سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2021/9/18 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • مرحوم آيت الله السيد عادل العلوي (قدس سرہ) کی چھلم کے موقع پر
  • رحلت جانسوز حضرت آيت الله السيد عادل العلوي(رہ )کے موقع پر
  • 18ذی الحجہ (1442ھ)حضرت علی علیہ السلام کی تاج پوشی کے موقع پر
  • 15ذی الحجہ(1442ھ)ولادت حضرت امام ہادی علیہ السلام کے موقع پر
  • 7ذی الحجہ (1442ھ)شہادت حضرت امام باقر علیہ السلام کے موقع پر
  • 11ذی القعد (1442ھ)ولادت حضرت امام رضا علیہ السلام کے موقع پر
  • 25شوال (1442ھ) شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کے موقع پر
  • 21رمضان(1442ھ)شہادت حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے موقع پر
  • 15رمضان(1442ھ)ولادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پر
  • 15شعبان(1442ھ)ولادت حضرت امام مہدی (عجل اللہ فرجہ) کے موقع پر
  • 11شعبان(1442ھ)ولادت باسعادت حضرت علی اکبرعلیہ السلام کے موقع پر
  • 4شعبان (1442ھ)ولادت باسعادت حضرت عباس علیہ السلام کے موقع پر
  • 3شعبان المعظم(1442ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1442ھ)عید سعید مبعث ، عالم بشریت کی نجات کا دن
  • 25رجب المرجب(1442ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب(1442ھ)ولادت حضرت امام علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب (1442ھ) ولادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 20جمادی الثانی(1442ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 3جمادی الثانی(1442ھ)شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 5جمادی الاول(1442ھ)ولادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    11ذی القعد (1442ھ)ولادت حضرت امام رضا علیہ السلام کے موقع پر

    ولادت حضرت  امام رضا  علیہ السلام

    حضرت امام رضاعلیہ السلام سلسلہ امامت كی آٹھویں اورسلسلہ عصمت كی دسویں كڑی ہیں ۔ آپ کانام علی علیہ السّلام ، آپ کے القاب صابر، زکی، ولی، رضی، وصی تھے اورمشہور ترین لقب رضا تھااور کنیت ابوالحسن ، والد بزرگوار حضرت امام موسی ٰکاظم علیہ السّلام تھے والدہ گرامی کی کنیت ام البنین اور لقب طاہرہ تھا ، نہایت عبادت گزار بی بی تھیں۔

    ولادت

     11ذی القعد 841ھ کومدینہ منورہ میں پیداہوئےاس کے تقریباً ایک ماہ قبل 51شوال کو آپ کے جدِ بزرگوار امام جعفر صادق علیہ السّلام کی وفات ہوچکی تھی اتنے عظیم حادثہ مصیبت کے بعد جلد ہی اس مقدس مولود کے دنیا میں آجانے سے یقینًاگھرانے میں ایک سکون اور تسلی محسوس کی گئی۔ آپ کی نشوونمااورتربیت اپنے والدبزرگوارحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیرسایہ ہوئی اوراسی مقدس ماحول میں بچپنااورجوانی کی متعددمنزلیں طے ہوئیں اور ۳۰ برس کی عمرپوری ہوئی اگرچہ آخری چندسال اس مدت کے وہ تھے جب امام موسی کاظم علیہ السلام عراق میں قید اورظلم کی سختیاں برداشت کررہے تھے مگراس سے پہلے 24 یا 25 برس آپ کو اپنے پدربزرگوار کے ساتھ  رہنے کاموقع ملا۔

    علمی کمالات

    آلِ محمد علیہ السّلام کے اس سلسلہ میں ہر فرد احادیث کی طرف سے بلند ترین علم کے درجہ پر قرار دیا گیا تھا جسے دوست اور دشمن سب کو ماننا پڑتا تھا , یہ اور بات ہے کہ کسی کو علمی فیوض کوپھیلانے کا موقعہ کم ملااور کسی کو زیادہ , چنانچہ ان حضرات میں سےحضرت امام جعفرصادق علیہ السّلام کے بعد اگر کسی کو موقع حاصل ہے تو وہ امام رضا علیہ السلام ہیں ۔ جب آپ امامت کے منصب پر نہیں پہنچے تھے اس وقت حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام اپنے تمام فرزندوں اور خاندان کے لوگوں کونصیحت فرماتے تھے کہ تمھارے بھائی علی رضا علیہ السّلام عالمِ آلِ محمد ہیں ۔ اپنے دینی مسائل کو ان سے دریافت کرلیا کرو اور جو کچھ وہ کہیں اسے یاد رکھو اور پھر حضرت موسیٰ کاظم علیہ السّلام کی وفات کے بعد جب آپ مدینہ میں تھے اور روضئہ رسول پر تشریف فرما تھے تو علمائے اسلام مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے تھے-

