سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2020/7/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر

    شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام 

    امام صادق علیہ السلام کا مقام

    امام جعفرصادق علیہ السلام مقام ومنزلت  ،  شان و شوکت اور عظمت  کے اعتبار سے  جامع شخصیت کے مالک تھے۔آپؑ  کی زندگی کے جس گوشے سے متعلق بات کی جائے بےنظیر و بے مثال ہے کہیں آپ کی علم کے چرچے ہیں تو کہیں آپ کی سخاوت کا ذکر عام ہے آپ کی صدق اللسانی کی بنیاد پر آپ کو صادق کہا گیا۔ آپ کا عفو و درگزر قابل ستائش ہے ۔ آپ میدان تقویٰ و زہد کے شہسوار ہیں تو میدان مناظرہ و دلیل کے شہنشاہ۔ غرض زندگی کےہر پہلو پر آپ نمایاں نظر آتےہیں۔

    امام ؑ  کی علمی عظمت اور شان و شوکت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ ابوالاسود کہتے ہیں کہ میں نے مسجد نبوی میں جعفر بن محمد (ع) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’’مجھ سے پوچھ لو، پوچھ لو، قبل اس کے کہ مجھ کو کھو دو۔ کیونکہ میرے بعد تمہیں میری طرح حدیث رسول (ص) بیان کرنے والا نہیں ملے گا۔‘‘ مرکز علم مدینہ منورہ میں بیٹھ کر سلونی سلونی کا دعویٰ کرنا آسان بات نہیں ہے۔ یہ دعویٰ یا تو آپ کے دادا علی مرتضیٰ علیہ اسلام نے کیا تھا یا آپ نے کیا۔

    امامؑ   مشکلات اور سختیوں سے دچار

    امام صادق علیہ السلام بہت سختیوں سے دچار تھے، یہانتک کہ امام کو شرعی مسئلہ بتانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔  ایسی شخصیت جو ایک مذہب کے رئیس ہیں اور کبھی آپ کے پاس چار ہزار شاگرد ہوتے ہیں وہ بھی مختلف علوم میں، لیکن آپ پر ایسا وقت بھی آ جاتا ہے جو یہ نہیں بتا سکتے کہ ایک ہی محفل میں تین طلاقیں دینا، ایک طلاق ہوتی ہے۔

     اس مسئلے کو بیان کرنے کا حق نہیں ہے۔ کیونکہ بعض لوگوں کی طاقت اس چیز کی متحمل نہیں ہے۔یہ  روایت روضہ کافی میں موجود ہےکہ  ایک شخص امام صادق علیہ السلام کے پاس آیا اور اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ آپ کے پاس بنی عباس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ اس سے پوچھ لو۔ اس نے تعبیر بتائی، وہ شخص جواب لے کر باہر چلا گیا لیکن دوبارہ واپس پلٹ آیا، جب تعبیر بتانے والا شخص چلا گیا تو اس نے عرض کی کہ میں نے آپ سے تعبیر پوچھی تھی، آپ نے اس کے حوالے کر دیا اور اس شخص کی، بتائی ہوئی تعبیر کی تأئید بھی کر دی! جواب میں امام نے فرمایا ۔ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ہم کتنی سختیوں میں ہیں ۔

    امام صادق علیہ السلام کی شہادت

    آنحضرت بنی امیہ کی حکومت کے اواخر اور بنی عباسی حکومت کے اوائل میں زندگی کر رہے تھے اور بنی امیہ کے خلاف عوامی بغاوت اور بنی عباس کا لوگوں کے ساتھ مذھبی احساسات کے ساتھ استحصال کرکے اور لوگوں سے " الرضا من آل محمد ﷺ" کے عنوان سے بیعت لے کر حکومت پر قابض ہونے کا نزدیک سے مشاہدہ کررہے تھے اور ان حالات میں شیعوں اور محبان ا ہل بیت ؑکی امامت کے سنگین کام کو انجام دیتے رہے ۔

    آخر کار 65 سال کی عمر میں منصور دوانقی کی طرف سے مسموم ہوئے جس سے آنحضرت کی شہادت واقع ہوئی ۔ آپ کی شہادت کی تاریخ کے بارے میں دو قول نقل ہوئے ہیں ۔ بعض نے 15 رجب سن 148 ھ  اور بعض نے 25 شوال سن 148 بیان کیا ہے اور مشہور شیعہ مؤرخوں اور سیرہ نویسوں کے نزدیک دوسرا قول یعنی 25 شوال ہی معتبر ہے ۔

    آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام موسی کاظم ؑنے بھائیوں اور افراد خاندان کے ہمراہ آنحضرت کے غسل و کفن کے بعد بقیع میں دفن کیا ۔