سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/15 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    25محرم الحرام (1437ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کے موقع پر



    25محرم الحرام (1437ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کے موقع پر

    علم اور حدیث میں آپ کا رتبہ

    علم اور حدیث کے حوالے سے آپ کا رتبہ اس قدر بلند ہے کہ حتی اہل سنت کی چھ اہم کتب صحاح ستہ سمیت اہل سنت کی مسانید" میں آپ سے احادیث نقل کی گئی ہیں۔

     بخاری نے اپنی کتاب میں تہجد، نماز جمعہ، حج اور بعض دیگر ابواب میں،اورمسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری نے اپنی کتاب کے ابواب الصوم، الحج، الفرائض، الفتن، الادب اور دیگر تاریخی مسائل کے ضمن میں امام سجادعلیہ السلام سے احادیث نقل کی ہیں۔

    الذہبی رقمطراز ہے: امام سجادعلیہ السلام نے پیغمبرﷺ امام علی بن ابی طالب سے مرسل روایات نقل کی ہیں جب آپ نے (چچا) حسن بن علی  علیہ السلام (والد)حسین بن علی علیہ السلام ،عبداللہ بن عباس، عائشہ اور ابو رافع سے بھی حدیث نقل کی ہے اور دوسری طرف سے امام محمد باقرعلیہ السلام،زیدبن علی ،ابن شہاب الزہری ، زیدبن اسلم اورابولزناد نے آپ سے حدیثیں نقل کی ہیں۔

    آپ کی عبادت

    مالک بن انس سے مروی ہے کہ علی بن الحسین دن رات میں ایک ہزار رکعت نماز بجا لاتے تھے حتی کہ دنیا سے رخصت ہوئے چنانچہ آپ کو زین العابدین کہا جاتا ہے۔
    ابن عبد ربّہ لکھتا ہے: علی بن الحسین جب نماز کے لئے تیاری کرتے تو ایک لرزہ آپ کے وجود پر طاری ہوجاتا تھا۔ آپ سے سبب پوچھا گیا تو فرمایا: "وائے ہو تم پر! کیا تم جانتے ہو کہ میں اب کس ذات کے سامنے جاکر کھڑا ہونے والا ہوں! کس کے ساتھ راز و نیاز کرنے جارہا ہوں!؟" 
    مالک بن انس سے مروی ہے: علی بن الحسین نے احرام باندھا اور "لبیّكَ اللهمّ لبَيكَ" پڑھ لیا تو آپ پر غشی طاری ہوئی اور گھوڑے کی زین سے فرش زمین پر آ رہے۔

    غرباء و مساکین کی سرپرستی

    ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسین علیہ السلام راتوں کو اشیاء خورد و نوش اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غرباء اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: "جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے"۔
    محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں، علی ابن الحسین علیہ السلام کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔

    حدیثامام سجادعلیہ السلام نے فرمایا
    "وَأَمّا حَقّ الْمَسْئُولِ فَحَقّهُ إِنْ أَعْطَى قُبِلَ مِنْهُ مَا أَعْطَى بِالشّكْرِ لَهُ وَالْمَعْرِفَةِ لِفَضْلِهِ وَطَلَبِ وَجْهِ الْعُذْرِ فِي مَنْعِهِ"
    ترجمہ:سائل کا حق یہ ہے کہ اس کو ضرورت کے مطابق عطا کرو اور مسئول (وہ جس سے مانگا گیا ہے) کا حق یہ ہے کہ اگر اس نے کچھ دیا تو (سائل) تشکر اور سپاس اور اس کے فضل و مہربانی کی قدر کرکے قبول کرے اور اگر کچھ نہ دیا تو اس کا عذر قبول کرے"۔

    راتوں کو روٹی کے تھیلے اپنی پشت پر رکھ دیتے تھے اور محتاجوں کے گھروں کا رخ کرتے تھے اور کہتے تھےرازداری میں صدقہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے، ان تھیلوں کو لادنے کی وجہ سے آپ کی پیٹھ پر نشان پڑ گئے تھے اور جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کو غسل دیتے ہوئے وہ نشانات آپ کے بدن پر دیکھئے گئے۔بن سعد روایت کرتا ہے: جب کوئی محتاج آپ کے پاس حاضر ہوتا تو آپ فرماتے: "صدقہ سائل تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ جاتا ہے"۔

    ایک سال آپ علیہ السلام نے حج کا ارادہ کیا تو آپ کی بہن سکینہ بنت الحسین علیہ السلام نے ایک ہزار درہم کا سفر خرچ تیار کیا اور جب آپ حرہ کے مقام پر پہنچے تو وہ سفر خرچ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور امامعلیہ السلام نے وہ محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا۔

    آپ کا ایک چچا زاد بھائی ضرورتمند تھا اور آپ راتوں کو شناخت کرائے بغیر آپ کو چند دینار پہنچا دیتے تھے اور وہ شخص کہتا تھا: "علی ابن الحسین" قرابت کا حق ادا نہیں کرتے خدا انہیں اپنے اس عمل کا بدلہ دے۔ امام علیہ السلام اس کی باتیں سن کر صبر و بردباری سے کام لیتے تھے اور اس کی ضرورت پوری کرتے وقت اپنی شناخت نہیں کراتے تھے۔ جب امامعلیہ السلام کا انتقال ہوا تو وہ احسان اس مرد سے منقطع ہوا اور وہ سمجھ گیا کہ وہ نیک انسان امام علی بن الحسین علیہ السلام ہی تھے؛ چنانچہ آپ کے مزار پر حاضر ہوا اور زار و قطار رویا۔

