Deprecated: __autoload() is deprecated, use spl_autoload_register() instead in /home/net25304/al-alawy.net/req_files/model/htmlpurifier-4.4.0/HTMLPurifier.autoload.php on line 17
11 شعبان (1436ھ)ولادت باسعادت حضرت علی اکبر علیہ السلام کےموقع پر
سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2024/6/30 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 18ذی الحجہ(1445ھ)عید غدیر خم تاج پوشی امام علی ؑ کے موقع پر
  • 7ذی الحجہ(1445ھ)شہادت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1445ھ)شہادت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1445ھ)ولادت حضرت معصومہ(س)کےموقع پر
  • 25شوال(1445ھ)شہادت امام جعفر صادق (ع) کے موقع پر
  • 15 شعبان(1445ھ)منجی عالم حضرت بقیہ اللہ (عج) کی ولادت کے موقع پر
  • اعیاد شعبانیہ (1445ھ)تین انوار ھدایت کی ولادت باسعادت کے موقع پر
  • 25رجب (1445ھ)حضرت امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • 13رجب (1445ھ)حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر
  • 20جمادی الثانی(1445ھ)حضرت فاطمہ زہرا کی ولادت کے موقع پر
  • 13جمادی الثانی(1445ھ) حضرت ام البنین کی وفات کے موقع پر
  • 17ربیع الاول(1445ھ)میلاد باسعادت صادقین( ع) کے موقع پر
  • رحلت رسولخدا، شہادت امام حسن مجتبیٰ ؑاور امام رضا ؑکے موقع پر
  • 20صفر (1445ہجری) چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر
  • 10محرم (1445ھ)امام حسین( ع)اور آپکے با وفا اصحاب کی شہادت
  • مرحوم آیت اللہ سید عادل علوی (قدس سرہ) کی دوسری برسی کے موقع پر
  • 18ذی الحجہ(1444ھ) عید غدیرخم روز اکمال دین اوراتمام نعمت
  • 15ذی الحجہ(1444ھ)ولادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1444ھ)شہادت امام باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 15شعبان المعظم(1444ھ)ولادت امام مہدی (عج) کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    11 شعبان (1436ھ)ولادت باسعادت حضرت علی اکبر علیہ السلام کےموقع پر

    11 شعبان (1436ھ)ولادت حضرت علی اکبر علیہ السلام کےموقع پر

    حضرت علی اکبر علیہ السلام بن امام حسین علیہ السلام 11 شعبان سن43 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔

    آپ امام حسین ؑبن علی بن ابی طالب ؑکے بڑے فرزند تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لیلی بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہے ۔لیلی کی والدہ میمونہ بنت ابی سفیان جوکہ طائفہ بنی امیہ سے تھیں ۔

    اس طرح علی اکبر علیہ السلام عرب کے تین مہم طائفوں کے رشتے سے جڑے ہوئے تھے ۔

    1۔والد کی طرف سے طائفہ بنی ہاشم سے کہ جس میں پیغمبر اسلام ؐ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ، امیر المومنین علی بن ابیطالب علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کے ساتھ سلسلہ نسب ملتا ہے ۔

    2۔والدہ کی طرف سے دو طائفوں سے بنی امیہ

    3۔ بنی ثقیف یعنی عروہ بن مسعود ثقفی ، ابی سفیان ، معاویہ بن ابی سفیان اور ام حبیبہ ہمسر رسول خدا ؐ کے ساتھ رشتہ داری ملتی تھی اور اسی وجہ سے مدینہ کے طائفوں میں سب کی نظر میں آپ خاصا محترم جانے جاتے تھے ۔

    ابو الفرج اصفہانی نے مغیرہ سے روایت کی ہے کہ: ایک دن معاویہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ : تم لوگوں کی نظر میں خلافت کیلئےکون لائق اور مناسب ہے ؟ اسکے ساتھیوں نے جواب دیا : ہم تو آپ کے بغیر کسی کو خلافت کے لائق نہیں سمجھتے ! معاویہ نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے ۔بلکہ خلافت کیلئےسب سے لائق اور شائستہ علی ؑبن حسین علیہ السلام ہے کہ اس کا نانا رسول خدا ؐ ہے اور اس میں بنی ہاشم کی دلیری اور شجاعت اور بنی امیہ کی سخاوت اور ثقیف کی فخر و فخامت جمع ہے۔

    حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کافی خوبصورت ، شیرین زبان پر کشش تھے ، خلق و خوی ، اٹھنا بیٹھنا ، چال ڈال سب پیغمبر اکرم ؐ سے ملتا تھا ۔جس نے پیغمبر اسلام ؐ کو دیکھا تھا وہ اگر دور سے حضرت علی اکبر کو دیکھ لیتا گمان کرتا کہ خود پیغمبر اسلام ؐ ہیں ۔ اسی طرح شجاعت اور بہادری کو اپنے دادا علی علیہ السلام سے وراثت میں حاصل کی تھی اور جامع کمالات ، اور خصوصیات کے مالک تھے۔

    ابوالفرج اصفہانی نے نقل کیا ہے کہ حضرت علی اکبر ؐ عثمان بن عفان کے دور خلافت میں پیدا ہوئےہیں ۔اس قول کے مطابق شہادت کے وقت آنحضرت 25 سال کے تھے ۔

    حضرت علی اکبر علیہ السلام نے اپنے دادا امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مکتب اور اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے دامن شفقت میں مدینہ اور کوفہ میں تربیت حاصل کرکے رشد و کمال حاصل کرلیا ۔

    امام حسین علیہ السلام نے ان کی تربیت اور قرآن ، معارف اسلامی کی تعلیم دینے اور سیاسی اجتماعی اطلاعات سے مجہز کرنے میں نہایت کوشش کی جس سے ہر کوئی حتی دشمن بھی ان کی ثنا خوانی کرنے سے خودکو روک نہیں پاتاتھا۔

    بہر حال ، حضرت علی اکبر علیہ السلام نے کربلا میں نہایت مؤثر کردار نبھایا اور تمام حالات میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے اور دشمنوں کے ساتھ شدید جنگ کی۔

    شایان ذکر ہے کہ حضرت علی اکبر علیہ السلام عرب کے تین معروف قبیلوں کے ساتھ قربت رکھنےکے باوجود عاشور کے دن یزید کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ کے دوران اپنی نسب کو بنی امیہ اور ثقیف کی طرف اشارہ نہ کیا ، بلکہ صرف بنی ہاشمی ہونے اور اہل بیت علیہ السلام کے ساتھ نسبت رکھنے پر افتخار کرتے ہوئےیوں رجز خوانی کرتے تھے :

    أنا عَلي بن الحسين بن عَلي نحن و بيت الله اَولي بِالنبيّ

    أضرِبكُم بِالسّيف حتّي يَنثني ضَربَ غُلامٍ هاشميّ عَلَويّ

    وَلا يَزالُ الْيَومَ اَحْمي عَن أبي تَاللهِ لا يَحكُمُ فينا ابنُ الدّعي

    عاشور کے دن بنی ہاشم کا پہلا شہید حضرت علی اکبر علیہ السلام تھے اور زیارت معروفہ شہدا میں بھی آیا ہے : السَّلامُ عليكَ يا اوّل قتيلٍ مِن نَسل خَيْر سليل۔

    حضرت علی اکبر علیہ السلام نے عاشور کے دن دو مرحلوں میں عمر سعد کے دو سو سپاہیوں کو ہلاک کیا اور آخر کار مرّہ بن منقذ عبدی نے سرمبارک پر ضرب لگا کر آنحضرت کو شدید زخمی کیا اور اسکے بعد دشمن کی فوج میں حوصلہ آيا اور حضرت پر ہر طرف سے حملہ شروع کرکے شہید کیا ـ

    امام حسین علیہ السلام ان کی شہادت پر بہت متاثر ہوئے اور انکے سرہانے پہنچ کر بہت روئے اور جب خون سے لت پت سر کو گود میں لیا اور فرمایا: عَلَي الدّنيا بعدك العفا۔

    شہادت کے وقت حضرت علی اکبر علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے ۔بعض نے 18 سال ، بعض نے 19 سال اور بعض نے 25 سال لکھا ہے۔

    مگر یہ کہ امام زین العابدین علیہ السلام سے بڑے تھے یا چھوٹے اس پر بھی مورخین  اور سیرہ نویسوں کا اتفاق نہیں ہے ۔البتہ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت نقل کی گی ہے کہ جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سن کے اعتبار سے علی اکبر علیہ السلام سے چھوٹے تھے ۔امام زین العابدین علیہ السلام نے فریایا ہے : کان لی اخ یقال لہ علی، اکبر منّی قتلہ الناس ۔