سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2020/8/5 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    یکم ذیقعدہ (1436ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر



    یکم ذیقعدہ (1436ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر

    امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے فرزندوں میں سے دو فرزند ـ یعنی امام علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) اور حضرت فاطمۃالکبری (معصومہ) (سلام اللہ علیہا) ممتاز خصوصیات کے حامل ہیں تا کہ والد کی شہادت کے بعد راہ امامت کا تحفظ کرسکیں۔ 

    حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) یکم ذوالقعدۃالحرام سنہ 173 ہجری کو مدینہ منورہ میں متولد ہوئیں۔ آپ کی والدہ حضرت سیدہ نجمہ خاتون (سلام اللہ علیہا) تھیں یوں ان دونوں نے ایک ہی والدہ کی آغوش میں پرورش پائی۔ 

    یہ وہ زمانہ تھا کہ ان کے والد ماجد حضرت امام موسی بن جعفر (علیہ السلام) مسلسل عباسی بادشاہوں کے اذیتکدوں میں اسیری کے ایام گذار رہے تھے اور بالآخر اسیری میں ہی جام شہادت نوش کرگئے؛ جبکہ حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) کی عمر ابھی 10 سال سے زیادہ نہ تھی چنانچہ آپ (سلام اللہ علیہا) کی پرورش کی ذمہ داری حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے سنبھالی۔ 

    حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مقام امام رضاؑ کی نظرمیں

    "معصومہ " کا لقب امام رضا علیہ السلام  نے اپنی بہن کو عطا کیااور فرمایا: " من زار المعصومہ بقم کمن زارنی"(ناسخ التواريخ، ج ٣، ص ٦٨، به نقل از كريمه اهل بيت، ص ٣٢) یعنی جس نے معصومہ کی قم میں زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔

    دوسری حدیث میں فرمایا: جو شخص میری زیارت کے لیے نہیں آسکتا ہے اسے چاہیے کہ شہر رے میں میرے بھائی کی یا قم میں میری بہن کی زیارت کرے۔( زبدة التصانيف، ج ٦، ص ١٥٩، به نقل از كريمه اهل بيت، ص ٣)

    حضرت کا معتبر زیارت نامہ

    سند زیارت

    حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی ایک معتبر زیارت ہے جسے علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں نقل فرمایا ہے۔ ہم پہلے اس کی سند پیش کرتے ہیں:

    علی ابن ابراہیم اپنے والد سے وہ سعد سے وہ امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد تمہارے نزدیک ہماری ایک قبر ہے !میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہوجاوٴں کیا آپ فاطمہ بنت موسی بن جعفر علیہم السلام کی قبر کو بیان فرمارہے ہیں؟ فرمایا :”ہاں“ جو بھی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے گا وہ مستحق بہشت ہے۔ جب بھی (تم حرم مشرف ہوتے ہو قبر کو دیکھ کر قبر شریف کے سرہانے (یعنی ضریح کے شمال میں) رو بقبلہ کھڑے ہوجاوٴ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر،۳۳ مرتبہ سبحان اللہ،۳۳ مرتبہ الحمد للہ پڑھو اور پھر زیارت پڑھو۔

    زيارت کریمہ اہل بیت (سلام اللہ علیہا)

