سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/5/25 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    10رجب(1439ھ)ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر


    آپ کی ولادت

    195ہجری 10 رجب کو مدینہ منورہ میں پیداہوئے اس وقت بغداد کے دارلسلطنت میں ہارون رشید کابیٹا امین  کےتخت حکومت پر تھا۔

    تربیت

    امام محمدتقی علیہ السّلام کو نہایت کمسنی ہی کے زمانے میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوناپڑا۔ انھیں بہت کم ہی اطمینان اور سکون کے لمحات میں باپ کی محبت,شفقت اورتربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کاموقع مل سکا۔آپ صرف پانچ برس کےتھے۔ جب حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے پھر زندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا امام محمدتقی علیہ السّلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السّلام کی وفات ہوگئی۔
    آپ علیہ السلام  کا زہد
    امام محمد تقی (ع) اپنی ساری زند گی میں متقی و پرہیز گار و زاہد رہے ،آپ (ع) نے دنیا میں اپنے آباء و اجداد کی طرح زہد اختیار فرمایا ،ان ہی کی طرح زندگی بسر کی ،جنھوں نے دنیا سے بے رغبتی کی اور خدا سے لو لگائی۔
    امام محمد تقی (ع) جوان تھے اور مامون اپنے پاس آنے والے حقوق شرعیہ جن کی ما لی حیثیت بہت زیادہ ہو تی تھی سب کے سب آپ (ع) کے پاس بھیج دیتا تھا آپ ان میں سے اپنے مخصوص امور کے علاوہ کچھ بھی خرچ نہیں کرتے تھے، بقیہ سب کا سب فقرا اور محروموں پر خرچ فرمادیتے تھے،حسین مکاری سے روایت ہے کہ جب امام محمد تقی کی بغداد میں اتنی تعظیم وتکریم دیکھی تو میں نے خود سے کہا کہ اب میں اپنے وطن واپس نہیں پلٹوں گا اور عنقریب بغداد میں مقیم ہو کر نعمتوں سے مستفیض ہوں گا، امام اس کے دل کی بات سے آگا ہ ہوگئے اور اس سے فرمایا :اے حسین! مجھے میرے جد رسول اللہ کے حرم میں جو کی روٹی اور دلاہواموٹا موٹانمک اس سے زیادہ محبوب ہے جس کے بارے میں توسوچ رہا ہے ۔۔۔‘‘۔(۱)
    امام ملک اور سلطنت کے خواہاں نہ تھے، آپ بالکل حکومت کی طرف سے کئے جانے والے مظاہر کی کوئی پروا نہیں کرتے آپ نے ہمیشہ زہدا ختیار کیا اور دنیا سے رو گردان رہے ۔
    آپ علیہ السلام کی سخاوت
    امام ابو جعفر (ع) لوگوں میں سب سے زیادہ سخی وفیاض تھے، اکثر لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے اور آپ (ع) کا فقراکے ساتھ نیکی کرنا مشہور تھا اور آپ کو آپ کے بہت زیادہ کرم اور سخاوت کی وجہ سے جواد کے لقب سے نواز ا گیا ہم ذیل میں آپ کی سخاوت کے کچھ واقعات نقل کررہے ہیں :
    ۱۔مورخین نے روایت کی ہے کہ احمد بن حدید اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ حج کیلئے نکلے تو ان پر ڈاکوؤں نے حملہ کر کے ان کا سارا مال ومتاع لوٹ لیا، مدینہ پہنچ کر احمد امام محمد تقی کے پاس گئے اور ان سے سارا ماجرا بیان کیا تو آپ نے اُن کیلئے ایک تھیلی لا نے کا حکم دیا اور اُن کو مال عطا کیا تا کہ پور ی جماعت میں تقسیم کردیں اس مال کی مقدار اتنی ہی تھی جتنا مال ان کا لوٹا گیاتھا۔