    ابونعیم رقمطراز ہے: امام سجادعلیہ السلام نے دو بار اپنا پورا مال محتاجوں کے درمیان بانٹ دیا اور فرمایاخداوند متعال مؤمن گنہگار شخص کو دوست رکھتا ہے جو توبہ کرے۔[41] ابو نعیم ہی لکھتے ہیں: بعض لوگ آپ کو بخیل سمجھتے تھے لیکن جب دنیا سے رحلت کرگئے تو سمجھ گئے کہ ایک سو خاندانوں کی کفالت کرتے رہے تھے۔[42] جب کوئی سائل آپ کے پاس آتا تو آپ فرماتے تھےآفرین ہے اس شخص پر جو میرا سفر خرچ آخرت میں منتقل کررہا ہے"۔ 

    غلاموں کے ساتھ آپ کا سلوک

    امام سجادعلیہ السلام کے تمام تر اقدامات دینی پہلوؤں کے ساتھ سیاسی پہلؤوں کے حامل بھی ہوتے تھے اور ان ہی اہم اقدامات میں سے ایک غلاموں کی طرف خاص توجہ سے عبارت تھا۔ غلاموں کا طبقہ وہ طبقہ تھا جو خاص طور پر خلیفہ دوم عمر بن خطاب کے بعد اور بطور خاص بنی امیہ کے دور میں شدید ترین سماجی دباؤ کا سامنا کررہا تھا اور اسلامی معاشرے کا محروم ترین طبقہ سمجھا جاتا تھا۔ 
    امام سجادعلیہ السلام نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کی طرح اپنے [خالص] اسلامی طرز عمل کے ذریعے عراق کے بعض موالی کو اپنی طرف متوجہ اور اپنا گرویدہ بنا لیا اور معاشرے کے اس طبقے کی سماجی حیثیت کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔

    سیدالاہل نے لکھا ہے: امام سجادعلیہ السلام ـ جنہیں غلاموں کی کوئی ضرورت نہ تھی ـ  غلاموں کی خریداری کا اہتمام کرتے اور اس خریداری کا مقصد انہيں آزادی دلانا ہوتا تھا۔ غلاموں کا طبقہ امام علیہ السلام کا یہ رویہ دیکھ کر، اپنے آپ کو امام علیہ السلام کے سامنے پیش کرتے تھے تاکہ آپ انہیں خرید لیں۔ امام علیہ السلام ہر موقع مناسبت پر غلام آزاد کردیتے تھے اور صورت حال یہ تھی کہ مدینہ میں آزاد شدہ غلاموں اور کنیزوں کا ایک لشکر دکھائی دیتا تھا اور وہ سب امام سجادعلیہ السلام کے موالی تھے۔

    آپ کی ولادت  اورشہادت

    قول مشہور یہ ہے کہ امام سجادعلیہ السلام سنہ 38 ہجری میں پیدا ہوئے ہیں اور اس صورت میں آپ نے امام علی علیہ السلام، امام حسن مجتبی علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی حیات اور ادوار امامت کا ادراک کیا ہے اور معاویہ کی طرف سے عراق اور دوسرے علاقوں کے شیعیان آل رسولﷺ کو تنگ کرنے اور ان پر دباؤ بڑھانے کی سازشوں کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں؛ گوکہ بعض تاریخی منابع نے قولِ مشہور کے برعکس آپ کی عمر کم بتائی ہے اور آپ کی ولادت سنہ 48ہجری کے لگ بھگ بتائی ہے۔اگرچہ یہ روایات متعدد منابع میں نقل ہوئی ہیں لیکن ایسے شواہد پائے جاتے ہیں جو ان روایات سے متصادم اور ان قبول کرنے میں رکاوٹ ہیں؛ مثلاً مشہور مؤرخین اور سیرت نگاروں نے آپ کا سال ولادت سنہ 38 ہجری قرار دیا ہے اور اس لحاظ سے واقعہ کربلا میں امام سجادعلیہ السلام کی عمر 23 برس قرار دی گئی ہے۔

    اہل سنت  کی تاریخی روایات کے راوی محمدبن عمرالواقدی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے: "علی بن الحسین (زین العابدین علیہ السلام نے 58 سال کی عمر میں وفات پائی" اور اس کے بعد رقمطراز ہے: "اس لحاظ سے امام سجادعلیہ السلام 23 یا 24 سال کی عمر میں کربلا کے مقام پر اپنے والدامام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے۔

    نیز زہری  بھی کہا ہے کہ علی بن الحسین علیہ السلام 23 سال کی عمر میں کربلا میں اپنے والد کے ہمراہ تھے۔

    امام سجادعلیہ السلام سنہ 94 (یا 95) ہجری میں اس زہر کے ذریعے جام شہادت نوش کرگئے جو ولیدبن عبدالملک کے حکم پر انہيں کھلایا گیا تھا۔آپ علیہ السلام کو جنت البقیع میں اپنے چچا امام حسن مجتبی علیہ السلام کے پہلو میں دفن کردیئے گئے۔