سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر

    شہادت امام علی النقی علیہ السلام 


    حضرت امام علی النقی علیہ سلام جو کہ ہادی اور نقی کے لقب سے معروف ہیں 3 رجب اور دوسرے قول کے مطابق 25 جمادی الثانی کو سامرا میں شہید کیے گئے، امام علی النقی علیہ السلام ذیقعدہ سن 220 ہجری میں اپنے والد گرامی کی شہادت کے بعد امامت کے منصب پر فائزہوئے، اس وقت آپ کی عمر 8 سال تھی ،آپ(ع) اپنے والد کے مانند بچپن میں ہی امامت کےعظیم الہی منصب پر فائز ہوئے۔

    امام علیہ السلام محافظ اسلام اور تقوی وایمان کے ستاروں میں سے ہیں ،

    آپ نے طاغوتی عباسی حکمرانوں کے سامنے حق کی آوازبلندکی،اورآپ نے اپنی زندگی کے ایک لمحہ میں بھی ایسی چیز قبول نہیں کی جس کاحق سے اتصال نہ ہو،آپ نے ہرچیزمیں اللہ کی اطاعت کی نشاندہی 

    کرائی۔

    حضرت کی سیرت اور اخلاق وکمالات وہی تھے جو اس سلسلئہ عصمت کے ہر فرد کے اپنے اپنے دور میں امتیازی طور پر مشاہدہ میں اتے رہے تھے . قید خانے اور نظر بندی کاعالم ہو یا آزادی کا زمانہ ہر وقت اور ہر حال میں یاد الٰہی , عبادت , خلق ُ خدا سے استغنائ ثبات قدم , صبر واستقلال مصائب کے ہجوم میں ماتھے پر شکن نہ ہونا دشمنوں کے ساتھ بھی حلم ومرّوت سے کام لینا ،محتاجوں اور ضرورت مندوں کی امداد کرنا یہی اوصاف ہیں جو علی نقی علیہ السّلام کی سیرت زندگی میں بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔

    امام  کی سخاوت

    حضرت امام محمد تقی  علیہ السلام کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اورسب سے نیکی و احسان کرنے والے تھے۔آپ کے جودوکرم کاایک  واقعہ  بطور نمونہ بیان کرتے ہیں: اسحاق جلّاب سے روایت ہے:میں نے یوم الترویہ (۸ ذی الحجہ)امام علی نقی علیہ السلام کے لئے بہت زیادہ گوسفندخریدے جن کوآپ نے تمام دوستوں واحباب (۱) میں تقسیم فرمادیا۔شیعوں کے بزرگ افراد کی جماعت کاایک وفدآپ ؑ کے پاس پہنچاجس میں ابوعمروعثمان بن سعید، احمد بن اسحاق اشعری اور علی بن جعفر ہمدانی تھے ،احمد بن اسحق نے آپ سے اپنے مقروض ہونے کے متعلق عرض کیا توآپ ؑ نے اپنے وکیل عمروسے فرمایا:’’ان کواورعلی بن جعفر کوتین تین ہزاردیناردیدو‘‘،آپ کے وکیل نے یہ مبلغ ان دونوں کوعطاکردی۔ابن شہرآشوب نے اس علوی کرامت بیان پر یہ حاشیہ لگایا:(یہ وہ معجزہ ہے جس پر بادشاہوں کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں ہوسکتا اور ہم نے اس طرح کی عطا وبخشش کے مثل کسی سے نہیں سنا ہے ۔امام ؑ نے ان بزرگ افراد پر اس طرح کی بہت زیادہ جودوبخشش کی اور انہیں عیش وعشرت میں رکھااور یہ فطری بات ہے کہ بہترین بخشش کسی نعمت کا باقی رکھناہے ۔

