سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    29 صفر(1437ھ)شہادت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر


    29 صفر(1437ھ)شہادت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر

    علمي اور ديني حوزات کي ترويج ميں امام رضا علیہ السلام  کا کردار

    اس علمي اور سائنسي تحريک اور اسلامي تمدن کي ترقي ميں امام رضا (علیہ السلام)کے کردار کے دو پہلو ہيں: ايک علمي پہلو اور دوسرا عملي پہلو

    الف: علم و دين امام رضا (علیہ السلام)کي علمي سيرت

    امام رضا (علیہ السلام)کي علمي سيرت اور حوزہ درس ميں علم و دين کي اہميت ناقابل انکار ہے- آپ (علیہ السلام)دين کي تبليغ و احياء کے ساتھ ساتھ علم و دانش کے اکرام اور علم و دانش کي طرف مسلمانوں کي ترغيب کا خاص اہتمام فرمايا کرتے تھے-

    آپ (علیہ السلام)نے مختلف ديني اور علمي موضوعات ميں متعدد متون تحرير فرمائے؛ آپ نے مسئلہ توحيد اور دين کے تمام اصولِ موضوعہ کي وضاحت و تشريح فرمائي؛ فقہ اور احکام ديني کے فلسفے کي وضاحت فرمائي؛ عالَم و زمين کي تخليق پر آپ نے بحث کي؛ علم طب اور ديگر طبيعياتي علوم سے متعلقہ موضوعات کي تشريح کي؛ چنانچہ ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ (علیہ السلام)کا علم نہايت وسيع تھا اور علم و دين کي تمام شعبوں کي ترقي پر يقين رکھتے تھے-

    علم طب پر آپ (علیہ السلام)کو عبور حاصل تھا؛ صحت عامہ اور مائکرو حياتيات پر کامل عبور رکھتے تھے اور خلاصہ يہ کہ امام (علیہ السلام)نے اس دور کي صحت عامہ اور علم طب پر گہرے نقوش مرتب کئے- بہر حال امام کے علم و دانش پر بحث کرتے ہوئے اس کا مختلف زاويوں سے جائزہ ليا جاسکتا ہے-

    امام (علیہ السلام)کي معلومات کے دائرے ان امور ميں سے ہيں جو امام (علیہ السلام)کي ذات با برکات کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہيں- الہيات اور دينيات اور آسماني اديان و کتب کے بارے ميں معلومات، قرآني معارف و علوم سے مکمل آگہي، کلامي موضوعات پر امام (علیہ السلام)کا مکمل احاطہ، طب کے بارے ميں امام (علیہ السلام)کے مباحث و آراء، اصول فقہ کي بنياد رکھنا اور امام (علیہ السلام)کي ديگر علمي کاوشيں امام (علیہ السلام)کے علمي دائروں کي وسعت کي دليليں ہيں---

    فلسفۂ احکام، فلسفۂ غسل و وضو، فلسفۂ حرمت زنا، فلسفۂ زکواة اور فلسفۂ حرمتِ شراب کے بارے ميں امام (علیہ السلام)کي بيانات و مباحث، احکام کے سلسلے ميں سماجي اور اخلاقي مباحث ظاہر کرتے ہيں کہ امام (علیہ السلام)برہاني اور استدلالي فکر کے مالک تھےاور خطابت، شعر و ادب اور فصاحت و بلاغت ميں يگانہ روزگار تھے-(7)

    ب: امام (علیہ السلام)کي عملي سيرت ميں علم و دين

    امام (علیہ السلام)کي عملي سيرت ميں علم و دين کے درميان نہ صرف کوئي تضاد يا اختلاف و گوناگوني کا کوئي نشان نہيں ملتا بلکہ ان دو کے درميان نہايت قوي رابطہ برقرار ہے اور آپ (علیہ السلام)کي عملي سيرت ميں علم و دين ايک دوسرے کے معاون ہيں-

    حضرت رضا (علیہ السلام)نے اس حقيقت کو - علمي اور ديني موضوعات پر بيش بہاء کتابيں لکھ کر - ثابت کيا ہے- آپ (علیہ السلام)نے مناظروں اور علمي دوروں اور مسافرتوں کے ذريعے اس حقيقت کا اثبات کيا ہے کہ ان دو کے درميان کوئي عناد اور دشمني نہيں ہے-

    زیارت کا ثواب

    رسول خداﷺ نے فرمایا: بہت جلد میرے وجود کا ایک ٹکڑا خراسان میں دفن ہوگا، جس نے اس کی زیارت کی خداوند متعال جنت کو اس پر واجب اور جہنم کی آگ اس کے جسم پر حرام کرے گا۔ 

    امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا: بہت جلد میرا ایک فرزند خراسان میں مسموم کیا جائے گا جس کا نام میرا نام ہے اور اس کے باپ کا نام موسی بن عمران(علیہ السلام)کا نام ہے۔ جس نے غریب الوطنی میں اس کی زیارت کی خداوند اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا خواہ وہ ستاروں اور بارش کے قطروں اور درختوں کے پتوں جتنے ہی کیوں نہ ہوں۔ 

