سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2018/12/10 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عیدغدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 3شعبان (1439ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27 رجب المرجب (1439ھ) عیدسعید مبعث کےموقع پر
  • 25رجب(1439ھ)شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    28صفر(1437ھ)رحلت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر


    28صفر(1437ھ)رحلت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی وفات

    سنہ 11 ہجری کے ابتدائی مہینوں میں رسول اللہ(ص) بیمار ہوئے ۔جب آپ کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو منبر پر رونق افروز ہوئے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کی سفارش فرمائی اور فرمایا: اگر کسی کا مجھ پر کوئی حق ہے تو وہ مجھ سے وصول کرے یا بخش دے اور میں نے کسی کو آزردہ کیا ہے تو میں تلافی کے لئے تیار ہوں۔

    فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آنحضرت کے بستر کے پاس بیٹھی ہوئی باپ کے نورانی اور ملکوتی چہرہ کو دیکھ رہی تھیں۔ جس پر بخار کی شدت کی بنا پر پسینہ کے قطرے جھلملا رہے تھے۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جناب ابوطالب علیہ السلام کا شعر جو پیغمبر کے بارے میں تھا پڑھا۔

    وابیض یستقی الغمام بوجھہ      شمال الیتامی عصمة للارامل

    یعنی روشن چہرہ اس چہرہ کی آبرو ندی کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کی نگہداری کرنے والا ہے۔

    رسول خدا نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا: بیٹی، شعر نہ پڑھو، قرآن پڑھو:

    و ما محمد الارسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل النقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا وسیجزی اللہ الشا کرین"۔ (آل عمران:۱۴۴)

    محمد نہیں ہیں مگر پیغمبر خدا، ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر گزر چکے ہیں تو کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دیئے جائیں تو تم اپنے گزشتہ لوگوں کی طرف پلٹ جاؤ گے؟’ اور جو اپنے گزشتگان کے آئین کی طرف پلٹ جائے گا وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ خدا شکر کرنے والوں کو نیک جزا دے گا۔

    رسول خدا نے آہستہ سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے کانوں میں کوئی بات کہی آپ نے گریہ شروع کیا۔ پیغمبر اپنی بیٹی کی اس تکلیف کو برداشت نہ کرسکے دوبارہ آپ نے ان کے کانوں میں ایک بات کہی تو جناب فاطمہ چپ ہوگئیں اور مسکرانے لگیں۔

    بعد میں لوگوں نے جناب فاطمہ سے سوال کیا کہ رسول خدا نے آپ سے کیا کہا تھا: کہ پہلی بار آپ روئیں اور دوسری بار مسکرائی تھیں؟ آپ نے جواب دیا: ”پہلی بار آنحضرت سے ان کی رحلت کی خبر سنی تو میں مغموم ہوگئی دوسری بار آپ نے بشارت دی کہ اے فاطمہ میرے اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی اس پر میں بشاش ہوگئی۔

    پیغمبر نے اپنی حیات کے آخری لمحوں میں علی علیہ السلام کو بلایا اور فرمایا:

    ”علی میرا سر اپنی آغوش میں لے لو کہ امر خدا آ پہنچا۔“

    اے علی! جب میں اس دنیا میں نہ رہوں تو مجھے غسل دینا اور پہلی بار مجھ پر نماز پڑھنا۔ آپ کا سر علی کی گود ہی میں تھا کہ آپ رحمت باری سے جاملے۔

    پیغمبر اکرم(ص) 28 صفر سنہ 11ہجری کو ـ یا ایک اور روایت کے مطابق 12 ربیع الاول کو 63 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے. لیکن مورخین اہلسنّت کے اعتقاد کے مطابق پیغمبر کی رحلت ۱۲ ربیع الاول سنہ ۱۱ ہجری قمری کو ہوئی۔

    علی نے رسول خدا کے پاکیزہ جسم کو غسل دیا کفن پہنایا اور نماز پڑھی اس عالم میں کہ آسو آپ کی آنکھوں سے رواں تھے اور فرمایا:

    ”ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اے اللہ کے رسول! بیشک آپ کے رحلت سے وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔“

    وہ چیز جو دوسرے پیغمبروں کی موت کے بعد منقطع نہیں ہوئی (یعنی نبوت و احکام الہی اور آسمانی خبریں) اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے اور نالہ و فغاں سے منع نہ فرماتے تو میں آپ کے فراق میں اتنا روتا کہ میرے اشکوں کا سرچشمہ خشک ہو جاتا۔(نہج البلاغہ خطبہ ۲۲۶ ص ۷۳۳)

    رسول خدا کی رحلت کی خبر نہایت تیزی سے مدینہ میں پھیل گئی، علی علیہ السلام جب غسل و کفن میں مشغول تھے۔

    غسل دینے کے بعد پہلے علی علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھی پھر مسلمان دستہ دستہ آتے گئے اور نماز پڑھتے گئے، پھر رسول خدا کو ان کے گھر میں مسجد کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔

    پیغمبر داربقاء کی طرف روانہ ہوگئے، لیکن یہ نور نہ تو گل ہوا ہے اور نہ ہوگا۔

    ان کے آئین مشعل ہدایت کی طرح بشر کے تاریک راستوں میں رہنما ہیں اور کھربوں انسان صدیوں سے ان کے آئین کے پیرو ہیں۔

    اب روزانہ مسلمان ساری دنیا میں کروڑوں بار ”اشہدان لا الہ الا اللہ واشہدان محمد رسول اللہ“ کی آواز گلدستہٴ اذان سے سن رہے ہیں اور بے پناہ محبت کے ساتھ اس آواز کے دلبر ترنم کو اپنی زبان پر جاری کرتے اور ان (محمد) پر درود بھیجتے ہیں۔ ان کی آسمانی کتاب کو پڑھتے اور اس سے سبق حاصل کرتے رہتے ہیں۔

    قرآن کریم ۱۴۴ سورتوں کے جاودانہ اعجاز کے عنوان سے اور محمد کی رسالت پر زندہ گواہ کی حیثیت سے موجود ہے خدا نے ان کے دین کو آخری دین اور ان کو آخری پیغمبر قرار دیا ہے۔ جو ان کے آئین کی پیروی نہ کرے (گمراہ ہے) خدا اس سے اس کی عبادت کو قبول نہیں کرے گا اور آخرت میں وہ گھاٹے میں رہے گا۔(آل عمران:۸۵)

    یہ نور ہر جگہ چمکا اور تھوڑی ہی مدت میں جزیرة العرب سے نکل کر ہر جگہ پھیل گیا۔ روم اور ایران کی مطلق العنان حکومتوں کو اپنے ہالہ میں لے لیا۔ اور ایک طرف قلب فرانس اور اسپین تو دوسری طرف ہند تک پہنچ گیا۔

    ڈوبتی ہوئی بشریت کو نجات بخشی اور اس کو ایک عظیم تمدن سے روشناس کرایا۔

    ختم نبوت کے بعد یہ نور معصوم رہنماؤں میں درخشندہ ہوا اور ہدایت کے یہ پاک انوار اور نوری پیکر انوار فتنوں کی تیرگی میں انسانوں کی ہدایت کے لئے کمربستہ ہوئے اور انسانیت کو الہی و اسلامی زندگی کی طرف بلایا اور آج بھی نجات بشریت کا واحد راستہ، قرآن و عترت کی پیروی ہے۔