سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    8ربیع الاول(1439ھ)شہادت امام حسن عسکری علیہ السلام کےموقع پر

    معرفی تفسیر امام حسن عسکری  علیہ السلام

     امامیہ کی روائی تفاسیر میں سے ہے جو تیسری صدی ہجری قمری میں لکھی گئی ۔ اس میں بعض آیات کی تاویل بیان ہوئی اور اکثر پیامبرﷺ  اور ائمہ کے معجزات کی تاویل بیان کی گئی ہے۔

     آیات کے اسباب نزول کی طرف کم توجہ کی گئی اگرچہ آیات کے مصادیق بیان ہوئے ہیں ۔صرف ، نحو اور بلاغت جیسے ادبیات عرب کے علوم اس میں موجود نہیں ہیں ۔ اس کتاب کی سند کے سلسلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوتھی اور پانچویں صدی کے فقہا اور محدثین کے درمیان اس تفسیر سے مطالب نقل کئے جاتے تھے۔ یہ تفسیر سورہ بقرہ کی ۲۸۲ویں آیت کے آخر تک موجود ہے ۔ 

    خصوصیات

    یہ تفسیر قرآن کے فضائل سے متعلق روایات ، تأویل اور آداب قرائت قرآن سے شروع ہوتی ہے نیز فضائل اہل بیت علیہم  السلام کی احادیث اور  دشمنان اہل بیت کے مثالب کے ساتھ اس کا تسلسل جاری رہتا ہے ۔

    سیرت نبوی خاص طور پر مناسبات پیامبر اسلام ﷺ  اور یہود سے متعلق متعدد ابحاث مذکور ہیں۔

    مجموعی  طور پر اس تفسیر میں ۳۷۹ حدیثیں منقول ہوئی ہیں۔ حجم کے لحاظ سے اکثر و بیشتر روایات اس طرح طولانی اور مفصّل ہیں کہ چند صفحات پر مذکور ہیں اسی وجہ سے ان میں بعض مقامات پر یہ روایات حدیثی خدوخال سے باہر نکل گئی ہیں ۔بعض روایات میں اضطراب پایا جاتا ہے ۔

    یہ تفسیر بعض آیات کی تاویل پر مشتمل ہے اور اکثر معجزات پیامبر  ﷺاور ائمہ کے معجزات کی تاویلیں بیان کرتی ہے۔

    اکثر آیات کی تفسیر آیت کے مفہوم کی شرح و توضیح سے شروع ہوتی ہے پھر معصومین  علیہم السلام سے منقول روایات آیات کی تفسیر میں بیان ہوئی ہیں ۔ بعض مقامات پر آیت کی تفسیر شان نزول کی روایات سے مخلوط ہیں۔

      شیعہ،رافضی، تقیہ،صحابہ کے فضائل اور خبّاب بن ارّت اور عمار بن یاسر، کی مانند کچھ عناوین ہیں جو آیات کی تفسیر کے حاشیے پر ذکر ہوئے ہیں۔ شجرۀ ممنوعہ سے شجرۀ علم محمد  اوراہل بیت علیہم السلام کے فرق جیسے تفسیری نکات اس تفسیر کی خصوصیات میں سے ہیں ۔

    سند کتاب

    اس کتاب کی سند کے سلسلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوتھی اور پانچویں صدی میں قم کے فقہا اور محدثین کے درمیان اس تفسیر سے مطالب نقل کئے جانے کا رواج تھا۔

    خطیب اور مشہور مفسر جرجانی محمد بن قاسم استرآبادی جو شاید تفسیر تدوین کرنے والا ہو، نے اس تفسیر کے دو راویوں یعنی ابوالحسن علی بن محمدبن سیار  اور ابویعقوب یوسف بن محمدبن زیاد سے اس تفسیر کے مطالب نقل کئے ہیں ۔

