سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2020/6/1 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر

    ۲۸ صفر سید المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی رحلت کا دن ہے، کہ خداوندعالم نے آنحضرت اور آپ کی عترت پاک کی ذات مبارک کے طفیل میں پوری کائنات خلق کی ، خدا      اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی تخلیق نہ کرتا اوراُن کومفاہیم کائنات سے روشناس نہ کراتا  اگر نوع انسانی کی ہدایت مقصود نہ ہوتی۔

    لذا انسانیت کی ہدایت کے خاطر اپنےمحبوب کے توسط سے قرآنی احکامات نازل کیے۔ ان احکامات پرعمل کرکےہی انسان حیات ابدی کی حقیقت سےروشناس ہوسکتاہے اوراس کائنات کےحقیقی مفہوم کوسمجھ سکتاہے۔ خالق کائنات نے اپنے حبیب کو رحمت کاعنوان دیکر خلق فرمایا ۔آپ اس کائنات کی تاریکیوں میں  نورہدایتاورانسانیت کےلیے گوشہءِ امن وعافیت ہیں۔

    ہر قوم اور مذہب کے پیرو کار اپنے پیشواؤں اور رہنماؤ ں کی ہدایات اور نصیحتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کو ہر حال میں لازم سمجھتے ہیں۔
    تو کم از کم اتنا ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ :کچھ نہ سہی تو اپنے اس محبوب پیغمبر ﷺ ،جن کے صدقے میں ہمیں دوجہاں کی خیرات وبر کات حاصل ہوئیں اور  اسلام شمشیر کے ذور سے نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ سے پھیلا۔پس  نبی پاکؐ سےاظہار عقیدت کےلیے ہمیں اپنے نبیؐ کی آفاقی تعلیمات کواختیار کرنا ہوگا، جن کی نظر کرم کے ہم دو جہاں میں  محتاج ہیں ،جو ہماری امیدوں اور آرزؤں کے مرکز ہیں اورمصائب وآلام میں ہماری جائے پناہ ہیں ۔

    آپ  ﷺ کی وفات

    سنہ 11 ہجری کے ابتدائی مہینوں میں رسول اللہﷺ  بیمار ہوئے ۔جب آپ کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو منبر پر رونق افروز ہوئے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کی سفارش فرمائی اور فرمایا: اگر کسی کا مجھ پر کوئی حق ہے تو وہ مجھ سے وصول کرے یا بخش دے اور میں نے کسی کو آزردہ کیا ہے تو میں تلافی کے لئے تیار ہوں۔

    فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آنحضرت کے بستر کے پاس بیٹھی ہوئی باپ کے نورانی اور ملکوتی چہرہ کو دیکھ رہی تھیں۔ جس پر بخار کی شدت کی بنا پر پسینہ کے قطرے جھلملا رہے تھے۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جناب ابوطالب علیہ السلام کا شعر جو پیغمبر کے بارے میں تھا پڑھا۔

    وابیض یستقی الغمام بوجھہ      شمال الیتامی عصمة للارامل

    یعنی روشن چہرہ اس چہرہ کی آبرو ندی کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہ گاہ اور بیوہ عورتوں کی نگہداری کرنے والا ہے۔

    انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺکے دفن کے بعد جناب سیدہ (سلام اللہ علیھا) میرے قریب آئیں اور فرمایا اے انس ! تمہارے دلوں نے یہ کس طرح گوارا کیا کہ آنحضرت کے جسد مبارک پر مٹی ڈالی جائے ۔پھر آپ نے روتے ہوئے فرمایا۔

    یٰا اَبَتَاہُ اَجٰابَ رَبّاً دَعٰاہُ

    یَا اَبَتَاہُ مِنْ رَبِہِ مَا اَدْنٰاہُ

    بابا جان نے رب کی آواز پر لبیک کہا            بابا جان آپ اپنے رب کے کتنے قریب ہیں۔

    ایک معتبر روایت کے مطابق بی بی (سلام اللہ علیھا) نے آنحضرت کی قبر مبارک کی تھوڑی سی مٹی لے کر آنکھوں سے لگائی اور فرمایا:

    مَاذا عَلَی الْمُشْتَمِّ تُرْبَةَ أَحْمَدٍ

    أَنْ لاَ یَشَمَّ مَدَی الزَّمانِ غَوالِیا

    جو احمد مجتبیٰ کی تربت کی خوشبو سونگھے    وہ تا زندگی دوسری خوشبو نہ سونگھے گا۔

    صُبَّتْ عَلَیَّ مَصائِبٌ لَوْ أَنَّھا

    صُبَّتْ عَلَی الْاَیّامِ صِرْنَ لَیالِیا

    مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں اگر وہ   روشن دنوں پر آتیں تو وہ کالی راتیں بن جاتے۔