سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/12/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر

    شہادت  حضرت امام محمد تقی  علیہ السلام 


    امام جواد(ع) کی زندگی کا مختصر جائزہ

    امام جواد، اپنے والد امام رضا کی مبارک زندگی کے تقریبا آخری حصے میں، اس دنیا میں تشریف لائے اور اپنے وجود گرامی سے سلسلہ امامت کے منقطع ہونے کا گمان کرنے والوں کی باطل امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

    امام جواد علیہ السلام اخلاق واوصاف میں انسانیت کی اس بلندی پر تھے جس کی تکمیل رسول اور آل رسول ﷺ کا طرہ امتیاز تھی۔ ہر ایک سے جھک کر عاجزی سے ملنا، ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا، مساوات اور سادگی کو ہر حالت میں پیش نظر رکھنا، غربا کی پوشیدہ طور پر خبر لینا، دوستوں کے علاوہ دشمنوں تک سے اچھا سلوک کرتے رہنا، مہمانوں کی خاطر داری میں انہماک اور علمی اور مذہبی پیاسوں کے لئے فیصلہ کے چشموں کا جاری رکھنا آپ کی سیرت حیات مبارک کے نمایاں پہلو تھے۔

    امام جواد (ع) 17 سال تک امامت کے الہی منصب پر فائز رہے اور امت محمدی کی ہدایت کے فرائض کو انجام دیتے رہے۔ آخر کار امام جواد 25 سال کی عمر میں، جوانی کے ایام میں 220 ہجری میں شہر کاظمین میں شہید ہوئے اور اسی شہر میں اپنے جدّ حضرت موسی بن جعفر الکاظم (ع) کے دامن میں دفن ہوئے۔

    امام جواد(ع)  کی شہادت

     مدینہ رسول سے فرزند رسول کو طلب کرنے کی غرض چونکہ نیک نیتی پرمبنی نہ تھی،اس لیے عظیم شرف کے باوجود آپ حکومت وقت کی کسی رعایت کے قابل نہیں متصور ہوئے معتصم نے بغداد بلوا کرآپ کوقید کر دیا۔

    ایک سال تک آپ نے قید کی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اورآپ کوخدا نے یہ شرف کیوں عطا فرمایا ہے بعض علماء کا  کہنا ہے کہ آپ پراس قدرسختیاں تھیں اوراتنی کڑی نگرانی اورنظربندی تھی کہ آپ اکثراپنی زندگی سے بیزارہوجاتے تھے آخر کار وہ وقت آ گیا کہ آپ صرف ۲۵/ سال  کی عمرمیں قیدخانہ کے اندرآخری ذی قعدہ معتصم کے زہرسے شہید ہو گئے۔

    شہادت کے بعد امام علی نقی علیہ السلام نے آپ کی تجہیزوتکفین اورنمازجنازہ پڑھائی اوراس کے بعد آپ مقابرقریش اپنے جد نامدار حضرت امام موسی ٰکاظم علیہ السلام کے پہلومیں دفن کئے گئے ۔

    امام جواد(ع) کے چند اقوال

    یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بہت سے بزرگ مرتبہ علماء نے آپ سے علوم اہل بیت کی تعلیم حاصل کی آپ کے لیے مختصرحکیمانہ اقوال کابھی ایک ذخیرہ ہے، جیسے آپ کے جدبزرگوارحضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے کثرت سے پائے جاتے ہیں جناب امیرعلیہ السلام کے بعدامام محمدتقی علیہ السلام کے اقوال کوایک خاص درجہ حاصل ہے ۔ انہیں گوہربار کلمات میں سے کچھ آپ لوگوں خدمت پیش کرتے ہیں۔

    قالَ الإمام الجواد عليه‌السلام : نِعْمَةٌ لاتُشْكَرُ كَسِيَّئَةٍ لاتُغْفَرُ.

    وہ نعمت جس کا شکرنہ ادا کیا جائے اُس گناہ کی طرح ہے جسے بخشا نہ گیا ہو۔ (بحارالانوار، ج۷۵، ص۳۶۴)

    قالَ الإمام الجواد عليه ‌السلام: مَنِ اسْتَحْسَنَ قَبيحاً كانَ شَريكاً فيهِ.

    جس نے کسی برائی کی تائید کی (اور اس پر راضی رہا) تو وہ اس (کے گناہ) میں بھی شریک ہے(بحارالانوار، ج۷۵، ص۸۲)

    قالَ الإمام الجواد عليه‌السلام: لَوْ سَكَتَ الْجاهِلُ مَا اخْتَلَفَ النّاسُ. جاہل اگر خاموش رہے تو لوگوں میں کبھی اختلاف نہ ہو۔ (بحارالانوار، ج ۷۵، ص۸۱)

    قالَ الإمام الجواد عليه السلام:مَنْ زارَ قَبْرَ أخيهِ الْمُؤْمِنِ فَجَلَسَ عِنْدَ قَبْرِهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَي الْقَبْرِ وَقَرَءَ ’’إنّا أنْزَلْناهُ في لَيْلَةِ الْقَدْرِ‘‘ سَبْعَ مَرّات، أمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الاْكْبَرِ.

    جو شخص اپنے مومن بھائی کی قبر پر حاضر ہو اور رو بقبلہ بیٹھے اور اپنے ہاتھ کو اسکی قبر پر رکھ کر سورۂ ’’انّا انزلناہ‘‘ کی سات مرتبہ تلاوت کرے تو وہ میدان حشر کی سختیوں سے امان میں رہے گا۔ (اختيار معرفة الرّجال، ص 564، ح 1066)

    قالَ الإمام الجواد عليه السلام التَّوْبَةُ عَلي أرْبَع دَعائِم: نَدَمٌ بِالْقَلْبِ، وَاسْتِغْفارٌ بِاللِّسانِ، وَ عَمَلٌ بِالْجَوارِحِ، وَ عَزْمٌ أنْ لايَعُودَ.

    توبہ قبول ہونے کی چار شرطیں ہیں:دل میں احساس ندامت، زبان سے استغفار، گناہ کی تلافی (خدا یا بندے کا اگر کوئی حق ضائع کیا ہے تو اسکو ادا کرے) اور دوبارہ نہ دھرانے کا عزم۔ (ارشاد القلوب ديلمي، ص 160(

     قالَ الإمام الجواد عليه‌ السلام: مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبِي بِطُوسَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَ مَا تَأَخَّر.  جو شخص سرزمین طوس پر میرے پدر کی زیارت کرتا ہے، خداوندعالم اسکے ماضی و مستقبل کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ (وسائل‌الشیعه، ج۱۴، ص۵۵۰)