سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    8ربیع الاول (1437ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر


    اخلاق واوصاف

    آپ اسی سلسلہ عصمت کی ایک لڑی تھے جس کا ہر حلقہ انسانی کمالات کے جواہر سے مرصع تھا , علم وحلم , عفو وکرم , سخاو ت وایثار سب ہی اوصاف بے مثال تھے۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ا س زمانے میں بھی کہ جب آپ سخت قید میں تھے معتمد نے جس سے آپ کے متعلق دریافت کیا یہی معلوم ہوا کہ آپ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر نمازیں پڑھتے ہیں اور سوائے ذکر الٰہی کے کسی سے کوئی کلام نہیں فرماتے , اگرچہ آپ کو اپنے گھر پر آزادی کے سانس لینے کا موقع بہت کم ملا۔ پھر بھی جتنے عرصہ تک قیام رہا اور دور دراز سے لوگ آپ کے فیض و عطا کے تذکرے سن کر آتے تھے اور بامراد واپس جاتے تھے۔

    آپ کے اخلاق واوصاف کی عظمت کا عوام وخواص سب ہی کے دلوں پر سکہ قائم تھا۔ چنانچہ جب احمد بن عبدالله بن خاقان کے سامنے جو خلیفہ عباسی کی طرف سے شہر قم کے اوقات وصدقات کے شعبہ کا افسر اعلیٰ تھا سادات علوی کاتذکرہ آگیاتو وہ کہنے لگا کہ مجھے کوئی حسن عسکری علیہ السّلام سے زیادہ مرتبہ اور علم دورع , زہدو عبادت ,وقار وہیبت , حیاوعفت , شرف وعزت اور قدرومنزلت میں ممتاز اور نمایاں نہیں معلوم ہوا۔ اس وقت جب امام علیہ السّلام علی نقی علیہ السّلام کا انتقال ہوا اور لوگ تجہیز وتکفین میں مشغول تھے تو بعض گھر کے ملازمین نے اثاث اللبیت وغیرہ میں سے کچھ چیزیں غائب کردیں اور انھیں خبر تک نہ تھی کہ امام علیہ السّلام کو اس کی اطلاع ہوجائے گی۔ جب تجہیز اور تکفین وغیرہ سے فراغت ہوئی تو آپ نے ان نوکروں کو بلایا اور فرمایا کہ جو کچھ پوچھتا ہوں اگر تم مجھ سے سچ سچ بیان کرو گے تو میں تمھیں معاف کردوں گا اور سزا نہ دوں گا لیکن اگر غلط بیانی سے کام لیا تو پھر میں تمھارے پاس سے سب چیزیں بر آمد بھی کرالوں گا اور سزا بھی دوں گا۔ اس کے بعد آپ نے ہر ایک سے ان اشیا ء کے متعلق جو اس کے پا س تھیں دریافت کیا اور جب انھوں نے سچ بیان کر دیا تو ان تمام چیزوں کو ان سے واپس لے کر آپ نے ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی اور معاف فرمادیا۔

    زوجہ اور اولاد

    مشہور قول کے مطابق امام عسکری(ع) نے بالکل زوجہ اختیار نہیں کی اور آپکی نسل ایک کنیز کے ذریعے آگے بڑھی جو کہ حضرت امام مہدی(عج) کی مادر گرامی ہیں. لیکن شیخ صدوق اورشہیدثانی نے یوں نقل کیا ہے کہ امام زمان(عج) کی والدہ کنیز نہ تھیں بلکہ امام عسکری(ع) کی زوجہ تھیں.

    منابع میں امام مہدی(عج) کی والدہ کے مختلف اور متعدد نام ذکر ہوئے ہیں اور منابع میں آیا ہے کہ امام حسن عسکری(ع) کے زیادہ تر خادم رومی ، صقلائی  اور ترکتھے اور شاید امام زمانہ(عج) کی والدہ کے نام مختلف اور متعدد ہونے کی وجہ امام حسن عسکری کی کنیزوں کی تعداد کا زیادہ ہونا ہی ہو یا پھر امام مہدی(عج) کی ولادت کو خفیہ رکھنے کی وجہ سے آپ کی والدہ کے نام متعدد بتائے جاتے تھے.

    لیکن جو بھی حکمت تھی، آخری صدی میں امام زمانہ (عج) کی والدہ کے نام کے ساتھ نرجس کا عنوان شیعوں کے لئے باعث پہچان تھا. دوسری طرف جو سب سے مشہور نام منابع میں ملتا ہے وہ صیقل ہے.

