سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/21 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    21رمضان(1437ھ)شہادت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر

    2485.jpg

    مظلومیت قرآن  و علی علیہ السلام

      قرآن دلوں کي بہار، مريضوں کي شفا، علم و دانش کا سر چشمہ، شناخت خدا  اور معرفتِ پروردگار کے لئے سب سے محکم، مستدل، اور متقن دليل منبع شناخت اسرار و رموز ِ کردگار مرجعِ فہم و ادراک منشا  پروردگار، وہ  سر چشمہ آب زلال جو زنگ لگے دلوں کو اس طرح صاف کرتا ہے کہ پھر انہيں ملکوت کي سير کے سوا کچھ اچھا نہيں لگتا۔

    گزرگاہِ تاريخ بني نوع بشر  پر جلتا ہوا وہ چراغ جو انساني زندگي کے تمام پيچ و خم کو قابلِ ديد بنا کر انسان کے ادنيٰ يا اعليٰ ہونے ميں مشعل راہ ہے۔ علم و حکمت کا ٹھاٹھيں مارتا ہوا وہ بحر ذخار کہ غواص علم و دانش جتنا اسکي گہرائي ميں اتريں گے اتنا ہي انکا  دامن معرفت کے بيش بہا گوہروں سے بھرتا جائے گا۔

    ليکن افسوس ! تہجر کے يخ زدہ پہاڑوں کو پگھلانے کے لئے جو کتاب نازل ہوئي تھي آج وہي کتاب تہجر کا شکار ہے اور آواز دے رہي ہے مجھے کس طرح ميرے ماننے والوں نے خود اپنے ہي وجود ميں منجمد کر ديا۔ ميں تو منجمد شدہ پيکروں کو آوازِ حق کي گرمي سے پگھلا کر اشرف المخلوقات انسان کو کمال کي انتہا پر پہنچانے آئي تھي ليکن آج ميرا وجود ہي ايک حرف بن کر رہ گیا ہے۔

    علي تاريخ بشريت کي مظلوم ترين شخصيت اتني بڑي کائنات ميں وہ اکيلا انسان جو صدياں گزر جانے کے بعد آج بھي اکيلا اسي جگہ کھڑا ہے جہاں صديوں پہلے کھڑا تھا ۔  اس انتظار ميں کہ شايد کچھ ايسے افراد مل جائيں جو اسے سمجھ سکيں اور پھر اسکا اکيلا پن دور ہو جائے ليکن زمانہ جيسے جيسے آگے بڑھ رہا ہے وہ اور زيادہ اکيلا ہوتا چلا جا رہا ہے بالکل قرآن کي طرح۔ علي اور قرآن کتني  يکسانيت ہے دونوں ميں؟ سچ کتني اپنائيت ہے دونوں ميں؟ جيسے دونوں کا وجود ايک دوسرے کے لئے ہو دونوں ايک دوسرے کے درد کو سمجھتے ہوں .  يہ بھي کيا عجيب اتفاق ہے امت محمدي کو مالک کي طرف سے دو عظيم عطيے ملے ليکن دونوں مظلوم، دونوں تنہا، دونوں درد کے مارے مگر آپس ميں ہماہنگ اس جہت سے کہ دونوں پر ظلم کرنے والے اور کوئي نہيں بلکہ خود اپنے ہي ماننے والے ہيں ۔

    جس طرح آج کروڑوں لوگ اپني زندگي ميں صبح و شام قرآن کا ورد کرتے ہيں ليکن نہ انہيں قرآني معارف کا علم ہے اور نہ وہ يہ جانتے ہيں کہ قرآن ان سے کيا چاہتا ہے اسي طرح علي کي ذات بھي ہے ۔ لوگ علي کا تذکرہ کرتے نہيں تھکتے، صبح و شام علي علي کرتے ہيں انکي محفلوں ميں علي کا نام ہے، مجلسوں ميں علي کا ذکر ہے، تقريبوں ميں علي کا چرچا ہے، خلوت کدوں ميں علي کے نام کا ورد ہے ليکن انہيں نہيں معلوم کہ يہ شخصيت کن اسرار کي حامل ہے اور خود يہ ذات اپنے چاہنے والوں سے کيا چاہتي ہے انہيں تو اس بات کا بھي علم نہيں ہے کہ جن فضيلتوں کا تذکرہ وہ دن بھر کرتے رہتے ہيں وہ تمام فضيلتيں تو فضائل ِ علي کے سمندر کا ايک قطرہ ہيں اور بس! علي کي ذات تو کچھ اور ہي ہے۔

