سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    30صفر(1438ھ)شہادت امام رضا علیہ السلام کے موقع پر


    سَمِعْتُ الرِّضَا(ع) يَقُولُ: «لَا يَجْتَمِعُ الْمَالُ إِلَّا بِخِصَالٍ خَمْسٍ بِبُخْلٍ شَدِيدٍ وَ أَمَلٍ طَوِيلٍ وَ حِرْصٍ غَالِبٍ وَ قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَ إِيثَارِ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَة»

    امام رضا علیہ السلام کو یہ ‌‌فرماتے ہوئے سنا: مال اورثروت ایک جگہ پر جمع نہیں ہو سکتا مگر ان پانچ خصلتوں کی وجہ سے:بہت زیادہ بخل،طویل آرزو،بہت زیادہ لالچ، رشتہ داروں سے قطع تعلق اوردنیا کو آخرت پر ترجيح دینا۔

    ویسے تو ائمه علیهم السلام سب کے سب وارث علم نبوت هیں هر ایک اپنے زمانے کے سب سے بڑے اور بینظیر عالم هیں لیکن بعض ائمه کو اپنا علمی جوهر د کھانے کی فرصت ملی انهی میں سے حضرت امام رضا علیه السلام  بھی هیں مخصوصا جب آپ خراسان آئے تو اپنےعلم سے لوگوں کو فیضیاب کرنے کی زیاده فرصت ملی چونکه ایک طرف  مختلف علوم کا عربی زبان میں ترجمه اپنے عروج پر تھا اور دوسری طرف خود خلیفه امام علیه السلام کو شکست دینے کی غرض سے ایسےعلمی مناظروں کا اهتمام کرتا تھا که جن میں مختلف مکاتب فکر اور مختلف ادیان کے سب سے بڑے علماء کو امام سے مناظره کرنے کیلئے بلاتے تھے۔

    جيساكہ مأمون نے ’’سلمان مروزي‘‘خراسان كے معروف متكلم سے كہا: "اِنّما وَجَّھتُ اليك لِمَعرِفَتي بقوّتك وَلَيس مُرادِي اِلاّ اَن تقطعہ عن حجّۃٍ واحدۃٍ فقط" يعني ميں نے تمہيں مناظرہ كرنے كي دعوت فقط اس ليے دي ہے كيونكہ ميں تمہاري علمي قدرت سے آشنا و آگاہ ہوں اور ميري خواہش و مراد فقط يہ ہے كہ فقط اورفقط ايك علمي دليل ايسي لاؤ جس كے سامنے وہ (امام رضا عليہ السلام)لاجواب ہوكر رہ جائيں’’ليكن مأمون كي خام خيالي كے برعكس امام عليہ السلام كي شخصيت كے علمي پہلو زيادہ واضح طور پر جلوہ گر ہورہے تھے اور اس طرح رسولِ خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے اہلبيت كي لياقت و برتري عوام اور اہل علم افراد پر زيادہ واضح و نماياں ہورہي تھي جيسا كہ خود امام عليہ السلام نے ’’نوفلي‘‘سے فرمايا:" يا نوفلي أتحب أن تعلم متى يندم المأمون ، قلت : نعم ، قال : إذا سمع احتجاجي على أهل التوراة بتوراتهم وعلى أهل الإنجيل بإنجيلهم وعلى أهل الزبور بزبورهم وعلى الصابئين بعبرانيتهم وعلى الهرابذة بفارسيتهم وعلى أهل الروم بروميتهم وعلى أصحابالمقالات بلغاتهم ، فإذا قطعت كل صنف ودحضت حجته وترك مقالته ورجع إلى قولي علم المأمون أن الموضع الذي هو بسبيله ليس هو بمستحق له ، فعند ذلك تكون الندامة منه ، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم"

    ‘‘اے نوفلی کیا یه جاننا چاهتے هو که کب مامون پشیمان هو گا ؟ اس نے کها : جی هاں . امام نے فرمایا : جب اهل تورات کے خلاف  تورات سے دلیل لاوں انجیل والوں کو  انجیل سے زبور والوں کو زبور سے صابئین کو ان کے اپنے عبرانیت سے هرابزه کو فارسی سے روم والوں کو اپنے رومی سے اور باقی زبان والوں کو اپنی اپنی زبانوں سے دلیل لاوں يعني جب تمام مناظرہ كرنے والوں پر ميں حجت تمام كر كے لاجواب كردوں گا اور ان كي دليلوں كے جواب دے كر انھيں رد كر دوں گا تو مأمون خود سمجھ جائے گا كہ جو مقام اس نے اپنےليے انتخاب كيا ہے،خود اس كے لائق نہيں ہے اس وقت وه پشیمان هو جائیگا‘‘

    امام عليہ السلام اور جاثليق مسيحي كا مناظرہ
    اس مناظرہ ميں حضرت امام رضا عليہ السلام كے نہايت تعجب انگيز اور خوبصورت انداز ميں اس مسيحي اہل علم (دانشمند)كو خداوندمتعال كي وحدانيت كا قائل ہونے كي طرف راغب فرمايا اور انہيں كے قابل قبول مطالب كا حوالہ دے كر توحيد كو ان پر ثابت فرماديا چنانچہ مناظرے كے دوران حضرت نے فرمايا:مجھے عيسيٰ ميں كوئي ناپسند امر نظر نہيں آيا ليكن فقط يہ كہ حضرت كے نماز و روزہ قليل تھے،مسيحي عالم برہم ہوگيا اور كہنے لگا:آپ كے علم كا كوئي فائدہ نہيں كيونكہ عيسيٰ ہميشہ دنوں ميں روزہ دار اور راتوں ميں عبادت گذار ہوتے تھے،اس موقع پر حضرت امام رضا عليہ السلام نے فرمايا:عيسي كس ليے نماز و روزہ كي عبادات انجام ديتے تھے؟