    تفسیر کے مختصر مقدمے میں ان دونوں سے منقول ہے کہ حسن بن زید کی قدرت کے زمانے میں اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ہم امام حسن عسکری علیہ السلام  کی خدمت میں حاضر ہوئے اس لحاظ سے انکے سامرا میں پہنچنے کی تاریخ ۲۵۴ کے بعد کی ہونی چاہئے چونکہ یہ سال امام کی امامت کے آغاز کا سال تھا ۔

    پھر کہتے ہیں کہ اس تفسیر کا متن امام نے ہمیں سات سال میں املا کروایا۔جبکہ ۲۶۰ قمری امام کی شہادت کا ذکر نہیں آیا ہے ۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ امام کی شہادت کے بعد یہ دونوں اپنے وطن واپس لوٹ گئے ۔

    اعتبار کتاب

    موافقین

    اس تفسیر کے قدیمی ہونے کے باوجود اس کی وثاقت علمائے امامیہ کے درمیان محل اختلاف ہے۔ شیخ صدوق (متوفی ۳۸۱) نے اس کتاب سے اکثر مطالب اپنی کتابوں میں نقل کئے ہیں ۔اگرچہ اس کتاب کی وثاقت و عدم وثاقت کے متعلق کوئی بات نہیں کی ہے۔

    البتہ شیخ صدوق نے اس تفسیر کا متن کسی واسطے کے بغیر استرآبادی سے ذکر کیا ہے ۔نیز اپنی کتاب من لایحضره الفقیہ میں  اس بات کی جانب اشارہ کیا کیا ہے جو کچھ اس نے اس کتاب میں نقل کیا ہے اسکے نزدیک وہ صحیح ہے اور اس میں مذکور روایات معتبر اور مشہور کتب سے حاصل کیا ہے۔

    اسی طرح باب تلبیہ میں استرآبادی سے حدیث نقل کی ہے اور آخر میں کہا: باقی کتاب تفسیر میں ذکر کیا ہے ۔اس بنا پر اگر شیخ صدوق خود اس تفسیر کو تدوین کرنے والے نہیں تو احتمال ہے کہ وہ اسے تہذیب کرنے والے ہیں ۔اس احتمال کے درست ہونے کی مؤید نجاشی متوفی ۴۵۰کی یہ بات ہے کہ وہ شیخ صدوق کے آثار میں دو اثر تفسیری: تفسیرالقرآن و مختصر تفسیر القرآن ذکر کرتا ہے۔

    اس نظریے کا دوسرا شاہد یہ ہے کہ شیخ صدوق اسی روایت کو اسی سند کے ساتھ کتاب التوحیدمیں ذکر کرتے ہیں ۔ نیز روایت کے آخر میں شیخ صدوق کہتے ہیں کہ اس حدیث کا کامل متن اپنی تفسیر میں لے کر آئے ہیں ۔

    مخالفین

    سب سے پہلے جس شخصیت نے اس کتاب پر تنقید کی وہ احمدبن حسین بن عبیداللّه غضائری ہے جو ابن غضائری کے نام سے شہرت رکھتا ہے۔ اس نے الضعفاء میں محمدبن قاسم استرآبادی کو ایک ضعیف اور کذّاب شخص کہا ہے نیز کہا کہ سلسلۂ سند میں دو افراد جو اپنے باپ سے اور وہ امام حسن عسکری سے نقل کرتے ہیں ،مجہول ہیں ۔

    اس تفسیر کو معتبر جاننے والوں نے ابن غضائری کی کلام کے رد میں دلائل ذکر کئے ہیں مثلا ابن غضائری کی طرف اس کتاب الضعفاء کی نسبت میں تردید ہے۔

    نیز تفسیر کے متن کے مطابق ابن سیار اور ابو یعقوب تفسیر کے متن کو کسی واسطے کے بغیر امام سے نقل کیا ہے۔اسی طرح تفسیر میں صراحت موجود ہے کہ ان دونوں کے والد کچھ مدت سامرا میں سکونت اختیار کرنے کے بعد اپنے شہر واپس لوٹ گئے ۔نیز کتاب کی اسناد میں دونوں کے باپ کا تذکرہ نہیں ہے ۔