سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    17 ربیع الاول (1437ھ)ولادت صادقین کے موقع پر


    حضرت رسول اکرم ﷺ کی شخصیت نہج البلاغہ کی روشنی میں

    رسول اکرم ﷺ بعنوان اسوۂ حسنہ
    امام علی  تاکید کے ساتھ بنی گرامی اسلام ﷺ کی پیروی اوراطاعت کے بارے میں فرماتے ہیں: ''ولقدکان فی رسول اللہ کان لک فی الاسوة ''فتأس بنبیک الاطیب الطھر ﷺ فان قیداسوة لمن تأسیٰ،وعزاء لمن تعزی واحب العبادالی اللہ المشأسی بنبیہ ،والمقتص لاثرہ'' ''تم لوگ اپنے طیب وطاہرپیغمبرکااتباع کروکہ ان کی زندگی میں پیروی کرنے والے کے لئے بہترین نمونہ اورصبروسکون کے طلبگاروں کے لئے بہترین سامان صبروسکون ہے اللہ کی نظرمیںمحبوب ترین بندہ وہ ہے جواس کے پیغمبرکااتباع کرے اوران کے نقش قدم پرقدم آگے بڑاھائے ''
    رسول اکرم  ﷺ محوراقدارامام علی علیہ السلام رسول اکرم  ﷺ کی طرززندگی کوتمام اقداراورارزش کامحوورقراردیتے ہوئے فرماتے ہیں: ''لقدکان فی رسول اللہ  ﷺ کاف لک فی الاسوة  ،ودلیل لک علی ذم الدنیاوعیبھا،وکثرة مخاذیھا ومساویھا،اذقبضت عنہ اطرافھا،ورطئت لغیرہ اکنافھا،وفطم عن رضاعھا،وذوی عن ذخارفھا''(خش/١٦٠)  ''یقینارسول اکرم ﷺ کی زندگی تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے اوردنیاکی ذلت اوراس کے عیوب کے لئے بہترین رہنماہے کہ اس جمیںذلت ورسوائی کے مقامات بکثرت پائے جاتے ہیں،دیکھواس دنیاکے اطراف حضورسے سیمٹ لئے گئے اورغیروں کے لئے ہموارکردئے گئے ،آپ کواس کے منافع سے الگ رکھاگیااوراس کی آرئشوں سے کنارکش کردیاگیا''
    ''ولقدکان فی رسول اللہ  ﷺ مایدلک علی مداوی الدنیاوعیوبھا،اذجاع فیھامع خاصتہ ،وزویت عنہ ذخارفھامع عظیم ذلفیتہ ،فلینظرتاطربعقلہ اکرم اللہ محمدابذلک ام اھانہ ؟فان قال :اھانہ ،فقدکذب ۔واللہ العظیم ۔باالافک العظیم ،وان قال :اکرمہ فلیعلم ان اللہ قدغیرلاحیث بسط الدنیالہ ،وذواھاعن اقرب الناس...فتأسیٰ متاس بنبیتہ واقتص أثرہ وولج مولجہ والافلایأمن الھلکة'' ''یقینارسول اللہ ﷺ زندگی میں وہ ساری باتیں پائی جاتی ہیںجودنیاکے عیوب اوراس کی خرابیوں کی نشاندہی کرسکتی ہیں کہ آپ نے اپنے گھروالوں سمیت بھوکااپناگزاراگیاہے اورخداکی بارگاہ میںانتہائی تقرب کے باوجوددنیاکی زینتوں کوآپ سے الگ رکھاگیاہے اب ہرانسان کوچاہئے اوریہ سوچناچاہئے کہ اس صورت حال اوراس طرح کی زندگی سے پروردگارنے اپنے پیغمبر  ﷺ کوعزت دی ہے یاانہیںذلیل بنایاہے اگرکسی کاخیال یہ ہے کہ ذلیل بنایاہے تدووہ جھوٹااورافتراء پرداز ہے اوراگراحساس یہ ہے کہ عزت دی ہے تواسے معلوم ہوناچاہئے کہ اگراللہ نے اس کے لئے دنیا کوترش قراردیاہے تواس کامطلب یہ ہے کہ اسے ذلیل بتادیاہے کہ اپنے قریب ترین بندہ سے اسے دوررکھاگیا۔اب ہرشخص کورسول اکرم ﷺ کااتباع کرناچاہئے ان کے نقش قدم پرچلناچاہئے اوران کی منزل پرقدم رکھناچاہئے ورنہ ہلاکت سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔۔۔''
    رسول اکرم  کے صفات
    نہج البلاغہ میںرسول اکرم کی صفات وخصوصیات اسی طرح فضائل ومناقب کوبڑے اہتمام کے ساتھ موردتوجہ قراردیاگیاہے نمونے کے طورپرچندصفات کوبیان کرنامناسب سمجھتاہوں .
    ١۔امانت داری
    امام علی  اس بارے میں فرماتے ہیں: ''ان اللّہ بعث محمدانذیراًاللعالمین وامیناًعلی التنزیل (خ/٢٦) ''یقینااللہ نے حضرت محمد ﷺ کوعالمین کے لئے عذاب الہی سے ڈرانے والااورتنزیل کاامانتداربناکربھیجا''
