سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2018/12/15 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

ماہ رمضان ،بہار قرآن

ماہ رمضان ،بہار قرآن

جناب سید عادل علوی صاحب

ترجمہ: سید علی عباد  رضوی صاحب

حمد اس خد اکی جس نے قرآن کو ماہ رمضان میں نازل کیا ، اور صلوات وسلام ہو کائنات کے سردار ، قطب عالم امکان محمدؐوآل محمدؐ پر، اورانکے تمام دشمنوں پر لعنت ہو۔

اس میں کوئی شک کہ قرآن کریم خداوند حکیم کی کتاب ہے ، یہی وہ کتاب ہے جو متقین کی ہدایت اورمومنین کیلئے برہان ہے ، یہی وہ کتاب ہے جس کو اللہ نے ضائع اورتحریف ہونے سے اپنے علم وقدرت کے ذریعہ محفوظ رکھا، یہی نبی اعظم محمدؐ کیلئے ابدی معجزہ بن کر اتری ، یہی کتاب اپنی ذات وجوہر یت میں واضح ،اور فی ذاتہ ہر شئی کیلئے بیان ہے ، اس میں کامل ترین تبیان وافضل ترین روش ہے ، مگر کبھی قرآن کی تلاوت کرنے والا اپنے رب کی رحمت سے دور ہوتاہے (چونکہ رحمت خدا احسان کرنے والوں سے نزدیک ہوتی ہے)فہم قرآن سے محروم رہتاہے ،اسکے معانی سمجھنے سے قاصر رہتاہے ،اور قرآن کے لطائف واشارات اور باریک وعمیق نکات کو درک نہیں کرپاتا"بہت سے ایسے قرآن کی تلاوت کرنے والے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا[1]  

اسلئے اس نے مقام عمل میں کبھی آیات سے تمسک نہیں کیا لہذا اس پر قرآن کے بلند معانی پوشیدہ ہوجاتے ہیں اورحقائق پر پردہ پڑجاجاتاہے اسلئے کہ جس طرح دینی دستور کے تحت اوراحکام ظاہریہ کی بنا پر قرآن کریم کی کتابت مردار کے کھال پر حرام ہے، نجس روشنائی سے لکھناحرام ہے یا وہ قلم جو گندگی ونجاست سے ملوث ہو اس سے لکھناحرام ہے۔(جیساکہ علماء کا اجماع ہے)اسلئے کہ قرآن کے منافی ہے۔

اسی طرح سے احکام واقعیہ میں بھی قرآن کیلئے احترام ہے جس کا قلب گناہ ومعاصی کی وجہ سے مرچکا ہو وہ قرآن کے  اسرار و رموز کو سمجھنے سے بہت دورہے ۔پس یہ شخص درک قرآن سے محروم ہے اوراسکی معرفت کمالیہ وجمالیہ کی حقیقت سے محروم ہے اگرچہ یہ شخص مفسر قرآن ہو اور اسکے معنی ظاہری سے پردہ اٹھاسکتاہو اسکے معرفت جلالی ،شکل وصورت اورظاہری بلاغت کو درک کرسکتاہو جیساکہ اکثر قرآن کریم کے مفسر ہیں کہ وہ حسن قرآن فقط اسکے بلاغت ظاہری میں سمجھتے ہیں۔ اوراسکے مشتقات وعالم الفاظ سے بحث کرتے ہیں لیکن ان کے سمجھ میں وہ معانی نہیں آتے کہ جنکا اللہ تعالیٰ نےان الفاظ سے مراد لیا۔ یہ لوگ ان معانی کے اوران کی تاریکیوں کو سمجھنے سے محروم و دور ہیں اسلئے کہ جس کا قلب گناہوں کی وجہ سے مردہ ہوچکا ہو اور حق کا منکر ہو اسکے دل پر تالگادیا جاتاہے۔

