سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/8/21 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    دہم محرم الحرام ( 1436ہجری )


    دہم محرم الحرام ( 1436ہجری )

    کربلا ہم سے کیا چاہتی ہے؟
    راہ کربلا سے منحرف اس بے دینی ، گمراہی اور بد تہذیبی و خرافات سے لبریز ماحول میں یہ سوال کرناکہ کربلا ہم سے کیا چاہتی ہے؟بلا شک غافل ذہنوں کو بیدار اور خوابیدہ فکروں کو جگانے کے لئےکافی بھی ہے اور انتہائی ضروری بھی ۔
    حقیتاً انسانی اقدار سے عاری ، احکام وافکار سے بے بہرہ ، مفید و ثمر بخش اعمال و اقدامات سے کوسوں دور اور بے انصافی ، مفاد پرستی ، بربریت و بہیمیت نیز تمام برائیوں پر کمر بستہ اس دور میں اس ہدایت و ارشاد اور اس احساس افزارآواز کی گونج ایسی ہی ہے جیسے نرغہ اعداء میں استغاثہ " ھل من ناصر ینصرنا "۔
    عزادارو ! اٹھو اور اب کربلا کی حسرتوں سے بھری آغوش کو اس سوال کے حقیقی جواب سے بھر دو ۔ چونکہ کربلا آج بھی بہت پیاسی ہے ۔ اگر ہم نے اس کی سیرابی کی فکر نہ کی تو پھر کون کرے گا ؟ کربلا بڑی آس بڑی امید کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور ہم سے اپنے کچھ اہم مطالبات کو پورا کرانا چاہتی ہے ۔
    لہذا اب ہمیں صرف مقام فکر و نظر تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ حرکا مقلد بن کر "بسم اللہ و باللہ و علی ملة رسول اللہ "کہتے ہوئے کہ کربلا کی ملکوتی بارگاہ میں اپنی تمام تر کوتاہیوں ، غلطیوں ، جسارتوں اور بے ادبیوں کی بصد عجز و ادب معافی مانگنا ہے اور بہر صورت شہادت گاہ الفت میں قدم رکھتے ہوئے کربلائی چاہت کو معلوم کرنا ہے ۔ شاید ہمیں اپنا چہیتا دیکھ کر کربلا محبت و شفقت سے لبریز لہجے میں پھر ہمیں پکارے اور کہے سنو ! اجمالی طور پر میری اہم چاہتیں یہ ہیں کہ جن کا مفاد حقیقت میں تمہاری طرف ہی پلٹتا ہے ۔
    1۔ میری پہلی چاہت و خواہش یہ ہے کہ "ارید ان آمربالعروف و انھی عن المنکر" 1کہ نیکیوں کا حکم دوں اور برائیوں سے روکوں ظاہر ہے میرا تم سے مطالبہ بھی یہی ہے لیکن اظہر من الشمس ہے کہ نیکیوں کا حکم وہی دے سکتا ہے جو خود برائیوں سے کنارہ کش ہو آؤ اور میدان عمل میں اترو اور سعید و زہیر وحبیب کی طرح میرے معاون و مددگار بن جاؤ چونکہ قرآن اعلان کررہا ہے " تعاونوا علی البرو التقوی ولاتعاونوا علی الاثم و العدوان" 2

    2۔اس کے بعد میری اہم چاہت یہ ہے کہ " انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی"3 کہ اصلاح امت کی جائے چاہے وطن ، سرزمین ، جان ، دولت ، مال ، اسباب اور نفس و اولاد سب کچھ قربان کیوں نہ کرنا پڑے ۔
    ہمیں معلوم ہے کہ تم ابھی اس منزل میں نہیں ہو کہ اتنی عظیم قربانی دے سکو لیکن کم از کم خواہشوں کی قربانی تو دے ہی سکتے ہو اس لئے کہ " لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون "4 نیکیوں کی دستیابی کے لئے ایک اٹل اور محکم اصول ہے ۔
    دیکھو ! بھولے سے بھی اپنی خواہشوں کے آلودہ پاؤں سے میرے مقدس و مطہر اصولوں کوپامال نہ کردینا اس لئے کہ یہ در حقیقت تمہاری پامالی ہے بلکہ اپنے ہرہر لمحہ حیات کو میرے حیات بخش اصولوں کے زیر سایہ گزارنے کی کوشش کرنا اور مکمل میرے ہو کر فخر سے یہ نعرہ بلند کرنا " ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین "5