    اسی طرح امام علی  دوسری جگہ فرماتے ہیں: ''حتی اودیٰ قبسالقابس،واناعلمالحابس،فھوامینک المامون وشھید یوم الدین ،وبعیشک نعمة ،ورسولک باالحق رحمة''(خ/١٠٦) ''یہاں تک کہ آپ نے ہرروشنی کے طلبگارکے لئے آگ روشن کردی اورہرگم کردہ راہ ٹھہرے ہوئے مسافرکے لئے نشان منزل روشن کردئے پروردگارا ! وہ تیرے معتبر امانتدار اور روز قیامت کے گواہ ہیں تونے انہیں نعمت بنا کر بھیجا اور رحمت بنا کر نازل کیا ۔
    ٢۔استقامت اور پائداری
    استقامت اور پائداری رسالت الہی کے پہنچانے میں نبی گرامی ﷺ کے بارز ترین صفات میں سے ہے نہج البلاغہ میں متعدد مقامات پر امام نے ان کو مورد توجہ قرار دیا ہے ایک مقام پر اس بارے میں فرماتے ہیں : ''ارسلہ داعیاً الی الحق وشاھدا علی الخلق فبلغ رسالات ربہ غیر وا نٍ ولا مقصر وجاھد فی اللہ اعداء غیر واھن ٍ ولا معذر امام من التقی وبصر من اھتدی ''(خطبہ/١١٦) '' اللہ نے پیغمبر اسلام ﷺ کو اسلام کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کر بھیجا تو آپ نے پیغام الہی کو مکمل طور سے پہونچادیا ،نہ کوئی سستی کی اورنہ کوئی کوتاہی ،دشمنان خدا سے جہاد کیا اور اس راہ میں نہ کوئی کمزوری دکھلائی اور کسی حیلہ اور بہانہ کا سہارا لیا ،آپ متقین کے امام اور طلبگاران ہدایت کے لئے آنکھوں کی بصارت تھے''
    امام علیہ السلام حضرت رسول اکرم ﷺ پر درود وسلام کی تعلیم دینے کے بارے میں فرماتے ہیں :
    ''اجعل شرائف صلواتک ونوامی برکاتک، علی محمد عبدک ورسولک الخاتم لما سبق ،والفاتح لما انغلق ،والملعن الحق باالحق ،والدافع جیشات الاباطیل ،والدامغ صولات الاضالیل ،کما حمل فاضطلع ،قائما یامرک مستوفزاً فی مرضاتک غیر ناکل عن قدم ،ولا واہ فی عزم ،واعیا لوحیک،حافظا لعھدک،ماضیا علی نفاذا مرک ،حتی اودی قبس القابس واضاء الطریق للخابط ، وھدیت بہ القلوب بعد حوضات الفتن والانام واقام موضحات الاعلام ونیرات الاحکام''۔
    ''اپنی پاکیزہ ترین اور مسلسل بڑھنے والی برکات کو اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ پر قرار دے جو سابق نبوتوں کے ختم کرنے والے ،دل ودماغ کے بند دروازوں کو کھولنے والے،حق کے ذریعہ حق کا اعلان کرنے والے ،باطل کے جوش وخروش کو دفع کرنے والے اور گمراہیوں کے حملوں کا کچلنے والے تھے ۔جو بار جس طرح ان کے حوالے کیا گیا انہوں نے اٹھالیا ،تیرے امر کے ساتھ قیام کیا ،تیری مرضی کی راہ میں تیزی سے قدم بڑھاتے رہے ،نہ آگے بڑھنے سے انکار کیا اور نہ ان کے ارادوں میں کمزوری آئی ،تیری وحی کو محفوظ کیا ،تیرے عہد کی حفاظت کی ،تیرے حکم کے نفاذ کی راہ میں بڑھتے رہے یہاں تک کہ روشنی کی جستجو کرنے والوں کے لئے آگ روشن کردی اور گم کردہ راہ کے لئے راستہ واضح کردیا ،ان کے ذریعہ دلوں نے فتنوں اور گناہوں میں غرق رہنے کے بعد ہدایت پالی اور انہوںنے راستہہ دکھانے والے نشانات اور واضح احکام قائم کردئے''۔
    ٣۔نجات اور فداکاری
    امام علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ''کنا اذا احمر الباس اتقینابرسول اللہ ولم یکن احد منا اقرب الی العدومنہ'' ''جب احمرا لباس ہوتاتھا تو ہم لوگ رسول خدا ﷺ کی پناہ میں رہا کرتے تھے اور کوئی شخص بھی آپ سے زیادہ دشمن سے قریب نہیں ہوتا تھا ''