"یہ لوگ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یاانکے دلوں کو مقفل کردیاگیا؟"(محمد/24) ایسے آدمی کیلئے سزاوار نہیں ہے کہ قرآن اسکے قلب پر مکتوب ہو اور یہ شخص قرآن کے جواہر باطنی کو مس کر کرے اسلئے کہ "اسکو بس وہی لوگ مس کرسکتے ہیں جو پاک ہیں"(واقعہ/79) لمس و مس کے درمیان یہ فرق ہے کہ لمس یعنی مادی اورجسمانی شئی کا ایک دوسرے سے ملنا جیسا اللہ تعالیٰ کا قول: " أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ  " (نساء/43)اگر اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہو، اورمس یعنی روحی ومعنوی ملاقات جیسا خدائے عزوجل کا قول ہے۔" اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقُوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُبْصِرُوْنَ "(اعراف/201)جو لوگ پرہیز گار ہیں جب انہیں شیطان کا خیال بھی آتاہے تو وہ آگاہ ہو جاتے ہیں اوران کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

بس  نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقت قرآن کو فقط وہ لو گ مس کرسکتے ہیں جوظاہری وباطنی نجاست سے پاک ، فواحش ظاہری وباطنی سے دور، گناہوں اورجہل ونسیان سے معصوم ہوں اورہر برائی سے مبرا  ہوں جن میں یہ صفات ہیں وہ اہل بیت ائمہ اطہار رسول  مختار علیہم السلام ہیں: "انمایرید اللہ۔۔۔" بیشک اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم اہل بیت ؑ سے رجس کو دور کردے اوراس طرح سے پاک رکھے  جو پاک رکھنے کاحق ہے) اوروہ لوگ جو انکے نقش قدم پر عقائد ومعارف کے اعتبار سے چلتے ہیں یا جو انکے دوست دار نیک علماء میں سے ہیں جیسے جناب سلمان محمدیؑ کہ یہ علما میں سے تھے پس اہل بیت ؑ میں سے ہوگئے (جیسا کہ امام صادقؑ سے وارد ہواہے)۔

اور یہ معرفت جمالی ونوری فقط قرآن میں منحصر نہیں ہے بلکہ یہ معرفت قرآن کے ثقل ثانی میں جاری ہے (جیسا کہ حدیث ثقلین میں ہے کہ جو متواتراً سنی وشیعہ سے وارد ہے)اور وہ ثقل ثانی نبی ؐ کی عترت ہے ۔ اسلئے کہ قرآن و اہل بیتؑ قیامت تک کسی اعتبار سے جدا نہیں ہو سکتے ہر شئی جو قرآن میں ہے وہ انکے پاس ہے اور ہر وہ شئی جو انکے پاس ہے وہ تاقیامت قرآن کریم میں ہے پس اہل بیتؑ لسان اللہ ہیں اور قرآن ناطق ہیں اور یہی قرآن صامت کے ترجمان اور عملی پیکر ہیں اور قرآن کو واقعی طور پر عملی جامہ پہنانے والے ہیں ۔

 یہ تمام بشریت کیلئے دونوں جہان میں سعادت اور انسان کیلئے مصلحت واصلاح کے اعتبار سے ہدایت ہےاور باطل نہ اس کے سامنے آسکتانہ اس کی پشت پر اور اسکو مطہرون کے علاوہ کوئی مس نہیں کرسکتاہے ،یہ مومنین  کیلئے شفا،ظالمین کیلئے خسارہ کے علاوہ کچھ اضافہ نہیں کرتااور متقین کیلئے ہدایت ہے ،اور ہر شئی کیلئے برہان وبیان ہے ،اورجیسے قرآن اللہ کونور ہے کہ جسکو اللہ نے لوگوں کی ہدایت کیلئے نازل کیا اسی طرح کلمات نبیؐ اورآل اطہار ؑ بھی ہیں اور وہ لوگ قرآن کو حق معرفت کے ساتھ پہچانتے ہیں ،کہ جو مخاطب قرآن ہیں اور قرآن ان کے بیت رسالی اور انہی کے مقدس گھروں میں نازل ہوا ہے ،اوربیشک قرآن کی طرح کلام  اہل بیتؑ مخاطبین ہی پہچانتے ہیں اور جب یہ طے ہوگیا کہ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جو حقائق قرآن کو جانتی ہیں اور وہ چہاردہ معصوم ؑ ہیں۔ پس یہ لوگ اسی طرح اپنی حقیقت کو بھی جانتے ہیں۔ جو شخص قرآن اور ان بزرگ ہستیوں کی معرفت حاصل کرناچاہتاہے وہ ائمہ علیہم السلام کے ذریعہ حاصل کرسکتاہے، یہ باب اللہ ہیں کہ جس کے ذریعہ خدا عطاکرتاہے ، اور یہی آسمان وزمین کے اتصال کا سبب ہیں اور یہی وجہ اللہ ہیں کہ جنکی طرف اولیاء متوجہ ہوتے ہیں۔

