سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2021/1/23 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 10ربیع الثانی (1442ھ) وفات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 8ربیع الثانی (1442ھ)ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17 ربیع الاول (1442ھ)ولادت با سعادت صادقین علیہما السلام کے موقع پر
  • 8ربیع الاول(1442ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 29صفر المظفر(1442ھ)شہادت حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے موقع
  • 20صفر المظفر(1442ھ)امام حسین علیہ السلام اوران کےاعزہ ؤ اصحاب کاچہلم
  • 25محرم (1442ھ)شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پر
  • 25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1441ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان المعظم(1441ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 25رجب (1441ھ) شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رجب (1441ھ)وفات حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 13رجب (1441ھ) ولادت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • یکم رجب (1441ھ) ولادت حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر

    ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا  

    حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نواسی تھیں۔ 5 جمادی الاول 6ہجری  کو مدینہ میں پیدا ہوئیں۔

    حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو حضرت محمد(ص)کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کے نانا حضرت محمد(ص)کا انتقال ہو گیا، اس کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا بھی انتقال فرما گئیں ۔

    حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی شادی حضرت عبداللہ بن جعفر طیار علیہ السلام سے ہوئی ۔ ان کے پانچ بچے ہوئے جن میں سے حضرت عون اور حضرت محمد کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہو گئے ۔

    آپ کے القاب:

    آپ کو ام کلثوم کبریٰ، صدیقہ صغریٰ، محدثہ، عالمہ، فہیمہ کے القاب دئے گئے۔ آپ ایک عابدہ، زاہدہ، عارفہ، خطیبہ اور عفیفہ خاتون تھیں۔ نبوی نسب اور علوی و فاطمی تربیت نے آپ کی شخصیت کو کمال کی اس منزل پر پہنچا دیا کہ آپ ’’ عقیلہ بنی ہاشم‘‘ کے نام سے معروف ہو گئیں۔

    نامگذاری کے مراسم:

    حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے بعد آپ کے والدین نے نامگذاری کی ذمہ داری کو آپ کے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر چھوڑ دیا۔ پیغمبر اکرم(ص) ان دنوں میں سفر پر تھے۔ سفر سے لوٹنے کے بعد ولادت کی خبر سنتے ہی اپنی لخت جگر فاطمہ زہرا(س) کے گھر تشریف لائے۔ نومولود کو اپنی آغوش میں لیا بوسہ کیا کہ اتنے میں جبرئیل نازل ہو گئے اور زینب(زین+اب) نام کو اس نومولود کے لیے انتخاب کیا۔

    آپ عفت و حیا کی پیکر:

    ہم یہاں پر صرف آپ کے عفت، پاکدامنی ، حیا اور شرافت کے صرف چند گوشوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان خواتین کے لیےتربیت کے میدان میں بے بہا گوہر ہیں جو آپ کی غلامی کا دم بھرتی ہیں اور آپ کے پیروکار ہونے پر فخر محسوس کرتی ہیں۔

    جناب زینب  سلام اللہ علیہا خانہ وحی میں معصوم ماں باپ سے دنیا میں آئیں اورنبوت کی آغوش اور امامت و ولایت کے گہوارے میں نشو نما پائی۔ اور ایسی ماں کا دودھ پیا جو کائنات میں بے مثل و نظیر ہے۔ تو ایسی بیٹی جس نے ایسے ماحول میں تربیت حاصل کی ہو جس نے ایسی فضا میں پرورش پائی ہو اس کی شرافت و کرامت اور عفت و حیا کا کیا مقام ہو گا؟ 
    ’’
    یحیی مازنی‘‘ ایک بزرگ عالم دین اور راوی حدیث نقل کرتے ہیں: کئی سال میں نے مدینہ میں حضرت علی علیہ السلام کے جوار میں ایک ہی محلہ میں زندگی گزاری۔ میرا گھر اس گھر کے قریب تھا جہاں حضرت زینب بن علی علیہما السلام رہتے تھے حتی ایک بار بھی کسی نے حضرت زینب کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے ان کی آواز سنی۔ وہ جب اپنے نانا کی زیارت کو جاتی تھیں تورات کا انتخاب کرتی تھیں رات کے عالم میں نانا کی قبر پر جایا کرتی تھیں اور اپنے بابا علی اور بھائی حسن و حسین علیہم السلام کے حصار میں گھر سے نکلتی تھیں۔ جب آپ رسول خدا(ص) کی قبر مبارک کے پاس پہنچتی تھیں تو امیر المومنین علی علیہ السلام  قبر کے اطرف میں جلنے والے چراغوں کو گل کر دیا کرتے تھے۔

