سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/3/26 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عیدغدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    3جمادی الثانی(1438ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکےموقع پر


    زہرا سلام اللہ علیہا بحیثیت زوجہ

    فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جب امیرالمومنین علی مرتضیٰ علیہ السلام کے بیت الشرف تشریف لے گئیں تو دوسرے روز رسول اکرم ﷺ بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے۔ آپ نے علی علیہ السلام سے سوال کیا یا علی تم نے فاطمہ کو کیسا پایا ؟ علی علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، یا رسول اللہ میں نے فاطمہ کو عبادت پروردگار میں بہترین معین و مددگار پایا۔

    گویا علی علیہ السلام یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زوجہ قابل تعریف وہی ہے جو اطاعت شوہر کے ساتھ ساتھ مطیع پروردگار بھی ہو شاعر نے اس بات کو ایسے نظم کیا۔

    حسن سیرت کے لئے خوبی سیرت ہے ضرور

    گل و ہی گل ہے جو خوشبو بھی دے رنگت کے سوا

    چونکہ حسن، دائمی نہیں ہوتا بلکہ عمل دائمی ہوتا ہے آخرت میں دنیاوی حسن کام آنے والا نہیں بلکہ نیک اعمال ساتھ دینگے۔ پھر علی علیہ السلام سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول خدا (ص) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی بیاہی بوسیدہ لباس پہنے بیٹھی ہے رسول خدا نے سوال کیا بیٹی تمہارا لباس عروسی کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جواب دیا بابا میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے بابا آج ایک سائل نے دروازہ پر آکر سوال کیا تھا مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنے چاہنے والوں کو درس دیا کہ خدا کو ہر حال میں یاد رکھنا چاہیئے اگر تمہارے پاس صرف دو لباس ہیں اور ان میں سے ایک زیادہ عزیز ہے تو اس لباس کو راہ خدا میں خیرات کر دو۔

    لاکھوں سلام ہو ہمارا اس شہزادی پر جس کا مہر ایک زرہ اور ایک کتان کا بنا ہوا معمولی ترین لباس اور ایک رنگی ہوئی گوسفند کی کھال تھا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یہ معمولی سا مہر خواتین عالم کو درس قناعت دے رہا ہے کہ جتنا بھی ملے اس پر شکر خدا کر کے راضی رہنا چاہئے یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا : میری امت کی بہترین خواتین وہ ہیں جن کا مہر کم ہو۔

    فرزند رسول مصحف ناطق امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : کسی خاتون کا مہر زیادہ ہونا باعث فضیلت نہیں قابل مذمت ہے بلکہ مہر کا کم ہونا باعث عزت و شرافت ہے۔

    زہرا سلام اللہ علیہا کا اخلاق و کردار

    حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی صفات کا واضح نمونہ تھیں جو دو سخا، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ آپ اپنے شوہر نامدار حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک دلسوز، مہربان اور فدا کار زوجہ تھیں آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کی بت پرستی سے آپ کو سوں دور تھیں۔ آپ نے شادی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا   کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوہر بزرگوار علی مرتضیٰ علیہ السلام کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گذارے۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت، گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گذرتا تھا۔ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجود کے ذرات میں گھل مل چکا تھا۔

    حضرت فاطمہ زہرا زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے ماں باپ کی آغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الہی کو سر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔ آپ نے جو کچھ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر میں عملی جامہ پہنایا۔ آپ اپنے گھر کے امور اور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں اور اپنے شوہر کے حق کا دفاع کرتی تھیں۔ لہذا آج کی خواتین کو بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے درس لے کر اپنی زندگی کو کامیاب و کامران بنانا چاہئیے۔

    عظمت زہراسلام اللہ علیہا شہید مطہری کی نظر میں

    حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ ”’ انا اعطیناک الکوثر”’ کوثر سے بالاتر کوئی کلمہ نہیں۔ اس زمانہ میں جب کہ عورت کو شر مطلق اور گناہ و فریب کا عنصر سمجھا جاتا تھا، بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے پر فخر کیا جاتا تھا اور خواتین پر ظلم کو اپنے لئے شرف شمار کیا جاتا تھا ایسے زمانہ میں ایک خاتون کے لئے قرآن مجید نہیں کہتا ” خیر”’ بلکہ کہتا ہے کوثر یعنی ”خیر کثیر”۔

    حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام گھر کے کاموں کو ایک دوسرے کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے تھے لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ رسول خدا ﷺ اس بارے میں اظہار نظر فرمائیں۔ لہذا رسول خدا ﷺ سے عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ فرمائیں گھر کا کون سا کام علی کریں اور کون سا میں انجام دوں ؟ رسول خدا ﷺ نے گھر کے کام حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے سپرد کئے اور گھر کے باہر کے کاموں کی ذمہ داری علی علیہ السلام کو سونپ دی۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میری خوشی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ میرے بابا نے مجھے گھر کے باہر کے کاموں سے سبکدوش کیا۔ عالم و با شعور عورت کو ایسا ہونا چاہئے جسے گھر سے باہر نکلنے کی حرص و ہوس نہ ہو۔

    ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کس درجہ بلند ہے ؟ ان کے کمالات اور صلاحیتیں کیسی ہیں ؟ان کا علم کیسا ہے ؟ان کی قوت ارادی کس قدر ہے ؟ اور انکی خطابت و بلاغت کیسی ہے ؟

    حضرت زہرا سلام اللہ علیہا جوانی کے ایام میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں اور انکے دشمن اس قدر زیادہ تھے کہ ان کے علمی آثار بہت کم ہم تک پہنچے ہیں لیکن خوش قسمتی سے ان کا ایک طولانی اور مفصل خطاب تاریخ میں ثبت ہوا ہے جسے صرف شیعوں نے ہی نقل نہیں کیا بلکہ بغدادی نے تیسری صدی میں اسے نقل کیا ہے۔ یہی ایک خطبہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مسلمان عورت خود کو شرعی حدود میں رکھتے ہوئے اور غیروں کے سامنے خود نمائی کئے بغیر معاشرہ کے مسائل میں کس قدر داخل ہو سکتی ہے۔

    حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا خطبہ توحید کے بیان میں نہج البلاغہ کی سطح کا ہے۔ یعنی اس قدر بلند مفاہیم کا حامل ہے کہ فلاسفہ کی پہنچ سے بالاتر ہے۔ جہاں ذات حق اور صفات باری تعالیٰ کے بارے میں گفتگو ہے وہاں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کائنات کی سب سے بڑی فلسفی محو سخن ہے۔ پھر فلسفہ احکام بیان کرتی ہیں :خداوند عالم نے نماز کو اس لئے واجب کیا، روزہ کو اس مقصد کے تحت واجب قرار دیا، حج و امر بالمعروف و نہی از منکر کے وجوب کا فلسفہ یہ ہے۔ پھر اسلام سے قبل عربوں کی حالت پر گفتگو کرتی ہیں کہ تم عرب لوگ اسلام سے پہلے کس حالت میں تھے اور اسلام نے تمہاری زندگی میں کیسا انقلاب برپا کیا ہے۔ مادی اور معنوی لحاظ سے ان کی زندگی پر اشارہ کرتی ہیں اور رسول خدا ﷺ کے توسط سے انہیں جو مادی اور معنوی نعمتیں میسر آئیں انہیں یاد دلاتی ہیں اور پھر دلائل کے ساتھ اپنے حق کے لئے احتجاج کرتی ہیں۔

    شہادت

    ایک روایت کے مطابق 3جمادی الثانی  شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یوم شہادت ہے آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا ۔حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا ۔ صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔

    جناب زہراسلام اللہ علیہا نے وصیت کی کہ انہیں رات کے عالم میں دفنایا جائے لیکن یہ وصیت صرف اس وجہ سے نہیں تھیں کہ نامحرموں کی آپ کے جنازے پر نگاہ نہ پڑے بلکہ آپ ان لوگوں کو باخبر نہیں کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم کے طوفان ڈھائے۔