سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/8/21 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    11ذیقعدہ (1436ھ)ولادت باسعادت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر


    11ذیقعدہ (1436ھ)ولادت  باسعادت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر

    امام رضا علیہ السلام اور خلافت امیرالمؤمنین

    حسن خراز سے روایات ہے: میں نے امام رضا علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: ہماری محبت و دوستی کا دعوی کرنے والوں سے بعض لوگوں کا ضرر ہمارے شیعوں کے لئے دجال کے نقصانات سے بھی بڑھ کر ہے۔ 

    میں نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا (ص)! اس بات کا سبب کیا ہے؟

    فرمایا: کیونکہ وہ ہمارے دشمنوں کے دوست ہیں اور ہمارے دوستوں کے دشمن ہیں اور جب ایسا ہوجائے تو حق و باطل خلط ہوجاتا ہے اور امر مشتبہ ہوجاتا ہے اور مؤمن کو منافق سے تمیز دینا دشوار ہوجاتی ہے۔ 

    وضاحت: جب شیعہ کہلانا والا شخص اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کا دوست بھی ہو اور ان کے دوستوں کا دشمن بھی ہو اس کی وجہ سے فتنہ پیدا ہوتا ہے اور فتنے کی تعریف یہ ہے کہ اس کے دوران حق اور باطل میں تمیز کرنا مشکل ہی نہیں بہت سے لوگوں کے لئے ناممکن ہے۔

    مامون نے حضرت علی ابن موسی الرضا علیہ السلام سے پوچھا: آپ اپنے جد امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت کے لئے کیا دلیل پیش کرسکتے ہیں؟

    امام علیہ السلام نے فرمایا: سورہ مباہلہ میں لفظ "انفسنا میرے جد امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت کی دلیل ہے۔

    مامون نے کہا: آپ کی دلیل درست ہوتی بشرطیکہ آیت میں "نسائنا" کا ذکر نہ ہوتا!۔

    امام علیہ السلام نے فرمایا: آپ کا اعتراض بھی صحیح ہوتا بشرطیکہ آیت میں "ابنائنا" کا ذکر نہ ہوتا۔ 

    اور مامون خاموش ہوگیا۔ 

    اس سوال اور جواب میں خاص قسم کی ظرافت اور باریکی ملحوظ رکھی گئی ہے۔ 

    حضرت علی ابن موسی الرضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آیت شریفہ "فمَنْ حَاجَّکَ فیهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْکاذِبینَ"، (سورہ آل عمران آیت 61) میں لفظ نسائنا سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت ثابت کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ انفسنا سے امیرالمؤمنین علیہ السلام مراد ہیں اور ان کے سوا کوئی مقصود نہیں ہوسکتا۔ 

    کیونکہ جب امیرالمؤمنین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جان ہیں تو ان سے زیادہ اہلیت و اولویت کسی اور کو حاصل ہو ہی نہیں سکتی اور امیرالمؤمنین خلافت کے حقیقی حقدار ہيں اور دوسروں سے ان کا فیاس کرنا بھی ممکن نہيں ہے۔ 

    تشریح:

    امام نے فرمایا کہ انفسنا امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت برحق کی دلیل ہے کیونکہ انفسنا سے مراد علی علیہ السلام کے سوا کوئی بھی اور نہیں ہے۔

    مامون نے کہا ہے کہ یہ بات صرف اس وقت صحیح ہوسکتی کہ آیت میں "نسائنا" (ہماری خواتین) کا ذکر نہ ہوتا یعنی یہ کہ انفسنا سے مراد علی علیہ السلام نہیں بلکہ عام مسلمان مرد ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آیت میں "نسائنا" کا لفظ آیا ہے جس سے مراد مسلمان خواتین ہیں!۔ یعنی ہمارے مرد اور ہماری خواتین...

    اور امام رضا علیہ السلام نے اس اعتراض کا جواب یوں دیا ہے کہ اگر انفسنا سے مراد عام مسلمان مرد ہوتے اور علی علیہ السلام مراد نہ ہوتے تو پھر آیت میں "ابنائنا" (ہمارے بیٹے)، ذکر کرنا ضروری نہ ہوتا کیونکہ ابنائنا خود بخود انفسنا میں شامل ہوتے اور ابنائنا انفسنا میں شامل ہوتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انفسنا سے مراد ایک خاص مرد ہے اور وہ خاص مرد امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مبارک وجود کے سوا کوئی بھی نہيں ہے۔ 

    اور پھر مامون کی طرف سے نسائنا سے استناد بھی درست نہیں ہے کیونکہ نسائنا سے مراد تمام مسلم خواتین نہیں ہیں بلکہ صرف حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا مراد ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب نساء کے مقابلے میں ابناء کا لفظ آئے تو نسائنا سے مراد خواتین نہيں بلکہ لڑکیاں ہونکي  جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت 49 میں ارشاد ہوتا ہے کہ "یُذَبِّحُونَ أَبْناءَکُمْ وَ یَسْتَحْیُونَ نِساءَکُمْ"۔ فرعون اور اس کے پجاری تمہارے لڑکوں کو ذبح کراتے ہیں اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ 

    مامون کے شبہہ آمیز اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ اگر انفسنا سے مراد امت کے تمام مرد ہوتے اور ان مردوں کی جانب سے ایک مرد کا مباہلے میں شریک ہونا کافی تھا تو پھر علی علیہ السلام کی شرکت کی ضرورت کیوں پڑی اور پھر آیت میں رسول اللہ انفسنا اور ابنائنا کی کیا ضرورت تھی جبکہ رسول اللہ (ص) خود بھی یہ فریضہ سرانجام دے سکتے تھے اور امت کے مردوں کی نمائندگی کرسکتے تھے؟ 

