جو خود مومنین کے اپنے آپ پر حق سے زیادہ ہے یعنی ہم سب اپنی جان کے مالک ہیں ، اپنی دولت کے مالک ہیں ، اپنے احترام اور عزت و آبرو کے مالک ہیں لیکن پیغمبر ؐہم پر ، ہمارے مال و دولت پر اورہماری عزت و آبرو پر مالکیت کا حق رکھتے ہیں اور پیغمبر ؐ کا یہ حق ملکیت خود ہمارے اپنے حق ملکیت سے زیادہ قوی ہے ۔ بظاہر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی جان اور دولت کے اس طرح مالک نہیں ہیں کہ جہاں دل چاہا وہاں اسے استعمال کر لیا حتی اپنی حقیقت کے مالک بھی نہیں ہیں بعض روایات میں ہے کہ مومن کی آبرو بھی اس کے اختیار میں نہیں ہے لیکن پیغمبر ؐمومنین کی جانوں پر اولویت رکھتے ہیں یعنی جہاں مصلحت کا تقاضا ہو وہاں مومنین کی جانوں کو بھی قربان کر سکتے ہیں ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر ؐ مومنین کی جانوں پر حق تصرف رکھتے ہیں تو یہ حق کب ہے اور اس کا نفع کسے ہے ؟! معاذ اللہ! خدا نے پیغمبر ؐکے ذاتی اورشخصی منافع کی حفاظت کے لیے یہ حق نہیں قرار دیا کہ وہ تمام مومنین کو مثال کے طور پر اپنی جان بچانے کے لیے قربان کر دیں ؟!۔۔ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ پیغمبر ؐچونکہ مسلمانوں کے ولی امر ہیں ، پیغمبر ؐ امت کے سرپرست اور سرور ہیں اور چونکہ اجتماعی مصلحتوں کا خیال رکھنا ان کا الٰہی فریضہ ہے لہٰذا اس اعتبار سے اللہ نے انہیں یہ حق عطا کیا ہے کہ جہاں اجتماعی مصلحت کا تقاضا ہو وہاں ایک فرد کو پورے معاشرے پر قربان کر دیں اور اس امر کے سب لوگ قائل ہیں ۔
ہمارے لیے سوچنے کی بات یہی ہے کہ کیا یہ صرف پیغمبر ؐ کا حق ہے یا امام ؑ کو بھی منتقل ہوتا ہے اور امام زمانہ (علیه السلام) کی غیبت کبریٰ کے زمانے میں مجتہد جامع الشرائط اور ولی فقیہ کے پاس بھی یہی حق ہے مندرجہ بالا تمہید کے بعد بخوبی اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ پیغمبر ؐ کو یہ حق معاشرے کا شرعی کفیل ہونے کی بنیاد پر عطا کیا گیا ہے اور یہ شرط پیغمبر ؐ کے حقیقی جانشینوں میں بھی موجود ہے یعنی امام بھی پیغمبر ؐ کے بعد معاشرے کا الٰہی سرپرست اور شرعی حاکم قرار پاتا ہے لہٰذاامام ؑ کا بھی یہ حق ہے کہ مصلحت عامہ کے تحت فرد کو معاشرے پر قربان کر کے اسے حیات نو بخش دے اور ظاہر سی بات ہے کہ جب تک اجتماع ہے اس کے لیے ہادی کی ضرورت ہے ، جب تک اجتماع ہے اس کے لیے معصوم رہبر کی ضرورت ہے خواہ وہ ظاہر اور مشہود ہوں اور خواہ غیبت کے دبیز پردوں کے پیچھے ہوں اور یہ امر بھی بالکل معقول نہیں ہے کہ الٰہی پیغمبر یا معصوم ؑرہبر کے زمانہ غیبت میں اجتماع کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے ، اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مامور نبی ؑاور منصوص امام کی الٰہی تعلیمات سے ہٹ کر معاشرے کو انسانی تصورات کی خام خیالیوں کے گرد پرواز کرنے والے طائرگم شدہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے لیکن دوسری طرف سے معصومین ؑ کی جلائی ہوئی مشعل ہدایت کو بجھا دینا بھی