سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/5/26 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 3 رجب المرجب (1440ھ) شہادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۰جمادی الثانی(۱۴۴۰ھ)ولادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقع پر
  • 10ربیع الثانی(1440ھ)حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کی وفات کےموقع پر
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    بمناسبت وفات جناب ام البنين (س)

    بمناسبت وفات جناب ام البنين (س)

    جناب ام البنين، والد كي طرف سے بهي اور والده- ثمانہ بنت سہيل بن عامر- كي طرف سے بهي نجيب و اصيل تهيں- فاطمہ زهراء (ع) كي وفات كے بعد، حضرت علي (ع) كے حبالہ نكاح ميں آئيں- ام البنين نے حضرت علي (ع) كے علاوه كسي دوسرے سے شادي نہيں كي-

    علم و فضل والي عورت تهي- اہل بيت كي عظمت كا عرفان ركهتي تهيں، انہيں دل سے چاہتي تهيں- حضرت علي (ع) كے گهر آئيں تو اس وقت امام حسن (ع) و امام حسين (ع) بيمار تهے- آپ نے ايك شفيق ماں كي مانند ان كي تيمار داري كي اور راتوں كو ان كے پاس بيدار رہكر گذار ديا-

    آپ سے چار بيٹے عباس، جنہيں قمر بني هاشم كہا جاتا تها، عبدالله، جعفر اور عثمان ہيں- رسول (ص) كے فداكار صحابي عثمان بن مظعون كے ہمنام تهے- ان چاروں بيٹوں كي وجہ سے آپ كو ام البنين كہا جاتا تها-

    ان كي استقامت كے بارے ميں اتنا ہي كافي ہے كہ جب انہيں يہ بتايا گيا كہ چاروں بيٹے كربلا ميں شہيد ہو گئے، تو انہوں نے كہا : پہلے مجهے حسين (ع) كے بارے ميں خبر دو- ناقل نے انہيں ان كے بيٹوں كي شہادت كي خبر ترتيب وار سنائي، يہاں تك كہ نام عباس ليا تو خبر سنانے والے سے كہا: ميرے دل كے ٹكڑے كردئے – ميرے چار بيٹے تهے، ميں نے سب كو حسين (ع) بچے جاتے – حسين (ع) سے ان كي يہ محبت، ان كے خلوص، ايمان اور راسخ عقيده كا ثبوت ہے-

    اس دردناك حادثہ كے بعد مجلس عزا بر پا كي، جس ميں بني هاشم كي تمام عورتوں، نے شركت كي اور شہداء كربلا كا غم منايا گيا- ام سلمہ نے روتے ہوئے كہا : خدا ان – بني اميہ- كي قبروں كو آگ سے بهر دے، انہوں نے كتنا بڑا ظلم كيا ہے؟

    ايك دفعہ مروان بن حكم بهي وهاں موجود تها- ام البنين نے كہا: " جس نے عباس كو دشمن كي فوج پر حملہ كرتے ہوئے ديكها ہے اور حيدر كے بيٹے شير دلوں كي طرح ان كے پيچهے تهے- ميں نے سنا ہے كہ ميرے بيٹے كے سر پر ضربت لگي اور ان كے بازو قلم كر دئے گئے- هائے افسوس! ميرا بيٹا اس ضربت كي وجہ سے گرا! عباس! اگر تمہارے هاته ميں تلوار ہوتي تو كسي ميں تمہارے نزديك آنے كي ہمت نہ ہوتي-"

    نيز كہا: " اب مجهے ام البنين نہ كہو! كيونكہ اس سے ميرے شير سے بچے ياد آتے ہيں- مجهے ان بيٹوں كي وجہ سے ام البنين كہا جاتا تها، ليكن آج ميں انہيں كهو چكي ہوں-

    ام البنين با اخلاص، فداكار اور فضيلتوں والي عورتوں کے درمیان ایک بہترین نمونہ تھیں۔