سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/12/5 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    18ذی الحجہ(1437ھ)عیدسعید غدیر خم کے موقع پر


    غدیرخم  

    لغت میں لفظ " غدیر" کے کئی معنی ذکر کئے گئے ہیں، جیسے: تالاب، پانی کا ایک حصہ، اور بارش کا پانی جمع حونے کی جگہ۔ غدیر خم، عالم اسلام کے دوبڑے اور اہم شہروں، یعنی مکہ اور مدینہ کے درمیان " جحفہ" نامی ایک جگہ پر واقع ہے کہ رسول خدا ﷺ کے زمانہ میں حج کے کاروان اس جگہ پر ایک دوسرے سے جدا ہوکر اپنے اپنے وطن کی طرف روانہ ہوتے تھے- اس جگہ کو غدیر خم کے نام سے مشہورہونے کے بارے میں کئی احتمالات بیان کئے گئے ہیں، جیسے: اس علاقہ کے آب و ہوا کی وجہ سے یہ جگہ اس نام سے مشہورہوئی ہے-

    غدیر خم کا منظر :

     ۱۰ ہجری کے آخری ماہ (ذی الحجہ) میں حجة الوداع کے مراسم تمام ہوئے اور مسلمانوں نے رسول اکرم سے حج کےاعمال سیکھے۔ حج کے بعد رسول اکرم نے مدینہ جانے کی غرض سے مکہ کوچھوڑنےکا اعلان کرتے ہوئے ،قافلہ کوکوچ کا حکم دیا ۔جب یہ قافلہ جحفہ سے تین میل کے فاصلے پر رابغ  نامی سرزمین پر پہونچا تو غدیر خم کے نقطہ پرجبرئیل امین وحی لے کر نازل ہوئے اور رسول اکرم ﷺکو اس آیت کے ذریعہ خطاب کیا "یا ایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربکوان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس" اے رسول! اس پیغام کو پہونچا دیجئے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل ہو چکا ہےاور اگر آپ نے ایسا نہ کیا توگویا رسالت کا کوئی کام انجام نہیں دیا؛ اللہ آپ کو لوگوں کے شرسے محفوظ رکھے گا۔ آیت کے اندازسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے کوئی  ایسا عظیم کام رسول اکرم ﷺ سپرد کیا ہے ،جوپوری رسالت کے ابلاغ کے برابر ہے اور دشمنوں کی مایوسی کا سبب بھی ہے ۔اس سے بڑھ کر عظیم کام اور کیا ہوسکتا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کےسامنے حضرت علی علیہ السلام کو خلافت و وصایت و جانشینی کے منصب پر معین کریں؟  لہٰذا قافلہ کو رکنے کا حکم دیا گیا ،جولوگ آگے نکل گئے تھے وہ پیچھے کی طرف پلٹے اور جو پیچھے رہ گئے تھے وہ آکر قافلہ سے مل گئے ۔ ظہرکا وقت تھا اورگرمی اپنے شباب پرتھی؛ حالت یہ تھی کہ کچھ لوگ اپنی عبا کاایک حصہ سر پر اور دوسرا حصہ پیروں کے نیچے دبائے ہوئے تھے۔ پیغمبر کے لئےایک درخت پر چادر ڈال کر سائبان تیار کیا گیا اور آپ ﷺ نے اونٹوں کے کجاوں سے بنے ہوئے منبر کی بلندی پر کھڑے ہو کر، بلند آواز میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے۔

    غدیر خم میں پیغمبرؐ  کا خطبہ:

    حمد وثناءاللہ کی ذات سے مخصوص ہے ۔ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں ، اسی پر توکل کرتےہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں ۔ہم برائی اور برے کاموں سے بچنے کے لئے اس ا للہ کی پناہ چاہتے ہیں ، جس کے علاوہ کوئی دوسرا ہادی و راہنما نہیں ہے۔اور جس نے بھی گمراہی کی طرف راہنمائی کی وہ اس کے لئے نہیں تھی ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ،اور محمد اس کا بندہ اوررسول ہے۔ ہاں اے لوگو!وہ وقت قریب ہے، جب میں دعوت حق پر لبیک کہتا ہواتمہارے درمیان سے چلا جاؤں گا !تم بھی جواب دہ ہو اور میں بھی جواب دہ ہوں۔ اس کے بعد آپ نے  فرمایا کہ میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟کیا میں نےتمہارے بارے میں اپنی ذمہ داری کو پوراکردیا ہے ؟یہ سن کر پورے مجمع نےرسول اکرم ﷺکی خدمات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے بہت زحمتیں اٹھائیں اوراپنی ذمہ داریوں کوپوراکیا ؛اللہ آپ کو اس کا بہترین اجر دے ۔ پیغمبر اکرم ﷺنے فرمایا:" کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اس پوری دنیا کامعبود ایک ہے اور محمد اس کا بند ہ اور رسول ہے؟ اور جنت و جہنم وآخرت کی جاویدانی زندگی میں کوئی شک نہیں ہے؟ سب نے کہا کہ صحیح ہے ہم گواہی دیتے ہیں ۔ اسکے بعد رسول اکرﷺنے فرمایا:"اے لوگو!میں تمہارےدرمیان دو اہم چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں ،میں دیکھوں گا کہ تم میرے بعد،میری ان دونوں یادگاروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو؟ اس وقت ایک شخص کھڑاہوا اور بلند آواز میں سوال کیا کہ ان دو اہم چیزوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟پیغمبر اکرمﷺنے فرمایا : ایک اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک سرا اللہ کی قدرت میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں ہے اور دوسرےمیری عترت اور اہل بیت ہیں،اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ ہرگز ایک دوسرےسے جدا نہ ہوں گے ۔ ہاں اے لوگوں! قرآن اور میری عترت پر سبقت نہ کرنا اور ان دونوں کے حکم کی تعمیل میں بھی کوتاہی نہ کرنا ،ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے ۔ اسکے بعد حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی، سب کو نظر آنے لگی پھر علیؑ سے سب لوگوں سے متعرف کرایا۔ اس کے بعد فرمایا: " کون ہے جومومنین پر ان کے نفوس سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے ؟"“ سب نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ پیغمبر ﷺ نے فرمایا :”اللہ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کامولا ہوں اور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہوں۔ “ ہاں اےلوگو!” من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ،وعاد من عاداہ واحب من احبہ وابغض من ابغضہ وانصر من نصرہ وخذل من خذلہ وادرا لحق معہ حیث دار" جس جس کا میں مولیٰ ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں ، اے اللہ تو اسکو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اوراس کودشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے ،اس سے محبت کر جو علی سے محبت کرے اور اس پر غضبناک ہو جو علی پرغضبناک ہو ،اس کی مدد کرجو علی کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی کورسوا کر ے اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر علی مڑیں ۔ اوپر لکھے خطبہ  کواگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو اس میں جگہ جگہ پر حضرت علی علیہ السلامکی امامت کی دلیلیں موجو د ہیں ۔ 

