سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 17ربیع الاول (1441ھ) میلاد رسول خدا ﷺ اور امام صادق ؑ کے موقع پر
  • سالانہ پانچ روزہ انٹرنیشنل بک اسٹال کا آغاز
  • 8ربیع الاول (1441ھ) شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پر
  • 30صفر المظفر(1441ھ) شہادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کے موقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1441ھ) حضرت رسول اکرم ﷺ کی رحلت کے موقع پر
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    آٹھ شوال (یوم الھدم) وہابیوں کے ہاتھوں بقیع کے تخریب کادن

    آٹھ شوال (یوم الھدم) وہابیوں کے ہاتھوں بقیع کے تخریب کادن         

    کھبی آپ نے یوم الھدم کانام سناہے؟یوم الھدم یعنی ویران کرنے کادن۔۔۔۔۔۔

    آٹھ شوال 1344 ھجری قمری میں وہابیوں کو مکہ کےبعد عبدالعزیزبن سعودکی سرکردگی میں مدینہ لایاگیااورشہرمیں محاصرہ کرنے کےبعدجنگ ہوئی اورعثمانی مامورین کو شہر سے باہرکیاگیااورآئمہ طاہرین علیھم السلام کے قبور کےعلاوہ فرزند پیامبر (ص)ابراھیم اورآپ کی ازواج کے قبور ام البنین مادر حضرت اباالفضل العباس علیه السلام و قبرعبدالله والدبزرگوارپیامبرا ور اسماعیل فرزند امام صادق علیه السلام اوربہت سے قبروں کومنہدم کردیاگیا۔

    لیکن یہ ان کا پہلاحملہ نہیں تھا انہوں نے 1221 ھجری میں بھی ایک ہجوم لایا تھااورڈیرھ سال کے محاصرے کے بعدشہرپرقبضہ کیااوروہاں سے بہت سی قیمتی چیزوں کوحرم پیامبرصلی الله علیه و آله وسلم سے لوٹ لیااورقبرستان بقیع کو منہدم کردیا۔

    دوسرادردناک ترین حادثہ جو آٹھ شوال1344 ھجری کوپیش آیا۔اس کے وہابی عربستان کیساتھ مربوط ہوگئے اس سال سے مقدسات شیعہ کی توہین اورتحقیر کے فتوے  جاری کیں اوراهل‌بیت ‌پیامبر(صلی‌الله‌علیه‌و‌آله وسلم)کے قبورپروحشیانہ حملہ کیابقیع کے قبروں کوویران کردیا کوئی نشان تک باقی نہیں رکھا۔

    اس بارے میں (ایلدون رتر)نامی شخص کہتاہے مدینه‌ منوره میں مراقد مطهر ائمه(علیه‌السلام)اس دفعہ وہابیوں نے قبروں کی ظاہری شکل کوبھی مکمل ختم کردیا۔

    تاریخی شواہد کی بنیادپر یہ ثابت ہے ۔کہ وہابیان سعودی نے فقط تخریب قبوربقیع پراکتفانہیں کیابلکہ مرقد مطہر پیامبر(ص)کوبھی منہدم کردیااوراپنی اس ناپاک سازش سے بازنہ آئے۔

    "لویس پورخارت" نے اسلام قبول کرنے کےبعد اپنانام ابراہیم رکھا تھاوہ کہتاہے ۔جہاں پرائمہ طاہرینؑ اور صحابہ کرام دفن ہوئےیہاں کی اس زمین میں اوران قبروں میں ایک جزابیت پائی جاتی ہے ان قبورکی زیارت میں تاثیرہےجواپنی طرف جلب کرتی ہے۔

    پورخارت کوہ احد کے بارے میں بھی کہتاہے اس کوہ کے اندر جو مسجدتھی اس میں ، قبر حمزه، پیامبر (ص)کےچچااور دیگر شهدائےاحد اسی طرح«مصعب‌بن ‌عمیر»، «جعفربن شماس» و«عبدالله‌بن جحش»کے قبور ںظرآتے تھے وہابیوں نے بارہ شہدائےاحدکےتن اورصحابی رسول (ص)کومسجد کیساتھ منہدم کردیا۔

     تاریخ کے مطابق انہوں نے اس حملے میں جواہرات سے بھرے یاقوت ، الماس اور قیمتی پتھروں سے مزین چار صندوق اور تقریبا سو تلواریں جن کے غلافوں کو خالص سونے، الماس اور یاقوت سے مزین کئے ہوئے تھے ان سب کو ہڑپ کرلیا۔

    یہ بھی اسلامی مقدسات پر ان کا پہلا حملہ نہیں تھا ۔ وہابی مصنف اور مورخ صلاح الدین مختار  اپنی کتاب "تاریخ مملکۃ العربیۃ السعودیہ کما عرفت" میں کربلائے معلا پر وہابیوں کے حملے کے افتخار آفرین کارناموں کو شمار کرتے ہوئے لکھتا ہے: ۱۲۱۶ھ میں امیر سعود نے  نجد، حبوب، حجاز، تہامہ اور اطراف کے دیگر علاقوں کے لوگوں کی کثیر تعداد کے ساتھ عراق کی طرف حرکت کی۔ ذی قعدہ کے مہینے میں یہ لوگ کربلا پہنچے اور اسے محاصرہ کر لیا۔ اس لشکر نے شہر پر دھاوا بول دیا اور طاقت کے زور پر شہر میں داخل ہوگئے ۔ شہر کے لوگوں کو کوچہ و بازار اور گھروں میں گھس کر قتل کردیا اور ظہر کے نزدیک بہت بڑی غنیمت اور مال و دولت کے ساتھ شہر سے نکل گئے۔پھر ابیض نامی جگہ پر سب جمع ہوگئے۔ پوری غنیمت کے پانچویں حصے کو خود سعود نے اٹھا لیا باقی اموال کو ہر سوار کو دو حصہ اور پیدل چلنے والے کو ایک حصہ دے کر تقسیم کر دیا (کیونکہ ان کی نگاہ میں یہ جنگ کفار کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ تھی.

