سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2020/6/6 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر

    وفات    حضرت زینب  کبریٰ سلام اللہ علیہا

    حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا   تاریخ اسلام میں ایک ایسی عظیم المرتبت خاتون کا نام افق فضل و کمال پر جگمگا رہا ہے کہ جس کی شخصیت اعلیٰ ترین اخلاقی فضائل کا کامل نمونہ ہے ۔ایسی خاتون جس نے اپنے نرم و مہربان دل کے ساتھ مصائب کے بارگراں کوتحمل کیا ۔  جنہوں نے اپنی گرانقدر حیات طیبہ اسلام اور اس کی حقیقی اقدار کے تحفظ میں گزاردی ۔ خدا کا درود و سلام ہو اس باعظمت خاتون پر جس نے اپنے خطبوں سے اپنے دور میں ناانصافی کی بنیادوں کو ہلا کررکھ دیا۔

    حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہاکی حیات طیبہ کا ایک اہم باب کربلا کی جاودانہ تحریک اور قیام عاشورا سے مربوط ہے ۔اموی حکام کے فسق و فجور ، ظلم و ناانصافی اور بدعنوانیوں کے خلاف تحریک کے تمام مراحل میں حضرت زینب سلام اللہ علیہااپنے بھائی کے ساتھ ساتھ رہیں۔

    حضرت زینب سلام اللہ علیہانے کربلا کے میدان میں اپنے بھائي بھتیجوں ، بچوں اور عزیزوں کی شہادت کے بعد صبر کا سہارا لیا البتہ یہ اپنی تسکین کے لئے نہیں بلکہ صبر کا سہارااس لئے لیا کہ اپنے اعلیٰ مقاصد کو عملی جامہ پہناسکیں۔

     ان کا صبر با مقصد تھا ،چنانچہ تیر وتلوار سے لیس دشمنوں کا ظاہری رعب و دبدبہ خاک میں مل گيا ۔حضرت زینب سلام اللہ علیہااس قدر فصیح و بلیغ خطبہ بیان فرماتیں کہ آپ کے ایک ایک جملے لوگوں کے دلوں میں اتر جاتے ۔

    حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہانے ایک مضبوط مبلّغہ و مدبّرہ کی حیثیت سے اپنی ٹھوس اورسنجیدہ تدبیروں کے ذریعہ امام حسین  ؑ  کی شہادت کے بعد کے واقعات اورحالات کو اس طرح سے سنبھالا کہ پوری کائنات کے لئے امام حسین  علیہ السلام اور ان کے مشن کی حقانیت واضح کردی۔

    حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت  اور کمالات

    حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کي عظمت کے لئے يهي کافي تھا کہ انھيں خالق حکيم نے علم لدني ودانش وہبي سے سرفراز فرمايا تھا ۔زينب ايک فردنهيں بلکہ اپنے مقدس وجود ميں ايک عظيم کائنات سميٹے هوئے هيں ايک ايسي عظيم کائنات جس ميں عقل و شعور کي شمعيں اپني مقدس کرنوں سے کاشانہ انسانيت کے دروبام کو روشن کئے هوئے هيں اور جس کے مينار عظمت پر کردار سازي کا پر چم لہراتا هوا نظر آتا هے زينب کے مقدس وجود ميں دنيائے بشريت کي تمام عظمتيں اور پاکيز ہ رفعتيں سمٹ کر اپنے آثار نماياں کرتي هوئي نظر آتي هيں زينب کا دوسري عام خواتين  پر قياس کرنا يقينا ناانصافي هے ۔

    حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے کربلا کي سرزمين پر کسب کمال ميں وہ مقام حاصل کيا جس کي سرحديں دائرہ امکان ميں آنے والے ہر کمال سے آگے نکل گئيں اور زينب کي شخصيت تاريخ بشريت کي کردار ساز ہستيوں ميں ايک عظيم و منفرد مثال بن گئي ہم فضيلتوں کمالات اور امتيازي خصوصيات کي دنيا پر نظر ڈالتے هيں تو زينب کي نظير ہميں کهيں نظر نهيں آتي اور اس کي وجہ يهي هے کہ زينب اپنے وجود ميں ايک عظيم کائنات سميٹے هوئے جس کي مثال عام خواتين ميں نهيں مل سکتي هے اور يہ بات يہ ايک مسلم حقيقت هے کہ انساني صفات کو جس زاو يے پر پرکھا جائے زينب کا نام اپني امتيازي خصوصيت کے ساتھ سامنے آتا هے جس ميں وجود انساني کے ممکنہ پہلوؤں کي خوبصورت تصوير اپني معنوي قدروں کے ساتھ نماياں دکھا ئي ديتي هے۔

    کائنات کي سب سے محکم و مقدس شخصيتوں کے درميان پرورش پانے والي خاتون کتني محکم و مقدس هوگي اس کا علم و تقويٰ کتنا بلندو بالا هوگا يهي وجہ هے کہ روايت کاجملہ هيں کہ آپ عالمہ غير معلمہ هيں آپ جب تک مدينہ ميں رهيں آپ کے علم کا چر چہ هو تا رہا اور جب آپ مدينہ سے کوفہ تشريف لائيں تو کوفہ کي عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں سے کہا کہ تم علي سے درخواست کرو کہ آپ مردوں کي تعليم و تربيت کے لئے کافي هيں ليکن ہماري عورتوں نے يہ خواہش ظاہر کي هے کہ اگر هو سکے تو آپ اپني بيٹي زينب سے کہہ ديں کہ ہم لوگ جاہل نہ رہ سکيں ايک روز کوفہ کي اہل ايمان خواتين رسول زادي کي خدمت ميں جمع هو گئيں اور ان سے درخواست کي کہ انھيں معارف الٰهيہ سے مستفيض فرمائيں زينب نے مستورات کوفہ کے لئے درس تفسير قرآن شروع کيا اور چند دنوں ميں هي خواتين کي کثير تعداد علوم الٰهي سے فيضياب هونے لگي آپ روز بہ روز قرآن مجيد کي تفسير بيان کر تي تھيں اور روزبہ روز تفسير قرآن کے درس ميں خواتين کي تعداد ميں کثرت هو رهي تھي درس تفسير قرآن عروج پر پہنچ رہا تھااور ساتھ هي کوفہ ميں آپ کے علم کا چرچہ روز بروز ہر مردو زن کي زبان پر تھااور ہر گھر ميں آپ کے علم کي تعريفيں هو رهي تھيں اور لوگ علي علیہ السلام  کي خدمت ميں حاضر هو کر آپ کي بيٹي کے علم کي تعريفيں کيا کرتے تھے يہ اس کي بيٹي کي تعريفيں هو رهي هے جس کا باپ ”راسخون في العلم “ جس کا باپ باب شہر علم هے جس کا باپ استاد ملائکہ هے ۔

    حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی وفات

    تاریخی شواہد کے مطابق حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا  ۱۵ رجب سن ۶۳ ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئی ہیں۔ اور  آپ کے مدفن کے بارے میں  احتمال قوی کے مطابق آپ کی قبر شام میں واقع ہے۔