    ۲۔عتبی سے روایت ہے کہ ایک علوی مدینہ میں ایک کنیز خرید نا چا ہتا تھا، لیکن اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا جس سے اس کو خرید ا جا سکے تو اس نے امام محمد تقی سے اس کی شکایت کی امام نے اس کے مالک سے سوال کیا تو اس نے آپ کو بتایا، امام نے اس کے مالک سے مزرعہ(کھیت) اور کنیز کو خرید لیا ،علوی نے کنیز کے پاس پہنچ کر اس سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اس کو خرید اجا چکا ہے لیکن نہیں معلوم اس کو مخفی طور پر کس نے خرید اہے علوی نے امام کی طرف متوجہ ہو کر بلند آواز میں عرض کیا ۔فلاں کنیز فروخت کردی گئی ہے ۔
    امام (ع) نے مسکراتے ہوئے کہا : کیا تم کو معلوم ہے اس کو کس نے خرید ا ہے ؟
    اس نے جواب دیا :نہیں ۔
    امام اس کے ساتھ اس کھیت کی طرف گئے جس میں وہ کنیز تھی اور امام نے اس کو اس میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا تو اس نے اس میں داخل ہونے سے منع کیا چونکہ وہ اس کے مالک کو نہیں پہچانتا تھا، جب امام نے اس سے اصرار کیا کہ تو اس نے قبول کرلیا جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس میں کنیز کو دیکھا امام نے اس سے فرمایا کیا تم اس کو پہچا نتے ہو ؟
    اس نے کہا: ہاں ۔
    علوی کو معلوم ہو گیا کہ امام (ع) نے اس کو خریدلیا ہے۔
    امام نے اس سے فرمایا:یہ کنیز ’قصر‘مزرعہ غلہ اور جو کچھ اس قصر میں مال ودولت ہے سب تیرے لئے ہے، علوی خوش ہو گیا اور اس نے امام کا بڑی گر مجو شی سے شکریہ اداکیا ۔
    آپ (ع) کے وسیع علوم
    امام محمد تقی (ع) بچپن میں ہی اپنے زمانہ کے تمام علماء میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے ،بڑے بڑے علماء آپ (ع) کے مناظروں ،فلسفی ،کلامی اور فقہی بحثوں سے متأثر ہوکر آپ (ع) کی عظمت کا لوہا مانتے تھے ،اور منتصر کے پاس جاکر آپ (ع) کے فضل و بر تری کا اقرار کرنے تھے ،فقہا اور علماء سات سال کی عمر میں ہی آپ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور آپ (ع) کے علوم سے مستفیض ہوتے تھے یہاں تک کہ آپ (ع) کی فضیلت شائع ہو گئی ،مختلف بزموں اور نشستوں میں آپ (ع) کا چر چا ہونے لگا ،اپنے کمال و فضل کی بنا پر آپ (ع) دنیا والوں کے لئے حیرت وتعجب کاسبب قرار پائے ،جب مامون نے اپنی بیٹی کا امام سے عقد کرنے کا ارادہ کیا تو اُ س نے عباسیوں کو بلایاتو اُنھوں نے مامون سے امام کے امتحان کا مطالبہ کیا تو مامون نے قبول کر لیا ۔
