سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/4/25 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر

    ولادت امام زين العابدين عليه السلام 

    حضرت امام زين العابدين عليه السلام  السلام کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین اور سیرہ  کی کتاب لکھنے والوں  میں اختلاف ہے،  بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7شعبان اور بعض نے9 شعبان اور بعض نے15 جمادی الاول ولادت کی تاریخ بیان کیا ہے اور دن کے ساتھ ساتھ سال کے بارے میں بھی اختلاف نظر ہے، بعض نے سن 38 ھ ، بعض نے سن 36 ھ ، اور بعض نے 37ھ ، بیان کیا ہے۔

    چوتھے امام زین العابدین علیہ السلام کا نام علی  علیہ السلام ہے۔ آپ حسین بن علی بن ابیطالب علیہ السلام  کے فرزند ارجمند ہیں، آپ کے القاب میں سجاد اور زین العابدین بہت مشہور ہیں۔

    صحیفہ سجادیہ

    چنانچہ اسلام کے عاشورائي مکتب کي پاسداري کے لئے امام سجاد عليہ السلام نے بہترين موقف  کا سہارا ليا جو آپ  علیہ السلام کي وقت شناسي اور گہري بصيرت کا ثبوت ہے- آپ  علیہ السلام نے اس دور ميں عرفاني مناجاتوں کا سہارا ليا جو حقائق کو روشن کرتي تھي- حضرت سيدالساجدين  علیہ السلام کي دعائيں جو صحيفہ سجاديہ ميں اکٹھي گئيں ہيں، مناجات خمسہ عشر، دعائے ابو حمزہ ثمالي اور ہر روز کي دعائيں ان ہي مناجاتوں ميں سے ہيں-

    امام سجاد  علیہ السلام نے ايسے حال ميں دعا اور مناجات کے ضمن ميں اسلامي معارف اور مواعظ بيان کرنے کا کام انجام ديا جب معاشرہ انحراف کا شکار ہوگيا تھا اور آسائش طلبي اور دنيا پرستي کا غلبہ تھا اور سياسي و اخلاقي اور معاشرتي برائيوں کا دور دورہ تھا اور سياسي لحاظ سے سانس لينے تک کا امکان نہ تھا اور اسي حالت ميں امام سجاد  علیہ السلام نے دعا کے ذريعے بعض عقائد اور اقدار بيان کئے اور معاشرے کو ايک بار پھر معرفت اور عبادت  الہي کي طرف متوجہ اور متحرک کيا اور معاشرے ميں اللہ کي بندگي کي طرف رجحان پيدا ہوا-

     اگرچہ ان دعاوں ميں ظاہري طور پر معرفت اور عبادت ہي مقصود تھي ليکن ان کے ضمن ميں جو تعبيرات پائي جاتي ہيں، عوام ان تعبيرات و عبارات ميں امام سجاد  علیہ السلام کے منظور نظر سياسي مفاہيم سمجھ سکتے ہيں-

     صحیفہ سجادیہ دعاؤں کا شاہکار اور”عزاداری امام حسین“ آپ کے اشکوں کی یادگار ہے ۔ علمائے اسلام کامتفقہ فیصلہ ہے کہ دنیا کی سب سے عظیم کتاب ، کلام اللہ یعنی ‍ قرآن مجید اور لسان اللہ کی تخلیق ، نہج البلاغہ کے بعد، صحیفۂ سجادیہ الہی حقائق و معارف کا سب سے زیادہ قیمتی خزانہ ہے اسی لئے بعض اسلامی دانشوروں نے اس کو اخت القرآن ، انجیل اہل بیت علیہم السلام اور زبور آل محمد ﷺ  کا لقب عطا کیا ہے۔

     امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک اور قیمتی یادگار آپ کا رسالۂ حقوق ہے جس میں آپ نے انسانوں کے ایک دوسرے پر مختلف حقوق و فرائض ذکر کئے ہیں۔ ہم امام علیہ السلام کے اسی رسالہ حقوق کےچند جملوں پرختم کرتے ہیں ۔ امام فرماتے ہیں : ”آپ کے ساتھی اور دوست کا آپ پر یہ حق ہےکہ آپ اس پراحسان اور حسن سلوک سے کام لیں اوراگر ایسا نہ کر سکیں تواس کے حق میں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں جہاں تک ممکن ہو اس کی دوستی میں کوتاہی نہ برتیں اس کے خیر خواہ و پشت پناہ رہیں اور رحمت و شفقت کا چشمہ بنے رہیں مشکل و عذاب کا باعث نہ بنیں“

    امام سجاد  علیہ السلام اور شاگردوں کي تربيت

    قرآن و اہل بيت (عليہم السلام) کے اہداف کو آگے بڑھانے کا اہم ترين شيوہ باصلاحيت انسانوں کي تربيت اور انہيں قرآن اور اہل بيت  علیہ السلام کے مخالفين کے خلاف علمي و تعليمي اور عقيدتي جدوجہد کے لئے تيار کرنے کا اہتمام کرنے سے عبارت تھا

    شيخ طوسي (رح) نے اپني کتاب "الرجال" ميں امام سجاد  علیہ السلام کے 170 شاگردوں کے نام ذکر کئے ہيں جن ميں سے بعض شاگردوں کے نام يہ ہيں: سعيد بن مسيب، ابوحمزہ ثمالي (ثابت بن دينار)، سعيد بن جبير، ابو خالد کابلي، شہر واسط ميں حجاج بن يوسف کے ہاتھوں شہيد ہونے والے يحيي بن ام طويل،  ابوفراس کي کنيت ہے مشہور شاعر فرزدق، طاوس يماني، حماد بن حبيب عطار کوفي، زرارہ بن اعين شيباني، حبابہ والبيہ، جابر بن عبداللہ انصاري، محمد بن جبير مطعم، فرات بن احنف، سعيد بن جبہان کناني، مولي ام ہاني، قاسم بن عوف، اسمعيل بن عبداللہ بن جعفرو غيرہ-

    يہ لوگ اموي گھٹن کے زمانے ميں امام (عليہ السلام) سے فيض حاصل کرتے رہے ہيں يہ وہ زمانہ تھا جس کي توصيف کرتے ہوئے امام سجاد  علیہ السلام نے فرمايا: "مکہ اور مدينہ ميں ہمارے حقيقي دوستوں کي تعداد 20 سے زيادہ نہيں ہے۔

    آپ  علیہ السلام روزمرہ کي گفتگو ميں بھي تبليغ اسلام اور اہل بيت  علیہ السلام کي حالت واضح کيا کرتے تھے؛ مثلاً کسي نے آپ  علیہ السلام سے پوچھا: يا بن رسول اللہ ﷺ! کيا حال ہے آپ کا-

    امام  علیہ السلام نے فرمايا: تمام اہل اسلام پيغمبر خدا ﷺ کي برکت سے امن و سکون سے بہرہ مند ہوئے ليکن ہم آنحضرت ﷺ سے انتساب کي وجہ سے خوف و ہراس کي حالت ميں جي رہے ہيں!