درست نہیں ہے بلکہ ایک ایسے رہنما کی ، ایک ایسے رہبر کی ایک ایسے با بصیرت اور باکردار انسان کی ضرورت ہے جس کے ہاتھ میں نبوت و امامت کی تعلیمات سے روشن و منور چراغ ہدایت ہو ،وہ خود بھی اس کے نور کی اقتدا کرے اور نورانی ہستیوں کی نورانی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے نتیجے میں عطا ہونے والی اعلیٰ ترین عدالت کی بدولت نفسانی خواہشات کو پاؤں تلے روند کرپورے اجتماع کو بھی اس صراط مستقیم پر چلائے جو نبی ؑو امامؑ کا راستہ ہے ، جو الٰہی آئین و قانون کا راستہ ہے ، جو اسلام و قرآن کا راستہ ہے ۔۔۔بلا شک و تردید یہ وہی راستہ ہے جو دنیوی فلاح اور اخروی سعادت پر منتہی ہوتا ہے چونکہ یہاں شخص کی حکومت نہیں بلکہ احکام الٰہی کا نفاذ ہے جن کا ولی فقیہ بھی پابند ہے اور ایک عام شخص بھی چنانچہ طول غیبت کبریٰ میں اسلام کے اس آئیڈیل نظام کی عملی تعبیر ایران کا اسلامی انقلاب ہے کہ جس نے عالمی استکبار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ۔ 
اب کسی اسلامی ملک بالخصوص پاکستان کے اندر اس بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ کون سا نظام ہونا چاہیے جب کہ ملکی آئین کا آغاز ہی اسی جملے سے ہوتا ہے کہ "اقتدار اعلیٰ کی مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور عوامی نمائندے بطور امانت اس کے احکام کا نفاذ کریں گے "اس کا معنی یہ ہوا ہے کہ اقتدار اللہ کا ہے اور جو صحیح معنوں میں الٰہی حکومت قائم کرے وہ خلیفۃ اللہ ہے ، جب وہ خلیفۃ اللہ ہے تو اس کی اطاعت لازم ہے ۔۔۔انسان کو مسجود ملائکہ قرار دئیے جانے کا سبب خلافت الٰہی ہے ،انسان کی قدرو منزلت اور کرامت کا سبب یہی ہے کہ اللہ نے اسے خلافت کی خلعت فاخرہ سے نوازا ہے ۔ اگر انسان کی کرامت خدا کی خلافت کے سبب ہے اور وہ خلیفۃ اللہ ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مالک کا سخن نقل کرے ، اپنی انا کو مٹا کر اپنے مالک کی تعلیمات کو اپنائے اور ہر ہر قدم پر اپنے مالک کی رضا یت یا ناراضگی کو مد نظر رکھے اگر وہ اس معیار پر پورا اترے تو وہ خلیفۃ اللہ ہے اور اسے ظل الٰہی کہنا بھی درست ہے ۔ 
لیکن اگر اس نے امانت میں خیانت کی اور اللہ تعالیٰ کے قوانین نافذ کرنے کی بجائے مسند اقتدار کی نام نہاد مصلحتوں کی دلدل میں دھنس گیا ، بے گناہوں کو تہ تیغ کیا ، خلافت کے نام پر ملوکیت اور قیام امن کے نام پر بد امنی کو ہَوا دی تو وہ یقینی طور پر خلیفۃ اللہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی اطاعت فرض ہے بلکہ وہ ظالم ہے جس پر خدا و رسول ؐ کی لعنت ہے اور آخرت میں اس کا ٹھکانہ دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے چونکہ اس کے باقی ظلم و ستم اپنی جگہ پر لیکن اس کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ دین کے نام پر حکومت کر رہا ہے ، درباری فتوؤں کے سہارے اپنے موروثی اقتدار کی بنیادیں مستحکم کر رہا ہے ، اپنی سلطنت و اقتدار کو دوام دینے کے لیے حقیقی دینی تعلیمات مسخ کر رہا ہے ۔
