سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2020/5/27 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    8ربیع الثانی(1439ھ)ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کےموقع پر

    امام حسن العسکری علیہ السلام کی ولادت

    آپ کی ولادت باسعا دت ۸ربیع الثانی ۲۳۲ھ کو مدینہ منورہ میں هوئی۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی  زندگی  مختلف ادوار سے گزری۔   پہلا دور بچپن کے وہ تیرہ سال ہیں جو انہوں نے  مدینہ میں گزارے - دوسرا دور انہوں نے امامت سے قبل سامرا میں گزارا -  تیسرا دور ان کی  امامت والے  6 سال ہیں –  ان چھ سالوں میں حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات  اچھے نہ تھے۔ اس وقت وہاں پر خلیفہ ہارون کی تقلید کرنے والے  اپنی ظاہری طاقت کا مظاہرہ کرتے  مگر امام ہمیشہ باطل کے مقابلے کے لئےمیدان عمل میں کارفرما رہے -  اپنی امامت کے چھ سالوں میں سے تین سال امام علیہ السلام  قید میں رہے - قید خانے کے انچارج نے دو ظالم غلاموں  کو مقرر کر رکھا تھا کہ  آنحضرت  علیہ السلام کو  آزار پہنچائیں   لیکن جب ان دو غلاموں نے امام علیہ السلام کے حسن سلوک اور سیرت کو  نزدیک سے دیکھا تو وہ امام کےگرویدہ ہو گئے-

    جب ان غلاموں سے امام حسن عسکری کا حال پوچھا جاتا تو وہ بتاتے کہ یہ قیدی  دن کو روزہ رکھتا ہے اور شب بھر  اپنے معبود کی عبادت کرنے میں مصروف رہتےہیں  اور کسی سے بھی بات چیت نہیں کرتے،  وہ  امام حسن عسکری  علیہ السلام  اس دور کے زاہد ترین انسان ہیں –

    اہلبیت علیہم السلام محور خیر و برکت

    ابو ھاشم جعفری نےحضرت  امام حسن عسکری علیہ السلام سے آیۃ " ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنا مِنْ عِبادِنا فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَ مِنْهُمْ سابِقٌ بِالْخَیْراتِ "  کہ بارے  میں پوچھا  تو آپ  علیہ السلام نے فرمایا: "سب محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے خاندان میں سے ہیں۔جس نے امام کا اعتراف نہ کیا اس نے خود پر ستم کیا ، اور جس نے امام کو کما حقہ  پہچان لیا اس نے میانہ روی اختیار کی،خدا کے احکام اور نیکی میں پہل کرنے والی بھی امام ہی کی ذات اقدس ہے۔

    امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کےوسائل کی فراہمی

    احمد بن اسحاق اس سوچ میں تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد آپ کا جانشین کون ہو گا،اسی اثنا  ء میں امام  نے شفقت سے اس کی طرف رخ کیا اور فرمایا :  "اے  احمد بن اسحاق ! خدا نے جس دن آدم  کو خلق کیا  اس دن سے آج تک دنیا کو اپنی حجت سے خالی نہیں چھوڑا اور نہ قیامت تک خالی چھوڑے گا،خدا  اپنی  حجؑت کی موجودگی  کی  برکت  سے زمین سے بلاوں کو دور  ،اس پر باران رحمت کا نزول  اور  اس میں پوشیدہ رازوں کو عیاں کرتا ہے۔"

    احمد بن اسحاق نے سوال  کیا،آپ  کے بعد امام  کون ہے؟ امام علیہ السلام  اٹھ کر اندر تشریف لے گئے  اور  اندر سے ایک تین سالہ بچہ کو  کہ جس کا چھرہ  مبارک چودھویں کے چاند کی طرح روشن تھا  ، اپنی گود میں  لے آۓ  اور فرمایا:" اگر  تم  خدا اور  اماموں کے  نزدیک  محبوب نہ ہوتے تو  ہرگز  تمہاری اس سے ملاقات نہ کرواتا۔یہ  رسول خدا  محمد صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کا ہم نام اور ہم کنیت ہے ،یہ اس وقت زمین کو  عدل و انصاف   سے بھردے گا جب زمین  ظلم و  جور سے پر ہو چکی ہو گی۔

    یہ مصلحت خدا سی غیبت میں چلا جاے گا ،جب یہ غیبت میں ہوگا تو غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے بارے  میں شک اور تردید کا شکار ہوجائیں گے سوائے ان لوگوں کے جن اعتقاد امامت کو خدا سالم اور ثابت  رہنے کی توفیق دے گا  اور انکو گمراہیوں سے نجات دے گا ۔