سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2024/2/24 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 15 شعبان(1445ھ)منجی عالم حضرت بقیہ اللہ (عج) کی ولادت کے موقع پر
  • اعیاد شعبانیہ (1445ھ)تین انوار ھدایت کی ولادت باسعادت کے موقع پر
  • 25رجب (1445ھ)حضرت امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • 13رجب (1445ھ)حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر
  • 20جمادی الثانی(1445ھ)حضرت فاطمہ زہرا کی ولادت کے موقع پر
  • 13جمادی الثانی(1445ھ) حضرت ام البنین کی وفات کے موقع پر
  • 17ربیع الاول(1445ھ)میلاد باسعادت صادقین( ع) کے موقع پر
  • رحلت رسولخدا، شہادت امام حسن مجتبیٰ ؑاور امام رضا ؑکے موقع پر
  • 20صفر (1445ہجری) چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر
  • 10محرم (1445ھ)امام حسین( ع)اور آپکے با وفا اصحاب کی شہادت
  • مرحوم آیت اللہ سید عادل علوی (قدس سرہ) کی دوسری برسی کے موقع پر
  • 18ذی الحجہ(1444ھ) عید غدیرخم روز اکمال دین اوراتمام نعمت
  • 15ذی الحجہ(1444ھ)ولادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1444ھ)شہادت امام باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 15شعبان المعظم(1444ھ)ولادت امام مہدی (عج) کےموقع پر
  • 10 رجب (1444ھ)ولادت باسعادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب (1444ھ)ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ولادت باسعادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
  • رحلت حضرت محمداور امام حسن ؑ وامام رضا ؑکی شہادت کے موقع پر
  • 25محرم(1444ہجری)شہادت امام سجاد علیہ السلام کے موقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۸ صفر حضرت محمد مصطفی (ص)کی رحلت کا دن ہے۔


    ۲۸ صفر حضرت محمد مصطفی (ص)کی رحلت کا دن ہے۔

    ۲۸ صفر سید المرسلین حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کا دن ہے، کہ خداوندعالم نے آنحضرت اور آپ کی عترت پاک کی ذات مبارک کے طفیل میں پوری کائنات خلق کی ، ایسا پیغمبر کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں متعدد مرتبہ جس کی تعریف کی۔

    روایات میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے آخری وقت کے سلسلہ میں مختلف گزارشات ملتی ہیں، چنانچہ آپ کے آخری لمحات میں منقول ہے:”جب رسول اکرم (ص) کے بخار میں شدت پیدا ہوئی، آنحضرت نے فرمایا: [قلم و] کاغذ لے کر آو تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں کہ جس کے بعد گمراہ نہ ہوگے، عمر نے کھا: رسول خدا پر بخار کا غلبہ ہوگیا ہے، کتاب خدا ہمارے پاس ہے اور وہی ہمارے لئے کافی ہے، [جس کے بعد] وہاں موجود اصحاب میں اختلاف ہوگیا اور کافی گفتگو ہونے لگی، اس موقع پر پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاو، میرے پاس جھگڑا کرنا مناسب نہیں ہے، پس ابن عباس وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکلے : مصیبت، ہائے مصیبت! کہ رسول خدا(ص) کو نوشتہ نہ لکھنے دیا۔ (صحیح بخاری، ج۱، ص ۳۶)

    اسی طرح ابن عباس کہتے ہیں: ”جب پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آنحضرت (ص) نے اتنا گریہ کیا کہ آنسوں سے آپ کی داڑھی کے بال تر ہوگئے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے گریہ کا سبب معلوم کیا گیا تو آپ نے فرمایا: میں اپنی آل لئے گریہ کر رہا ہوں، اس وجہ سے کے میری امت کے شر پسند ان کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں، گویا میں اپنی لخت جگر فاطمہ پر ظلم ہوتے دیکھ رہا ہوں اور وہ فریاد بلند کرر ہی ہے: ہائے بابا! ہائے بابا! لیکن میری امت کا کوئی بھی اس کی مدد نہیں کر رہا ہے۔

    جب [جناب ] فاطمہ (سلام اللہ علیھا)نے اپنے والد گرامی کی باتوں کو سنا تو آپ بھی رونے لگیں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی بیٹی سے فرمایا: اے میری لخت جگر گریہ نہ کرو! بی بی نے جواب دیا: یا رسول اللہ! میں اس وجہ سے نھیں رو رہی ہوں کہ آپ کے بعدہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ بلکہ میں تو آپ کے فراق اور دوری کی وجہ سے گریہ کر رہی ہوں۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: تمہیں بشارہو کہ تم جلد ہی مجھ سے ملحق ہوجا وگی، اور تم سب سے پہلے مجھ سے ملحق ہونے والی ہو۔ (امالی شیخ طوسی، ص ۱۸۸)

    وفات

    حجۃ الوداع کے فوراً بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ بیمار ہوئے پھر ٹھیک ہو گئے مگر کچھ عرصہ بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر بیمار پڑگئے اورکئی روز تک ان کے سر میں درد ہوتا رہا۔ بالاخر روایات کے مطابق 11ہجری میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انتقال کر گئے۔

     بعض روایات کے مطابق جنگِ خیبر کے دوران ایک یہودی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زھر دیا تھا جس کے اثر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوئے۔ غزوہ خیبر کے فوراً بعد بنو نضیر کی ایک یہودی عورت نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھیڑ کا گوشت پیش کیا جس میں ایک سریع الاثر زھر ملا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے یہ محسوس ہونے پر تھوک دیا کہ اس میں زھر ہے مگر ان کے ایک صحابی جو ان کےساتھ کھانے میں شریک تھے، شہید ہو گئے۔ ایک صحابی کی روایت کے مطابق بسترِ وفات پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کی بیماری اس زھر کا اثر ہے جو خیبر میں دیا گیا تھا۔ ۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر 63 برس تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے غسل و کفن دیا اور اصحاب کی مختلف جماعتوں نے یکے بعد دیگرے نمازِ جنازہ ادا کی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مسجد نبوی کے ساتھ ملحق ان کے حجرے میں اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں ان کی وفات ہوئی تھی۔ یہ اور اس کے اردگرد کی تمام جگہ اب مسجدِ نبوی میں شامل ہے۔