    دوسری جگہ فرماتے ہیں : '' وکان رسو ل اللہ اذا احمر الباس واحجم الناس قدم اہل بیتہ فوقی بھم اصحابہ حر السیوف والالسنة فقتل عبیدة بن الحارث یوم بدر وقتل حمزة یوم احد وقتل جعفر یوم موتہ واراد من لو شئت ذکرت اسمہ مثل الذی ارادوا من الشھادة ولکن آجالھم عجلت ومنیتہ اجلت ''] نامہ /٩[
    ''اور رسول اکرم ﷺ کا یہ عالم تھا کہ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھتے تھے تو آپ اپنے اہل بیت کو آگے بڑھا دیتے تھے اور وہ اپنے کو سپر بناکر اصحاب کو تلواروں او ر نیزوںسے محفوظ رکھتے تھے ،چنانچہ بدر کے دن جناب عبیدہ بن حارث مارے گئے ،احد کے دن جناب حمزہ شہید ہوئے اور موتہ میں جعفر کام آگئے ،ایک شخص نے جس کا نام میں بتاسکتا ہوں انہیں لوگوں جیسی شہادت کا قصد کیا تھا لیکن ان سب کی موت جلدی آگئی اور اس کی موت پیچھے ٹال دی گئی''
    ٤۔رسول رحمت
    رسول اکرم ﷺ کے اوصاف میں سے ایک صفت ،رسول اکرم ﷺ رحمت الہی ہیں قران مجید فرماتاہے :
    ''وما ارسلناک الا رحمة للعالمین ''(سورہ احزاب،آیت ١٠٧) ''اے رسول !ہم نے تم کو فقط عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے''
    دنیا کے سبھی لوگ خواہ وہ مؤمن ہوں یاکافر، حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحمت کے ممنون ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے ایسے دین وآئین کی ترویج اپنے ذمہ لی ہے کہ جو سب کی نجات کا سبب ہے اب اگر کچھ لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے اور کچھ نے نہیں اٹھایا ،تو یہ بات خو د انہیں سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا حضرت ﷺ کی رحمت کے عمومی ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
    یہ بالکل اس طرح ہے کہ ایک ساز وسامان سے آراستہ ہسپتال تمام بیماریوں کے علاج کے لئے بنایا جائے جس میں ہر قسم کی دوائیاں اور ماہر طبیب اور ڈاکٹر موجود ہوںاور اس کے دروازے تمام لوگوں کے لئے بلاکسی امتیاز کے کھول دئیے جائیں توکیا یہ اس معاشرے کے تمام لوگوں کے لئے وسیلہ رحمت نہیں ہے ؟اب اگر بعض ہٹ دھرم بیمار اس فیض عام کو خود سے قبول کرنے سے انکار کردیں تو اس مرکز شفا کے عمومی ہونے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
    دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے وجود کا تمام جہانوں کے لئے رحمت ہونا تو فاعل کی فاعلیت کے مقتضی ہو نے کا پہلو رکھتا ہے لیکن مسلمہ طور پر فعلیت تبھی نتیجہ خیز ہوتی ہے جب قبول کرنے والے میں قبول کرنے کی قابلیت بھی ہو۔
    امام محمد باقر علیہ السلام نے امام علی علیہ االسلام کا یہ ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ جس میں امام فرماتے ہیں :
    '' کان فی الارض امانان من عذاب اللہ وقد رفع احدھا فدونکم الآخر فتمسکوا بہ اما الامان الباقی فاالاستغفار قال اللہ تعالی :وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون ''
    ''روئے زمین پر عذاب الہی سے بچانے کے لئے دو ذرائع تھے ایک کو پروردگار نے اٹھا لیا (پیغمبر اسلام )لہٰذا دوسرے سے تمسک اختیار کرو ،یعنی استغفار کرو کہ خالق کائنات نے فرمایا ہے :خدا اس وقت تک ان پر عذاب نہیں کرسکتاہے جب تک آپ موجود ہیں ،اور اس وقت تک عذاب کرنے والا نہیں ہے جب تک یہ استغفار کررہے ہیں ''