    دوسرے جو نام ذکر ہوئے ہیں ان میں سوسن، ریحانہ اور مریم بھی ہیں.

    اکثر شیعہ اور سنی منابع کے مطابق ، آپ کے اکلوتے فرزند امام زمانہ (عج) ہیں جو کہ محمد کے نام سے مشہور ہیں.

    کیونکہ امام حسن عسکری(ع)، حضرت امام زمانہ(عج) کے والد ہیں، لہذا امام حسن عسکری(ع) کی شخصیت کا یہ پہلو اہل تشیع کے نزدیک جانا پہچانا ہوا ہے. اور جو کچھ امامیہ (اہل تشیع) کے نزدیک مشہور ہے وہ یہ ہے کہ امام مہدی(عج) کی ولادت 15 شعبان سنہ 255ق کو ہوئی، لیکن تاریخ میں اور مختلف قول بھی موجود ہیں جن کے مطابق آپ کی ولادت سنہ 254ق یا سنہ 256ق میں ہوئی ہے۔

    آپ کی اولاد کے بارے میں بھی مختلف قول ہیں، کچھ نے تین بیٹے اور تین بیٹیان بتائی ہیں. اسی قول سے ملتا جلتا قول اہل تشیع کے نزدیک بھی موجود ہے؛ خصیبی نے امام مہدی(عج) کے علاوہ امام حسن عسکری (ع) کی دو بیٹیوں کے نام فاطمہ اور دلالہ ذکر کیے ہیں. ابن ابی الثلج نے امام مہدی کے علاوہ ایک بیٹے کا نام موسی کے طور پر، اسی طرح دو بیٹیوں کے نام فاطمہ اور عایشہ (یا ام موسی) بتائے ہیں. لیکن انساب کی کتابوں میں مذکورہ نام، امام حسن عسکری(ع) کی بہن بھائیوں کے طور پر ملتے ہیں جو شاید ان مورخین نے آپ کی اولاد کے عنوان سے ذکر کر دیے ہیں. اس کے برعکس، بعض اہل سنت کے علماء جیسے ابن جریر طبری، یحیٰ بن صاعد اور ابن حزم کا عقیدہ ہے کہ آپ کی کوئی اولاد تھی ہی نہیں۔

    شہادت

    امام حسن عسکری(ع) کی شہادت سنہ 260ق میں ہوئی. البتہ بعض نے اسی سال کے ماہ جمادی الاول کو آپ کی شہادت کے طور پر ذکر کیا ہے.

    آپ نے اپنی شہادت سے کچھ عرصہ پہلے سنہ 259ق میں اپنی والدہ کو حج پر بھیجا اور جو کچھ آپ کے ساتھ سنہ 260ق میں ہونے والا تھا اس کو اپنی والدہ کے لئے بیان فرمایا اور اپنے فرزند حضرت مہدی (عج) کو اپنی وصیتیں فرمائیں اور اسم اعظم، امامت کی میراث اور تلوار کو آپ کے سپرد فرمایا. امام کی والدہ مکہ کی طرف روانہ ہو گئیں اور حضرت مہدی (عج) کو بھی ساتھ لے گئیں.

    امام عسکری(ع) پہلی ربیع الاول سنہ 260ق کو بیمار ہوئے اور اسی مہینے کی آٹھویں تاریخ کو 28 سال کی عمر میں سامرا میں ہی اس دنیا سے چل بسے، اور اپنے ہی گھر میں جہاں کہ آپ کے والد کو بھی دفن کیا گیا تھا، دفن کیا گیا.

    طبرسی (سنہ 548ق) میں لکھتا ہے: ہمارے زیادہ تر اصحاب (یعنی اہل تشیع کے علماء) کی نظر میں امام (ع) کی اس دنیا سے جانے کی وجہ مسمومیت تھی اور اس کے آگے بیان کرتا ہے کہ اسی طرح آپ(ع) کے والد اور آپ کے آباؤ و اجداد اور اہل تشیع کے سارے امام شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے ہیں اور اس پر شیعہ علماء کی دلیل امام صادق(ع) کی یہ روایت میں کہ جس میں آپ فرماتے ہیں: "واللہ ما منا الا مقتول شھید"(خدا کی قسم، ہم سب کو شہادت کی موت نصیب ہو گی)