    امام رضا علیہ السلام کی دس حدیثیں

    امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ: اہل بیت علیہم السلام کی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ہے اور رسول اللہ کی حدیث کلام الہی ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے توسط سے رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوتا ہے۔

    1- قالَ الرضا عليه السلام: الصَّلوةُ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّوَ جَلَّ التَّسْبيحَ وَالتَّهْليلَ وَالتَّكْبيرَ۔

    امام رضا (ع) نے فرمایا: محمد اور اہل بیت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر صلوات اور تحيّت کا ثواب سبحان اللّه ، لا إ له إلاّاللّه ، اللّه اكبر کے ثواب کے برابر ہے۔

    2- قالَ الرضا عليه السلام: لَوْخَلَتِ الاْ رْض طَرْفَةَعَيْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَساخَتْ بِاهْلِها۔

    اگر زمین لمحہ بھر حجت سے خالی ہوجائے تو یہ اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل لے گی۔

    3- قالَ الرضا عليه السلام : عَلَيْكُمْ بِسِلاحِالاْ نْبياءِ، فَقيلَ لَهُ: وَ ما سِلاحُ الاْ نْبِياءِ؟ يَا ابْنَ رَسُولِ اللّه ! فَقالَ عليه السلام : الدُّعاءُ۔

    آپ کو انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار استعمال کرنا چاہئے، پوچھا گیا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار کیا ہے؟ امام علیہ السلام نے قرمایا: انبیاء علیہم السلام کا ہتھیار خدا کی طرف توجہ دینا، دعا کرنا اور خدا سے مدد مانگنا ہے۔ 

    4- قالَ الرضا عليه السلام : صاحِبُ النِّعْمَةِ يَجِبُ عَلَيْهِ التَّوْسِعَةُ عَلى عَيالِهِ۔

    نعمت و دولت کے مالک  کو اپنی قوت کے مطابق اپنے اہل و عیال کے لئے خرچ کرنے چاہئے۔

    5- قالَ الرضا عليه السلام : المَرَضُ لِلْمُؤْمِنِ تَطْهيرٌ وَ رَحْمَةٌ وَلِلْكافِرِ تَعْذيبٌ وَلَعْنَةٌ، وَ إ نَّ الْمَرَضَ لايَزالُ بِالْمُؤْمِنِ حَتّى لايَكُونَ عَلَيْهِ ذَنْبٌ۔

    بیماری مؤمن کے لئے رحمت اور گناہوں کی مغفرت کا سبب اور کافر کے لئے عذاب اور لعنت ہے۔ 

    6۔ قالَ الرضا عليه السلام: مَنْ زارَ قَبْرَالْحُسَيْنِ عليه السلام بِشَطِّ الْفُراتِ، كانَ كَمَنْ زارَاللّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ۔

    جس نے دریائے فرات کے کنارے قبر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے عرش پر حضرت حق تعالی کی زیارت کی ہو۔ 

    7- كَتَبَ الرضا عليه السلام: ابْلِغْ شيعَتى : إنَّزِيارَتى تَعْدِلُ عِنْدَاللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اءلْفَ حَجَّةٍ، فَقُلْتُ لاِ بى جَعْفَرٍ عليه السلام : اءلْفُ حَجَّةٍ؟! قالَ: إ ى وَاللّهُ، وَ اءلْفُاءلْفِ حَجَّةٍ، لِمَنْ زارَهُ عارِفا بِحَقِّهِ۔

    امام رضا علیہ السلام نے اپنے دوست کو خط میں مرقوم قرمایا: ہمارے دوستوں اور عقیدتمندوں سے کہو: میری قبر کی زیارت ایک ہزار بار [مستحب] حج  کے برابر ہے۔ 

    راوى کہتا ہے: میں نے امام محمد تقی الجواد علیہ السلام سے عرض کیا: کیا آپ کے والد کی زیارت کے لئے ایک ہزار بار حج کا ثواب ہے؟

    ہاں! جس نے معرفت کے ساتھ میرے والد کی زيارت کی اس کو ایک ہزار ہزار [دس لاکھ] بار حج [مستحب] کا ثواب مقرر ہے۔

    8- قالَ الرضا عليه السلام: اءوَّلُ ما يُحاسَبُ الْعَبْدُ عَلَيْهِ،الصَّلاةُ، فَإ نْ صَحَّتْ لَهُ الصَّلاةُ صَحَّ ماسِواها، وَ إ نْ رُدَّتْ رُدَّماسِواها۔

    سب سے پہلے انسان کے جس  عمل کا حساب و کتاب اور محاسبہ ہوگا وہ نماز ہے، اگر انسان کی نماز صحیح ہو اور مقبول واقع ہوجائے  تو اس کے دوسرے عامال بھی قبول ہونگے ورنہ تمام اعمال رد کئے جائیں گے۔ 

    9- قالَ عليه السلام : لِلصَّلاةِاءرْبَعَةُ آلاف بابٍ۔

    نماز چار ہزار شرطوں اور اجزاء کی حامل ہے۔ 

    10- قالَ الرضا عليه السلام: الصَّلاةُ قُرْبانُ كُلِّ تَقىٍّ۔

    نماز ہر متقی اور پرہیزگار شخص کو اللہ سے قریب تر کردیتی ہے۔