سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/15 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۷ رجب المرجب (۱۴۳۵ہجری)عیدمبعث کادن

    ۲۷ رجب المرجب (۱۴۳۵ہجری)عیدمبعث کادن

    محمد کتنا پیارا نام ہے  جسے زبان سے اداکرتے ہوئےدلوں  کو سرور ملتا ہے فکروں  کو جلا ملتی ہےزبان سے خوشبو آتی ہے  اس ذات کی ہیبت اورعظمت نگاہوں  کے سامنے مجسم ہوتی ہے ہدایت کی کرنیں  دلوں  میں  اتر آتی  ہیں  شاید اسی لیے پروردگارعالم نے اذان ہو یا اقامت، نماز ہو یا کلمه شهادت الغرض ہر جگه اپنے نام کے ساتھ  اپنے محبوب  کا نام لینے کاحکم دیا ہے۔

    رسول اکرم حضرت محمد ابن عبدالله ۱۷ربیع الاول بروزجمعه عام الفیل -۵۷۰ء-کو مکه مکرمه میں  پیدا ہوے مادر گرامی آمنه بنت وہب هےاوروالد گرامی حضرت عبد الله بن عبد المطلب هے جوکه آپ ؐکے دنیا میں  آنے سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے اور آپ ؐپانچ سال کی عمر میں  شفقت مادری سے بھی محروم ہوئے اور آپ کے دادا حضرت عبد المطلب نے آپ کی سرپرستی کی ان کی وفات کے بعد حضرت ابو طالب نے آپ ؐکی پرورش کی اور آخری دم تک آپ کی حمایت ؐکرتے رہے ۲۵ سال کی عمر میں  حضرت خدیجه سے شادی کی اور ۴۰ سال کی عمر میں  ۲۷رجب المرجب۴۰ عام الفیل کو رسالت پر مبعوث ہوے اور ۲۳ سال تک ظلمت کده دہر کیلئے چراغ فروزاں  بن کے رہےانسانیت کی ہدایت اورفلاح وبہبود کیلئے شب وروزکوشاں  رہے آخر میں  قیامت تک آنے والے تمام انسانوں  کی  ہدایت کاانتظام کرتے ہوے قرآن کریم اور اہلبیت اطهار علیهم السلام کوامت کے درمیاں   چھوڑ کر ۲۸صفر ۱۱ ہجری کومدینه منوره میں  رحلت کر گئے۔ 

    وحی کے متعلق روایات: وفى المناقب: سَمِعْتُ مُذَاكِرَةً أَنَّهُ نَزَلَ جَبْرَئِيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ سِتِّيْنَ أَلْفَ مَرَّةٍ . المناقب ج : 1 ص : 44 – جبرئیل رسول خدا ؐ پر ساٹھ ہزار مرتبہ نازل ہوئے۔

    فى المناقب:أَنَّهُ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ كُرِبَ لِذَلِكَ وَ يَرْبَدُّ وَجْهُهُ وَ نَكَسَ رَأْسَهُ . المناقب ج : 1 ص : 43 -وحی نازل ہوتے وقت آپ پر غم-جیسا - لاحق ہوتا تھا چہرے کارنگ متغیر ہوتا تھا اور سر مبارک جھکادیتے تھے۔

    وفى المناقب :  رُوِيَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يُسْمَعُ عِنْدَ وَجْهِهِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ وَ كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَ إِنَّ جَبِينَهُ لَيَنْفَصِدُ عَرَقاً . بحار الانوار ج : 18 ص : 261 المناقب ج : 1 ص : 43 -

    جب بھی آپ پر وحی نازل ہوتی تھی آپ کے چہرے کے پاس سے بھنبھناہٹ کی آواز مکھیوں  کی بھنبھناہٹ کی طرح آتی تھی اورجب آپ پر شدید سردی کے دن وحی نازل ہوتی تھی تو جب وحی تمام ہوتی تھی آپ کی پیشانی پر پسینہ کے قطرے نمایاں  ہوتے تھے۔

