حاج سید عادل علوی کی اسلامی معلومات کامرکزسایٹ کے جدید ترین مطالبhttp://www.alawy.net/8ربیع الثانی (1442ھ)ولادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پرامام حسن عسکری علیہ السلام نے سنہ 232ق میں 10ربیع الثانی یا اسی مہینے کے آٹھویں یا چوتھے دن کو مدینہ میں آنکھ کھولی اور 28 سال تک زندگی فرمائی۔ کچھ روایات کے مطابق آپکی ولادت سنہ 213ق میں ہوئی۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی عمرجب چارماہ کے قریب ہوئی توآپ کے والدامام علی نقی علیہ السلام نے اپنے بعدکے لیے منصب امامت کی وصیت کی اورفرمایاکہ میرے بعدیہی میرے جانشین ہوں گے اوراس پربہت سے لوگوں کوگواہ قرار دیا علامہ ابن حجرمکی کاکہناہے کہ امام حسن عسکری ،امام علی نقی کی اولادمیں سب سے زیادہ اجل وارفع اعلی وافضل تھے۔http://www.alawy.net/urdu/news/17102/17 ربیع الاول (1442ھ)ولادت با سعادت صادقین علیہما السلام کے موقع پرعلمائے شیعہ کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ جناب رسول خدا (ص) کی ولادت باسعادت عام الفیل میں انوشیروان عادل کے حکومت کے ایام میں 17 ربیع الاول کو مکه معظمہ میں اپنے ہی گھر میں جمعہ کے دن طلوع فجر کے وقت ہوئی ۔ اور اسی دن ۸۳ھ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت بھی ہوئی لہٰذا اس دن کی شرافت میں اس کی وجہ سے مزید اضافہ ہوا ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/16976/8ربیع الاول(1442ھ)شہادت امام حسن العسکری علیہ السلام کے موقع پرمشہور قول کے مطابق امام عسکریؑ ربیع الاول سنہ۲۶۰ ھ کے شروع میں معتمد عباسی کے ہاتھوں 28 سال کی عمر میں مسموم ہوئے اور اسی مہینے کی 8 تاریخ کو 28 سال کی عمر میں( سرّ من رأی (سامرا میں جام شہادت نوش کرگئے۔http://www.alawy.net/urdu/news/16940/29صفر المظفر(1442ھ)شہادت حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کے موقعآپ کی شہادت کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی بنا پر بروز جمعہ یا پیر، ماہ صفر کی آخری تاریخ، یا 17 صفر، 21 رمضان، 18 جمادی‌الاولی، 23 ذی القعدہ، یا ذی القعدہ کی آخری تاریخ سنہ 202، 203 یا 206 نقل ہوئی ہیں۔ کلینی کے مطابق آپ صفر کے مہینے میں سنہ 203 ہجری میں 55 سال کی عمر میں شہادت کے مقام پر فائز ہوئے ہیں۔ اکثر علماء اور مورخین کے مطابق آپؑ کی شہادت سنہ 203 ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ طبرسی آپؑ کی شہادت کو ماہ صفر کی آخری تاریخ میں نقل کرتے ہیں۔ولادت و شہادت کی تاریخ میں اختلاف کی وجہ سے آپ کی عمر مبارک کے بارے میں بھی علماء و مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی بنا پر آپ کی عمر 47 سال سے 57 سال تک ذکر کیا گیا ہے۔ اکثر علماء اور مورخین کے مطابق آپ کی عمر شہادت کے وقت 55 سال تھی۔http://www.alawy.net/urdu/news/16920/20صفر المظفر(1442ھ)امام حسین علیہ السلام اوران کےاعزہ ؤ اصحاب کاچہلمسید الشهداء حضرت امام حسین (ع) کی زیارت کے بارے میں بهت سی روایتیں موجود هیں جو آپ کی زیارت کی عظمت، فضیلت ،اور دنیا وآخرت میں اسکے آثار اور برکتوں پر دلالت کرتی هیں بعض روایتوں میں آپ کی زیارت کیلئےایک ایسا امتیاز ذکر هوا هے جو که انبیاء اور اوصیاء (ع) کی زیارتوں کےبارے میں نهیں ملتا وه یه هے که جو امام حسین (ع) کی زیارت کرے تو اس نے عرش پر الله تعالی کی زیارت کی ،یه بهت عظیم اور گراں مطلب هے جسے الله کا مقرب فرشته یا نبی مرسل یا وه مومن تحمل کرسکتا هے جس کے دل