حاج سید عادل علوی کی اسلامی معلومات کامرکزسایٹ کے جدید ترین مطالبhttp://www.alawy.net/15 شعبان(1445ھ)منجی عالم حضرت بقیہ اللہ (عج) کی ولادت کے موقع پر مورخین کا اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری یوم جمعہ بوقت طلوع فجرواقع ہوئی ہے یعنی آپ شب برات کے اختتام پر بوقت صبح صادق عالم ظہور وشہود میں تشریف لائے ہیں ۔ http://www.alawy.net/urdu/news/17599/اعیاد شعبانیہ (1445ھ)تین انوار ھدایت کی ولادت باسعادت کے موقع پر لی (ع)و فاطمہ (س) کے دل کا چین ، عالم اسلام کے نور عین حضرت امام حسین علیہ السلام کی آمد یثار و وفا کے پیکر ، علی(ع) کی تمنا ، ام البنین کی آس ، قمر بنی ہاشم حضرت ابوالفضل العباس (ع) کی یوم ولادت اور حسینی انقلاب کے پاسبان امام زین العابدین علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے عالم اسلام بالاخص شیعیان حیدر کرار کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔http://www.alawy.net/urdu/news/17596/25رجب (1445ھ)حضرت امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے موقع پرآپ کا نام موسی اور ان کا لقب کاظم ہے ۔ ان امام کی والدہ گرامی ایک با فضیلت و کرامت بی بی ہیں کہ جن کا نام حمیدہ ہے، اور امام کے والد بزرگوار شیعوں کے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام ہیں، امام موسی کاظم علیہ السلام ابواء کے مقام، کہ جو مدینہ کے قریب ایک گاؤں ہے، پر اس دنیا میں تشریف لائے اور سن 183 ہجری قمری میں شہید ہو گئے۔http://www.alawy.net/urdu/news/17593/13رجب (1445ھ)حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت کے موقع پرحضرت علی علیہ السّلام (599 – 661) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد السلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔http://www.alawy.net/urdu/news/17589/20جمادی الثانی(1445ھ)حضرت فاطمہ زہرا کی ولادت کے موقع پرحضرت فاطمہ زہرا (س) کی ولادت مکہ میں بروز جمعہ 20 جمادی الثانی بعثت کے پانچویں سال ہوئی "آپ کی ولادت کے وقت رسول خدا (ص) نے جناب خدیجہ سے فرمایا : جبرائیل نے مجھے بشارت دی ہے کہ ہمارا یہ پیدا ہونے والا فرزند لڑکی ہے ، اور تمام آئمہ معصومین(ع) اسی کی نسل سے ہوں گے"http://www.alawy.net/urdu/news/17586/13جمادی الثانی(1445ھ) حضرت ام البنین کی وفات کے موقع پرحضرت ام البنین کے والد گرامی ابوالمجْل حزام بن خالد یا حرام بن خالد قبیلہ بنی کلاب سے ان کا تعلق تھا۔ آپ کی مادر گرامی لیلی یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں۔ مورخین کے مطابق بنی‌ کلاب شجاعت و بہادری اور اخلاقی فضائل میں مشہور تھے اور یہی خصوصیات حضرت علیؑ کے ساتھ آپ کی شادی میں موثر ثابت ہوئے۔ حضرت ام البنین کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں۔ لیکن بعض مورخین نے مختلف تاریخی شواہد کی بنا پر آپ کی تاریخ ولادت کو 5 سے 9ھ کے درمیان قرار دیئے ہیں۔ http://www.alawy.net/urdu/news/17583/17ربیع الاول(1445ھ)میلاد باسعادت صادقین( ع) کے موقع پررسول گرامی اسلام حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت عام الفیل میں یعنی نزول وحی سے چالیس سال قبل ماہ ربیع الاول میں ہوئی۔ لیکن یوم پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ شیعہ محدثین و دانشوروں کی رائے میں آپ کی ولادت ۱۷ ربیع الاول کو ہوئی اور اہلسنّت کے مورخین نے آپ کا روز ولادت ۱۲ ربیع الاول تسلیم کیا ہے۔ امام جعفرصادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت آپ بتاریخ ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ ھ مطابق ۲۰۷ ءپیرکے دن مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی ولادت کی تاریخ کوخداوندعالم نے بڑی عزت دے رکھی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا ۔http://www.alawy.net/urdu/news/17580/رحلت رسولخدا، شہادت امام حسن مجتبیٰ ؑاور امام رضا ؑکے موقع پرنبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی جانگداز رحلت اور آپ کے بڑے نواسے حضرت امام حسن علیہ السلام اور پیشوائے ہشتم امام رضا (ع) کی شہادت کی مناسبت سے تسلیت پیش کرتے ہیں۔ http://www.alawy.net/urdu/news/17576/20صفر (1445ہجری) چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر 20صفر یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کا دن ہے، بقول شیخین، امام حسین علیہ السلام کے اہل حرم نے اسی دن شام سے مدینہ کی طرف مراجعت کی، اسی دن جابر بن عبداللہ انصاری حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کیلئے کربلا معلی پہنچے اور یہ بزرگ حضرت امام حسین علیہ السلام کے اولین زائر ہیں، 20صفر کے دن حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا مستحب ہے، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ مومن کی پانچ علامتیں ہیں۔ ﴿۱﴾رات دن میں اکاون رکعت نماز فریضہ و نافلہ ادا کرنا۔ ﴿۲﴾زیارت اربعین پڑھنا۔ ﴿۳﴾دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا۔ ﴿۴﴾سجدے میں پیشانی خاک پر رکھنا۔ ﴿۵﴾اور نماز میں بہ آواز بلند بِسْمِ اﷲِ الرَحْمنِ الرَحیمْ پڑھنا۔ نیز شیخ نے تہذیب او ر مصباح میں اس دن کی مخصوص زیارت حضرت امام جعفر صادق ع سے نقل کی ہے وہ زیارت یہ ہے۔http://www.alawy.net/urdu/news/17574/10محرم (1445ھ)امام حسین( ع)اور آپکے با وفا اصحاب کی شہادت سید الشہداء کے فرض منصبی کو ملحوظ رکھا جائے ، آپ کی تحریک کا واقعاتی جائزہ لیا جائے اور اس تحریک کے دوران آپ کے فرامین، مکتوبات اور اقدامات کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امام حسین کی تحریک امت کے سیاسی و اجتماعی نظام کی اصلاح کے لیے تھی۔http://www.alawy.net/urdu/news/17571/