    اَلـسَّلامُ عَـلی آدَمَ صَـفْوَة اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی نوُح نَبِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی اِبْرهيمَ خَليلِ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلی موُسی كَليمِ اللّهِِ، اَلسَّلامُ عَلی عيسی روُح ِاللّهِِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَيْرَ خَلْقَ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صَفِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمّدَ بْنَ عَبْد ِاللّهِ، خاتَمَ النَّبِيّينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا اَميرَالْمُؤْمِنينَ عَلی بْنَ اَبی طالِب، وَصِی رَسوُلِ اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا فاطِمَة سَيِّدَة نِساءِ الْعالَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُما يا سِبْطَی نَبِی الرَّحْمَةِ، وَ سَيِّدَی شَباب اھل ِالْجَنَّةِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ الْحُسَيْنِ، سَيِّدَ الْعابِدينَ وَ قُرَّة عَيْنِ النّاظِرينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی، باقِرَ الْعِلْم ِبَعْدَ النَّبِی،اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّد الصّاد ِقَ الْبارَّ الْامينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا موُسَی بْنَ جَعْفَر الطّهرَ الطُّهرَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ موُ سَی الرِّضَا الْمُرْتَضی، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی التَّقِی، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ مُحَمَّد النَّقِی النّاصِحَ الْأَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حَسَنَ بْنَ عَلِی، اَلسَّلامُ عَلَی الْوَصِی مِنْ بَعْدِهِ. اَللّهمَّ صَلِّ عَلی نُورِكَ وَ سِراجِكَ، وَ وَلِی وَلِيِّكَ، وَ وَصِيِّ وَصِيِّكَ، وَ حُجَّتِكَ عَلی خَلْقِكَ . اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ رَسوُل ِاللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ فاطِمَة وَ خَديجَة، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ اَميرِالْمُؤْمِنينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ الْحَسَن ِوَ الْحُسَيْن ِاَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيا اُخْتَ وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيا عَمَّة وَلِی اللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِيابِنْتَ موُسَی بْن ِجَعْفَر، وَ رَحْمَة اللّهِ وَ بَرَكاتُه. اَلسَّلامُ عَلَيْكِ، عَرَّفَ اللّه بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمْ فِی الْجَنَّةِ، وَ حَشَرَنا فی زُمْرَتِكُمْ، وَ أَوَرَدْنا حَوْضَ نَبِيِّكُمْ، وَ سَقانا بِكَأْس ِجَدِّ كُمْ مِنْ يَد ِعَلِی ِّبْن ِاَبی طالِب، صَلَواتُ اللّه عَلَيْكُمْ، أَسْئَلُ اللّه أَنْ يُر ِيَنا فيكُمُ السُّروُرَ وَ الْفَرَجَ، وَ أَنْ يَجْمَعَنا وَ إِيّاكُمْ فی زُمْرَة ِجَدِّكُمْ مُحَمَّد، صَلَّی اللّه عَلَيْهِ وَ آلِهِ، وَ أَنْ لا يَسْلُبَنا مَعْر ِفَتَكُمْ، إِنَّه وَلِی قَديرٌ. أَتَقَرَّبُ إِلَی اللّهِ بِحُبِّكُمْ وَ الْبَرائة ِمِنْ أَعْدائِكُمْ، وَ التَّسْليم ِإِلَی اللّهِ، راضِياً بِهِ غَيْرَ مُنْكِر وَ لا مُسْتَكْبِر وَ عَلی يَقين ِما أَتی بِهِ مَحَمَّدٌ - صلی اللہ علیه و آله - وَ بِه راض، نَطْلُبُ بِذلِكَ وَجْهكَ يا سَيِّدی، اَللّهمَّ وَ رِضاكَ وَ الدّارَ الْآخِرَة . يا فاطِمَةُ اِشْفَعی لی فِی الْجَنَّة ِ، فَا ِنَّ لَكَ عِنْدَاللّْهِ شَأْناً مِنَ الشَّأْن ِ. اَللّْهمّ ا ِنی اَسْئَلُكَ أَنْ تَخْتِمَ لی بِالسَّعادَة ِ، فَلاتَسْلُبْ مِنّی ِما أَنَا فيهِ،وَ لاحُولَ وَ لا قُوَة إِلا بالّله الْعَلِی الْعَظيم ِ. اَللّهمَ اسْتَجِبْ لَنا، وَ تَقَبَّلْه بِكَرَمِكَ وَ عِزَّتِكَ، وَ بِرَحْمَتِكَ وَ عافِيَتَكَ، وَ صَلَّی الّله عَلی مُحَمَّد وَ آلِهِ أَجْمَعينَ، وَ سَلَّمَ تَسْليما يا أَرْحَمَ الرّاحِمينَ. (1)

    ترجمہ : 