    امام جعفرصادق (علیہ السلام) نے فرمایا: خداوند میرے بیٹے موسیٰ کو ایک فرزند عطا کرے گا جو طوس میں مسموم کرکے شہید کیا جائے گا اور غریب الوطنی میں دفن کیا جائے گا۔ جو اس کے حق کو پہچانے اور اس کی زیارت کرے خداوند متعال اس کو ان لوگوں کا ثواب عطا کرے گا جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے انفاق کیا ہے اور خیرات دی ہے اور جہاد کیا ہے۔

    مسئلہ شہادت

    تاریخ یعقوبی میں مروی ہے کہ مأمون سنہ 202 میں عراق روانہ ہوا اور ولیعہد امام رضا (علیہ السلام) اور وزیر فضل بن سہل دونوں اس کے ہمراہ تھے؛ جب وہ طوس پہنچے تو امام رضا(علیہ السلام)  نے سنہ 203ہجری کے اوائل میں نوقان نامی بستی میں وفات پائی اور آپ کی بیماری کی مدت تین دن سے زائد نہ تھی اور کہا گیا ہے کہ علی بن ہشام  نے آپ کو زہریلا انار کھلا کر مسموم کیا اور مأمون نے اس واقعے پر [بظاہر] سختی بےچینی کا اظہار کیا۔ 
    یعقوبی نے مزید لکھا ہے: "مجھے خبر دی ابو الحسن بن ابی عباد نے کہ: میں نے مامون کو دیکھا جو سفید قبا پہنے سر برہنہ تابوت کے در دستوں کے بیچ جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا: آپ کے بعد میں کس سے سکون پاؤں۔مامون نے تین دن تک قبر کے پاس قیام کیا اور ہر روز ایک روٹی اور تھوڑا سا نمک اس کے پاس لایا جاتا تھا اور یہی اس کا کھانا تھا اور چوتھے روز وہاں سے واپس آیا۔

    شیخ مفید روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن بشیر نے کہا: مجھے مأمون نے حکم دیا کہ اپنے ناخن نہ تراشوں تاکہ معمول سے زیادہ بڑھ جائیں اور اس کے بعد اس نے مجھے تمر ہندی (املی) جیسی چیز دے دی اور کہا کہ اس کو اپنے ہاتھوں سے گوند لوں۔ اس کے بعد مأمون امام رضا(علیہ السلام)کے پاس گیا اور مجھے آواز دے کر بلوایا اور کہا کہ انار کا شربت نکال لوں۔ میں نے انار کو دباکر شربت نکالا اور مأمون نے وہی شربت امام(علیہ السلام)کو پلایا اور اس دو روز بعد امام(علیہ السلام)رحلت کرگئے۔

    شیخ صدوق نے اس سلسلے میں بعض روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض میں ہے کہ انگور زہریلے تھے اور بعض میں زہریلے انار اور زہریلے انگور، دونوں کا ذکر ہے۔جعفر مرتضی حسینی، نے امام رضا(علیہ السلام)کے انتقال کے بارے 6 آراء بیان کی ہیں۔

    چوتھی صدی ہجری کے محدث اور رجال شناس ابن حبّان نے نام "علی بن موسی الرضا" کے نام کے ذیل میں لکھا ہے: علی بن موسی الرضا اس زہر کے نتیجے میں وفات پاگئے جو مأمون نے انہیں کھلایا تھا۔ یہ واقعہ ہفتہ کے دن  آخرِ صفر المظفر سنہ 203ہجری کو پیش آیا۔
    حضرت امام موسيٰ بن جعفر الکاظم (علیہ السلام) طولانی زندانوں اور شدید ترین شکنجوں کے اثر سے سندی بن شاہک ملعون کے زندان میں شہید ہوئے اور ظالم و جابر خلیفہ ہارون کوشش کررہا تھا کہ اس معصوم امام (علیہ السلام) کی مظلومانہ و مسمومانہ شہادت کو طبیعی موت کا رنگ دے سکے،ظالم و ستمگر باپ کےراستے کا راہی مأمون خلیفہ بھی اپنے باپ کی روش پر چلتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اتنے سنگین ظلم کو چھپانے میں کامیاب ہوسکے اور یہ ظاہر کرسکے کہ ولی عہد طبیعی موت مرے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ بعض چاپلوس تاریخ دان انگور کھانے کو،بعض طبیعی موت کو اور بعض عباسیوں کی سازشوں اور بدخواہیوں کو غریب امام (علیہ السلام) کی شہادت کے اسباب رقم کرتے ہیں اور ایک گروہ جو اس غریب امام کا خالص ماننے والا گروہ’’شیعہ‘‘ ہے  اس کا فیصلہ اور قضاوت یہ ہے کہ براہ راست خود مأمون نے حضرت کو مسموم کر کے شہید کیا۔