اسی لیے امام جعفر صادق ؑ نے زرارۃ کو زمانہ غیبت میں دعائے معرفت اللّهمّ! عرّفني نفسك... پڑھنے کی تلقین کی ، اس دعا کا مضمون یہ ہے علمائے اعلام اور مومنین عظام امام زمانہ ؑ کے خلفا ہیں ، اگر انہیں امامؑ کی ہی معرفت نہیں ہوگی تو وہ امام کے امور کو کیسے نافذ کریں گے اور جب امامؑ کے احکامات کو نافذ نہ کر سکے تو ان کی حرمت و کرامت باقی نہیں رہےگی ۔ اسی طرح امام ؑبھی پیغمبر کے خلیفہ ہیں،اگر انہوں نے پیغمبر ؐکو نہیں پہچانا تو امامؑ کو بھی نہیں پہچان پائیں گے۔خلافت و امامت کے مقابل ملوکیت کے صف آراء ہونے کی وجہ ہی یہی تھی کہ ان لوگوں کو پیغمبر ؐکی حقیقی معرفت ہی نہیں تھی اور ان کا خیال تھا کہ وہ بھی دوسرے بادشاہوں کی طرح ایک حاکم تھے ، ان کے دنیا سے جانےکے بعد ہم خود طے کریں گے کہ کسے حاکم بننا ہے حالانکہ غدیر میں پیغمبر ؐ نے تا قیام قیامت امت کے لیے رہبری کا مسئلہ حل کر دیا تھا ۔ 
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جس قدر ناقہ حکومت پر سواری کے لیے خون ریزی ہوئی ہے کسی اور مسئلے کے لیے نہیں ہوئی، صدر اسلام میں بڑے بڑے صحابہ ، چوٹی کے محدثین اور مایہ ناز حفاظ کرام اس سرکش سواری کو رام کرنے کی کوششوں میں کام آئے ۔۔۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ امر حکومت کی طول تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت تھی پس یقینی طور پر اسلام کو جو امن و سلامتی کا دین ہے اور شکم مادر سے قبر کی لحد تک انسان کو دستور عمل دیتا ہے ، ناقہ حکومت رام کرنے کے لیے ایک انتہائی اعلیٰ پائے کا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے کہ جس کے بعد کسی بھی شک و شبه کی گنجائش نہ ہو اور اس کے بعد حد اعتدال سے تجاوز کرنے والے خدا و رسول ؐکے کھلم کھلادشمن قرار پائیں ۔۔۔قابل غور بات یہ ہے کہ زمانہ رسول اکرم ؐ میں کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ پیغمبر ؐ کا فریضہ احکام دین پہنچانا ہے لہٰذا وہ لوگوں کو دین کی تعلیمات سے روشناس کرائیں اور حکومت کے لیے ہم اپنے میں سے کسی شخص کوانتخاب کر لیں گے بلکہ ہر شخص کا یہی خیال تھا کہ جب ایسی اعلیٰ و بالا ہستی موجود ہے کہ جس کا عالم وحی کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے تو ان سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جو لوگوں کی زمام امور اپنے ہاتھ میں لے تو پیغمبر ؐ کے بعد بھی جب وہ ہستی موجود ہو جو کہے کہ میں زمین کے راستوں سے زیادہ آسمان کے راستوں سے واقف ہوں تو پھر کسی کو مقدم کرنے کی گنجائش نہیں رہتی چنانچہ عامہ و خاصہ سے منقول احادیث پیغمبر ؐ کی روشنی میں جس طرح زمانہ رسول ؐمیں حق حکومت صرف پیغمبر ؐ کو حاصل تھا تو ان کے بعد یہ حق صرف ان بارہ خلیفوں کو ہی ہے کہ جن کے نام و اوصاف ، القاب و کنیّات اور حسب ونسب سے پیغمبر ؐ امت کو آگاہ کر چکے ہیں ۔۔۔