سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2021/4/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15شعبان(1442ھ)ولادت حضرت امام مہدی (عجل اللہ فرجہ) کے موقع پر
  • 11شعبان(1442ھ)ولادت باسعادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کے موقع پر
  • 4شعبان (1442ھ)ولادت باسعادت حضرت عباس علیہ السلام کے موقع پر
  • 3شعبان المعظم(1442ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1442ھ)عید سعید مبعث ، عالم بشریت کی نجات کا دن
  • 25رجب المرجب(1442ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب(1442ھ)ولادت حضرت امام علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1442ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 10ربیع الثانی (1442ھ) وفات حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • 8ربیع الثانی (1442ھ)ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 17 ربیع الاول (1442ھ)ولادت با سعادت صادقین علیہما السلام کے موقع پر
  • 8ربیع الاول(1442ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 29صفر المظفر(1442ھ)شہادت حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے موقع
  • 20صفر المظفر(1442ھ)امام حسین علیہ السلام اوران کےاعزہ ؤ اصحاب کاچہلم
  • 25محرم (1442ھ)شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پر
  • 11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    3شعبان المعظم(1442ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر


    ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام

    تین شعبان المعظم سنہ 4 ہجری کو رسول اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیارے نواسے امام حسین علیہ السلام کے نور وجود سے " مدینۃ النبی " کے بام و در روشن و منور ہوگئے ۔

    شبلنجی لکھتے ہیں کہ ولادت کے بعد سرور کائناتؐ  نے امام حسین کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور اپنی زبان ان کے منہ میں دے کر بڑی دیرتک چسایا، اس کے بعد داہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی، پھردعائے  خیرفرما کر حسین نام رکھا  ۔

    رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام رکھا
    روایات میں آیا ہےکہ سبطین علیہما السلام کے اسماء مبارکہ کا انتخاب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے اور یہ نام خدا کے حکم سے رکھے گئے ہیں۔
    حضرت علی  علیہ السلام  سے روایت ہےکہ آپ نے فرمایا جب حسن کی ولادت ہوئي تو میں نے اس کا نام اپنے عم محترم حمزہ کے نام پر رکھا اورجب حسین پیداہوئے تو اس کانام اپنے دوسرے چچا جعفر کے نام پر رکھا ایک دن رسول اکرم نے مجھے طلب فرمایا اور کہا مجھےخدانے حکم دیا ہےکہ ان دونوں بچوں کے نام بدل دوں اور آج سے ان کے نام حسن وحسین ہونگے ۔

    آپؑ کی تربیت

     وہ جگہ کہ جہاں انسان رشد کرتا ہے خصوصا خاندان، ماں، باپ اور ماحول انسان کی شخصیت کی تعمیر اور تباہی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں امام حسین(ع) اپنی خاندانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ پیغمبر اکرم ﷺ کے زیر تربیت رہنے اور حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی گود میں پلنے، بڑھنے کو بھی اپنی عزت کے عامل کے طور پر پیش کرتے ہیں

    امام حسین (ع) یزید کے بارے میں فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں" آگاہ رہو کہ اس زنا زادہ کے بیٹے زنا زادے نے مجھے ایک ایسے دو راہے پہ لا کھڑا کیا ہے کہ جن میں سے ایک قتل اور دوسرا ذلت کا راستہ ہے ہم سے کوسوں دور ہے کہ ذلت و رسوائی کو قبول کریں خدا وند متعال، پیغمبر اکرم ﷺ اور مؤمنین اس بات پر ناخوش ہیں کہ ہم ذلت کو قبول کریں۔

    ماؤں کی پاک آغوش اور اباء و اجداد کے باغیرت اور شریف صلب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ قتل ہونےء کی بجائے گھٹیا لوگوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں"۔

     

    سخاوت و تواضع
    ایک دن حضرت امام حسین  علیہ السلام  نے دیکھا کہ کئي بچے ملکر روٹی کا ایک ٹکڑا مل بانٹ کرکھارہے ہیں ان بچون نے امام سے بھی درخواست کی کہ آپ بھی اس روٹی میں سے تناول فرمائيں آپ نے بچوں کی بات مان لی اور ان کی روٹی کے ٹکڑے میں سے تناول فرمایا اس کے بعد ان سب کو اپنے گھر لے کرآے انہیں کھانا کھلایا اور نئے کپڑے پہنائے اس کے بعد آپ نے فرمایا یہ مجھ سے زیادہ سخی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے داروندار کی بخشش کردی تھی لیکن میں نے اپنے مال میں سے کچھ حصہ انہیں دیا ہے ۔

    جودو شجاعت
    زینب بنت ابورافع نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سخت رنجور ومتالم تھیں اور ہروقت گریہ و زاری کیا کرتی تھیں ایک دن آپ نے حسن وحسین کا ہاتھ تھاما اور اپنے باباکی قبر پر آئيں اور شدید گریہ کیا آپ نے عرض کیا اے بابا ان بچوں کے لئے وارثت میں کیا چھوڑگئے ہیں؟
    قبر رسول اللہ سے صدا آئي میں نے حسن کے لئے اپنی ہیبت اور حسین کے لئے جرات و جود چھوڑا ہے ۔یہ سن کر شہزادی کونین نے کہا بابا میں اس عطا پر راضی اور خوش ہوں ۔