     ایک دن امام حسن علیہ السلام نے اس کام کی وجہ پوچھ لی تو حضرت نے فرمایا: اَخْشي اَنْ يَنْظُرَ اَحَدٌ اِلي شَخْصِ اُخْتِكَ زَيْنَبَ" میں ڈرتا ہوں کہ میری بیٹی زینب پر کسی نہ نگاہ نہ پڑ جائے۔

    عفت اور پاکدامنی خواتین کے لیے سب سے زیادہ قیمتی گوہر ہے۔ جناب زینب (س) ایک طرف سے درس عفت کو مکتب علی (ع) سے حاصل کیا کہ فرمایا: مَا الْمُجاهِدُ الشَّهيدُ في سَبيلِ اللّه‏ِ بِاَعْظَمَ اَجْرا مِمَّنْ قَدَرَ فَعَفَّ يَكادُ الْعَفيفُ اَنْ يَكُونَ مَلَكا مِنَ الْمَلائِكَةِ " راہ خدا میں شہید مجاہد کا ثواب اس شخص سے زیادہ نہیں ہے جو قادر ہونے کے بعد عفت اور حیا سے کام لیتا ہے قریب ہے کہ عفت دار شخص فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔

    اور دوسری طرف سے خود جناب زینب (س) کی ذاتی شرم و حیا اس بات کی متقاضی تھی کہ آپ عفت اور پاکدامنی کے بلند ترین مقام پر فائز ہوں۔ اس لیے کہ حیا کا بہترین ثمرہ عفت اور پاکدامنی ہے۔ جیساکہ علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: سَبَبُ العِفَّةِ اَلْحَيا" عفت اور پاکدامنی کا سبب حیا ہے۔

    اور دوسری جگہ فرمایا: عَلي قَدْرِ الحَياءِ تَكُونُ العفَّة"جتنی انسان میں حیا ہو گی اتنی اس میں عفت اور پاکدامنی ہو گی۔
    جناب زینب (س) کی خاندانی تربیت اور ذاتی حیا اس بات کا باعث بنی کہ آپ نے سخترین شرائط میں بھی عفت اور پاکدامنی کا دامن نہیں چھوڑا۔ کربلا سے شام تک کا سفر میں جو آپ کے لیے سب سے زیادہ سخت مرحلہ تھا آپ نے عفت و پاکدامنی کی ایسی جلوہ نمائی کی تاریخ دھنگ رہ گئی۔ مورخین لکھتے ہیں: وَهِيَ تَسْتُرُ وَجْهَها بِكَفِّها لاِنَّ قِناعَها اُخِذَ مِنْها "آپ اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھپایا کرتی تھیں چونکہ آپ کی روسری کو چھین لیا گیا تھا۔

    یہ آپ کی شرم و حیا کی دلیل ہے کہ آپ نے اپنے بھائی کے قاتل شمر جیسے ملعون کو بلا کر یہ کہنا گوارا کر لیا کہ اگر ممکن ہو تو ہمیں اس دروازے سے شام میں داخل کرنا جس میں لوگوں کا ہجوم کم ہو۔ اور شہدا کے سروں کو خواتین سے دور آگے لے جاو تاکہ لوگ انہیں دیکھنے میں مشغول رہیں اور ہمارے اوپر ان کی نگاہیں نہ پڑیں۔ لیکن اس ملعون نے ایک بھی نہ سنی اور سب سے زیادہ ہجوم والے دروازے سے لے کر گیا۔