سے الله تعالی نے ایمان کا امتحان لیا هو. http://www.alawy.net/urdu/news/16878/25محرم (1442ھ)شہادت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر بعض مورخين نے کہا ہے کہ وليد بن عبدالملک کي بادشاہت کے ايام ميں اس کے بھائي ہشام بن عبدالملک بن مروان نے آپ ؑ کو مسموم کيا تھا جس کے نتيجے ميں آپ کي شہادت واقع ہوئي- شہادت کے وقت امام سجاد (عليہ السلام) کي عمر 57 برس تھي اور وہ مدينہ منورہ کے قبرستان جنت البقيع ميں مدفون ہيں- http://www.alawy.net/urdu/news/16775/۲۹ ذی قعدہ (1441ھ) شہادت حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کے موقع پرمامون کی وفات پر معتصم باللہ نے حکومت سنبھالی تو امام نہم کو دوبارہ مدینہ سے بغداد بلایا گیا اس کے بعد ان پر پابندی عائد کردی گئی مدینہ رسول سے فرزند رسول کو طلب کرنے کی غرض چونکہ نیک نیتی پرمبنی نہ تھی،اس لیے عظیم شرف کے باوجود آپ حکومت وقت کی کسی رعایت کے قابل نہیں متصور ہوئے معتصم نے بغداد بلوا کرآپ کوقید کر دیا۔ ایک سال تک آپ نے قید کی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں اور آخر کار وہ وقت آ گیا کہ آپ صرف ۲۵/ سال کی عمرمیں معتصم باللہ کے حکم سے امام علیہ السلام کی بیوی کے ذریعے آپ کو زہر دلوا کر شہید کر دیا گیا آپ کو اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم کے پاس کاظمین میں دفن ہوئے-http://www.alawy.net/urdu/news/16698/11 ذیقعد (1441ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ ا لسلام کے موقع پرامام رضا علیہ السلام کی ولادت ایک قول کی بناپر بروزجمعرات 11/ربیع الاول سنہ153 هجری کو مدینہ منوره میں هوئی ۔ ثقۃ الاسلام شیخ کلینی نے آپ ؑ کی ولادت باسعادت کو سنہ 148 هجری میں ذکر کیا هے ۔ امام رضا علیہ السلام حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے عظیم، دانشمند، شریف، مقدس اور زاهد تھے جنہوں نے اس تاریخ میں اپنے بابرکت وجود سے مدینہ کو منوّر کیا اور خوشی و مسرّت سے سرشار کردیا ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/16686/یکم ذیقعد(1441ھ)ولادت باسعادت حضرت معصومہ سلام اللہ عليہاکے موقع پرکریمۂ اہل بیت حضرت معصومہ (س) فرزندِ رسول حضرت امام موسی کاظم (ع) کی دختر گرامی اور حضرت امام رضا (ع) کی ہمشیرہ ہیں۔ آپ کا اصلی نام فاطمہ ہے۔ آپ اور امام رضا ایک ہی ماں سے پیدا ہوئے ہيں، آپ کے مشہور نام خیزران، ام البنین اور نجمہ ہیں ۔ روایات کے مطابق حضرت فاطمۂ معصومہ یکم ذی العقدہ 173ھ ق کو مدینۂ منوّرہ میں پیدا ہوئيں حضرت فاطمۂ معصومہ (س) اہل بیت رسول کی اُن ہستیوں میں سے ہیں جو مقام عصمت کی حامل نہ ہوتے ہوئے بھی عظیم شخصیت کی مالک تھیں۔ http://www.alawy.net/urdu/news/16672/25شوال(1441ھ)شہادت حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کے موقع پرحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام 65 سال کی عمر میں منصور دوانقی کی طرف سے مسموم ہوئے جس سے آنحضرت کی شہادت واقع ہوئی ۔ آپ کی شہادت کی تاریخ کے بارے میں دو قول نقل ہوئے ہیں ۔ بعض نے 15 رجب سن 148 ھ اور بعض نے 25 شوال سن 148 بیان کیا ہے اور مشہور شیعہ مؤرخوں اور سیرہ نویسوں کے نزدیک دوسرا قول یعنی 25 شوال ہی معتبر ہے ۔ آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام موسی کاظم ؑنے بھائیوں اور افراد خاندان کے ہمراہ آنحضرت کے غسل و کفن کے بعد بقیع میں دفن کیا ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/16658/