    امام باقر علیہ السلام کی اس روایت سے پیغمبر اکرم ﷺ کا باعث رحمت و امن ہونا معلوم ہوجاتاہے قرآن مجید کی نظرمیں رسول اکرم رحمة للعالین ﷺ ہیں اس لقب کی علت یہ ہے کہ جو بھی چیز لوگوں کے لئے سعادت ابدی کا باعث بن جاتی ہے وہ رسول اکر م ﷺ لے کر آئے اور حتی کہ کفارومشرکین کے لئے بھی رحمت شمار ہوجاتی ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات ایک دسترخوان جیسی ہے جس پر تما م قسم کی غذا پائی جاتی ہے لیکن بعض لوگ اس دسترخوان کی غذا سے استفادہ نہیں کرتے ہیں لہٰذا جو بھی اس سے استفادہ کرے وہ کامیاب وکامران ہوجائے گا اور جو اس سے روگردانی کرے گا وہ بدترین عذاب دنیوی واخروی میں گرفتار ہو گا ۔
    استغفار وہ عظیم ترین نعمت ہے جو ان کو دنیا وآخرت دونوں میں عذاب الہی سے محفوظ بنا سکتاہے اور مکہ میں سرکار دوعالم کے وجود کا بدل بن سکتا ہے اور یہ ا س امر کی دلیل ہے کہ استغفار صرف زبان سے ''استغفر اللہ ''کہہ دینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ سرکار دوعالم کی تعلیمات پر وہ مکمل عمل ہے جو آپ کے ظاہری وجود کے نہ ہونے کی صورت میں آپ کے وجود کی تاثیر کو باقی رکھ سکے ۔
    بہرحال موجودہ دنیا کہ جس کے درودیوار سے فساد وتباہی، قتل وغارت،ظلم وستم ،لوٹ وکھسوٹ۔۔۔وغیرہ کی بارش ہورہی ہے، جنگ کے شعلی ہر جگہ بھڑک رہے ہیں اور ظالم قوتوں کا چنگل مظلوم مستضعفین کے گلے دبا رہاہے،اس دنیا میں کہ جس میں جہالت ِ اخلاقی تباہی، خیانت ،ظلم واستبداداور طبقاتی تفاوت نے ہزاروں قسم کی مشکلات اور مصیبتیں پیدا کر دی ہیں ۔۔۔ہاں ! ہاں !ایسے جہان میں پیغمبر اکرم ﷺ کے'' رحمة للعالمین'' ہونے کا مفہوم ہر دور سے زیادہ آشکار اور واضح ہے اس سے بڑھ کر اور کیا رحمت ہوگی کہ آپ ﷺ ایک ایسا پروگرام لے کر آئے ہیں کہ جس پر عمل سے یہ تمام نامرادیاں ،بدبختیاں اور سیاہ کاریاں ختم ہوسکتی ہیں۔(تفسیر نمونہ،ج ٧،سورہ احزاب کی آیت١٠٧کی تفسیر کے ذیل میں)
    ٥۔خاتم الانبیاء
    امام علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :''الی ان بعث اللہ سبحانہ محمدا ً الانجاز عدتہ واتمام نبوتہ ''(خ،١) ''یہاں تک کہ مالک نے اپنے وعدے کو پورا کرنے اور اپنی نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد کو بھیج دیا ''
    اور اسی طرح آپ فرماتے ہیں: "ورسولک الخاتم لما سبق '' (خطبہ/٧٢) ''رسول اکرم ﷺ سابق نبوتوں کو ختم کرنے والے ہیں ''
    دوسری جگہ اس بات کو تصریح کے ساتھ فرماتے ہیں:
    ''ایھا الناس ! خذوھا عن خاتم النبیین انہ یموت من مات منا ولیس بمیت ویبلی من تبلی منا ولیس ببال ''(خطبہ/٨٧) ''لوگو !حضرت خاتم النبیین کے اس ارشاد گرامی پر عمل کرو کہ ''ہمار امرنے والا میت نہیں ہوتا ہے اورہم میں سے کوئی مرور زمانہ سے بوسیدہ نہیں ہوتا ہے''
    رسول اکرم ﷺ کے جنازے کو غسل وکفن دیتے وقت ارشاد فرمایا: "بابی انت وامی لقد انقطع بموتک مالم ینقطع بموت غیرک من النبوة والانباء واخبار السماء '' ''یا رسول اللہ !میرے ماں باپ آپ پر قربان ،آپ کے انتقال سے وہ نبوت الہی احکام اور آسمانی اخبار کاسلسلہ منقطع ہوگیا جو آپ کے علاوہ کسی کے مرنے سے منقطع نہیں ہوا تھا ''
    ٦۔افضل انبیاء
    حضرت اس بارے میں فرماتے ہیں: '' ارسلہ بالضیاء وقدّ مہ فی الاصطفاء ''(خطبہ/٢١٣) '' اس نے پیغمبر کو ایک نور دے کر بھیجا اور انہیں سب سے پہلے منتخب قرار دیا ہے''