    آج قرآن کے نام پر نہ جانے کتني محفليں ہوتي ہيں نہ جانے کتني نشستوں کا اہتمام کيا جاتا ہے نہ جانے دنيا ميں کن کن طريقوں سے قرآن کي قرآت کے مختلف اساليب کا مسابقہ ہوتا ہے، نہ جانے کتني جگہ قرآن فہمي کے دروس رکھے جاتے ہيں بالکل اسي طرح علي کے نام پر بھي محفليں سجتي ہيں، بے شمار تقريبيں ہوتي ہيں، لا تعداد سيمينار ہوتے ہيں ليکن صبح و شام نہ قرآن کے ورد کرنے والوں کو قرآن کے مفاہيم کا اندازہ ہے اور نہ ہي اس کے آفاقي پيغامات پر کوئي غور و خوض کرنے پر اپنے آپ کو آمادہ کر پاتا ہے نہ ہي علي کے نام کو صبح سے شام تک اپني زبان پر لينے والے افراد يہ جانتے ہيں کہ علي کي شخصيت کيا ہے اور رفتار علوي کسے کہتے ہيں؟

    يہ امر بھي قابل حيرت ہے کہ علي کہ نام کو ورد زباں بنانے والے افراد جہاں اس مبارک نام کو اپني ہر محفل کي زينت بنانا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہيں وہيں علي پر پڑنے والي مصيبتوں پر روتے بھي ہيں اور خوب خوب روتے ہيں کوئي نہ انکي محبت کو خدشہ دار بنا سکتا ہے اور نہ کوئي انکے عمل ميں نقص ڈھونڈ سکتا ہے واقعي اور حقيقي معني ميں يہ علي سے محبت کرتے ہيں اور علي کو چاہتے ہيں اور اسي لئے علي کا نام آتے ہي خوشيوں کي ايک لہر ان کے وجود ميں دوڑ جاتي ہے اور علي کي مصيبتوں کا تذکرہ ہوتے ہي آنکھوں ميں آنسو آ جاتے ہيں ليکن افسوس تو يہاں ہوتا ہے کہ علي کے ان چاہنے والوں اور عاشقوں کو نہيں معلوم کہ خود علي کيوں رو رہے ہيں؟

    آج جس ضربت نے سرِ علي کو دو پارہ کر ديا اس پر رونے والے تو بہت مل جائيں گے ليکن وہ زخم زباں جنہوں نے علي کے حساس وجود کو اندر سے کرچي کرچي کر ديا اس پر رونے والا کوئي نہيں ملتا وہ نشتر جو علي ؑکے دل کے آر پار ہو گئے ان پر گريا کرنے والا کوئي نہيں ہے اور نہايت درجہ افسوس تو يہ ہے کہ رونا تو در کنار نہ کسي کو علي کے دل ميں چبھے نشتر نظر آتے ہيں اور نہ کسي کو علي کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دينے والے مصائب دکھتے ہيں۔ کوئي اپنے آپ سے نہيں پوچھتا کہ علي کے اوپر پڑنے والي وہ کونسي مصيبت ہے جو رات کي تاريکي ميں علي کو چاہ ميں سر ڈال کر رونے پر مجبور کر رہي ہے، آخر وہ کونسا راز ہے جسے علي بني نوع بشر کي فرد فرد تک پہنچانا چاہتا ہے اور جب اسکي آواز خود اس کے ہي ہونٹوں ميں دب کر ٹوٹ جاتي ہے تو نخلستانوں ميں بلک بلک کر اپنے معبود کي بارگاہ ميں فرياد کرتا ہے : " ربنا ما خلقت ہذا باطلا سبحانک فقناعذاب النار"

