سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2018/12/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عیدغدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 3شعبان (1439ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27 رجب المرجب (1439ھ) عیدسعید مبعث کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    25 شوال (1436ھ)شہادت امام جعفر صادق علیہ السلام کےموقع پر



    آپ کا نسب

    حضرت امام جعفر صاد ق ؑ پیغمبر اسلام (ص) کے چھٹے جانشین اور سلسلہ عصمت کی آٹھویں کڑیں ہیں آپ کے والد ماجد امام محمدباقر ؑتھے اور مادرگرامی جناب ''ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر'' تھیں ۔ آپ منصوص من اللہ معصوم تھے،علامہ ابن خلقان تحریر فرماتے ہیں کہ آپ سادات اہل بیت ؑسے تھے اورآپ کی فضیلت اور آپ کا فضل و کرم محتاج بیان نہیں ہے ۔

    آپ سترہ ربیع الاول ۸۳ ھ مطابق ۷۰۲ء روز دوشنبہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے آپکی ولادت کی تاریخ کو خدا نے بڑی عزت دے رکھی ہے اس احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کو روزہ رکھنا ایک سال کے روزہ کے برابر ہے ۔

    آپ کا اس گرامی جعفر ؑ۔ آپ کی کنیت عبد اللہ ،ابو اسماعیل ، اور آپ کے القاب صادق، صابر ،فاضل ، طاہر وغیرہ ہیں ۔ علما ء کا بیان ہے کی جعفر نامی جنت میں ایک شیریں نہر ہے اسی کی مناسبت سےآپ کا لقب جعفر رکھا گیا ہے ۔

    بادشاہان وقت

    آپ کی ولادت کے وقت عبد الملک بن مروان بادشاہ وقت تھا پھر ولید، سلیمان ،عمربن عبد العزیز بن عبد الملک ،ہشام بن عبدالملک ،ولید بن یزید بن عبد الملک ،یزید الناقص ،ابراہیم بن ولید اور مروان الحمار اسی ترتیب سے خلیفہ مقرر ہوئے مروان الحمار کےبعد سلطنت بنی امیہ کا چراغ گل ہوگیا اور بنی عباس نے حکومت پہ قبضہ کرلیا .بنی عباس کا پہلا بادشاہ ابو العباس ،سفاح اور دوسرا منصور دوانقی ہوا ہے ۔

    آپ ؑ کے شاگرد

    تمام اسلامی فقہا کے استاد امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں بالخصوص امام ابوحنیفہ ، یحیٰ بن سعید انصاری،ابن جریح ،امام مالک ابن انس ،امام سفیان ثوری ،سفیانبن عینیہ ،ایوب سجتیانی وغیرہ اور جابر بن حیانصوفی طرسوسی کا نام بھی آپ کے شاگردوں میں ذکر ہے ۔
    آپ کے بعض شاگردوں کی جلالت اور ان کی تصانیف اور علمی خدمات پر روشنی ڈالنی تو بے انتہا دشوار ہے آپکے شاگردوں کوبعض دوسرے فرقوں کے امام و پیشوا مانے جاتے ہیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگردوں کو امام کے عنوان سے مانتے مگرخود امام جعفر صادق علیہ السلام کو امام قبول نہیں کرتے یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔

    امام صادق (ع)کی چند حدیثیں

    امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

    ۱۔  وہ انسان سعدتمند ہے جو تنہائی میں اپنے کو لوگوں سے بے نیاز اور خدا کیطرف جھکا ہوا پائے۔

    ۲۔  اگر کوئی شخص کسی برادر مومن کا دل خوش کرے تو خدا وندعالم اس کے لئے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو اس کی طرف سے عبادت کرتا ہے ،اور قبر کامونس،قیامت میں ثابت قدمی کا باعث ، منزل شفاعت میں شفیع اور جنت میں پہچانے میں رہبر ہوگا۔