    3۔" ان کان دین محمد لم یستقم الا بقتلی فیا سیوف خذینی"6 صرف دیندار بننا کافی نہیں ہے میری بڑی چاہت ہے کہ تم پہلے سچے اور اچھے دین شناس بنو تا کہ اس کے بعد دیندار بننا ہمہ جہت مفید ثابت ہو اور اگر دین پر کوئی وقت آجائے تو دشمنوں کے پرے اور تلواروں کے تند و تیز حملے تمہارے منتظر نہ ہوں بلکہ تم ان کے انتظار میں بے چین نظر آؤ ۔ اگر یہ عزم ہے تو فخر سے کربلائی کہلاؤ لیکن اگر فکر و ذہن اس جرٲت و ہمت سے یکسر خالی ہوں تو اپنی ذات کو میری طرف نسبت دینے سے گھبراؤ اس لئے کہ میرا مکمل قدردان ، مرتبہ شناس اور حقیقی وارث زندہ و پائندہ ہے اور ذوالفقار ایک مدت سے اس کے ہاتھوں میں عدالت کے جوہر دکھانے کے لئے پیچ و تاب کھارہی ہے ۔

    " مرحباً بالقتل فی سبیل اللہ "7بشریت کے معمار اعظم کا یہ نعرہ بھی میری فضاؤں میں میری چاہت بن کر زنگ مسلسل کی طرح گونج رہا ہے کہ مرحباو آفرین ایسی موت پرجو راہ خدامیں نصیب ہو " لیست الحیاة مع الذلّ "اس لئے کہ ذلت ورسوائی کے ساتھ لحظہ شماری کرنا زندگی نہیں بلکہ ایسی موت ہے جس کے ہمراہ واقعی زندگی کا ادنی تصور بھی نہیں پایا جاتا اگر تمہیں مجھ پر یقین و اعتماد ہے تو میرے جاودانی اور حیات بخش تعلیمات کی طرف ہمہ تن گوش رہو اور اپنی ہرہر سانس کو میری راہ میں وقف کردو چونکہ حقیقتاً میرا راستہ ہی صراط مستقیم ہے آؤ اور راہ خدا میں " کانھم بنیان مرصوص " کا مصداق بن کر مدافع دین و مذہب بنو اور پھر فخر سے کہو " بابی انت و امی یا اباعبداللہ الحسینؑ"۔

    " الموت اولی من رکوب العار "8 یہ بھی اسی معمار اعظم اور محسن بشریت کا برجستہ نعرہ ہےکہ ذلت کی زندگی سے عزت و آبرو کی موت کہیں بہتر ہے ۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میرے لق ودق صحرا میں حسین ؑاور اصحاب حسین ؑنے تو کیا ششما ہہ بچے نے بھی ذلت کی زندگی کا ایک لمحہ گزارنا گوارانہ کیا ، شدت کی بھوک ، پیاس اور مسلسل قیامت خیز ، کلیجہ پھاڑ دینے والے مظالم بڑے بڑے دل گردے والے انسانوں کو درست و نادرست ہر کام پر آمادہ کردیتے ہیں ۔مگر میرے نونہالوں کو دیکھو کہ دودھ پیتے بچوں نے بھی ایک لمحہ کے لئے دامن عزت و حرمت پرحرف نہیں آنے دیا اور کوئی ایسا اقدام نہیں کیا کہ جس میں شرمندگی و ندامت کا ذرہ برابر بھی شائبہ پایا جاتا ہو اور صرف یہی نہیں بلکہ حشر خیز ہنگام میں بھی اپنے احساس اور نصرت حق کے جذبہ کو  بیداکیا۔

    آخر میں اللہ کو تیری عزت و عظمت کی قسم دیتے ہوئے دست بدعا ہیں کہ ہمیں تجھ سے کئے ہوئے عہد و پیمان پر قائم رہنے اور پورا اترنے کی توفیق سے نوازے ، اور اپنی راہ میں شہادت عطا فرماکر تجھے سر خرو کرنے کی سعادت سے بہرہ مند فرمائے آمین یا رب العالمین ۔


    1.
    بحار ج44 ص 329 ۔
    2.
    مائدہ آیہ 2۔
    3.
    بحار ج44 ، ص329 ۔
    4.
    آل عمران آیہ 92 ۔
    5.
    انعام آیہ 162۔
    6.
    سیرہ ابن ہشام 75 ۔
    7.
    موسوعة کلمات امام الحسین )ع( ، 507 ۔
    8.
    مناقب شہر آشوب ج4 ، ص 67 ۔