    آئيے ! اس مبارک مہينے ميں جہاں ہر طرف برکات کا نزول ہے کچھ ان اساسي اور بنيادي مسائل پر وقت نکال کر غور کرتے ہيں کہ علي کي تنہائي کا راز آخر کيا ہے؟ قرآن آج بھي آخر کيوں تنہا ہے؟ ہم علي اور قرآن کي تنہائي کو دور کرنے کے لئے کيا کر سکتے ہيں؟ ہماري اجتماعي زندگي ميں قرآن کا کتنا دخل ہے؟ ہم اپنے معاشرے کو کس قدر قرآن کا پابند بنا سکتے ہيں کہيں ہمارا زمانہ وہي زمانہ تو نہيں جس کے لئے علي نے کہا تھا۔

     "و انہ سياتي عليکم بعدي زمان۔۔ و ليس عند اھل ذلک الزمان سلعۃ ابور من الکتاب ۔ فقد نبذ الکتاب حملتہ و تناساہ حفظتہ۔" ياد رکھو ميرے بعد تمہارے سامنے وہ زمانہ آنے والا ہے جب اس زمانے والوں کے نزديک کتابِ خدا سے زيادہ بے قيمت کوئي متاع نہ ہوگي ۔حاملان کتاب،کتاب کوچھوڑ ديں گے اور حافظان قرآن، قرآن کو بھلا دينگے۔

    قرآن کے متعالي مفاہيم کو سمجھنے اور نئي نسل تک منتقل کرنے اور قرآن کے ساتھ کي جانے والي علي کي خدمات کو بيان کرنے کے لئے اس مبارک مہينے ميں کہ جس ميں ايک طرف قرآن نازل ہوا تو دوسري طرف محافظ قرآن کے خون سے محراب مسجد رنگين ہو گئي، اس ماہ کا خصوصي شمارہ ميزان ہماري ايک کمترين کوشش ہے اور اس راہ ميں ايک ادنيٰ قدم ہے ہميں يہ اعتراف کرنے ميں کوئي جھجک نہيں ہے کہ نہ ہميں اپني قلمي کاوشوں پر بھروسہ ہے اور نہ ہي اس سلسلے ميں اٹھائے جانے والے کسي تحريري قدم پر اعتبار ہے۔

    اس لئے کہ دن رات کي انتھک کوششوں کے بعد بھي اگر کوئي تحرير مالک کي بارگاہ ميں مقبول نہيں تو تمام محنت رايگاں ماہ و سال کي خدمت لائق مذمت ہے۔ اگر اس پر رضايت مالک کي مہر ثبت نہ ہو۔ تحرير کر دينا ہمارا کام ہے اس کے اندر اثر پيدا کر دينا مالک کا کام ہے اسي لئے اس مبارک مہينے ميں ہم مالک کے حضور دست بدعا ہيں ۔

    معبود ! خدمت اسلام کے جذبہ سے سر شار تيرے چند ناچار اور بے بس بندوں نے ايک ادني ٰ سي کوشش کي ہے تیرے محبوب ترين کلا م اور تيرے پسنديدہ لہجہ کو دنيا کے سامنے آشنا کرانے کي اسے قبول کر لے۔

    مالک! ہميں اپني کميوں اور خاميوں کا اعتراف ہے ليکن تيري بے پناہ رحمت کا سہارا ہے اگر ہم سے کوئي خطا ہوئي ہو تو اسے بخش دے ۔ رب کريم ! تو بخشنے والا رحمان و رحيم  پروردگار ہے، اس مبارک مہينے ميں ہميں توفيق عطا فرما کہ ہم زيادہ سے زياد ہ تيري عبادت ميں وقت صرف کرسکيں۔

    شہادت

    حضرت علی علیہ السّلام کو 19 رمضان40ھ  کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