    اخلاق واوصاف

    حضرت امام رضا علیہ السّلام کا اس سلطنت کی ولی عہدی پر فائز ہونا دنیا کے سامنے ایک نمونہ تھا کہ دین والے اگر دنیا کو پاجائیں تو ان کارویہ کیا ہوگا , یہاں امام رضا علیہ السّلام کو اپنی دینی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ضرورت تھی کہ زہد اور ترک دنیا کے مظاہرے اتنے ہی نمایاں تربنادیں جتنے شان شوکت کے دینی تقاضے زیادہ ہیں۔

     چنانچہ تاریخ نے اپنے کو دہرایا اور وہ علی رضا علیہ السّلام کے لباس میں علی المرتضی علیہ السّلام کی سیرت دنیا کی نگاہوں کے سامنے آگئی ۔آپ نے اپنی دولت سرا میں قیمتی قالین بچھوانا پسند نہیں کیے بلکہ جاڑے میں بالوں کا کمبل اور گرمی میں چٹائی کا فرش ہوا کرتا تھا , کھانا سامنے لایا جاتا تو دربان سائیس اور تمام غلاموں کو بلا کر اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرماتے تھے . ایک بلخی شخص نے ایک دن کہہ دیا کہ حضور اگر ان لوگوں کے کھانے کا انتظام الگ ہوجایا کرے تو کیا حرج ہے؟ امام علیہ السّلام نے فرمایا :خالق سب کاالله ہے ، ماں سب کی حواّ اور باپ سب کے آدم علیہ السّلام ہیں . جزاوسزا ہر ایک کی اس کے عمل کے مطابق ہوگی , پھر دُنیا میں تفرقہ کس لیے ہو۔

    اسی عباسی سلطنت کے ماحول کا ایک جزوبن کرجہاں صرف پیغمبر کی طرف ایک قرابتداری کی نسبت کے سبب اپنے کو خلق  خدا پر حکمرانی کاحقدار بنایا جاتا تھا اور اس کے ساتھ کبھی اپنے اعمال وافعال پر نظر نہ کی جاتی تھی کہ ہم کیسے ہیں اور ہم کو کیا کرنا چاہیے . یہاں تک کہ یہ کہاجانے لگاکہ بنی عباس ظلم وستم اور فسق وفجور میں بنی امیہ سے کم نہ رہے بلکہ بعض باتوں میں ان سے آگے بڑھ گئے اور اس کے ساتھ پھر بھی قرابتِ رسول پر افتخار تھا اس ماحول کے اندر داخل ہو کرامام رضا علیہ السّلام کا اس بات پر بڑا زور دینا کہ قرابت کوئی چیز نہیں اصل انسان کا عمل ہے بظاہر صرف ایک شخص کا اظہار فروتنی اور انکسار نفس تھا جو بہرحال ایک اچھی صفت ہے لیکن حقیقت میں وہ اس سے بڑھ کر تقریباً ایک صدی کی عباسی سلطنت کی پیدا کی ہوئی ذہنیت کے خلاف اسلامی نظریہ کااعلان تھااور اس حیثیت سے بڑا اہم ہوگیا تھا کہ وہ اب اسی سلطنت کے ایک رکن کی طرف سے ہورہا تھا . چنانچہ امام رضا علیہ السّلام کی سیرت میں اس کے مختلف شواہد ہیں , ایک شخص نے حضرت علیہ السّلام کی خدمت میں عرض کی ۔کہ خدا کی قسم آباؤاجداد کے اعتبار سے کوئی شخص آپ سے افضل نہیں ، حضرت علیہ السّلام نے فرمایا : میرے آباواجداد کو جو شرف حاصل ہوا ہے وہ صرف تقویٰ , پرہیز گاری اوراطاعتِ خداکی وجہ سے ہے۔