سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2020/5/29 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    3رجب(1438ھ)شہادت امام علی نقی علیہ السلام کےموقع پر

    امام علی نقی  علیہ السلام کا بلند کردار

    امام علی نقی  علیہ السلام نے اس خاندان میں پرورش پائی جو لو گو ں کے ما بین ممتاز حیثیت کا حا مل تھا ان کا سلوک منور و روشن اور ان کے آداب بلندو با لا تھے، ان کا چھو ٹا بڑے کی عزت اور بڑا چھو ٹے کا احترا م کر تا تھا ،مو رخین کے نقل کے مطابق اس خاندان کے آداب یہ ہیں: حضرت امام حسین اپنے بھا ئی امام حسن کی جلالت اورتعظیم کی خا طران کے سا منے کلا م نہیں کر تے تھے، روا یت کی گئی ہے کہ امام زین العابدین سید السا جدین اپنی تر بیت کر نے وا لیوں کے سا تھ ان کے التماس کر نے کے با وجود کھا نا نوش نہیں فر ما تے تھے اور ان کو اس با ت کے ڈر سے منع کر دیتے تھے کہ کہیں میری نظر اس کھا نے پر نہ پڑجا ئے جس پر مجھ سے پہلے ان کی نظر پڑگئی ہو تو اس طرح اُ ن کے نا فر ما ن قرارپا ئیں گے دنیا میں وہ کو نسا ادب ان آداب کے مشا بہ ہو سکتا ہے جو انبیا ء کے آدا ب ان کے بلندو بالا سلوک اور ان کے بلند اخلا ق کی حکا یت کر رہا ہے ؟امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے والد بزر گوار حضرت امام محمد تقی ؑ کے زیر سایہ پر ور ش پائی جو فضا ئل و آداب کی کائنات تھے، آپ ہی نے اپنے فر زند پر اپنی رو ح اخلا ق اور آداب کی شعا عیں ڈالیں ۔

    آپؑ کا علم
    حضرت امام علی نقی ؑ علمی میدان میں دنیا کے تمام علماء سے زیادہ علم رکھتے تھے ،آپ ؑ تمام قسم کے علوم و معارف سے آگاہ تھے ،آپ ؑ نے حقائق کے اسرار اور مخفی امور کو واضح کیا ،تمام علماء و فقہاء شریعت اسلامیہ کے پیچیدہ اور پوشیدہ مسا ئل میں آپ ؑ ہی کے روشن و منور نظریے کی طرف رجوع کرتے تھے ،آپ ؑ اور آپ ؑ کے آباء و اجداد کا سخت دشمن متوکل بھی جس مسئلہ میں فقہا میں اختلاف پاتا تھا اس میں آپ ؑ ہی کی طرف رجوع کر تا تھا اور سب کے نظریات پر آپ ؑ کے نظریہ کو مقدم رکھتا تھا ۔

    آپؑ  پر قاتلانہ حملہ
    امام ؑ ،معتمد عباسی پر بہت گراں گذر رہے تھے ،امام اسلامی معاشرہ میں عظیم مرتبہ پر فائز تھے جب امام ؑ کے فضا ئل شائع ہوئے تو اس کو امام ؑ سے حسد ہو گیا اور جب مختلف مکاتب فکر کے افراد اُن کی علمی صلاحیتوں اور دین سے اُن کی والہانہ محبت کے سلسلہ میں گفتگو کرتے تووہ اور جلتا اُس نے امام ؑ کو زہر ہلاہل دیدیا ، جب امام ؑ نے زہر پیا تو آپ ؑ کا پورا بدن مسموم ہو گیا اور آپ ؑ کے لئے بستر پر لیٹنا لازم ہوگیا(یعنی آپ ؑ مریض ہو گئے )آپ ؑ کی عیادت کے لئے لوگوں کی بھیڑ اُمڈ پڑی ،منجملہ اُن میں سے ابوہاشم جعفری نے آپ ؑ کی عیادت کی جب اُ نھوں نے امام ؑ کو زہر کے درد میں مبتلا دیکھا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ،اور مندرجہ ذیل اشعار پر مشتمل قصیدہ نظم کیا ۔

    مَا دتِ الدنیا فُؤادي العلیلِ                    وَاعْتَرَتْنِیْ مَوَارِدُ اللأْواءِ

    حِینَ قِیْلَ الْاِمَامُ نِضُوْ عَلِیْل                  قُلْتُ نَفْسِیْ فَدَتْہُ کُلَّ الفِدَاءِ

    مَرِضَ الدِّیْنُ لَاعْتِلَالِکَ وَاعْتَدْ لَ           وَغَارَتْ نُجُوْمُ السَّمَاءِ
     عَجَباً اِنْ مُنِیْتَ بِالدَّاءِ وَالسُّقْمِ                وَأَنْتَ الاِمَامُ حَسْمُ الدَّاءِ

    أَنْتَ أَسِیْ الأَدْوَاءَ فِي الدِّیْنِ والدُّنْیَا           َمُحْیي الأَمْوَاتِ وَالْأَحَیَاءِ

    ’’ دنیا نے میرے بیمار قلب کو ہلا کر رکھ دیا اور مجھے وا دی ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ جب مجھ سے کہا گیا امام ؑ کی حالت نہایت نازک ہے تو میں نے کہا میری جان اُن پر ہر طرح قربان ہے ۔آپ ؑ کے بیمار ہونے کی وجہ سے دین میں کمزوری پیدا ہو گئی اور ستارے ڈوب گئے۔تعجب کی بات ہے کہ آپ بیمار پڑگئے جبکہ آپ ؑ کے ذریعہ بیماریوں کا خاتمہ ہوتا ہے ۔آپ ؑ دین و دنیا میں بہترین دوا اور مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ‘‘۔آپ کی روح پاک ملائکۂ رحمن کے سایہ میں خدا کی بارگاہ میں پہنچ گئی ،آپ ؑ کی آمد سے آخرت روشن و منور ہو گئی ،اور آپ ؑ کے فقدان سے دنیا میں اندھیرا چھا گیا،کمزوروں اور محروموں کے حقوق سے دفاع کرنے والے قائد ور ہبر نے انتقال کیا ۔ -

    تجہیز و تکفین
    آپ ؑ کے فرزند ارجمند کی امام حسن عسکری ؑ نے آپ ؑ کی تجہیز و تکفین کی ،آپ ؑ کے جسد طاہر کو غسل دیا،کفن پہنایا،نماز میت ادا فر ما ئی ،جبکہ آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے آپ ؑ کا جگر اپنے والد بزرگوار کی وفات حسرت آیات پر ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا تھا۔
    تشییع جنازہ
    سامرا ء میں ہر طبقہ کے افراد آپ ؑ کی تشییع جنازہ کیلئے دوڑ کر آئے ،آپ کی تشییع جنازہ میں آگے آگے وزراء ،علماء ،قضات اور سر براہان لشکر تھے ، وہ مصیبت کا احسا س کر رہے تھے اور وہ اس خسارہ کے سلسلہ میں گفتگو کر رہے تھے جس سے عالم اسلام دو چار ہوا اور اس کا کو ئی بدلہ نہیں تھا ، سامراء میں ایسا اجتماع بے نظیر تھا ،یہ ایسا بے نظیر اجتماع تھا جس میں حکومتی پیمانہ پر ادارے اور تجارت گاہیں وغیرہ بند کر دی گئی تھیں۔