    ایک اور جگہ حضرت فرماتے ہیں : ''واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ المجتبی من خلائقہ''(خ، ١٧٨)''اور پھر میں  شہادت دیتا ہوں  کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندہ اور تمام مخلوقات میں منتخب رسول ہیں''
    ٧۔طبیب د وّار
    امام امیرالمؤمنین  اس صفت کے بارے میں فرماتے ہیں : ''طبیب دوار بطبة ،قد احکم مراھمہ،واحمیٰ مواسمہ ،یضع ذلک حیث الحاجة الیہ ،من قلوب عمی ،وآذان صم ،والسنة بکم ،متتبع بدواء ہ مواضع الغفلة،ومواطن الحیرة ''(خطبہ/١٠٨) '' آپ وہ طبیب تھے جو اپنی طبابت کے ساتھ چکر لگا رہا ہو کہ اپنے مرہم کو درست کرلیا ہو اور داغنے کے آلات کو تپا لیا ہو کہ میں اندھے دل ،بہرے کان ، گونگی زبان پر ضرورت پڑے فوراً استعمال کردے ،اپنی دوا کو لئے ہوئے غفلت کے مراکز اور حیرت کے مقامات کی تلاش میں لگا ہوا ہو ''
    استاد شہید مرتضی مطہری  حضرت رسول اکرم ﷺ کی اس صفت کے بارے میں رقمطراز ہیں :
    نہج البلاغہ میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں حضرت علی  کا ایک جملہ ہے یہ جملہ پیغمبر اکرم ﷺ کی سیرت کے ایک گوشے کو بیان کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :''طبیب''حضرت رسول اکرم لوگوں کے لئے ایک طبیب تھے البتہ یہ بات واضح ہے کہ یہاں جسم کے طبیب مراد نہیں ہیں بلکہ روح اور سماج کے طبیب مراد ہیں ،پہلی تشبیہ حضرت رسول اکرم ﷺ کو طبیب متحرک سے دیتے ہیں اس تشبیہ میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی روش اپنے مریضوں کے ساتھ ایک معالج کی سی تھی۔
    ایک معالج بیمار کے ساتھ کیا طرز عمل رکھتا ہے؟
    اپنے مریض کے حوالے سے طبیب کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے حال پر کرتا ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام  نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں : ''وانما ینبغی لاھل العصمة والمصنوع الیہم فی السّلامة ان یرحموا اھل الذّنوب والعصمة''(خ،١٣٨)  ''جن لوگوں کو خدا نے پاک رہنے کی توفیق دی ہے انہیں چاہیے کہ وہ بیماران معصیت پر رحم کریں''
    اب یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتے تھے یاسختی سے؟لطف ومہربانی سے کام لیتے تھے یا درشتی اور طاقت سے؟
    حضرت علی  اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:حضرت ﷺ دونوں طریقوں سے کام لیتے تھے لیکن ہر طریقے کے موقع و محل سے واقف تھے آپ کے پاس مرہم بھی تھا اور میسم بھی(میسم یعنی جراحی کا آلہ ،داغنے کا آلہ)یہ خود حضرت امیر المؤمنین  کے الفاظ ہیں ؛آنحضرت کے ایک ہاتھ میں مرہم ہوتا تھا اور دوسرے ہاتھ میں میسم ۔جب آپ کسی زخم کا ایک نرم دوا سے علاج کرنا چاہتے تھے تو اس پر مرہم رکھتے تھے جہاں مرہم سے علاج ممکن ہوتاتھا،وہاں مرہم سے علاج کرتے تھے لیکن جہاں مرہم کار گر نہیں ہوتا تھا تو وہاں پھر خاموش ہوکر نہیں بیٹھ جاتے تھے]یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ ٹھیک ہے اب جبکہ میرا مرہم کار گر ثابت نہیں ہورہا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔اگر ایک خراب عضو کا مرہم سے علاج ممکن نہ ہوتو اسے داغنا چاہیے اور اس طرح اس کا علاج کرنا چاہیے ۔جراحی کے ذریعے اسے کاٹ ڈالنا چاہیے جدا کر کے دور پھینک دینا چاہیے۔ پس کہیں طاقت کا استعمال ،تو کہیں نرمی ومہربا نی ۔دونوں کو ان کی مناسب جگہ پر استعمال کیا کرتے تھے ۔(سیری در سیرہ نبوی،ص ٨٨۔٨٩)