    امام ؑ کا زہد

    حضرت امام علی نقی ؑ نے اپنی پوری زند گی میں زہد اختیار کیا ،اور دنیا کی کسی چیز کو کو ئی اہمیت نہیں دی مگر یہ کہ اس چیز کا حق سے رابطہ ہو ،آپ ؑ نے ہر چیز پر اللہ کی اطاعت کو ترجیح دی۔ راویوں کا کہنا ہے کہ مدینہ اور سامراء میں آپ ؑ کے مکان میں کو ئی چیز نہیں تھی ،متوکل کی پولس نے آپ ؑ کے مکان پر چھاپا مارا اور بہت ہی دقیق طور پر تلاشی لی لیکن ان کو دنیا کی زند گی کی طرف ما ئل کر نے والی کو ئی چیز نہیں ملی ،امام ؑ ایک کھلے ہوئے گھر میں بالوں کی ایک ردا پہنے ہوئے تھے ،اور آپ ؑ زمین پر بغیر فرش کے ریت اور کنکریوں پر تشریف فرما تھے ۔
    سبط احمد جوزی کا کہنا ہے : بیشک امام علی نقی ؑ دنیا کی کسی چیز سے بھی رغبت نہیں رکھتے تھے ، آپ ؑ مسجد سے اس طرح وابستہ تھے جیسے اس کالازمہ ہوں ،جب آپ ؑ کے گھر کی تلاشی لی تو اس میں مصاحف ، دعاؤں اور علمی کتابوں کے علاوہ اور کچھ نہیں پایا ۔
    حضرت امام علی نقی ؑ اپنے جد امیرالمو منین ؑ کی طرح زندگی بسر کر تے تھے جو دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے ،انھوں نے دنیا کو تین مرتبہ طلاق دی تھی جس کے بعد رجوع نہیں کیا جاتا ہے ،اپنی خلافت کے دوران انھوں نے مال غنیمت میں سے کبھی اپنے حصہ سے زیادہ نہیں لیا ،آپ ؑ کبھی کبھی بھوک کی وجہ سے اپنے شکم پر پتھر باندھتے تھے،وہ اپنے ہاتھ سے لیف خرما کی بنا ئی ہو ئی نعلین پہنتے تھے، اسی طرح آپ ؑ کا حزام ’’تسمہ ‘‘ بھی لیف خرما کاتھا ،اسی طریقہ پر امام علی نقی ؑ اور دوسرے ائمہ علیہم السلام گامزن رہے انھوں نے غریبوں کے ساتھ زندگی کی سختی اور سخت لباس پہننے میں مواسات فرما ئی ۔

    امام  کا علم 

    حضرت امام علی نقی ؑ علمی میدان میں دنیا کے تمام علماء سے زیادہ علم رکھتے تھے ،آپ ؑ تمام قسم کے علوم و معارف سے آگاہ تھے ،آپ ؑ نے حقائق کے اسرار اور مخفی امور کو واضح کیا ،تمام علماء و فقہاء شریعت اسلامیہ کے پیچیدہ اور پوشیدہ مسا ئل میں آپ ؑ ہی کے روشن و منور نظرئے  کی طرف رجوع کرتے تھے ،آپ ؑ اور آپ ؑ کے آباء و اجداد کا سخت دشمن متوکل بھی جس مسئلہ میں فقہا میں اختلاف پاتا تھا اس میں آپ ؑ ہی کی طرف رجوع کر تا تھا اور سب کے نظریات پر آپ ؑ کے نظریہ کو مقدم رکھتا تھاہم ذیل میں ان  مسائل میں سے  ایک  مسئلہ پیش کررہے ہیں جن میں متوکل نے امام ؑ کی طرف رجوع کیا ہے :
    متوکل نے بیماری کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نذر کی کہ اگر میں اچھا ہو گیا تو درہم کثیرصدقہ دونگا ،جب وہ اچھا ہو گیا تو اُس نے فقہا ء کو جمع کر کے اُ ن سے صدقہ کی مقدار کے سلسلہ میں سوال کیا فقہاء میں صدقہ دینے کی مقدار کے متعلق اختلاف ہو گیا،متوکل نے اس سلسلہ میں امام ؑ سے فتویٰ طلب کیا تو امام ؑ نے جواب میں ۸۳دینار صدقہ دینے کے لئے فرمایا ،فقہا ء نے اس فتوے سے تعجب کا اظہار کیا ، انھوں نے متوکل سے کہا کہ وہ امام ؑ سے اس فتوے کا مدرک معلوم کرے تو امام ؑ نے اُن کے جواب میں فرمایا : خداوند عالم فرماتا ہے: " لَقَدْ نَصَرَکُمْ اﷲُ فِی مَوَاطِنَ کَثِیرَۃٍ"’’بیشک اللہ نے کثیر مقامات پر تمہاری مدد کی ہے ‘‘اور ہمارے سب راویوں نے روایت کی ہے کہ سرایا کی تعداد ۸۳ تھی ۔
    امام ؑ نے جواب کے آخر میں مزید فرمایا :’’جب کبھی امیر المو منین ؑ اچھے نیک کام میں اضافہ فرماتے تھے تو وہ اُن سب کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ منفعت آور ہوتا تھا ‘‘۔

