سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/12/5 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    4شعبان(1437ھ)ولادت حضرت عباس علیہ السلام کےموقع پر

    YasGroup.ir-hazrate-abbas-32.jpg

    ولادت حضرت عباس علیہ السلام

    حضرت عباس علیہ السلام (ولادت سنہ 26، شہادت سنہ 61 ہجری) امام علی  علیہ السلام  اور ام البنین(س) کے فرزند ہیں اور "ابوالفضل" اور "علمدار" کے نام سے مشہور ہیں۔

    حضرت عباس، شیعہ کے نزدیک، ائمہ کی اولاد میں اعلی ترین مقام و مرتبت رکھتے ہیں ۔ شیعہ مصادر و منابع میں آپ سے کرامات نقل ہوئی ہیں اور آپ کو ادب، شجاعت، سخاوت، اتباع ولایت اور وفا کا نمونۂ کاملہ سمجھا جاتا ہے۔ آپ نہایت خوش چہرہ نوجوان ہونے کے ناطے قمر بنی ہاشم کا لقب دیا گیا ہے۔

    آپ کربلا میں اپنے بھائی حسین بن علی علیہ السلام کی سپاہ کے علمدار و پرچمدار نیز سقا تھے اسی بنا پر شیعیان اہل بیت علیہ السلام کے درمیان علمدار کربلا اور سقا‏ئے دشت کربلا کے لقب سے مشہور ہیں۔

    آپ ایک بار ساتویں محرم کے دن امام حسین علیہ السلام کے اہل خانہ اور اصحاب کے لئے پانی لانے میں کامیاب ہوئے۔ عاشوراکے دن بھی آپ پانی لانے کی غرض سے فرات کے کنارے پہنچ گئے اور پانی بھی اٹھا لیا لیکن خیام کی طرف لوٹتے ہوئے گھات لگائے اشقیاء نے پانی کے مشکیزے کو تیر کا نشانہ بنایا اور آپ کے دونوں ہاتھ قلم کردیئے اور آپ کوشہید کردیا۔

    زوجہ اور اولاد

    عباس علیہ السلام لبابہ بنت عبید اللہ بن عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔لبابہ بنت عبید اللہ اپنے زمانے کی پاکیزہ اور بزرگ خواتیں میں شمار ہوتی تھیں اور قرآن کے سائے اور اہل بیت کی محبت و اطاعت سے مالامال ماحول میں پرورش پا چکی تھیں۔  لبابہ بنت عبید اللہ کی والدہ اُمّ حكیم جویری بنت خالد بن قرظ كنانی، تھیں۔حضرت عباس علیہ السلام کی شادی کی تاریخ 40 سے 45ہجری میں انجام پائی تھی اور آپ شادی کے وقت 20 سالہ نوجوان تھے۔ جس کا ثمرہ دو بیٹے "فضل اور عبید اللہ" تھے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عباس کی پانچ اولادیں تھیں؛ چار بیٹے: "عبیدالله، فضل، حسن، قاسم" اور ایک بیٹی۔

     آپ کی اولاد کے حوالے سے مؤرخین میں اختلاف ہے؛ بعض منابع نے منقول ہے کہ آپ کے تین بیٹے تھے: عبیدا لله، حسن اور قاسم ،بعض نے کہا ہے کہ آپ کے دو بیٹے: عبید اللہ اور محمدتھے۔

    بہر صورت حضرت عباس علیہ السلام کی نسل عبید اللہ سے چلی۔ عبید اللہ کے دو بیٹے تھے: عبد اللہ اور حسن، عبد اللہ لا ولد تھے جبکہ حسن کے پانچ بیٹے تھے: عبید اللہ جو ایک عرصے تک مکہ اور مدینہ کے والی اور قاضی تھے؛ عباس، جو خطابت و فصاحت میں و صاحب و نام و نشان تھے؛ حمزة الاکبر اور ابراہیم جردقہ جو فقہاء، ادباء اور زاہدین میں شمار ہوتے تھے اور عباس علیہ السلام کے ان تمام وارثین نے فاضل اور عالم و دانشور فرزند اپنے پیچھے چھوڑے ہیں جن میں مثال کے طور پر محمد بن علی بن حمزہ بن حسن بن عبید اللہ بن عباس بن علی بن بن ابیطالب خاص طور پر مشہور تھے۔