     

     

    حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض

    امام جعفر صادق علیہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض کے عنوان پر اس مقالہ کو میں زیارت جامعہ کے چند کلمات سے شروع کرتےہیں  ۔

    السلام علیکُم یا اَھل بیتِ النُبوَۃِ و مو ضَع الرّساَلَۃ ۔۔۔۔۔۔ کلا مَکُم نُورُ وَاَمَرکُم رُشد، وَ صیّتکُم الّتقویٰ وَفعلُکُم خَیرَ عَادَتُکُم الا حَسانِ ۔۔۔۔۔۔ ان ذکِر الخَیر کُنتُم اَوّلَہ وَاَصلَہ' وَفَرَعَہُ وَ مَعدَ نہ وما وَایہُ و منتَھاه)

    ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے نبوت کے گھر والو اور پیغام ربانی کے مرکز۔ آپ کی گفتگو سر تاپائے نور، آپ کا فرمان ہدایت کا سرچشمہ ، آپ کی نصیحت تقویٰ کے بارے میں آپ کا عمل خیر ہی خیر، آپ کی عادت احسان کرنے کی ہے جب کبھی نیکیوں کاتذکرہ ہو تو آپ حضرات سے ہی ان کی ابتداء ہوتی ہے اور انتہا بھی ۔ اس کی اصل بھی آپ ہیں اور مخزن اور مرکز اور انتہا بھی آپ ہیں۔ ( ترجمہ رضی جعفر)

    زیارت جامعہ محمد و آلِ محمد (ص) کا قصیدہ ہے، حضرت امام علی النقی علیہ السلام کا ہم پر احسان ہے کہ انہوں اپنے انتہائی فصیح و بلیغ کلام میں زیارت جامعہ کی تدوین کی جو حقائق اور معرفت کا بے پایاں سمندر ہے۔ حضرت امام جعفر (ع) صادق کی شخصیت زیارت جامعہ میں بیان کردہ ان خصائص کی مجسم تصویر ہے۔

    امام صادق(ع) کی ہمہ گیر شخصیت کااحاطہ نا ممکن ہے ، اس مختصر مقالہ اور تیز رفتار زندگی کے تقاضوں کے پیش نظر اختصاراً امام صادق(ع) کی شخصیت کے چند اہم گوشوں کا تعارف ، نشر علوم، تدوین ۔ فقہ اور دانشگاہ جعفری کے فیوض اور امام کے چند شاگردوں کی علمی خدمات کا ایک تعارفی جائزہ مقصود ہے۔

