سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    15 رجب (1437ھ) وفات حضرت زینب سلام اللہ علیہاکے موقع پر


    حضرت زینب سلام اللہ علیہا عالمہ غير معلمہ ہیں

    "قال علي ابن الحسين عليهما السلام: « انت بحمد الله عالمة غير معلمة فهمة غير مفهمة»" امام زين العابدين عليہ السلام فرماتے هيں کہ بحمد اللہ ميري پھوپھي (زينب سلام اللہ  عليہا) عالمہ غيرمعلمہ هيں اور ايسي دانا کہ آپ کو کسي نے پڑھايا نهيں هے۔

    زينب سلام عليہا کي حشمت و عظمت کے لئے يهي کافي تھا کہ انھيں خالق حکيم نے علم لدني ودانش وہبي سے سرفراز فرمايا تھا ۔زينب ايک فردنهيں بلکہ اپنے مقدس وجود ميں ايک عظيم کائنات سميٹے هوئے هيں ايک ايسي عظيم کائنات جس ميں عقل و شعور کي شمعيں اپني مقدس کرنوں سے کاشانہ انسانيت کے دروبام کو روشن کئے هوئے هيں اور جس کے مينار عظمت پر کردار سازي کا پر چم لہراتا هوا نظر آتا هے زينب کے مقدس وجود ميں دنيائے بشريت کي تمام عظمتيں اور پاکيز ہ رفعتيں سمٹ کر اپنے آثار نماياں کرتي هوئي نظر آتي هيں زينب کا دوسري عام خواتين  پر قياس کرنا يقينا ناانصافي هے کيونکہ امتياز وانفرادي حيثيت اور تشخص هي کے سائے ميں ان کي قدآور شخصيت کے بنيادي خدو خال نماياں هو سکتے هيں اور يہ کہنا قطعاً مبالغہ نهيں کہ زينب ايک هوتے هوئے  بھي کئي ايک تھيں زينب نے کربلا کي سرزمين پر کسب کمال ميں وہ مقام حاصل کيا جس کي سرحديں دائرہ امکان ميں آنے والے ہر کمال سے آگے نکل گئيں اور زينب کي شخصيت تاريخ بشريت کي کردار ساز ہستيوں ميں ايک عظيم و منفرد مثال بن گئي ہم فضيلتوں کمالات اور امتيازي خصوصيات کي دنيا پر نظر ڈالتے هيں تو زينب کي نظير ہميں کهيں نظر نهيں آتي اور اس کي وجہ يهي هے کہ زينب اپنے وجود ميں ايک عظيم کائنات سميٹے هوئے جس کي مثال عام خواتين ميں نهيں مل سکتي هے اور يہ بات يہ ايک مسلم حقيقت بن چکي هے کہ انساني صفات کو جس زاو يے پر پرکھا جائے زينب کا نام اپني امتيازي خصوصيت کے ساتھ سامنے آتا هے جس ميں وجود انساني کے ممکنہ پہلوؤں کي خوبصورت تصوير اپني معنوي قدروں کے ساتھ نماياں دکھا ئي ديتي هے۔

    جناب زينب ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت کي عظيم دولت و نعمت سے  بھي  بہره مند  تھي  زينب  بنت علي تاريخ اسلام کے مثبت اور انقلاب آفريں کردار کا دوسرا نام هے صنف نازک کي فطري ذمہ داريوں کو پورا کرنے اور بني نوع آدم عليہ السلام کو حقيقت کي پاکيز ہ راہ دکھانے ميں جہاں مريم و آسيہ و ہاجرہ و خديجہ اور طيب وطاہره صديقہ، طاہر ہ فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہم کي عبقري شخصيت اپنے مقدس کردار کي روشني ميں ہميشہ جبين تاريخ کي زينت بن کر نمونہ عمل ثابت هوئي هيں وہاں زينب بھي اپنے عظيم باپ کي زينت بنکر انقلاب کربلا کا پرچم اٹھائے هوئے آواز حق و باطل سچ و جھوٹ ايمان و کفر اور عدل وظلم کے درميان حد فاصل کے طور پر پہچاني جاتي هيں زينب نے اپنے عظيم کردار سے آمريت کو بے نقاب کيا ظلم و استبداد کي قلعي کھول دي دنيا کے زوال پذير حسن وجمال پر قربان هونے والوں کو آخرت کي ابديت نواز حقيقت کا پاکيزہ چہرہ ديکھا يا صبرو استقامت کا کوہ گراں بنکر علي عليہ السلام کي بيٹي نے ايسا کردار پيش کيا جس سے ارباب ظلم و جود کو شرمندگي اور ندامت کے سوا کچھ نہ مل سکا زينب کو علي و فاطمہ عليہما السلام کے معصوم کردار ورثے ميں ملے اما م حسن عليہ السلام کا حسن وتدبير جہاں زينب کے احساس عظمت کي بنياد بنا وہاں امام حسين عليہ السلام کا عزم واستقلال علي عليہ السلام کي بيٹي کے صبر و استقامت کي روح بن گيا ، تاريخ اسلام ميں زينب نے ايک منفرد مقام پايا اور ايساعظيم کارنامہ سرانجام ديا جو رہتي دنياتک دنيائے انسانيت کے لئے مشعل راہ واسوہ حسنہ بن گيا۔

    کائنات کي سب سے محکم و مقدس شخصيتوں کے درميان پرورش پانے والي خاتون کتني محکم و مقدس هوگي اس کا علم و تقويٰ کتنا بلندو بالا هوگا يهي وجہ هے کہ روايت کاجملہ هيں کہ آپ عالمہ غير معلمہ هيں آپ جب تک مدينہ ميں رهيں آپ کے علم کا چر چہ هو تا رہا اور جب آپ مدينہ سے کوفہ تشريف لائيں تو کوفہ کي عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں سے کہا کہ تم علي سے درخواست کرو کہ آپ مردوں کي تعليم و تربيت کے لئے کافي هيں ليکن ہماري عورتوں نے يہ خواہش ظاہر کي هے کہ اگر هو سکے تو آپ اپني بيٹي زينب سے کہہ ديں کہ ہم لوگ جاہل نہ رہ سکيں ايک روز کوفہ کي اہل ايمان خواتين رسول زادي کي خدمت ميں جمع هو گئيں اور ان سے درخواست کي کہ انھيں معارف الٰهيہ سے مستفيض فرمائيں زينب نے مستورات کوفہ کے لئے درس تفسير قرآن شروع کيا اور چند دنوں ميں هي خواتين کي کثير تعداد علوم الٰهي سے فيضياب هونے لگي آپ روز بہ روز قرآن مجيد کي تفسير بيان کر تي تھيں اور روزبہ روز تفسير قرآن کے درس ميں خواتين کي تعداد ميں کثرت هو رهي تھي درس تفسير قرآن عروج پر پہنچ رہا تھااور ساتھ هي کوفہ ميں آپ کے علم کا چرچہ روز بروز ہر مردو زن کي زبان پر تھااور ہر گھر ميں آپ کے علم کي تعريفيں هو رهي تھيں اور لوگ علي(ع) کي خدمت ميں حاضر هو کر آپ کي بيٹي کے علم کي تعريفيں کيا کرتے تھے يہ اس کي بيٹي کي تعريفيں هو رهي هے جس کا باپ ”راسخون في العلم “ جس کا باپ باب شہر علم هے جس کا باپ استاد ملائکہ هے ۔

     

    بشکریہ :تبیان ڈاٹ نیٹ