    حضرت عباس  علیہ السلام  کے فضائل ومناقب

    امام حسن مجتبی کے ہمراہ

    حضرت عباس علیہ السلام امام حسن علیہ السلام  کے دور امامت کے دوران آپ علیہ السلام کی خدمت میں پا برکاب تھے اور اس دور میں امام حسن علیہ السلام  کو درپیش معاویہ اور اس کے کارگزاروں کی جانب سے مسلسل مخالفتوں اور دشمنیوں اور سازشوں کے باوجود ـ جو ہر وقت آپ علیہ السلام  کے لئے خطرات کا سبب تھیں ـ عباس علیہ السلام پوری قوت سے بھائی کی حفاظت میں کوشاں رہے۔ عباس علیہ السلام بھائی امام حسن علیہ السلام  کے دور میں شیعیان آل رسولﷺ کے باب الحوائج تھے؛ غریبوں اور محتاجوں کو اپنے بھائی کے الطاف و عنایات سے بہرہ مند کرتے رہتھے تھے۔ سائلین اور غرباء و مساکین ـ جو اپنی حاجتیں امام حسن علیہ السلام  کے پاس لاتے تھے ـ اپنے مسائل باب الحوائج کے سامنے بیان کرتے تھے اور آپ ان کے مسائل بھائی امام حسن علیہ السلام  کے لئے بیان کرتے تھے اور ان کے سلسلے میں بھائی کے جاری کردہ حکم پر عمل کرتے تھے۔

    نیز، جس وقت امام حسن علیہ السلام  اسلام دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوئے اور دشمنوں نے آپ کے جسم مبارک کو مدینہ میں تیروں کا نشانہ بنایا گیا، علوی و ہاشمی غیرت نے عباس علیہ السلام کا ہاتھ تلوار کے قبضے تک پہنچا دیا؛ لیکن آپ کو اپنے شہید بھائی کی بات یاد آئی چنانچہ امام وقت کی خالص پیروی ـ جو آپ کی زندگی میں حرف اول تھی ـ نے آپ کو صبر و حلم کی دعوت دی۔[52]

    یقینا امام حسن مجتبی علیہ السلام کے حضور حضرت عباس علیہ السلام کے فعال کردار کا بہترین گواہ امام صادق علیہ السلام کا قول ہے؛ امام نے حضرت عباس علیہ السلام کے زيارتنامے میں فرمایا: [سلام ہو آپ پر اے بندہ صالح اے] اللہ، اس کے اس کے رسول، امیر المؤمنین اور حسن اور حسین ـ صلی اللہ علیہم _ کے مطیع و فرمانبردار۔

    امام سجاد علیہ السلام   کی نظرمیں

    امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:

    "رَحِمَ اللَّهُ عمِّي الْعَبَّاسَ فَلَقَدْ آثَرَ وَ أَبْلَى وَ فَدَى أَخَاهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى قُطِعَتْ يَدَاهُ فَأَبْدَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِهِمَا جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ بِهِمَا مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ كَمَا جَعَلَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَ إِنَّ لِلْعَبَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى مَنْزِلَةً يَغْبِطُهُ بِهَا جَمِيعُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"۔

    ترجمہ: اللہ رحمت کرے میرے چچا عباس بن علی علیہ السلام پر، جنہوں نے ایثار اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان اپنے بھائی (امام حسین علیہ السلام ) پر قربان کردی حتی کہ دشمنوں نے ان کے دونوں ہاتھ قلم کردیئے چناچہ خداوند متعال نے ہاتھوں کے بدلے انہیں اپنے چچا جعفر طیار علیہ السلام کی طرح دو شہپر عطا کئے جن کے ذریعے وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں۔ بےشک خدا کی بارگاہ میں عباس علیہ السلام کو وہ مرتبت و منزلت ملی ہے کہ تمام شہداء روز قیامت آپ کا مقام دیکھ کر رشک و غبطہ کرتے ہیں [اور اس مقام کے حصول کی آرزو کرتے ہیں۔

