سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر

    شہادت  امام حسن العسکری علیہ السلام 

    اَلسَّلامُ عَلَیكَ یا مَولای یا اَبا مُحَمَّدِ الحَسَنِ بنِ عَلی الهادی الْمَهْدی وَ رَحْمَةُ اللّهِ وَ بَرَکاتُهُ.

    اَلسَّلامُ عَلَیكَ یا وَلی اللّهِ وَابنَ اَولِیائِه. اَلسَّلامُ عَلیكَ یا حُجَّة اللّهِ وَ ابنَ حُجَّتِهِ.

    علم و عبادت

    بے شک ہر امام معصوم  علیہم السلام  کا علم منبع وحی سے ماخوذ ہوا کرتا تھا اور حتی دشمنوں اور مخالفین نے تصدیق کی ہے کہ ائمہ علیہم السلام کا علم اس قدر وسیع تھا کہ بیان کے دائرے میں نہیں سماتا۔ امام علیہ السلام کے احکامات، فرامین، اقوال اور دروس و پیغامات اور آپ (ع) سے منقولہ احادیث و روایات سے آپ (ع) کی دانش کا اظہار ہوتا ہے۔

    بزرگ عیسائی عالم بختیشوع   اپنے شاگرد بطریق سے کہتا ہے: "ابن الرضا ابو محمد عسکری کی طرف چلے جاؤ اور جان لو کو ہمارے زمانے میں آسمان تلے ان سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے اور خبردار! اگر وہ تمہیں کوئی حکم دے تو ہرگز اعتراض مت کرنا"۔

    آپ (ع) کی حیات طیبہ خدائے مہربان سے انس و محبت اور صبر و شکر کا اعلی نمونہ تھی۔ محمد شاکری نے روایت کی ہے کہ "میرے مولا اور استاد امام حسن عسکری علیہ السلام محراب عبادت میں سجدے میں چلے جاتے تھے اور آپ (ع) کا سجدہ اور ذکر و دعا کا یہ سلسلہ اس قدر طویل ہوجاتا تھا کہ میں سوجاتا اور جاگ جاتا اور دیکھتا تھا کہ آپ (ع) ابھی سجدے کی حالت میں ہیں۔

    امام حسن عسکری علیہ السلام کے سجدے رات کو فجر سے متصل کر دیتے تھے اور آپ (ع) کی عارفانہ مناجات ہر مردہ اور دنیا زدہ دل کو آسمانی حیات بخش دیتی تھی۔ آپ (ع) نے اپنے جد امجد امیر المؤمنین علیہ السلام کی مانند دنیا کو تین طلاقیں دی تھیں اور دنیا کی نعمتوں سے اپنی ضرورت سے زیادہ اٹھانا پسند نہیں فرمایا کرتے تھے اور اپنی پوری زندگی صرف آخرت کا خانہ تعمیر کرنے میں مصروف رہتے تھے۔

    شوق وصال

    آٹھ ربیع الاول سنہ 260 ہجری کی صبح وعدہ دیدار آن پہنچا، دکھ اور مشقت کے سال اختتام پذیر ہوئے۔ قلعہ بندیوں، نظر بندیاں اور قید و بند کے ایام ختم ہوئے۔ نا قدریاں، بےحرمتیاں اور جبر و تشدد کے سلسلے اختتام پذیر ہوئے۔

     امام حسن عسکری علیہ السلام ایک طرف سے قربِ وصالِ معبود سے شادماں اور نبی اکرم ﷺ کی امت اور آپ ؐ کی دو امانتوں (قرآن و عترت) کے انجام سے فکرمند، غریب الوطنی میں دشمن کے زہر جفا کی وجہ سے بستر شہادت پر درد کی شدت سے کروٹیں بدل رہے ہیں لیکن معبود سے ہم کلام ہونے کو پھر بھی نہ بھولے اور نماز تہجد ابن الرسول (ص) لیٹ کر ادا کی وہ بھی شب جمعہ کو کہ جو رحمت رب العالمین کی شب ہے؛ وہی شب جو آپؑ کی پرواز کی شب ہے۔ نماز میں بہت روئے تھے شوق وصال کے اشک۔

    زمین اور آسمان  کا سوگ

    آپ (ع) نے نماز فجر بھی اپنے بستر پر لیٹ کر ہی ادا فرمائی وہ بھی 28 سال کی عمر اور عین شباب میں، آپ (ع) کی آنکھیں قبلہ کی طرف لگی ہوئی تھیں جبکہ زہر کی شدت سے آپ (ع) کے جسم مبارک پر ہلکا سا رعشہ بھی طاری تھا۔ آپ (ع) کے لبوں سے بمشکل "مہدی" کا نام دہراتے رہے اور پھر مہدی آ ہی گئے اور چند لمحے بعد آپ (ع) اور آپ (ع) کے فرزند مہدی کے سوا کوئی بھی کمرے میں نہ تھے اور راز و نیاز اور امانتوں اور وصیتوں کے لمحات تیزی سے گذر رہے تھے اور ابھی آفتاب طلوع نہیں ہوا تھا کہ گیارہویں امام معصوم کی عمر مبارک کا آفتاب غروب ہوا اور آسمان و زمین پر سوگ و عزا کی کیفیت طاری ہوئی۔

    نماز جنازہ

    آپ  علیہ السلام کے جنازہ اطہر کو غسل و تکفین کے بعد آپ (ع) کے گھر کے صحن میں رکھا گیا تھا۔ آپ کا بھائی جعفر آگے بڑھا اور آپ (ع) کے جنازے کی نماز پڑھانے کی کوشش کی۔ ابھی اس نے تکبیر کہنا ہی چاہی تھی کہ ایک گندمی رنگ اور سیاہ بالوں کے کمسن بچے نے باہر آ کر جعفر کا لباس پکڑ لیا اور اس کو پیچھے دھکیل کر فرمایا: چچا! ہٹ جاؤ، مجھ کو ہی اپنے والد کے جنازے کی نماز پڑھانی چاہئے" جعفر ایسی حالت میں پیچھے ہٹ گیا کہ اس کے چہرے کی حالت بگڑ گئی تھی لیکن وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ فرزند امام (ع) نے آپ ؑ  کے جنازہ اطہر کی نماز پڑھائی اور وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام تھے وہی جن کے آنے کا انتظار ہے ۔ وہی جو اس زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے۔ بہرحال سازش نا کام ہو چکی تھی اور نماز جنازہ کے بعد امام حسن عسکری علیہ السلام کو آپ کے والد ماجد حضرت امام ہادی علیہ السلام کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