سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2020/10/26 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1442ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 29صفر المظفر(1442ھ)شہادت حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے موقع
  • 20صفر المظفر(1442ھ)امام حسین علیہ السلام اوران کےاعزہ ؤ اصحاب کاچہلم
  • 25محرم (1442ھ)شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی (1441ھ)ولادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی (1441ھ)شہادت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول (1441ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1441ھ)حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی (1441ھ) ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر

    شہادت  حضرت امام محمدتقی علیہ السلام  


    نویں امام اور آسمان عصمت و طہارت کے گیارھویں درخشاں ستارے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام  220 ہجری قمری کو حکام وقت کے جور و ستم کے تحت شہید ہوگئے اور امامت کی سنگین ذمہ داری آپ کے فرزند حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے کندھوں پر آن پڑی۔

    حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کو کمسنی ہی میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہوجانا پڑا آپ کو بہت کم ہی اطمینان اورسکون کے لمحات میں باپ کی محبت ، شفقت اورتربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکا۔

    اہل دنیا کو جو کہ آپ کی بلندی نفس کا پورا اندازہ نہ رکھتے تھے ، یہ تصور ضرور ہوتا تھا کہ ایک کمسن بچے کا عظیم الشان مسلمان سلطنت کے شہنشاہ کا داماد ہوجانا یقیناً اس کے چال ڈھال اورطور طریقے کو بدل دے گا اور اس کی زندگی دوسرے سانچے میں ڈھل جائے گی۔

    بنی امیہ یابنی عباس کے بادشاہوں کا آل رسول کی ذات سے اتنا اختلاف نہ تھا کہ جتنا ان کے صفات سے ۔ وہ ہمیشہ اس کے درپے رہتے تھے کہ بلندی اخلاق اور معراج انسانیت کا وہ مرکز جو مدینہ میں قائم ہے اور جو سلطنت کے مادی اقتدار کے مقابلے میں ایک مثالی روحانیت کا مرکز بنا ہوا ہے ، کسی طرح ٹوٹ جائے اسی کے لئے گھبرا گھبرا کر وہ مختلف تدبیریں کرتے تھے۔

    امام حسین علیہ السّلام سے بیعت طلب کرنا اسی کی ایک شکل تھی اورپھر امام رضا علیہ السّلام کو ولی عھد بنانا اسی کا دوسرا طریقہ , فقط ظاہری شکل وصورت میں ایک کا اندازہ معاندانہ اور دوسرے کا طریقہ ارادت مندی کے روپ میں تھا مگر اصل حقیقت دونوں صورتوں میں ایک تھی۔

     جس طرح امام حسین علیہ السّلام نے بیعت نہ کی تو وہ شہید کر ڈالے گئے , اسی طرح امام رضا علیہ السّلام ولی عھد ہونے کے باوجود حکومت کے مادی مقاصد کے ساتھ ساتھ نہ چل سکے تو آپ کو زھر کے ذریعے سے ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا گیا ۔

     اب مامون کے نقطہ نظر سے یہ موقع انتھائی قیمتی تھا کہ امام رضا علیہ السّلام کا جانشین تقریباً آٹھ برس کابچہ ہے جو تین برس پہلے باپ سے چھڑا لیاجاچکا تھا، حکومت وقت کی سیاسی سوجہ بوجہ کہہ رہی تھی کہ اس بچے کو اپنے طریقے پر لانا نہایت آسان ہے اوراس کے بعد وہ مرکز جو حکومت وقت کے خلاف ساکن اورخاموش مگر انتھائی خطرناک قائم ہے ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔

    مامون نے چونکہ تمام بنی عباس کی مخالفتوں کے بعد بھی اپنی لڑکی کا نکاح امام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ کردیا تھا درحقیقت مامون یہ چاہتا تھا کہ اس  کےذریعے سے امام علیہ السلام کو گھر کے اندر اور گھر کے باہر نظر بند رکھے تاکہ آپ پر پورا کنٹرول کرسکے۔

    ایک عرصہ تک امام بغداد میں تشریف فرما رہے، پھر مامون کی اجازت سے مدینہ چلے گئے اور مامون کے آخری عہد تک مدینہ میں ہی قیام پذیر رہے۔

    امام علیہ السلام  کی شہادت

    مامون کی وفات پر معتصم باللہ نے حکومت سنبھالی تو امام نہم کو دوبارہ مدینہ سے بغداد بلایا گیا اس کے بعد ان پر پابندی عائد کردی گئی   مدینہ رسول سے فرزند رسول کو طلب کرنے کی غرض چونکہ نیک نیتی پرمبنی نہ تھی،اس لیے عظیم شرف کے باوجود آپ حکومت وقت کی کسی رعایت کے قابل نہیں متصور ہوئے معتصم نے بغداد بلوا کرآپ کوقید کر دیا۔

    ایک سال تک آپ نے قید کی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اورآپ کوخدا نے یہ شرف کیوں عطا فرمایا ہے بعض علماء کا  کہنا ہے کہ آپ پراس قدرسختیاں تھیں اوراتنی کڑی نگرانی اورنظربندی تھی کہ آپ اکثراپنی زندگی سے بیزارہوجاتے تھے اور آخر کار وہ وقت آ گیا کہ آپ صرف ۲۵/ سال  کی عمرمیں  معتصم باللہ کے حکم  سے امام علیہ السلام کی بیوی کے ذریعے آپ کو زہر دلوا کر شہید کر دیا گیا آپ کو اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم  کے پاس کاظمین میں دفن ہوئے۔