سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/8/25 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    28صفر (1439ھ)شہادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر

     امام حسن  ؑ  پيغمبراسلام  ﷺ کی نظرميں

     يہ مسلمہ حقيقت ہے کہ امام حسن  علیہ السلام  پيغمبراکرم ﷺ کے نواسے تھے ليکن قرآن نے انہيں فرزندرسولﷺ  کادرجہ دياہے اوراپنے دامن ميں جابجاآپ کے تذکره کوجگہ دی ہے خودسرورکائنات نے بے شماراحاديث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہيں: ايک حديث ميں ہے کہ آنحضرت نے ارشادفرماياکہ ميں حسنين کودوست رکھتاہوں اورجوانہيں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاه سے ديکھتاہوں۔

    ايک صحابی کابيان ہے ايک دن آنحضرت نمازپڑھ رہے تھے اورحسنين آپ کی پشت پرسوارہو گئے کسی نے روکناچاہاتوحضرت نے اشاره سے منع کرديا۔

    ايک دن سرورکائنات امام حسن کوکاندھے پرسوارکئے ہوئے کہيں ليے جارہے تھے ايک صحابی نے کہاکہ اے صاحبزادے تمہاری سواری کس قدراچھی ہے يہ سن کرآنحضرت نے فرمايايہ کہوکہ کس قدراچھاسوارہے۔

    امام حسنؑ  کی عبادت

     امام زين العابدين  علیہ السلام فرماتے ہيں کہ امام حسن عليہ  السلام بہترین عابد،بے مثل زاہد، افضل ترين عالم تھے آپ نے جب بھی حج فرماياپيدل فرمايا،کبھی کبھی پابرہنہ حج کے ليے جاتے تھے آپ اکثرموت، عذاب،قبر،صراط اوربعثت ونشورکويادکرکے روياکرتے تھے جب آپ وضوکرتے تھے توآپ کے چہره کارنگ زردہوجاياکرتاتھا اورجب نمازکے ليے کھڑ ے ہوتے تھے توبيدکی مثل کانپنے لگتے تھے آپ کامعمول تھاکہ جب دروازه مسجدپرپہنچتے توخداکومخاطب کرکے کہتے ميرے پالنے والے تيراگنہگاربنده تيری بارگاه ميں آياہے اسے رحمن ورحيم اپنے اچھائيوں کے صدقہ ميں مجھ جيسے برائی کرنے والے بنده کومعاف کردے آپ جب نمازصبح سے فارغ ہوتے تھے تواس وقت تک خاموش بيٹھے رہتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہوجائے۔

    عہد اميرالمومنينؑ  ميں امام حسنؑ   کی اسلا می خدمات

    تواريخ ميں ہے کہ جب حضرت علی عليہ السلام کوپچيس برس کی خانہ نشينی کے بعدمسلمانوں نے خليفہ ظاہری کی حيثيت سے تسليم کيااوراس کے بعدجمل، صفين،نہروان کی لڑائياں ہوئيں توہرايک جہادميں امام حسن عليہ السلا م اپنے والدبزرگوارکے ساتھ ساتھ ہی نہيں رہے بلکہ بعض موقعوں پرجنگ ميں آپ نے کارہائے نماياں بھی کئے۔ جنگ صفين کے سلسلہ ميں جب ابوموسی اشعری کی ريشہ دوانياں عرياں ہوچکيں تواميرالمومنين علیہ السلام  نے امام حسن  علیہ السلام اورعمارياسرکوکوفہ روانہ فرماياآپ نے جامع کوفہ ميں ابوموسی کے افسون کواپنی تقريرسے بے اثربناديا ۔ اورلوگوں کوحضرت علی کے ساتھ جنگ کے ليے جانے پرآماده کرديا۔