    اس مقام پر مسيحي عالم لاجواب ہوكررہ گيا اور كچھ بول نہيں سكا كيونكہ وہ اس بات كي طرف متوجہ ہوگيا كہ حضرت عيسيٰ كيليے يہ بات قبول كرلينا كہ وہ اس قدر نمازيں پڑھتے تھے،اس قدر روزے ركھتے تھے جيسا كہ ان كي كتب ميں بھي ذكر ہوا ہے؛تو اس سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ حضرت عيسيٰ اپنے آپ كو خداوند كا بندہ سمجھتے تھے، حضرت امام رضا عليہ السلام نے سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے فرمايا: كيوں نہيں قبول كرتے ہو كہ عيسيٰ خداوند كے اذن سے مردے زندہ كرتے تھے؟

    مسيحي انديشمند نے جواب ديا:اس ليے كہ جو خود مردے زندہ كرتا ہے،مادرزاد اندھوں كو بينائي و بصارت ديتا ہے اور مريض كو شفا ديتا ہے وہ خدا ہے اور اس قابل ہے كہ اس كي پرستش كي جائے۔حضرت نے فرمايا:يسع پيغمبر نے بھي يہي عيسيٰ والے كام انجام ديے ہيں،وہ پاني پر چلتے تھے، مردے زندہ كرتے تھے،مادر زاد (پيدائشي)اندھوں كو بينائي ديتے تھے،مريض كو شفا ديتے تھے،لوگوں نے انھيں تو خدا نہيں كہا،حزقيل نبي نے بھي وہ كام كيے جو عيسيٰ كرتے تھے اور انہوں نے پينتيس ہزار(۳۵۰۰۰)مردوں كو زندہ كيا۔خليل الرحمٰن حضرت ابراہيم نے چار پرندوں كو ٹكڑے كرديا،ايك ايك حصے كو ايك ايك پہاڑ پر ركھ ديا پھر پرندوں كو پُكارا اور تمام پرندے(كامل و سالم)ان كي طرف آگئے اور موسيٰ ابن عمران جو اپنے ستر اصحاب كے ساتھ كوہ طور پر گئے ہوئے تھے اسي وقت آسماني بجلي نے انہيں آليا اور سب جل گئے،موسيٰ نے عرض كي:اے پروردگار!ميں نے بني اسرائيل ميں سے ستر افراد كا انتخاب كيا اور يہاں لايا،اب اگر اكيلا واپس جاؤں اور انہيں يہ خبر سناؤں تو وہ ميري تصديق نہيں كريں گے؛پس خداوند نے ان سب كو زندہ كرديا۔
    اے جاثليق جو واقعات ميں نے ذكر كيے كسي ايك كا بھي تم انكار نہيں كرسكتے كيونكہ يہ واقعات تورات، انجيل،زبور اور قرآن مجيد ميں مذكور و موجودہيں،اگر معيار يہ ہو كہ جو بھي مردہ زندہ كردے،مادرزاد اندھوں كو بينائي دے دے اور مريض كو تندرست كردے؛وہ پرستش و عبادت كے لائق ہو تو ان تمام حضرات كو اپنا خدامان لو،كيا كہتے ہو؟
    جاثليق نے كہا:آپ كا عقيدہ برحق ہے اور خدائے واحد كے علاوہ كوئي خدا نہيں ہے۔

    پھر امام دوسرے ادیان کے علماء کی طرف متوجه هوکر ان سے مناظره کیا اور سب پر غالب آگئے- اور وه مامون کے پچھتانے کا موقع تھا –

    شهادت امام علیه السلام

    واقعہ شہادت کے متعلق مورخین نے لکھتے ہیں کہ حضرت امام رضاعلیہ السلام نے فرمایاتھا کہ ”فمایقتلنی واللہ غیرہ“ خداکی قسم مجھے مامون کے سواء کوئی اورقتل نہیں کرے گا اورمیں صبرکرنے پرمجبورہوں۔ ایک روزمامون نے حضرت امام رضاعلیہ السلام کواپنے گلے سے لگایااورپاس بیٹھاکران کی خدمت میں بہترین انگوروں کاایک طبق رکھا اوراس میں سے ایک خوشااٹھاکرآپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہایابن رسول اللہ یہ انگورنہایت ہی عمدہ ہیں تناول فرمائیے آپ نے یہ کہتے ہوئے انکارفرمایاکہ جنت کے انگوراس سے بہتر ہیں اس نے شدید اصرارکیااورآپ نے اس میں سے تین دانے کھالیے یہ انگورکے دانے زہرآلودتھے انگورکھانے کے بعد آپ اٹھ کھڑے ہوئے ،مامون نے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا جہاں تونے بھیجاہے وہاں جارہا ہوں قیام گاہ پر پہنچنے کے بعد آپ تین دن تک تڑپتے رہے بالآخرانتقال فرما گئے۔ انتقال کے بعدحضرت امام محمدتقی علیہ السلام باعجازتشریف لائے اورنمازجنازہ پڑھائی اورآپ واپس چلے گئے مامون  نے بڑی کوشش کی کہ آپ سے ملے مگرنہ مل سکا اس کے بعد آپ کوبمقام طوس میں دفن کردیاگیا جوآج کل مشہدمقدس کے نام سے مشہورہے اوراطراف عالم کے عقیدت مندوں کامرکزہے۔