    ۳۔ نیکی کا یہ ہے کہ اس میں جلدی کر و اور اسے کم سمجھواور چھپا کرکرو۔

    ۴۔ توبہ کرنے میں تاخیر کرنا اپنے نفس کو دھوکا دینا ہے ۔

    ۵۔ چار چیزیںایسی ہیں جس کی کمی کو کثرت سمجھنا چاہئے ۔ ۱۔۱ۤگ،۲۔ دشمن ،۳۔فقیری ،۴۔مرض۔

    ۶۔ کسی کے ساتھ بیس دن رہنا عزیز داری کے مانند ہے ۔

    ۷۔ شیطان کے غلبہ سے بچنے کے لے لوگوں پر احسان کرو۔

    ۸۔ لڑکی رحمت ہے اور لڑکا نعمت خدا رحمت پرثواب دیتاہے اور نعمت پر سوال کرے گا ۔

    ۹۔ جو تمھیں عزت کی نگاہ سے دیکھے تو تم بھی اس کی عزت کرو اورجوتمھیں ذلیل سمجھے تم اس سے خودداری کرو۔

    ۱۰۔ جو دوسروں کی دولت کوللچائی ہوئی نگاہ سے دیکھے گا وہ ہمیشہ فقیر رہے گا۔

    آپؑ کی  شہادت

    25 شوال المکرم رئیس مذہب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت 

    آنحضرت بنی امیہ کی حکومت کے اواخر اور بنی عباسی حکومت کے اوائل میں زندگی کر رہے تھے اور بنی امیہ کے خلاف عوامی بغاوت اور بنی عباس کا لوگوں کے ساتھ مذھبی احساسات کے ساتھ استحصال کرکے اور لوگوں سے " الرضا من آل محمد ﷺ" کے عنوان سے بیعت لے کر حکومت پر قابض ہونے کا نزدیک سے مشاہدہ کررہے تھے اور ان حالات میں شیعوں اور محبان ا ہل بیت ؑکی امامت کے سنگین کام کو انجام دیتے رہے ۔

    آخر کار 65 سال کی عمر میں منصور دوانقی کی طرف سے مسموم ہوئے جس سے آنحضرت کی شہادت واقع ہوئی ۔ آپ کی شہادت کی تاریخ کے بارے میں دو قول نقل ہوئے ہیں ۔ بعض نے 15 رجب سن 148 ھ  اور بعض نے 25 شوال سن 148 بیان کیا ہے اور مشہور شیعہ مؤرخوں اور سیرہ نویسوں کے نزدیک دوسرا قول یعنی 25 شوال ہی معتبر ہے ۔آپ کی شہادت کے بعد حضرت امام موسی کاظم ؑنے بھائیوں اور افراد خاندان کے ہمراہ آنحضرت کے غسل و کفن کے بعد بقیع میں دفن کیا ۔

    یہاں پر شیخ مفید ؒ  کا امام  کے بارے میں ان کا قول نقل کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں :

    "وكان الصادق جعفر بن محمد بن علي بن الحسين عليہم السلام من بين اخوتہ خليفہ ابيہ محمد بن علي عليہما السلام و وصيہ، القائم بالامامہ من بعدہ، و برز علي جماعتہم بالفضل، و كان انبہہم ذاكرا، و اعظہم قدرا، و اجّلہم في العامہ و الخاصہ، و نقل الناس عنہ من العلوم ما سارت بہ الركبان، و انتشر ذكرہ في البلدان و لم ينقل عن احد من اھل بيتہ العلماء ما نقل عنہ، و لا لقي احد منہم من اھل الاثار و نقلہ الاخبار و لا نقلوا عنہم كما نقلوا عن ابي عبداللہ، فان اصحاب الحديث قد جمعوا اسماء الرواۃ عنہ من الثقاۃعلي اختلافہم في الاراء و المقالات فكانوا اربعہ آلاف رجل"۔(الارشاد، ص 525)