    مختصر حالات

    جعفر کے معنی نہر کے ہیں۔ گو یا قدرت کی طرف سے اشارہ ہے کہ آپ کے علم و کمالات سے دنیا سیراب ہو جائیگی۔ امام جعفر (ع) صادق کی تاریخ ولادت ١٧ ربیع الاوّل پر سب کو اتفاق ہے مگر سال ولادت میں اختلاف ہے روایت رجال کے بموجب سنہ ولادت ٨٠ ھ ہے جبکہ محمد ابن ِ یعقوب کلینی اور شیخ صدق کا اتفاق ٨٣ ھ پر ہے۔ آپ نے بہ فضل ِ خدا ٦٥ سال عمر پائی اور مدتِ امامت ٣٤ سال رہی ( ١١٤ ھ تا ١٤٨ھ) چہاردہ معصومین میں طویل عمر اور عہد امامت کے حوالہ سے آپ کی امتیازی خصوصیت ہے۔ آپ کی مادر گرامی جناب اُمِ فروہ بنت ِ قاسم بن محمد بن ابو بکر تھیں۔ اپنی والدہ کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے خود امام صادق(ع) نے فرمایا'' میری والدہ ایک با ایمان با تقویٰ اور نیک خاتون تھی۔'' ( احمد علی ۔١) صاحب مروج الذھب کے حوالہ سے ان معظمہ کی عظمت اور مرتبہ کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ خود امام باقر نے آپ کے والد قاسم سے اپنے لئے خواستگار ی کی تھی۔ آپ کی مشہور کنیت عبداﷲ ہے اور بے شمار القاب میں ( الصادق) زیادہ مشہور ہے۔ آپ کے ٧ بیٹے یعنی اسماعیل ، عبداﷲ ، موسیٰ ( بن کاظم (ع)) اسحاق، محمد(الدیباج) ، عباس اور علی ، اور تین بیٹیاں ام فروہ، اسماء و فاطمہ تھیں۔ آپ کے دو ازواج مطہرات میں ایک فاطمہ بنت الحسین امام زین العابدین کی پوتی تھیں۔

    امام صادق(ع) کے دورِ امامت میں بنی امیہ کے سلاطین میں ہشام بن عبدالملک ، ولید بن یزید بن عبد الملک ، یزید بن ولید ، مروان حمار اور خاندان بنی عباس کے ٢، افراد ابو العباس السفاح اور منصور دوانیقی تھے۔ ان میں عبدالملک کے بیس سال کا عہد اور منصور دوانیقی کے دس سال شامل ہیں۔ ( رئیس احمد ۔٢)

    منصوردوانیقی ایک خود سر اور ظالم حکمران تھا۔ آئمہ اہلبیت اور ان کے دوستوں پر حاکمان وقت کے مظالم کے سلسلے میںصرف اتنا کہنا کافی ہے کہ '' ایک سیل خوں رواں ہے حمزہ سے عسکری تک'' منصور نے امام کو قتل کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی۔ بالآخر اس کے حکم پر حاکم بن سلیمان نے آپ کو زہر دے دیا جس سے ١٥ رجب ١٤٨ ھ کو آپ کی شہادت واقع ہوئی۔ بعض مورخین کے بموجب تاریخ شہادت ١٥ شوال ہے۔ ( عنایت حسین جلالوی۔٣)

    شخصیت کی عظمت

    شیعہ عقیدہ کی رو سے امامت کسبی نہیں بلکہ وہبی وصف ہے یعنی اس کا تعین خود اﷲ تعالیٰ کرتا ہے اور ایک امام دوسرے آنے والے کی نشان دہی کرتا ہے اس عمل کو (نص) کہتے ہیں یعنی منشائے الہیٰ کا اظہار، امام صادق(ع) کے بارے میں امام باقر (ع) کی بے شمار نصوص معتبر کتابوں میں ملتی ہیں( شیخ مفید ۔ الار شاد، بحار الانوار وغیرہ) ۔ امام جعفر ِ صادق کی عظیم شخصیت پر مسلسل اور انتھک کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آئمہ علیہ السلام کی زندگی کا ہر قدم ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان کی زندگی کا ہر پہلو صحیفہ رشد و ہدایت ہے۔ ان حضرات نے اپنی زندگیاں اطاعت خدا اور رسول میں وقف کردی تھی اور وحی الہٰی اور تعلیمات نبوی کو ہمیشہ پیش نظر رکھا ۔ امام کی حیاتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ بشریت کی یہ قد آور شخصیت اپنے علم و عمل سے انسانیت کو کس قدر فیص بخشا ہے۔ اس کا اندازہ امام سے متعلق ان آراء سے ہوسکتا ہے ۔ جس کا اظہار مختلف مفکرین نے وقتاً فوقتاً کیا ہے اس کی چند مثالیں حسب ذیل ہیں۔ ( محسن نقوی ۔٤)