وہی بارہ خلفا کہ جن کے بارہویں کا ساری دنیا کو انتظار ہے ، اہل اسلام اس ذات کو امام مہدیؑ کے نام سے پکارتے ہیں ، یہودی انہیں ماشیح بن داؤود مانتے ہیں ، عیسائیوں کے نزدیک وہ فارقلیط ہیں ، زرتشتوں کے نزدیک ان کا نام سوشیانت ہے اور ہندو انہیں رام کی بارہویں تجلی قرار دے کر ان کی "شمشیر بکف گھڑ سوار" مورتی مندروں میں پوج رہےہیں ۔۔۔اگر ہم ان سب ادیان و مذاہب کے علما کو جمع کر کے یہ دعوت دیں کہ ہم سب ایک ایسے عالمی مصلح کا انتظار کر رہے ہیں کہ جس کے ہدف پر بھی ہمارا اتفاق ہے ۔۔۔دوسری طرف سے دنیا میں ظلم و ستم اور قتل و غارت کا بھی دورہ دورہ ہے تو کیوں نہ ہم مل بیٹھ کر کسی اعلیٰ و ارفع اور با کردار انسان کو دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے اپنا رہبر بنا لیں ۔۔۔!!!تو ہر قوم و ملت کے عالم کا یہی جواب ہو گا کہ وہ بارہواں ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے آئے گا ،یہی ایک نکتہ اگر اہل اسلام کی سمجھ میں آ جائے تو مسلمانوں کے اندر وحدت کلمہ کا خواب پورا ہو سکتا ہے کہ جب بارہواں امام مل بیٹھ کر نہیں بنایا جا سکتا تو پھر پہلا امام کس طرح سے شوریٰ کے ذریعے مقرر ہو سکتا ہے !!!
بہر حال ہم تمام اہل اسلام کے نظریات کا احترام کرتے ہیں ،کسی پر اپنا عقیدہ مسلط نہیں کرتے لیکن اپنے عقیدے کا قرآن و سنت سے اثبات بھی اپنا حق سمجھتے ہیں جس سے ہمیں مملکت خداداد پاکستان کی درسگاہوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب تعلیم میں محروم کیا جا رہا ہے چونکہ صرف ایک مسلک کی اسلامیات کو لازمی مضمون کے طور پر سب اہل اسلام کے لیے تدریس کیا جا رہا ہے ، اگر آپ نے ملک کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر وحدت و اتحاد کو فروغ دینے کی غرض سے صرف ایک ہی اسلامیات اور تاریخ اسلام تجویز کی ہے تو کم از کم اسے فرقہ واریت سے تو پاک کیجیے چونکہ موجودہ نصاب کی تیاری میں صرف ایک افراطی مسلک کی خدمات حاصل کی گئی ہیں کہ جو ان اعمال کو کھلم کھلا شرک و بدعت اور انہیں بجالانے والوں کو کافر و مشرک اور مرتد قرار دینے کی مذموم کوشش کر کے مسلمانوں کو پارہ پارہ کرنے کے حوالے سے عالمی استعمار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ،جو اعمال پاکستان میں بسنے والی بریلوی مسلک کی پیروکار اہل سنت اکثریت کے ساتھ ساتھ ملک کے دوسرے بڑے اسلامی مذہب شیعہ خیر البریۃ کے نزدیک مستحب ،پسندیدہ اور مأثور و مسنون اعمال ہیں ۔۔۔اگر فوری طور پر انتہا پسندانہ نظریات سے مملوّاس نصاب کی جگہ تمام اسلامی فرقوں کے لیے قابل قبول نصاب مرتب نہ کیا گیا یا پھر ہر مسلک کے لیے اس کے نظریات پر مشتمل علیٰحدہ اعتدال پسند نصاب رائج نہ ہوا تو آئندہ چند برسوں کے بعد انتہا پسندی اور شدت پسندی کا عفریت اپنی پوری قوت سے ظاہر ہو گا کہ جس پر کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا ۔ شاید یہی وہ خطرات و خدشات تھے کہ جن کی نزاکت کا شدت سے احساس کرتے ہوئے شمالی علاقہ جات سے شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی نے نہ صرف تحریک نصاب کی داغ بیل ڈالی بلکہ اس کی اپنے پاکیزہ لہو سے آبیاری کی اور شہید کے بعد ہمارا شیعہ رہنماؤں سے تقاضا ہے کہ اس مشن کو پوری قوت سے آگے بڑھایا جائے ۔ 