    اس نے امام کے امتحان کے لئے بغداد کے قاضی القضات یحییٰ بن اکثم کو معین کیااور یہ وعدہ کیا کہ اگروہ امام کوان کے امتحان میں ناکام کردے اور وہ جواب نہ دے سکیں تو اس کو بہت زیادہ مال و دولت دیا جا ئے گا،یحییٰ اس مجلس میں پہنچا جس میں وزراء اور حکّام موجود تھے سب کی نظریں امام (ع) پر لگی ہو ئی تھیں چنانچہ اس نے امام (ع) سے عرض کیا :کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ (ع) سے کچھ دریافت کروں ؟
    امام (ع) نے مسکراتے ہوئے فرمایا :’’اے یحییٰ !جو تم چاہو پوچھو !‘‘
    یحییٰ نے امام (ع) سے کہا :آپ (ع) فرمائیے حالت احرام میں شکار کرنے والے شخص کا کیا حکم ہے ؟
    امام (ع) نے اس مسئلہ کی تحلیل کرتے ہوئے اس طرح اس کی مختلف صورتیں بیان کیں اور یحییٰ سے سوال کیا کہ تم نے ان شقوں میں سے کو نسی شق پوچھی ہے ؟
    آپ (ع) نے فرمایا :’’ اُس نے حدود حرم سے باہر شکارکیا تھا یا حرم میں ،شکار کرنے والا مسئلہ سے آگاہ تھا یا نہیں ،اس نے عمدا شکار کیا ہے یا غلطی سے ایسا ہو گیا ہے ،شکار کرنے والا آزاد تھا یا غلام ،وہ بالغ تھا یا نا بالغ ،اُس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا ،شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا ، شکار چھوٹا تھا یا بڑا ، شکار ی شکار کرنے پر نا دم تھا یامُصر ،شکار رات کے وقت کیا گیا ہے یا دن میں اور اس نے حج کیلئے احرام باندھا تھا یا عمرہ کیلئے ؟‘‘۔
    یحییٰ کے ہوش اڑ گئے وہ عاجز ہو گیا چونکہ اُس نے اپنے ذہن میں اتنی شقیں سو چی بھی نہیں تھیں ، مجمع میں تکبیر و تہلیل کی آوازیں بلند ہو نے لگیں ، اور سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیت (ع) کو علم و حکمت اسی طرح عطا کیا ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسول کو عطا کیا ہے ۔
    امام محمد تقی (ع) نے اس مسئلہ کی متعدد شقیں بیان فرما ئیں جبکہ ان میں سے بعض شقوں کا حکم ایک تھا جیسے شکار رات میں کیا جائے یا دن میں ان دونوں کا حکم ایک ہے لیکن امام (ع) نے اس کی دشمنی کو ظاہر کرنے اور اسے عاجز کرنے کے لئے ایسا کیا تھا چونکہ وہ آپ (ع) کا امتحان لینے کی غرض سے آیا تھا ۔
    مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کران سے کہا :ہم اس نعمت پر خدا کے شکر گذار ہیں، جو کچھ میں نے سوچا تھا وہی ہوا ،کیا تمھیں اُن کی معرفت ہو گئی جن کا تم انکار کر رہے تھے ؟ ۔
    جب عباسی خاندان پر اس چھوٹے سے سِن میں امام محمد تقی (ع) کا فضل و شرف اور اُن کا وسیع علم آشکار ہو گیا تو مامون نے اپنی بیٹی ام الفضل کا آپ (ع) سے عقد کر دیا ۔
    مکارم اخلاق
    امام محمد تقی (ع) نے مکارم اخلاق اور محاسن صفات پر مشتمل دعا میں فرمایا ہے :’’انسان کے بہترین اخلاق کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتا ،اس کے کرم کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے محب کے ساتھ اچھا برتاؤ کر تا ہے ،اس کے صبر کا نمونہ یہ ہے کہ وہ شکایت نہیں کرتا ،اس کی خیر خوا ہی کی پہچان یہ ہے کہ وہ ناپسند باتوں سے روکتا ہے ،نرمی کی پہچان یہ ہے کہ انسان اپنے دینی بھا ئی کی ایسے مجمع میں سر زنش نہ کرے جہاں اُس کو بُرا لگتا ہے ،اس کی سچی صحبت کی پہچان یہ ہے کہ وہ کسی پر بار نہیں بنتا ،اس کی محبوبیت کی پہچان یہ ہے کہ اس کے موافق زیادہ اور مخالف کم ہوتے ہیں ‘‘
