سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
موضوعات کی ترتیب آخری سوالات کوئی بھی سوال زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

کوئی بھی سوال

زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

اس روایت کا مطلب کیا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

سوال: ایک روایت میں سعد ابن ابی خلف نجم سے اور نجم ابی جعفر (امام باقر ؑ )سے بیان کرتا ہے کہ : امام ؑ فرماتے ہیں: اے نجم تم سب ہمارے ساتھ جنت میں ہونگے مگر وہ شخص جس کو جنت میں داخل ہونا پسند نہ ہو ، جس کا ہتک کیا ہو او راپنی شرمگا ہ کو ظاہر کیا ہو ، نجم نے کہا : میں آپ پر قربان ہو جاؤں کیا یہ ممکن ہے ، آپؑ نے فرمایا : ہاں اگر اس نے اپنی شرمگاہ اور شکم (پیٹ)کو محفوظ نہیں کیا ہو ۔
روایت کیا کہتی ہے کیا روایت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے بندے کا ہتک کرتا ہے اور اس کی شرمگاہ کو آشکار کرتا ہے پھر اسےقیامت کے دن معاف کردیتا ہے اور اسے جنّت میں ڈال دے گا یہ کیسے ہو سکتا ہے کیا اللہ تعالٰی ستّار العیوب نہیں ہے ؟
روایت کس طرح کہتی ہے کہ اللہ تعالٰی ہتک کرتا ہے اوربندے کی شرمگاہ کوظاہر کرتا ہے پس ہم کس طرح قبول کریں کہ اللہ تعالٰی عیوب کو چھپاتا ہےاور اسی وقت کہے کہ اللہ بندے کی ہتک کرتا ہے اور اس کی شرمگاہ کو آشکار کرتا ہے پس روایت کا معنی کیا ہے وضاحت چاہتا ہوں ۔

جواب: دعا ئے کمیل میں آیا ہے  کہ (واغفر لي الذنوب التي تهتك العصم)   اور یہ طلب مغفرت  آخرت میں  ان گناہوں کی بخشش  کے لئے  ہے جو  ہتک عصمت اور پردہ فاش  کرنے کے باعث بنتے ہیں اور یہ ان  لوگوں کے لئے ہے جو حرام کاموں میں اپنے شکم (پیٹ) اور شرمگاہ کی شہوات کا اتباع کرتے  ہیں۔

 دنیاعیوب چھپانے کی جگہ ہے  اور آخرت انسان کے عیوب اور گناہوں کو آشکار کرنے کی جگہ ہے (ویوم تبلی السرائر) اس دن لوگوں کے راز کھل جائیں گے اورہر ایک کے لئے  اپنی انسانی یاحیوانی  حقیقت ظاہر ہو جائی گی اور ہر انسان اس کے باطنی شکل میں محشور ہوگا بعض انسان کے شکل میں ہونگے اور بعض شیطان کی شکل میں ، بعض  گدھے کی شکل میں ہونگے اور بعض کتے کی شکل میں،اور یہ قوی اربعہ کی طرف اشارہ ہے ۔قوہ عاقلہ ،قوہ وہمیہ ، قوہ   بہیمیہ (حیوانیہ)،قوہ  سبعیہ(درندگی)۔ واللہ العالم

تاریخ: [2019/10/23]     دوبارہ دیکھیں: [21]

سوال بھیجیں