    امام صادق  علیہ السلام   کی نظرمیں

    امام صادق  علیہ السلام  مختلف عبارتوں کے ضمن میں حضرت عباس علیہ السلام کو مختلف صفات کا حامل قرار دیتے ہیں:

    بصیرت راسخ، عظيم کیاست و دوراندیشی، بہت شدید اور مضبوط ایمان، جانبازی اور ایثار کی حد تک جہاد، اپنے زمانے کے امام کی راہ میں شہادت، جانشین رسولﷺ کے سامنے سراپا تسلیم ہونا، وفاداری میں استواری، وفاداری، اور زندگی کے آخری لمحے تک جدوجہد کرنا وغیرہ ۔

    امام زمان (عج) کی نظرمیں

    امام زمانہ علیہ السلام شہدائے کربلا کو سلام کہتے ہوئے فرماتے ہیں:

    "السلام على أبي الفضل العباس بن أمير المؤمنين، المواسي أخاه بنفسه، الآخذ لغده من أمسه، الفادي له، الواقي الساعي إليه بمائه المقطوعة يداه - لعن الله قاتله يزيد بن الرقاد الجهني، وحكيم بن الطفيل الطائي"۔

    ترجمہ: سلام ہو ابوالفضل العباس بن پسر امیرالمؤمنین علیہ السلام پر، جنہوں نے اپنے بھائی پر اپنی جان نچھاور کردی، دنیا کو اپنی آخرت کا ذریعہ قرار دیا [دنیا کو بیچ کر آخرت خرید لی]، وہ جو محافظ تھے اور لب تشنگانِ حرم تک پانی پہنچانے کی بہت کوشش کی اور ان کے دونوں ہاتھ قلم ہوئے۔ خداوند متعال کی نفرت و نفرین ہو ان کے قاتلوں یزید بن رقاد اور حکیم بن طفیل طائی پر؛ [خداوند متعال ان دونوں کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔

    معرفتِ امام

    حضرت عباس علیہ السلام کی عظمت کا ایک بہت بڑا سبب آپ کی امام شناسی اور ولایت کی معرفت اور اپنے زمانے کے امام کی اطاعت ہے؛ چنانچہ یہاں اس حوالے سے بعض نمونے پیش کئے جاتے ہیں:

    حضرت امام صادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کے زیارتنامے کے آپ کو خدا و رسول و [اپنے زمانے کے] ائمہ کے مطیع کے عنوان سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں:

    " الْمُطيعُ للَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِاَميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِمُ؛ (ترجمہ: [سلام ہو آپ پر اے بندہ صالح اے] اللہ، اس کے اس کے رسول، امیر المؤمنین اور حسن اورحسین ـ صلی اللہ علیہم _ کے مطیع و فرمانبردار۔

    تاسوعا کی شام کو شمر، عباس علیہ السلام اور آپ کے تین بھائیوں ("عثمان، جعفر اور عبداللہ") کے لئے امان نامہ لے کر آیا مگر حضرت عباس علیہ السلام نے کوئی توجہ نہ دی اور اس کو جواب نہیں دیا۔ حتی کہ آپ کو اپنے امام کا حکم ملا کہ "جاؤ اور شمر کو جواد دو"۔ عباس علیہ السلام نے فرمایا: کیا کہنا چاہتا ہے؟ شمر نے کہا: "تم اور تمہارے بھائی ("عثمان، جعفر اور عبداللہ") امان میں ہو"۔

    عباس نے کہا:

    تبّت يداك ولعن ما جئت به من امانك يا عدوّا للَّه، أ تأمرنا ان نترك اخانا وسيّدنا الحسين بن فاطمة، وندخل فی طاعة اللّعناء واولاد اللّعناء! اتؤمننا وابن رسول الله لا أمان له؟!"۔

    ترجمہ: ٹوٹ جائیں تیرے ہاتھ اور)خدا کی(لعنت ہو اس امان نامے پر جو تو لایا ہے، کیا تو ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے سید و سرور حسین فرزند فاطمہ(س) کو ترک کردیں اور لعینوں اور لعین زادوں کی اطاعت قبول کریں؟ حیرت ہے، کیا تو ہمیں امان دے گا اور ہمارے سید و آقا حسین علیہ السلام فرزند رسول خداﷺ کے لئے امان نہيں ہے۔!