     بعض روايت کی بناپرنوہزارچھ سوپچاس افرادکالشکر تيارہوگيا، مورخين کابيان ہے کہ جنگ جمل کے بعدجب عائشہ مدينہ جانے پرآماده نہ ہوئيں تو حضرت علی  علیہ السلام نے امام حسن  علیہ السلام کوبھيجاکہ انھيں سمجھاکر مدينہ روانہ کريں چنانچہ وه اس سعی ميں ممدوح کامياب ہوگئے بعض تاريخوں ميں ہے کہ امام حسن جنگ جمل وصفين ميں علمدارلشکرتھے اورآپ نے معاہده تحکيم پردستخط بھی فرمائے تھے اورجنگ جمل وصفين اورنہروان ميں بھی سعی بليغ کی تھی۔ فوجی کاموں کے علاوه آپ کے سپردسرکاری مہمان خانہ کاانتظام اورشاہی مہمانوں کی مدارات کاکام بھی تھا آپ مقدمات کے فيصلے بھی کرتے تھے اوربيت المال کی نگرانی بھی فرماتے تھے ۔

    حضرت امام حسن ؑ کی شہادت

    مورخين کااتفاق ہے کہ امام حسن اگرچہ صلح کے بعد مدينہ ميں گوشہ نيشين ہوگئے تھے ،ليکن اميرمعاويہ آپ کے درپئے آزاررہے انہوں نے باربار کوشش کی کسی طرح امام حسن اس دارفانی سے ملک جاودانی کوروانہ ہوجائيں اوراس سے ان کامقصديزيدکی خلافت کے ليے زمين ہموارکرناتھی ،چنانچہ انہوں نے ۵ /بارآپ کوزہردلوايا ،ليکن ايام حيات باقی تھے زندگی ختم نہ ہوسکی ،باالاخر، شاه روم سے ايک زبردست قسم کازہرمنگواکرمحمدابن اشعث يامروان کے ذريعہ سے جعده بنت اشعث کے پاس اميرمعاويہ نے بھيجا اورکہہ دياکہ جب امام حسن شہدہوجائيں گے تب ہم تجھے ايک لالکھ درہم ديں گے اورتيراعقد اپنے بيٹے يزيد کے ساتھ کرديں گے ۔

    بالآخر  28 صفر ۵٠ ھ کوجعدہ  نے پانی ميں زہرہلاہل ملاکر امام حسن  علیہ السلام کو دیدیا ، امام نے پانی ليا اورپی کرفرماياکہ اے بہن زينب ہائے يہ کيساپانی ہے جس نے ميرے حلق سے ناف تک ٹکڑے ٹکڑے کردياہے اس کے بعدامام حسين کواطلاع دی گئی وه آئے دونوں بھائی بغل گيرہوکرمحوگريہ ہوگئے ، الغرض تھوڑی ديرکے بعد امام حسن کوخون کی قے آنے لگی آپ کے جگرکے ٹکڑے طشت ميں آگئے آپ زمين پرتڑپنے لگے۔

    اس کے بعدآپ نے جعده سے کہاافسوس تونے بڑی بے وفائی کی ،ليکن يادرکھ کہ تونے جس مقصد کے ليے ايساکياہے اس ميں کامياب نہ ہوگی اس کے بعد آپ نے امام حسين اوربہنوں سے کچھ وصيتيں کيں اورآنکھيں بندفرماليں۔

    امام حسنؑ  کی تجہيزوتکفين

    الغرض امام حسن کی شہادت کے بعدامام حسين نے غسل وکفن کاانتظام فرمايااورنمازجنازه پڑھی گئی امام حسن کی وصيت کے مطابق انہيں سرورکائنات کے پہلوميں دفن کرنے کے ليے اپنے کندھوں پراٹھاکر لے چلے ابھی پہنچے ہی تھے کہ بنی اميہ خصوصامروان وغيره نے آگے بڑھ کر پہلوئے رسول ميں دفن ہونے سے روکااورحضرت عائشہ بھی ايک خچرپرسوارہوکر آپہنچيں ،اورکہنے لگيں يہ گھرميراہے ميں توہرگزحسن کواپنے گھرميں دفن نہ ہونے دوں گی۔ان کے ہواخواہوں نے آل محمدپرتيربرسائے۔

    اور ناچارنعش مبارک کوجنت البقيع ميں لاکردفن کردياگيا، شہادت کے وقت آپ کی عمر ۴٧ سال کی تھی۔