    وہابی ایک اور  مورخ عثمان بن بشر کربلا پر حملے کے بارے میں یوں لکھتا ہے: گنبد قبر (یعنی قبر امام حسین ؑ) کو ویران کردیا اور قبر پر موجود صندوق کہ جو زمرد ،یاقوت اور دیگر جواہرات سے بھرا ہواتھا اسے بھی اٹھا لیا اور جو کچھ شہر میں مال و دولت ، اسلحہ، لباس، بچھونے، سونا  و چاندی اور  نفیس قرآنی نسخے جہاں کہیں بھی ملا اسے غارت کر لیا اور ظہر کے نزدیک شہر سے نکل گئے ۔ جبکہ ۲۰۰۰ ساکنین کربلا کو قتل کر چکے تھے۔

    مزے کی بات تویہ ہے مزبورنےاپنی کتاب کانام "عنوان المجدفی تاریخ نجد" رکھاہے اوران واقعات کووہابیت کی نشانی اورکمالات کے طورپرذکرکیاہیں۔

    ان کاھدف فقط شیعہ اماکن ومقدسات کی جگہ اپنی آثاراورکمالات کوبیان کرنانہیں تھا۔بلکہ حملے کامقصد مکہ مکرمہ اورطائف وغیرہ میں امامت کاوجود ختم کرناچاہتے تھے۔

    “جمیل صدقی زهاوی”فتح طائف کے بارے میں لکھتاہے۔وہابیوں نے شیرخواربچہ کوماں کی گودسے چھین کرسرتن سے جداکیا۔کچھ لوگ قرآن پڑھنے میں مصروف تھے قتل کیا،گھروں ،دکانوں ،مسجدوں میں جاکے رکوع سجود کی حالت میں لوگوں قتل کردیا ،بہت سی کتابیں مصحف،صحیح بخاری اورفقہ واحادیث کی بہت سی کتابیں ،بازار میں لے جاکر پامال کردیا۔

    ایسی حرکات عبدالوھاب کے پیروان سے کوئی تعجب نہیں !جوتمام مسلمانوں کو کافرومشرک اورمکہ مکرمہ کووہابیوں کےعلاوہ "دارالحرب اوردارالکفرتصورکرتے ہیں ۔کتاب " الدرالسنیہ"میں موجودہے۔

    عبدالوھاب پیامبراکرم (ص)پر صلوات بیھجنے سے منع کرتاہے،اورصلوات بیھجے والوں کووہ سخت سزادیتاہے ۔

    ایک شخص نابیناتھا اوراس کی آوازبہت پیاری تھی وہ آذان دیاکرتے تھے ۔اس کی باتوں پر توجہ نہیں دیتے تھے اورمحمدوآل محمدپرصلوات بھیجتے تھے انہیں قتل کردیااوربہت سی کتابیں جوصلوات کے متعلق تھی انہیں جلایا۔اوراپنے پروکاروں کوحکم دیاکہ قرآن کی تفسیربھی اپنی راے کے مطابق کیاجائے۔

    محمدبن عبدالوھاب خود کہتاہے ،میں "ابن تیمیہ حنبلی" کے عقائدکے کاپروکارہوں جوقرن چہارم کے ہیں ۔ابن تیمیہ سے نقل شدہ عقائد کچھ عجیب سے ہیں ۔خداکے لئے جسم، ہاتھ ،پاوں ،آنکھیں ،منہ وغیرہ کےقائل ہیں۔ابن بطوطہ جھانگردکہتاہے کہ ابن تیمیہ دمشق کی جامع مسجدکے منبرسے لوگوں کووعظ ونصیحت کرتے ہوئے کہہ رہاتھاکہ خداوند آسمان سے دنیامیں آئے میں ابھی ان سے مل کرآرہاہوں،پھرمنبرسے ایک سیڑی نیچے اترے۔

    ان کے عقائد اتنے ضعیف ہے خوداہلسنت نے ان کی رد میں متعدد کتابیں لکھی ہیں ،یہ وہابیوں کے کچھ عقائدجن پراب تک عمل کررہے ہیں ،لیکن بہت سے شیعہ سنی دانشمندوں نے وھابیوں پرنقدکیاہے اوربہت سےشبہات کے جوابات دیئے ہیں ان شبہات میں سے ایک قبروں کوبناناان کے نزدیک مسجد غیرمسجد دونوں میں حرام ہے۔ہم اس کامناسب جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔اولا صریح آیۃ سورہ کہف 21اس شبہ کودفع کرتاہے ،باالخصوص اصحاب کہف کے واقعے میں جوان کی یادمناناچاہتے ہیں ان کے لئے فرماتے ہیں: لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِم مَّسْجِدًا(بتحقیق قبروں کے اوپرمسجد بنائیگے) ثانیا۔ ظہوراسلام اورفتوح اسلامی میں گزشتہ انبیاءؑ کے قبور موجودتھے ،من جملہ بیت المقدس میں قبرحضرت داود وحضرت موسیٰ کی طرف اشارہ کیاجاسکتاہے ۔مزے کی بات تویہ ہے خود خلیفہ دوم صلح کے پیمان باندھنے بیت المقدس گئے اس شہرپرتسلط حاصل کرنے کے بعدان قبورکو ختم کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