    حدیث کی جاودانی:

    اللہ کا حکیمانہ ارادہ ہے کہ غدیر کا تاریخی واقعہ ایک زندہ حقیقت کی صورت میں ہر زمانہ میں باقی رہے اورلوگوں کے دل اس کی طرف جذب ہوتے رہیں۔ اسلامی قلمکار ہر زمانے میں تفسیر ،حدیث،کلام اور تاریخ کی کتابوںمیں اسکے بارے میں لکھتے رہیں اور مذہبی خطیب، اس کو واعظ و نصیحت کی مجالس میں حضرت علی علیہ السلام کے ناقابل انکار فضائل کی صورت میں بیان کر تے رہیں۔ اور فقط خطیب ہی نہیں بلکہ شعراء حضرات بھی اپنے ادبی ذوق ،تخیل اور اخلاص کے ذریعہ اس واقعہ کی عظمت کو چار چاند لگائیں اورمختلف زبانوں میں مختلف انداز سے بہترین اشعار کہہ کر اپنی یادگار چھوڑیں ۔

    دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں بہت کم ایسے تاریخی واقعات ہیں جو غدیر کی طرح محدثوں، مفسروں، متکلموں، فلسفیوں، خطیبوں، شاعروں،مؤرخوں اور سیرت نگاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوں ۔ اس حدیث کے جاودانی ہونے کی ایک علت یہ ہے کہ اس واقعہ سے متعلق دو آیتیں قرآن کریم میں موجودہیں ۔ لہٰذا جب تک قرآن باقی رہے گا یہ تاریخی واقعہ بھی زندہ رہے گا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اٹھارویں ذی الحجة الحرام مسلمانوں کے درمیان روز عید غدیر کے نام سے مشہور تھی یہاں تک کہ ابن خلکان، المستعلی بن المستنصرکے بارے میں لکھتا ہے کہ ۴۸۷ ئہ میں عید غدیر خم کے دن جو کہ اٹھارہ ذی الحجة الحرام ہے ،لوگوں نے اس کی بیعت کی۔

    اور المستنصر باللہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ ۴۸۷ ہجری میں جب ذی الحجہ ماہ کی آخری بارہ راتیں باقی رہ گئیں تو وہ اس دنیا سے گیا اور جس رات میں وہ دنیا سے گیا ماہ ذی الحجہ کی اٹھارویں شب تھی جو کہ شب عید غدیر ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ ابوریحان بیرونی نے اپنی کتاب الآثار الباقیہ میں عیدغدیر کو ان عیدوں میں شما رکیا ہے جن میں تمام مسلمان خوشیاں مناتے تھےاور اہتمام کرتے تھے ۔صرف ابن خلقان اور ابوریحان بیرونی نے ہی اس  دن کو عید کا دن نہیں کہا ہے، بلکہ اہل سنت کے مشہور معروف عالم ثعلبی نے بھی شب غدیر کو امت مسلمہ کے درمیان مشہور شبوں میں شمار کیا ہے ۔

    اس اسلامی عید کی بنیاد پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں ہی رکھی جا چکی تھی، کیونکہ آپ نے اس دن تمام مہاجر ،انصار اور اپنی ازواج کو حکم دیا کہ علی علیہ السلام کے پاس جاؤاور امامت و ولایت کے سلسلہ میں ان کو مبارکباد دو ۔ زید ابن ارقم کہتے ہیں کہ ابوبکر ،عمر،عثمان،طلحہوزبیر مہاجرین میں سے وہ پہلے افراد تھے جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کےہاتھ پر بیعت کی اور مبارکباد دی۔