    سلام ہو آدم پر  جو برگزیده هی خدا کا ۔ سلام ہو نوح پر جو نبی الله ِہیں. سلام ہو ابراہیم جو خدا کی خلیل ہیں ۔ سلام ہو موسیٰ پر جو کلیم الله ِہیں۔ سلام ہو عیسیٰ پر جو روح الله ِہیں۔ 

    اے رسول خدا آپ پر سلام ہو، اے بہترین مخلوق خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے صفی خدا آپ پرسلام ہو ۔اے خاتم انبیاء محمد بن عبداللہ آپ پر سلام ہو ۔

    اے امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب وصی رسول خدا آپ پر سلام ہو ۔

    اے فاطمہ ای سیده خواتین عالمین، آپ پر سلام ہو ۔ اے علی بن حسین ای عبادت گزاروں کے سید و سردار اور ای دیکھنے والوں کی آنکه کی تهندک، آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی ای بعد از نبی علم نبی (ص) کی رازون کی تالی کهولنی والی آپ پر سلام ہو۔ اے جعفر بن محمد صادق نیک کردار، امین آپ پر سلام ہو۔ اے موسیٰ بن جعفر پاک وپاکیزہ آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن موسیٰ رضا، مرتضی آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی پرہیزگار آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن محمد نقی خیر خواہ، امین آپ پر سلام ہو۔ اے حسن بن علی آپ پر سلام ہو۔ اے ان کے بعد جو وصی ہیں ان پر سلام ہو۔خدایا تو اپنے نور اور تابناک چراغ، اپنے ولی کے نمائندے، اپنے جانشین اور بندوں پر اپنی حجت کے اوپر سلام نازل فرما ۔ اے بنت رسول خدا آپ پر سلام ہو۔ اے دختر فاطمہ و خدیجہ آپ پر سلام ہو ۔اے دختر امیر المومنین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر حسین و حسین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر ولی خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے ولی خدا کی خواہر آپ پر سلام ہو ۔اے ولی خدا کی پھوپھی آپ پر سلام ہو ۔اے دختر موسی بن جعفر آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔ سلام ہو آپ پر۔خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے در میان شناخت قائم فرمائے اور ہم کو آپ لوگوں کے گروہ میں محشور فرمائے۔ آپ کے نبی کے حوض پر وارد فرمائے نیز ہمیں آپ لوگوں پر خدا کا درود ہو۔ میں خدا سے درخواست کرتاہوں کہ وہ ہمیں آپ کے بارے میں خوشحال کرے اور فرج دکھائے۔نیز ہمیں اور آپ کو آپ کے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ میں شمار فرمائے اور ہم سے آپ کی معرفت کو سلب نہ کرے۔ کیونکہ وہی سرپرست اور قدرت والا ہے۔ میں آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے برائت کے وسیلے سے خدا کی بارگاہ میں تقرب چاہتاہوں اور اس کی بارگاہ میں سر نیاز خم کرتاہوں۔

    نیز اس سے راضی ہوں۔ نہ ہی منکر ہوں نہ ہی مستکبر۔یہ تمام باتیں جو چیزیں محمد لائے ہیں اس پر یقین کے ساتھ کہہ رہاہوں نیز اس سے راضی ہوں۔اے مرے آقا اسی وسیلے سے تری توجہ کا طلبگار ہوں۔ خدایا تری خوشنودی اور خانہٴ آخرت چاہتاہوں۔

    اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرمائیے کیونکہ آپ خدا کے نزدیک ایک خاص شان ومقام کی حامل ہیں ۔خدایا میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ ہمارا خاتمہ سعادت پر ہو۔پس اس ایمان کو ہم سے نہ چھین جو ہم میں موجود ہے۔تمام حرکت و جنبش خدا ہی کے وسیلے سے ہے جو بزرگ و برتر ہے ۔ خدایا ہماری حاجت کو مستجاب فرما۔ اور اپنے کرم و عزت و رحمت و عافیت سے اسے قبول فرما نیز محمد اور ان کی آل پر درود و سلام نازل فرما۔ اے سب سے زیادہ مہربان ۔

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1۔ بحار الانوار ج /۱۰۲، ص ۲۶۶.