آج ہم میلاد امام زمانہ (علیه السلام) اس حال میں منا رہے ہیں کہ ملک کی داخلی صورتحال انتہائی انتشار ،خلفشار اور لاقانونیت کا شکار ہے ، عدلیہ اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزی آچکی ہے ۔ ایک ادارہ قانون کی بات کرتا ہے تو دوسرا بھی اپنے دفاع میں آئین کاسہارا لیتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ قانون میں ابہام رہتا ہے اس کی شقوں کو کسی کے حق میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور در عین حال اس کے خلاف بھی ،اسی لیے آیۃ ا۔۔جوادی فرماتے ہیں کہ معاشرے کو قانون کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا بلکہ معاشرے کے نظم و نسق پر اخلاق کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اگر ہر شخص اپنی اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرے تو بحرانی صورتحال یکسر ختم ہو سکتی ہے ۔۔۔جب تک ہماری قوم میں فرد پر اجتماع کو قربان کرنے کی روایت رہے گی اصلاح احوال نہیں ہو سکتی ۔ اللہ نے یہ حق اولویت اپنے نبی ؐ ، پھر امام ؑ اور پھر ان کے نائبین برحق کے لیے رکھا ہی اسی لیے ہے تاکہ اجتماع کسی آفت کا شکار نہ ہونے پائے ۔ اسلام کی نگاہ میں جو شخص مجرم ہے ، وہ مجرم ہے خواہ اس کا کتنا ہی بڑا عہدہ کیوں نہ ہو ، اسی طرح توہین شدہ ، توہین شدہ ہے خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو ، جس طرح ہر مجرم کے لیے سزا کا قائل ہے اسی طرح ناجائز ہتھکنڈوں سے کسی کی ٹوپی اچھالنے والے کا راستہ بھی روکتا ہے ،یہ امر قطعی طور پر قرآن و سنت کے خلاف ہے کہ ایک بہت بڑے عہدے پر فائز شخص کو بالکل بری الذّمہ قرار دیا جائے اور اگر کسی چھوٹے لیول کے شخص کی توہین ہو جائے تو اسے توہین ہی نہ سمجھا جائے چونکہ اسلام میں معیار عہدہ ، مسند یا اسٹیٹس نہیں بلکہ صرف کلمہ شہادتین ہے جو بھی اس دائرے میں آ گیا اس کی جان ، مال اور عزت و ناموس محترم ہے اور سب مومن آپس میں بھائی ہیں جن میں نفرت کا بیج بونا جائز نہیں ہے بلکہ اگر دو بھائیوں میں اختلاف ہو جائے تو اسے بہترین حکمت عملی کے ساتھ دفع کیا جا سکے تاکہ سارے مسلمان دشمن کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں ۔
دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں دیگر اہل وطن کی نسبت شیعہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں لیکن رہنماؤں کے صبر و استقامت کی وجہ سے دہشت گرد ٹولے بے نقاب ہو چکے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ ملکی ستون باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دشمن کے آلہ کار دہشت گردوں اور ان کے بیرونی آقاؤں سے لا تعلقی کا اظہار کریں اور انہیں قرار واقعی سزا دیں ۔ 
دعا ہے کہ خداوند عالم ہمیں اپنے نبی ؐ کی اور اپنے مقرر کردہ امام ؑ کی معرفت عطا فرمائے تاکہ ہم زمانہ غیبت میں ان کے نائبین کی معرفت حاصل کر سکیں ۔