حاج سید عادل علوی کی اسلامی معلومات کامرکزسایٹ کے جدید ترین مطالبhttp://www.alawy.net/ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیانامام حسین ؑ اپنے والد گرامی کی طرح فرماتے ہیں :(دو قسم کے لوگوں نےمیری کمرکو توڑ دیاہے ایک وہ عالم جو گناہ کرنے سے پرواہ نہیں کرتا اور اپنے علم پر عمل بھی نہیں کرتا ۔ دوسرا وہ جاہل جو اپنے جہل پرعمل کرتے ہوئے عبادت انجام دیتا ہے اور جہالت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے۔ جوشخص مجالس اور عزاءحسینی کو جہالت اور اپنی خواہشات کے مطابق تشکیل دیتا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے اپنی جہل کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے امام حسین علیہ السلام کے پشت مبارک کو روندھ ڈالاہے ، اور آپ ؑکے لا فانی انقلاب کی کمر توڑ دیا ہے ، اپنی جہل اور گمراہی کی وجہ سے امت مسلمہ اور بنی نوع بشرکے اصلاح کی بنیاد کو ختم کردیاہےبیشک امت مسلمہ لوگوں میں سے بہترین قوم ہے انہیں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے ، اور یہ کہ خدا نے سید المرسلین اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے ذریعے ختم نبوّت اور رسالت پرمہر ثبت کردی ہے پس خدا نے آپﷺ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ دین لٰہی سب تمام ادیان عالم پر غالب آجائے اور عنقریب آل محمّد علیہم السلام میں سےخاتم الاوصیاءاور عصارۃ الانبیاءحضرت مہدی موعود ارواحنالہ الفداء ظہور کرے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم اور جور سے بھر چکی ہوگی ۔http://www.alawy.net/urdu/news/16081/ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ ہم شیعہ امامیہ ،ائمہ معصومین علیہم السلام کے چاہنے والے اور ان کے دوست داروں میں سے ہیں اور ہم اپنے عقیدے اور عمل میں ان کے مذہب کے پیروکا رہیں بیشک جو دلائل اور برہان ہمارے پاس ہے اُن پر ہمارا ایمان اور اعتقاد ہے اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے حکم سے غیبت کبری ٰکے دوران ہم اپنے دینی اور فقہی اعمال کو صحیح انجام دینے کے لئے،چاہے عبادات میں سے ہو یا معاملات میں سے ،مجتہدین عظام اور جامع الشرائط فقیہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔http://www.alawy.net/urdu/news/16069/18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پرپیغمبر اکرم ﷺ شدید گرمی کےباوجود فرمان الہی کے نفاذ کے لئے غدیر خم کے مقام پر یہ حکم دیتے ہیں کہ تمام حاجیوں کو وہاں روکا جائے۔ جب حاجیوں کا مجمع وہاں جمع ہوگیا تو رسول اکرمﷺ نے بلندی پر جاکر خطبے کا آغاز حمد وثنائے الہی سے کیا اس کے بعد فرمایا " جبریل امین تین مرتبہ مجھ پر نازل ہوچکے ہیں اور مجھے یہ حکم خدا پہنچایا ہے کہ یہاں توقف کریں اور رسالت الہی کو منزل اختتام تک پہنچائیں۔ پھر فرمایا " کیا میں تمھارے نفسوں پر تم سے زیادہ اولی اور حاکم نہیں ہوں؟ یہ سن کر سارے مجمع نے جواب دیا بیشک ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا " کیا میں تمھارا پیغمبر اور ہادی ورہبر و رہنما نہیں ہوں؟ سب نے جواب میں آپ کے قول کی تصدیق کی۔ اس وقت آپ نے امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا دست مبارک پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا " میں جس کا مولی ہو ں اس کے علی مولی ہیں " http://www.alawy.net/urdu/news/16032/15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پرحضرت امام علی النقی علیه السلام نے"صریا "نامی گاؤں میں جو حضرت امام موسی کاظم علیه السلام نے آباد کیا تھا اور مدینه سے تین میل کے فاصلے پر هے روئے زمین پر قدم رکھا اور کائنات کو اپنے نور سے منور فرمایا ۔آپ کی ولادت نیمه ذی الحجه212هجری کو انجام پائی ۔ آپ کے القاب میں سے " نقي ،عالم ،فقيه ،امين اور طيب، نجيب ، مرتضى ، هادي ،مؤتمن ، متوكل اورفقيه العسكري وغیره تھےاورآپ علیه السلام کی کنیت ابو الحسن هے۔ http://www.alawy.net/urdu/news/16026/7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر حضرت امام باقر (ع) اپنے والدِ ماجد امام زین العابدین (ع) کی شهادت کے بعد 19/انیس سال دس مہینہ زنده رهے اور اس پوری مدّت میں امامت کے عظیم وظائف و ذمہ داریوں، اسلامی تہذیب و ثقافت کی تعلیم، شاگردوں کی تربیت و تعلیم، اصحاب اور لوگوں کی رهنمائی، لوگوں کے درمیان اپنے جدّ بزرگوار کی سنّت کو نافذ کرنے، غاصب نظامِ حکومت کو صحیح راستہ کی جانب توجّہ دلانے اور لوگوں کو حقیقی رهبر و امامِ معصوم کی معرفت کی طرف هدایت کرتے رهے، کیونکہ روئے زمین پر صرف یہی پیغمبر اکرم (ص) کے حقیقی جانشین و خلیفہ هیں اور اس وظیفہ پر عمل کرنے میں ایک لمحہ کے لئے بھی غفلت نہیں برتی هے، امام باقر (ع) ایک زمانے تک اسلامی سماج و معاشره کی اجتماعی خدمات انجام دیتے رهے نیز ترویج علم، تبلیغ دین اور عبادت و بندگی پروردگار کرتے هوئے ۷/سات ذی الحجہ سنہ114ھ، کو درجہ شهادت پر قائز هوئے۔http://www.alawy.net/urdu/news/16013/30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پرایک سال تک آپ نے قید کی سختیاں صرف اس جرم میں برداشت کیں کہ آپ کمالات امامت کے حامل کیوں ہیں اورآپ کوخدا نے یہ شرف کیوں عطا فرمایا ہے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ پراس قدرسختیاں تھیں اوراتنی کڑی نگرانی اورنظربندی تھی کہ آپ اکثراپنی زندگی سے بیزارہوجاتے تھے آخر کار وہ وقت آ گیا کہ آپ صرف ۲۵/ سال کی عمرمیں قیدخانہ کے اندرآخری ذی قعدہ معتصم کے زہرسے شہید ہو گئے۔ شہادت کے بعد امام علی نقی علیہ السلام نے آپ کی تجہیزوتکفین اورنمازجنازہ پڑھائی اوراس کے بعد آپ مقابرقریش اپنے جد نامدار حضرت امام موسی ٰکاظم علیہ السلام کے پہلومیں دفن کئے گئے ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/16003/11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پرحضرت امام علی بن موسی الرضا علیه السلام کی ولادت با سعادت کے بارے میں مختلف اقوال موجود هیں ان میں سے جو مشہور ومعروف قول 11 ذیقعدہ 148 ہجری ہے۔ القاب میں سے "رضا"امام عليہ السلام كا مشہور ترين لقب ہے كہ حضرت كي شہادت كے بعد طویل مدت گذر جانے كےباوجود بھي امام عليہ السلام كو اسي مبارك لقب"رضا"سے ياد كرتے ہيں ۔ وہ اس وجہ سے"رضا" كہلائے كہ آسمانوں ميں پسنديدہ اور زمين ميں بھي خداوند متعال اس كے انبياء اور آئمۂ ہديٰ عليہم السلام اُن سے خوشنود ہيں‘‘۔اس مبارك لقب كي ايك اور وجہ يہ بيان كي گئي ہے كہ چونکہ موافق و مخالف تمام لوگ اس مہربان امامؑ سے راضي و خوشنود تھے۔http://www.alawy.net/urdu/news/15962/یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پرجناب معصومہ کی ولادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ بچپنے میں ہی امام موسیٰ ابن جعفر(ع) کی بغداد میں شہادت واقع ہو گئی اور آپ آٹھویں امام علی ابن موسی الرضا(ع) کی کفالت میں قرار پائیں۔http://www.alawy.net/urdu/news/15941/25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر25 شوال 148 ہجری بعض کےبقول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شہادت کا دن ہے۔ آپؑ 65سال كى عمر ميں منصور دوانیقی كے ذريعہ زہر سے شہيد ہوئے آپ كے جسم اقدس كو آپ كے پدر گرامى كے پہلو ميں بقيع ميں سپرد خاك كرديا۔ http://www.alawy.net/urdu/news/15931/21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پرعالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی مفتخر ترین ہستیوں میں مرسل اعظم ، نبی رحمت حضرت محمّد مصطفیٰ ﷺ کے بعد سب سے پہلا نام امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا آتا ہے، لیکن آپ سے متعلق محبت و معرفت کی تاریخ میں بہت سے لوگ عمدا یا سہوا افراط و تفریط کا بھی شکار ہوئے ہیں اور شاید اسی لیے ایک دنیا دوستی اور دشمنیوں کی بنیاد پر مختلف گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو گئی ہے 21 رمضان المبارک کو علوی زندگی کا وہ صاف و شفاف چشمہ جو دنیائے اسلام کو ہمیشہ سیر و سیراب کر سکتا تھا، ہم سے چھین لیا گيا لہذا یہ مصیبت ایک دائمی مصیبت ہے اور آج بھی ایک دنیا علی علیہ السلام کے غم میں سوگوار اور ماتم کناں ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/15838/