    تصانیف

    نور المشرقین منِ حیاۃ الصادقین میں آغا سلطان مرزا نے ( اعیان الشیعہ) کے حوالہ سے امام کی تصانیف کی طویل فہرست دی ہیں ان میں سے چند مشہور حسب ذیل ہیں ۔ ( ١٥٠ تصانیف۔ ٨٠ بلاواسطہ اور ٧٠ بالواسطہ)

    ١۔رسالہ عبداﷲ ابن ِ النجاشی ۔ ٢۔رسالہ مروی عن الاعمش ٣۔ رسالہ توحید مفضل ٤۔کتاب الاہلیلجہ

    ان کے علاوہ امام کے مختلف دینی اور لا دینی طبقات اور دہریوں سے مناظروں کی ایک طویل فہرست بھی ہے جس میں اعترافات طبیب ہندی، امام ابو حنیفہ سے مناظرہ ، صوفیوں کے گروہ سے مناظرہ اور مشہور دہریہ ابو شاکر دیصانی سے مناظرہ قابل ِ ذکر ہیں۔

    واقعہ حضرت زید اور سیاسی بصیرت

    امام کی شخصیت کے مطالعہ میں ان کی سیاسی بصیرت بھی زیر بحث آتی ہے۔ اس ضمن میں قاتلانِ امام حسینؑ کے خلاف حضرت زید ابن ِ علی ابن الحسین کا معرکہ ایک اہم واقعہ ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد بنو حسن اور بنو حسین مدینے میں نہایت قلیل آمدنی پر گوشہ تنہائی میں گزارہ کرتے تھے سیاست میں مطلقاً حصہ نہیں لیتے تھے۔ ان کے علم و فضل اور زہد و عبادت کی وجہ سے لوگ ان کی بہت عزت کر تے تھے جس کی وجہ سے بنو امیہ اور بنو عباس ان کے مخالف تھے۔ انہیں طرح طرح سے اذیت دیتے تھے۔ بالآخر زید اور ان کے لڑکے یحییٰ کو بنو امیہ کے مسلسل ظلم نے تلوار سے اپنی حفاظت کرنے پر مجبور کردیا۔ ( جسٹس امیر علی، ہسٹری آف سارا سن) جناب زید خاندانِ اہلبیت کے ایک اہم فرد تھے اور علم حدیث اور فقہ میں آپ کا رتبہ بہت بڑا تھا۔ ٤٢ سال کی بھر پور جوانی میں بنو امیہ کے خلاف جہاد کیا اور ١٢٢ھ میں شہادت پر فائزہ ہوئے زید کے بعد ان کے بیٹے یحییٰ نے ان کی تحریک کو جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن ١٢٥ھ میں وہ بھی شہید ہو گئے۔

    زید کے مجاہدہ کے اس حساس معاملہ میں امام کی پالیسی سمجھنے کے لئے یہ نکتہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ امام نے اپنی آنکھوں سے خوارج کا فتنہ دیکھا تھا، اس فتنہ نے اہلِ مدینہ کو جس کرب میں مبتلا اور شدت و مصیبت سے دو چار کیا تھا وہ بھی دیکھا۔ علم امامت سے وہ محمد نفس ذکیہ اور ابراہیم اور یحییٰ بن زید کے مستقبل سے واقف تھے جس میں باطل کی سرنگونی کی کوئی علامت نہیں تھی۔ ان حالات میں گو امام زید کی تحریک میں عملاً شریک نہیں تھے وہ ان کی کامیابی کے آرزو مند تھے۔ اس ضمن میں امام کا یہ بیان قابل غور ہے۔ '' اﷲ تعالیٰ زید پر رحم فرمائے، وہ مومن تھے،عارف تھے۔ عالم تھے، صادق تھے۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو وفائے عہد کرتے، اگر حکومت ان کے ہاتھ آجاتی تو اس ذمہ داری کو خیر خوبی کے ساتھ وہ انجام دیکر دکھا دیتے۔'' اس بیان میں وفائے عہد کلیدی الفاظ ہیں جو حضرت زید کی نیک نیتی پر سند ہیں۔ زید کے ساتھ امام کی عدم شرکت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو علم کی اشاعت اور فقہ کی تدوین جیسے اعلیٰ اہداف کی تکمیل کے لئے وقف کرنا چاہتے تھے جس کے نتائج دوامی نوعیت کے تھے۔ ( رئیس احمد۔٢)