سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/20 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر

     شہادتامام زین العابدین علیہ السلام 

    قال امام زین العابدین علیه السلام : وَ أَمّا حَقّ وَلَدِكَ فَتَعْلَمُ أَنّهُ مِنْكَ وَمُضَافٌ إِلَيْكَ فِي عَاجِلِ الدّنْيَا بِخَيْرِهِ وَشَرّهِ وَأَنّكَ مَسْئُولٌ عَمّا وُلّيتَهُ مِنْ حُسْنِ الْأَدَبِ وَالدّلَالَةِ عَلَى رَبّهِ وَالْمَعُونَةِ لَهُ عَلَى طَاعَتِهِ فِيكَ وَفِي نَفْسِهِ فَمُثَابٌ عَلَى ذَلِكَ وَمُعَاقَبٌ".
    ترجمہ: اور تم پر تمہاری اولاد کہ حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ وہ تم سے ہے اور اس دنیا کی نیکی اور بدی میں میں تم سے پیوستہ ہے۔ اور تم خدا کے حکم کے مطابق، اس پر اپنی ولایت کے پیش نظر، اس کی عمدہ پرورش کرنے، نیک آداب سکھانے اور خدائے عزوجل کی طرف راہنمائی کرنے اور خدا کی فرمانبرداری میں اس کی مدد کرنے میں اپنے حوالے سے بھی اور اس کے حوالے سے بھی، جوابدہ ہو؛ اور اس ذمہ داری کے عوض جزا اور سزا پاؤگے۔(من لا یحضرہ الفقیہ، جلد 2 صفحہ 621 )

    امام زین العابدین اور فقراء مدینہ کی کفالت

     علامہ ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فقراء مدینہ کے سو گھروں کی کفالت فرماتے تھے اورسارا سامان ان کے گھر پہنچایا کرتے تھے جنہیں آپ بہ بھی معلوم نہ ہونے دیتے تھے کہ یہ سامان خوردونوش رات کوکون دے جاتا ہے آپ کا اصول یہ تھا کہ بوریاں پشت پرلاد کر گھروں میں روٹی اور آٹا وغیرہ پہنچاتے تھے اور یہ سلسلہ تابحیات جاری رہا، بعض معززین کا کہنا ہے کہ ہم نے اہل مدینہ کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ امام زین العابدین کی زندگی تک ہم خفیہ غذائی رسد سے محروم نہیں ہوئے۔

    امام زین العابدین علیہ السلام  اور شاگردوں کي تربيت

    قرآن و اہل بيت (عليہم السلام) کے اہداف کو آگے بڑھانے کا اہم ترين شيوہ باصلاحيت انسانوں کي تربيت اور انہيں قرآن اور اہل بيت  علیہ السلام کے مخالفين کے خلاف علمي و تعليمي اور عقيدتي جدوجہد کے لئے تيار کرنے کا اہتمام کرنے سے عبارت تھا

    شيخ طوسي (رح) نے اپني کتاب "الرجال" ميں امام سجاد  علیہ السلام کے 170 شاگردوں کے نام ذکر کئے ہيں جن ميں سے بعض شاگردوں کے نام يہ ہيں: سعيد بن مسيب، ابوحمزہ ثمالي (ثابت بن دينار)، سعيد بن جبير، ابو خالد کابلي، شہر واسط ميں حجاج بن يوسف کے ہاتھوں شہيد ہونے والے يحيي بن ام طويل،  ابوفراس کي کنيت ہے مشہور شاعر فرزدق، طاوس يماني، حماد بن حبيب عطار کوفي، زرارہ بن اعين شيباني، حبابہ والبيہ، جابر بن عبداللہ انصاري، محمد بن جبير مطعم، فرات بن احنف، سعيد بن جبہان کناني، مولي ام ہاني، قاسم بن عوف، اسمعيل بن عبداللہ بن جعفرو غيرہ-

    يہ لوگ اموي گھٹن کے زمانے ميں امام (عليہ السلام) سے فيض حاصل کرتے رہے ہيں يہ وہ زمانہ تھا جس کي توصيف کرتے ہوئے امام سجاد  علیہ السلام نے فرمايا: "مکہ اور مدينہ ميں ہمارے حقيقي دوستوں کي تعداد 20 سے زيادہ نہيں ہے۔

    آپ  علیہ السلام روزمرہ کي گفتگو ميں بھي تبليغ اسلام اور اہل بيت  علیہ السلام کي حالت واضح کيا کرتے تھے؛ مثلاً کسي نے آپ  علیہ السلام سے پوچھا: يا بن رسول اللہ ﷺ! کيا حال ہے آپ کا-

    امام  علیہ السلام نے فرمايا: تمام اہل اسلام پيغمبر خدا ﷺ کي برکت سے امن و سکون سے بہرہ مند ہوئے ليکن ہم آنحضرت ﷺ سے انتساب کي وجہ سے خوف و ہراس کي حالت ميں جي رہے ہيں!

    امام سجاد  علیہ السلام کے زمانے ميں چھ حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا يزيد بن معاويہ، معاويہ بن يزيد، عبداللہ بن زبير، مروان بن حکم، عبدالملک بن مروان اور وليد بن عبدالملک- امام  علیہ السلام وليد کے زمانے ميں اس کے بھائي ہشام بن عبدالملک کے ہاتھوں مسموم ہو کر جام شہادت نوش کرگئے-

    امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت

             آپ اگرچہ گوشہ نشینی کی زندگی بسرفرما رہے تھے لیکن آپ کے روحانی اقتدارکی وجہ سے بادشاہ وقت ولید بن عبدالملک نے آپ کو زہر دیدیا، اور آپ بتاریخ ۲۵/ محرم الحرام ۹۵ ھ مطابق ۷۱۴ کو درجہ شہادت پرفائز ہو گئے۔

     امام محمد باقرعلیہ السلام نے نمازجنازہ پڑھائی اورآپ مدینہ کے جنت البقیع میں دفن کردئیے گئے علامہ شبلنجی، علامہ ابن حجر، علامہ ابن صباغ مالکی، علامہ سبط ابن جوزی تحریرفرماتے ہیں کہ وان الذی سمه الولیدبن عبدالملک جس نے آپ کو زہر دے کر شہید کیا،وہ ولید بن عبدالملک خلیفہ وقت ہے ۔