    آپ کی عبادت 

    ائمہ ہدی علیہم السلام کی ایک صفت خدا وند عالم سے تو بہ کرنا ہے کیونکہ خدا سے محبت ان کے اعضا و جوارح میں مجذوب ہوگئی ہے ،وہ اکثر ایام میں روزہ رکھتے ہیں راتوں میں نمازیں پڑھتے ہیں،اللہ سے مناجات کرتے ہیں اور اس کی کتاب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے ،حضرت امام علی نقی کے مانند عباد ت تقوی ٰاور دین کے معاملہ میں اتنا پا بند انسان کوئی دکھا ئی نہیں دیتا، راویوں کا کہنا ہے :امام ؑ نے کبھی بھی کوئی بھی نافلہ نماز ترک نہیں کی آپ مغرب کی نافلہ نماز کی تیسری رکعت میں سورۂ الحمد اور سورۂ حدید اس آیت :(وعلیم بذات الصدور )تک پڑھتے تھے اور چوتھی رکعت میں سورۂ الحمد اور سورۂ حجرات کی آخری آیات کی تلاوت کرتے تھے، امام سے دورکعت نماز نافلہ منسوب کی گئی ہے جس کی پہلی رکعت میں آپ سورۂ فاتحہ اور سورۂ یس کی تلاوت کرتے تھے اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ رحمن پڑھتے تھے۔

    امام کی شہادت 

    امام علی نقی (ع) نے اس کے باوجود کہ آپ پر حکومت کی طرف سے کڑی نظر رکھی جاتی تھی مگر تمام رنج و مشقّت اور محدودیتوں کے ساتھ ذرّه برابر ستمگروں کا ساتھ نہ دیا اور یہ بکل واضح سی بات هے کہ امام (ع) کی اجتماعی موقعیّت اور الٰهی شخصیت نیز منفی مبارزه اور خلفاء کے ساتھ تعاون نہ کرنا، زمانے کے طاغوتوں کےلئے وحشت زده اور ناقابل برداشت تھا۔ وہ لوگ مسلسل اس موضوع سے رنجیده رهتے تھے، جس کے نتیجہ میں دشمنوں نے واحد راستہ یہ دیکھا کہ نورِ خدا کو بجھا دیا جائے اور امام (ع) کے قتل کی سازش میں لگ گئے، اس طرح امام علی نقی علیہ اسلام بھی اپنے گذشتہ ائمہ علیہم السلام کی طرح اپنی فطری موت سے رحلت نهیں ہو ئے۔
     بلکہ انهیں معتز  کے زمانے میں مسموم کیا گیا۔ آپ ماهِ رجب میں سنہ2۵4ھ، میں درجہ شهادت پر فائز هوئے اور سامره میں اپنے گھر کے اندر سپرد لحد کئے گئے ۔