سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    27 رجب المرجب (1439ھ) عیدسعید مبعث کےموقع پر

    عیدمبعث  
    27 رجب وہ مبارک دن ہے جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت کے درجے پر فائز ہوئے اور ان پر خداوند متعال کی جانب سے پہلی وحی نازل ہوئی۔ اس عظیم دن کو بہتر معرفت  کیلئے قرآن مجید  کی اس آیت کا سہارالیتے ہیں ۔  خداوندعالم قرآن مجید میں سورہ آل عمران کی ۱۶۴ آیت میں رسول ﷺ کی بعثت کا مقصد اس طرح بیان کرتے ہوئے ارشاد فرما تاہے ۔ "لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَکِّیهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَإِن کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ"  یقینا خدا نے صاحبانِ ایمان پر احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ان پر آیات الٰہیٰہ کی تلاوت کرتا ہے انہیں پاکیزہ بناتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ پہلے سے بڑی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
    اس آیت کریمہ میں خداوند عالم نے بعثت کے مندرجہ ذیل اہداف بیان کئے ہیں۔
    تلاوت قرآن کریم
    تلاوت قرآن پاک بعثت کا پہلا مقصد بیان کیا گیا ہےیعنی پیغمبر ﷺ کو خدا نے مامور کیا ہے امت کے لئے قرآن پاک کی تلاوت کریں ۔ قابل ذکر یہ بات ہے کہ خداوند عالم نے قرآن کے بارے میں دو الگ الگ وظیفہ تلاوت اور پھر تعلیم کو پیغمبرﷺ کے لئے ذکر کیا ہے۔ اس مقصد سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ جس طرح قرآن کو سمجھنا اور عمل کرنا لازم ہے اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت بھی تنہا ایک ھدف ہےاور تنہا اس کی الگ فضیلت ہے۔   سرور دو عالم ﷺ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت کرے تو خداوند عالم ہر لفظ کے عوض میں دس نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھتا ہے۔یہی نہیں بلکہ اور آگے فرمایا اگر کوئی شخص الف لام میم کی تلاوت کرے میں نہیں کہوں گا کہ یہ ایک حرف ہے بلکہ الف لام میم تین حرف ہیں اور اس کی تلاوت کے لئے تیس نیکی خداوند عالم کی طرف سے اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائگی۔
     تعلیم قرآن کریم
    تعلیم قرآن کریم کہ جو قرآن کی اس آیت کے لفظ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ میں بیان ہوا ہے۔ اس کے باوجود بھی کہ مخاطبان قرآن کریم عرب زبان تھے، جو کہ فصاحت اور بلاغت پہ مسلط تھے پھر بھی خداوند عالم نے پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ ان کو قرآن مجید کی تعلیم دیں۔ گویا قرآن کریم میں خداوند عالم یہ کہنا چاہتا ہے وہ لوگ قرآن کو نہیں سمجھ سکتے تھے بغیر رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور تربیت کے،رسول ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کا علم چاہئے تو اہل بیت کے در پہ جائو۔اہل بیت علیہم السلام تمہیں قرآن کا علم عطا کرینگے۔
    تعلیم حکمت
    تیسرا مقصد بعثت رسول ﷺ کا تعلیم حکمت ہے۔ خداوند عالم نے رسولﷺ کو مامور کیا کہ وہ اپنی امت کو تعلیم اور دانائی سکھائیں۔یہاں پر ایک بات قابل غور ہے کہ خدا نے صرف تعلیم کتاب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پیغمبرﷺ کو حکمت کی بھی تعلیم دینے کا حکم دیا۔یہاں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عقل انسان تنہا حکمت احکام اور فرامین الہی کو سمجھ نہیں سکتی بلکہ حکمت کو بھی رسول اللہ ﷺ سے سیکھنا پڑیگا۔ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر علم اور حکمت چاہئے تو علی ابن ابی طالب کی طرف رجوع کرو۔
     تزکیہ نفس
    رسول ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے تزکیہ نفس کے لئے تاکہ لوگوں کے دلوں کو گندگی اور برائیوں سے پاک کریں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ تلاوت قرآن کے سیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی آیات کے مفاہیم کو سمجھنا اور احکام کی حکمت کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس بھی ضروری ہے۔ مشہور واقعہ ہے جنگ خندک میں جب عمر بن عبدود نے رسول اللہ ﷺکی شان میں گستاخی کی تو حضرت علی ؑ نے اسے زمین پر پٹکا اور اس کے سینے پر سوار ہو گئے۔ اس نے جب دیکھا کہ کچھ نہیں  کر سکتا ہوں تو لعاب دہن مولا کے چہرے پر ڈالا ۔ اس وقت اچانک مولا علی ؑ اس کے سینے سے اٹھ گئے اور اس کو چھوڑ دیا ۔ ان میں سے کسی صحابی نے آکر پوچھا اس کو کیوں چھوڑ دیا اس نے اتنا بڑا جرم کیا تھا؟ حضرت علیؑ نے جواب دیا کہ جب میں نے اس کو زمین پر پٹکا تھا تو اس لئے تھا کہ اس نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی تھی اور میں خدا کے لئے اس کو سزا دینا چاہ رہا تھا لیکن اب جب اس نے مجھ سے گستاخی کی احتمال یہ ہے کہ میں اپنے لئے اس سے انتقام لیتا اسی لئے اسے چھوڑ دیا۔ اس بات سے ہمیں درس لینا چاہئے کہ ہمارا جو بھی کام ہو صرف اپنے مطلب کے لئے نہیں ہونا چاہئے بلکہ خدا اور رسولﷺ کی خوشنودی کے لئے ہونا چاہئے۔