    امام محمد تقی (ع) نے ان بہترین کلمات کے ذریعہ حسن اخلاق اور مکارم اخلاق،سچائی قائم کرنے اور حقیقی فکر و محبت کرنے کی بنیاد ڈالی ۔
    آداب سلوک
    امام محمد تقی (ع) نے لوگوں کے درمیان حسن سلوک اور اس کے آداب کا ایک بہت ہی بہترین نظام معین فرمایا ۔آپ (ع) اس سلسلہ میں یوں فرماتے ہیں :
    ۱۔’’تین عادتوں سے دل موہ لئے جاتے ہیں :معاشرے میں انصاف ،مصیبت میں ہمدردی ، پریشا ن حالی میں تسلّی‘‘
    ۲۔’’جس شخص میں تین باتیں ہو ں گی وہ شرمندہ نہیں ہوگا :جلد بازی سے کام نہ لینا ،مشورہ کرنا ، عزم کے وقت اللہ پر بھروسہ کرنا ،جوشخص اپنے بھا ئی کو پوشیدہ طور پر نصیحت کرے وہ اس کا محسن ہے اور جو علانیہ طور پر اس کو نصیحت کر ے گویا اُس نے اس کے ساتھ برا ئی کی ہے ‘‘۔
    ۳۔’’مومن کے اعمال نامہ کی ابتدا میں اس کا حسن اخلاق تحریر ہو گا ،سعادتمند کے اعمال نامہ کے شروع میں اس کی مدح و ثنا تحریر ہو گی ،روایت کی زینت شکر ،علم کی زینت انکساری ،عقل کی زینت حسن ادب ہے ، خوبصورتی کا پتہ کلام کے ذریعہ چلتا ہے اور کمال کا پتہ عقل کے ذریعہ چلتا ہے ۔
    امام کے یہ کلمات حکمت ،قواعد اخلاق اور آداب کے اصول پر مشتمل ہیں ،اگر کسی شخص کے پاس صرف یہی کلمات ہوں تو آپ (ع) کی امامت پر استدلال کرنے کیلئے کافی ہیں ، ایک کمسن اپنی عمرکے ابتدائی دور میں کیسے ایسی دا ئمی حکمتیں بیان کرنے پر قادر ہو گیا جن کا بڑے بڑے علماء مثل لانے سے عاجز ہیں ؟
    آپ علیہ السلام  کے مو عظے
    ۱۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام فر ماتے ہیں :’’توبہ میں تاخیر کرنا دھوکہ ہے ،اور توبہ کرنے میں بہت زیادہ دیرکرنا حیرت و سرگردانی کا سبب ہے ،خدا سے ٹال مٹول کرنا ہلاکت ہے اور بار بار گناہ کرنا تدبیر خدا سے ایمن ہونا ہے ،خداوند عالم کا فرمان ہے :"لا یَأْمَنُ مَکْرَ اﷲِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ"  مکر خدا سے صرف گھاٹا اٹھانے والے ہی بے خوف ہوتے ہیں"۔
    ۲۔ایک شخص نے آپ (ع) سے عرض کیا :مجھے کچھ نصیحت فرما دیجئے تو آپ (ع) نے اس کو یہ بیش بہا نصیحت فرمائی :’’صبر کو تکیہ بناؤ ،غریبی کو گلے لگاؤ ،خواہشات کو چھوڑ دو ،ہویٰ و ہوس کی مخالفت کرو ،یاد رکھو تم خدا کی نگاہ سے نہیں بچ سکتے، لہٰذا غور کرو کس طرح زند گی بسر کرنا ہے ‘‘۔
    ۳۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے بعض اولیا کو وعظ و نصیحت پر مشتمل یہ گرانبہا خط تحریر فرمایا : ’’ہم اس دنیا سے چلو بھر پانی لیتے ہیں لیکن جس شخص کی خواہش اپنے دوست کی طرح ہو اور وہ اس کی روش کے مطابق چلتا ہو تو وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ہوگا جبکہ آخرت چین و سکون کا گھر ہے ‘‘۔