سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/15 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • ہیئت نور الزهراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے سالانہ "تین روزہ مجالس"کاانعقاد
  • 25محرم الحرام(1441ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاتیسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کےموقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کادوسرابیان
  • ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کے موقع پرآیت اللہ سیدعادل علوی کاپہلابیان
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    ۲۸ صفر حضرت محمد مصطفی (ص)کی رحلت کا دن ہے۔


    ۲۸ صفر حضرت محمد مصطفی (ص)کی رحلت کا دن ہے۔

    ۲۸ صفر سید المرسلین حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کا دن ہے، کہ خداوندعالم نے آنحضرت اور آپ کی عترت پاک کی ذات مبارک کے طفیل میں پوری کائنات خلق کی ، ایسا پیغمبر کہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں متعدد مرتبہ جس کی تعریف کی۔

    روایات میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے آخری وقت کے سلسلہ میں مختلف گزارشات ملتی ہیں، چنانچہ آپ کے آخری لمحات میں منقول ہے:”جب رسول اکرم (ص) کے بخار میں شدت پیدا ہوئی، آنحضرت نے فرمایا: [قلم و] کاغذ لے کر آو تاکہ میں تمہارے لئے ایک نوشتہ لکھ دوں کہ جس کے بعد گمراہ نہ ہوگے، عمر نے کھا: رسول خدا پر بخار کا غلبہ ہوگیا ہے، کتاب خدا ہمارے پاس ہے اور وہی ہمارے لئے کافی ہے، [جس کے بعد] وہاں موجود اصحاب میں اختلاف ہوگیا اور کافی گفتگو ہونے لگی، اس موقع پر پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاو، میرے پاس جھگڑا کرنا مناسب نہیں ہے، پس ابن عباس وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکلے : مصیبت، ہائے مصیبت! کہ رسول خدا(ص) کو نوشتہ نہ لکھنے دیا۔ (صحیح بخاری، ج۱، ص ۳۶)

    اسی طرح ابن عباس کہتے ہیں: ”جب پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آنحضرت (ص) نے اتنا گریہ کیا کہ آنسوں سے آپ کی داڑھی کے بال تر ہوگئے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے گریہ کا سبب معلوم کیا گیا تو آپ نے فرمایا: میں اپنی آل لئے گریہ کر رہا ہوں، اس وجہ سے کے میری امت کے شر پسند ان کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں، گویا میں اپنی لخت جگر فاطمہ پر ظلم ہوتے دیکھ رہا ہوں اور وہ فریاد بلند کرر ہی ہے: ہائے بابا! ہائے بابا! لیکن میری امت کا کوئی بھی اس کی مدد نہیں کر رہا ہے۔

    جب [جناب ] فاطمہ (سلام اللہ علیھا)نے اپنے والد گرامی کی باتوں کو سنا تو آپ بھی رونے لگیں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی بیٹی سے فرمایا: اے میری لخت جگر گریہ نہ کرو! بی بی نے جواب دیا: یا رسول اللہ! میں اس وجہ سے نھیں رو رہی ہوں کہ آپ کے بعدہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ بلکہ میں تو آپ کے فراق اور دوری کی وجہ سے گریہ کر رہی ہوں۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: تمہیں بشارہو کہ تم جلد ہی مجھ سے ملحق ہوجا وگی، اور تم سب سے پہلے مجھ سے ملحق ہونے والی ہو۔ (امالی شیخ طوسی، ص ۱۸۸)

    وفات

    حجۃ الوداع کے فوراً بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ بیمار ہوئے پھر ٹھیک ہو گئے مگر کچھ عرصہ بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھر بیمار پڑگئے اورکئی روز تک ان کے سر میں درد ہوتا رہا۔ بالاخر روایات کے مطابق 11ہجری میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انتقال کر گئے۔

     بعض روایات کے مطابق جنگِ خیبر کے دوران ایک یہودی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زھر دیا تھا جس کے اثر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوئے۔ غزوہ خیبر کے فوراً بعد بنو نضیر کی ایک یہودی عورت نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھیڑ کا گوشت پیش کیا جس میں ایک سریع الاثر زھر ملا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے یہ محسوس ہونے پر تھوک دیا کہ اس میں زھر ہے مگر ان کے ایک صحابی جو ان کےساتھ کھانے میں شریک تھے، شہید ہو گئے۔ ایک صحابی کی روایت کے مطابق بسترِ وفات پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کی بیماری اس زھر کا اثر ہے جو خیبر میں دیا گیا تھا۔ ۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر 63 برس تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے غسل و کفن دیا اور اصحاب کی مختلف جماعتوں نے یکے بعد دیگرے نمازِ جنازہ ادا کی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مسجد نبوی کے ساتھ ملحق ان کے حجرے میں اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں ان کی وفات ہوئی تھی۔ یہ اور اس کے اردگرد کی تمام جگہ اب مسجدِ نبوی میں شامل ہے۔