یہ تمام باتیں معرفت جمالیہ ثبوتیہ ونوریہ سے مربوط تھیں لیکن انکی معرفت جلالیہ ،سلبیہ ، وظاہریہ وہ کسی پست وشریف ،صالح وغیرصالح ،عالم وجاہل سے مخفی نہیں ہے اور اسی بلندی کردار کی بناپر تمام لوگ ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں، جیساکہ زیارت  جامعہ میں ہے کہ ملک مقرب، نبی مرسل ، صدیق، شہید، عالم و جاہل ،پست وفاضل ،مومن وصالح ،فاجر وبدکردار، جبار وتجاوزکار، شیطان وخبیث اور تمام مخلوقات کہ جو حاضر ہیں ان میں سے کوئی ایسا نہیں مگر یہ کہ آپ حضرات کے جلالت امرکی معرفت رکھتاہے۔

مردہ قلوب اور وہ لوگ جن پر غلیظ نالے لگے ہوئےہیں  جو ہواوہوس اور باطل چیزوں کی پیروی کرنے والے اور لمبی آرذو کرنے والے جب محبت دنیا کہ جو ہر برائی کی جڑ ہے اور حق سے اندھا اور حقیقت سے دور کردیتی ہے اور جب وہ گناہ جو قلوب کے خبیث ہونے کاسبب بنتے ہیں:" بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ  "(مطففین/14)بلکہ ان کے قلوب پر خباثت آجاتی ہے کہ جو انکے جھوٹ بولنے کاسبب ہے ،یہ چیزیں ان حقیقت وحق کی معرفت سے مانع ہوتی ہیں کہ جن کو قرآن نے بیان کیاہے۔

اورجب عجلت وجلد بازی کہ جو شیطان کاکام ہے اور اس پست دنیا کے مظاہر سے ہے ،فہم قرآن سے مانع ہوتی ہے ، بلکہ قرآن کو " وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا "(مزمل/ 4) تدبر وتفکر کے ساتھ پڑھنا چاہیے اسلئے تفکروتدبر ستر(70)سال کی عبادت سے بہتر اور اسی تدبر وغور فکر سے قرآن کے لطائف اشاروں و دقائق کے ابواب کھل جاتے ہیں۔

اورجب یہ قلوب عجولہ ،مردار، تدبر،وتوبہ اور توجہ بہ خدا کی وجہ سے زندہ ہوسکتے ہیں اور قرآن کو زندہ ہوکر سمجھ سکتے ہیں اور قرآن کی کلیوں اور پھولوں کو خصوصاً بہار قرآن کے موسم میں باز کرسکتے ہیں:" لِكُلِّ شَيْ ءٍ رَبِيعٌ وَرَبِيعُ الْقُرْآنِ شَهْرُ رَمَضَانَ"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قال علی بن ابی طالبؑ:

"لاغني مثل العقل و لافقر أشد من الجهل" (تحف العقول ص 138)



[1] ۔ حدیث نبوی بحار 92/184- اور خبر شریف میں وارد ہواہے کہ قیامت کے دن مومنین سے خطاب ہوگا" اقرأ وارقا " وہ شخص جو قرآن کی تلاوت کرتاہے ،اورقرائت سے یہاں مراد تلاوت بغیرقرآن پرعمل کرنے والانہیں ہے پس اقرأ، یعنی جن آیات پرآپ نے عمل کیاہے اسکو پڑھیں اور تلاوت کریں۔

سوال بھیجیں