    آپکے شمائل اوراخلاقی صفات کے متعلق چندروایات : آپؐ ہر دیکھنے والے کی نظر میں  باوقار اور باعظمت نظر آتے تھے، چہرہ مبارک چودهویں  کے چاند کے مانند درخشاں  تھا آپؐ فرماتے تھے میرا بھائی یوسف مجھ سے خوبصورت تھا لیکن میں  ان سے زیادہ ملیح ہوں  آپ ؐکا کلام واضح اور روشن تھا مخاطب کی عقل کے مطابق بات کرتے تھے کبھی کسی بات کو تین بار دهراتے تھے تا کہ مخاطب اچھی طرح سمجھ جائے تبسم کے ساتھ گفتگو کرتے تھے ہرگز کسی کی بات نہیں  کاٹتے تھے کسی کی عیب جویی یا بد گویی کیلئے زبان نہیں  کھولتے تھے آپ ؐ کی نظریں  جھکی ہوتیں  اورآپ ؐ کی نظریں  آسمان سے زیادہ زمین کی طرف ہوتی تھیں  آپ ؐ چکاچوندھ کسی کی طرف نہیں  دیکھتے تھے بلکہ تھوڑی دیر کے لئے نگاہ کرتے تھے جب کسی سے ملاقات ہوتی تو سلام میں  پہل کرتے تھے اہل فضل اوردانش کو ہر وقت اپنے حضور میں  آنے کا موقع دیتے تھے اورہر شخص کو اس کی اپنی دین شناسی کے اندازے کے مطابق احترام کرتے تھے.

    عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَداً أَجْوَدَ وَ لَا أَنْجَدَ وَ لَا أَشْجَعَ وَ لَا أَوْضَأَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ۔ مكارم‏الأخلاق ص : 18 -

    ابن عمر کہتا ہے : میں  نے رسو ل خدا ؐ سے زیادہ کسی کو سخی ،دلیر، شجاع اور متواضع نہیں  دیکھا۔

    وفى الكافى بإسناده: عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ  قَالَ كَانَ فِي رَسُولِ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ لَمْ تَكُنْ فِي أَحَدٍ غَيْرِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَيْ‏ءٌ وَ كَانَ لَا يَمُرُّ فِي طَرِيقٍ فَيُمَرُّ فِيهِ بَعْدَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا عُرِفَ أَنَّهُ قَدْ مَرَّ فِيهِ لِطِيبِ عَرْفِهِ وَ كَانَ لَا يَمُرُّ بِحَجَرٍ وَ لَا بِشَجَرٍ إِلَّا سَجَدَ لَهُ .[1] ورواه الطبرسى فى المكارم۔ -  الكافي ج : 1 ص : 442 -

     کوئی وہاں  سے گزرتاتوآپ کے پاکیزہ پسینہ کے خوشبو سے پتہ چلتا کہ آپ وہاں  سے گزرے ہیں آپ کسی پتھر یاشجر سے نہیں  گزرتے تھے مگر یہ کہ اس پر سجدہ کرحضرت امام محمد باقر  نے فرمایا: رسو ل خدا ؐ میں  تین خصلتیں  ایسی تھیں  جو کسی میں  نہیں  پائی جاتی تھیں ، آپ کا سایہ نہیں  تھا ، آپ کسی راستے سے نہیں گزرتے تھے مگریہ کہ تین دن بعد بھییں ۔

    وفى المكارم :  كَانَ يُعْرَفُ فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ قَبْلَ أَنْ يُرَى بِالطِّيبِ فَيُقَالُ هَذَا النَّبِيُّ . -  بحار الانوار ج : 16 ص : 248

    تاریک راتوں  میں  لوگ آپ کودیکھنے سے پہلے خوشبو سے آپ کو پہچان لیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ نبی اکرم ؐہیں ۔

    آپ کی خوبیاں  قریش ، عرب و عجم سب کو شامل تھیں  وعدہ وفائی ،سچائی،امانتداری اور الفت ومحبت آپ کی صفات میں  سے تھیں  آپ سعه صدر اور وسعت نظر کے مالک تھے قرآن مجید آپؐ کا اخلاق تھا بلکه آپ ؐقرآنِ مجسم تھے تما م خوبانِ عالم كي خوبیاں  آپؐ میں  جمع تھیں  اورتمام برائیاں  آپ ؐسے دور تھیں   بقول شاعر:

    حسن یوسف دم عیسی ید بیضا داری

    آنچه خوباں  ہمه  دارند  تو تنہا  داری

                                                                                    (مآخذ:سنن النبی علامہ طباطبائي-قدس سره الشريف – مترجم مصطفي علي فخري)