سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2018/12/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عیدغدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 3شعبان (1439ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27 رجب المرجب (1439ھ) عیدسعید مبعث کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر

    ۲۸ صفر سید المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی رحلت کا دن ہے، کہ خداوندعالم نے آنحضرت اور آپ کی عترت پاک کی ذات مبارک کے طفیل میں پوری کائنات خلق کی ، خدا      اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی تخلیق نہ کرتا اوراُن کومفاہیم کائنات سے روشناس نہ کراتا  اگر نوع انسانی کی ہدایت مقصود نہ ہوتی۔

    لذا انسانیت کی ہدایت کے خاطر اپنےمحبوب کے توسط سے قرآنی احکامات نازل کیے۔ ان احکامات پرعمل کرکےہی انسان حیات ابدی کی حقیقت سےروشناس ہوسکتاہے اوراس کائنات کےحقیقی مفہوم کوسمجھ سکتاہے۔ خالق کائنات نے اپنے حبیب کو رحمت کاعنوان دیکر خلق فرمایا ۔آپ اس کائنات کی تاریکیوں میں  نورہدایتاورانسانیت کےلیے گوشہءِ امن وعافیت ہیں۔

    ہر قوم اور مذہب کے پیرو کار اپنے پیشواؤں اور رہنماؤ ں کی ہدایات اور نصیحتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کو ہر حال میں لازم سمجھتے ہیں۔
    تو کم از کم اتنا ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ :کچھ نہ سہی تو اپنے اس محبوب پیغمبر ﷺ ،جن کے صدقے میں ہمیں دوجہاں کی خیرات وبر کات حاصل ہوئیں اور  اسلام شمشیر کے ذور سے نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ سے پھیلا۔پس  نبی پاکؐ سےاظہار عقیدت کےلیے ہمیں اپنے نبیؐ کی آفاقی تعلیمات کواختیار کرنا ہوگا، جن کی نظر کرم کے ہم دو جہاں میں  محتاج ہیں ،جو ہماری امیدوں اور آرزؤں کے مرکز ہیں اورمصائب وآلام میں ہماری جائے پناہ ہیں ۔

    آپ  ﷺ کی وفات

    سنہ 11 ہجری کے ابتدائی مہینوں میں رسول اللہﷺ  بیمار ہوئے ۔جب آپ کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو منبر پر رونق افروز ہوئے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کی سفارش فرمائی اور فرمایا: اگر کسی کا مجھ پر کوئی حق ہے تو وہ مجھ سے وصول کرے یا بخش دے اور میں نے کسی کو آزردہ کیا ہے تو میں تلافی کے لئے تیار ہوں۔

    فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آنحضرت کے بستر کے پاس بیٹھی ہوئی باپ کے نورانی اور ملکوتی چہرہ کو دیکھ رہی تھیں۔ جس پر بخار کی شدت کی بنا پر پسینہ کے قطرے جھلملا رہے تھے۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جناب ابوطالب علیہ السلام کا شعر جو پیغمبر کے بارے میں تھا پڑھا۔

    وابیض یستقی الغمام بوجھہ      شمال الیتامی عصمة للارامل

    یعنی روشن چہرہ اس چہرہ کی آبرو ندی کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کی نگہداری کرنے والا ہے۔

    انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے دفن کے بعد جناب سیدہ (سلام اللہ علیھا) میرے قریب آئیں اور فرمایا اے انس ! تمہارے دلوں نے یہ کس طرح گوارا کیا کہ آنحضرت کے جسد مبارک پر مٹی ڈالی جائے ۔پھر آپ نے روتے ہوئے فرمایا۔

    یٰا اَبَتَاہُ اَجٰابَ رَبّاً دَعٰاہُ

    یَا اَبَتَاہُ مِنْ رَبِہِ مَا اَدْنٰاہُ

    بابا جان نے رب کی آواز پر لبیک کہا            بابا جان آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہیں۔

    ایک معتبر روایت کے مطابق بی بی (سلام اللہ علیھا) نے آنحضرت کی قبر مبارک کی تھوڑی سی مٹی لے کر آنکھوں سے لگائی اور فرمایا:

    مَاذا عَلَی الْمُشْتَمِّ تُرْبَةَ أَحْمَدٍ

    أَنْ لاَ یَشَمَّ مَدَی الزَّمانِ غَوالِیا

    جو احمد مجتبیٰ کی تربت کی خوشبو سونگھے    وہ تا زندگی دوسری خوشبو نہ سونگھے گا۔

    صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّھا

    صُبَّتْ عَلَی الْاَیّامِ صِرْنَ لَیالِیا

    مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں اگر وہ   روشن دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے۔