سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2018/12/11 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عیدغدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 3شعبان (1439ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27 رجب المرجب (1439ھ) عیدسعید مبعث کےموقع پر
  • 25رجب(1439ھ)شہادت حضرت امام کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت

    حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت

    اسباب بندگی کے بنے اس سبب کے بعد   بنت اسد کی عزت وعظمت ادب کے بعد

    خلق خدا جھکے گی یقینا میری طرف    بیت الله مطمئن هوا تیره رجب کے بعد

    زمان وجائے ولادت :

    شیخ مفید ؒ فرماتے ہیں : امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام مکہ میں مسجد الحرام کے اندر جمعہ کے دن تیرہ رجب کو متولد ہوئے ۔آپ ؑ کی ولادت کے وقت عام الفیل (وہ سال جس میں ابرہہ نے ہاتھیوں کے ذریعہ خانہ کعبہ پر حملہ کیا تھا)کے واقعہ کو تیس سال کا عرصہ گذر چکا تھا۔ آپ ؑ کے علاوہ نہ کوئی اورخانہ کعبہ میں متولدہوا ہے نہ ہی کوئی اسکے بعد اس منزلت اور عظمت کو حاصل کر سکے گا۔( الارشاد جلد ١ص٥ ۔)

    پیغمبر اکرم ؐعام الفیل کے سال متولد ہوئے تھے اور وفات کے موقع پر ٦٣ سال کے تھے تو اس لحاظ سے آپ کی ولادت ٥٦٩سے ٥٧٠ عیسوی بتائی گئی ہے اور حضرت علی ؑ کی ولادت کے وقت پیغمبراکرم ؐ کی عمر شریف ٣٠ سال لکھا گیا ہے تو اسی طرح حضرت علی ؑ کی ولادت ٥٩٩ عیسوی یا ٦٠٠ عیسوی بنتی ہے ۔( دانش نامہ اما م علی ؑ ج ٨ ص١٢ )

    حضرت علی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک منفرد خصوصیت آپ کی خانہ کعبہ کے اندر ولادت ہے ۔یہ حضرت علی علیہ السلام کی مخصوص خصوصیت ہے نہ اس سے پہلے کسی کویہ شرف نصیب ہوا ہے اورنہ اس کے بعدہوگا ۔یہ کرامت اور معجزہ الہی ہے جو ذات احدیت نے دنیا کو دکھایا وہ بھی دروازے سے نہیں بلکہ خانہ کعبہ کی دیوارکو شق کرکے آپ کی والدہ کو اندر بلایا اور عمل ولادت، خانہ الہی کے اندر انجام پایا۔یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خدا کی خاص عنایات آپ ؑ کے اوپر تھیں ۔

    ابن صباغ مالکی لکھتے ہیں : حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ کے اندر مکہ میں متولد ہوئے اور کسی کو نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد یہ شرف حاصل ہے ۔ یہ وہ فضلیت ہے جو خدا نے آپ ؑ کے لئے مختص کی ہے اوریہ آپ ؑ کے مقام ومنزلت کی بلند ی کا اظہار کرتی ہے اور آپ کی کرامات میں سے ہے ۔( الفصول المہمۃ ص ٣٠۔)

    عتاب بن اسید سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت علی علیہ السلام مکہ میں بارہ سال نبوت سے پہلے خانہ کعبہ کے اندرجمعہ تیرہ رجب کو متولد ہوئے اور آپ ؑ کی ولادت کے وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھائیس سال کے تھے ۔( مرأۃ العقول ج ٥ ص ٢٧٦۔)

    حضرت علی علیہ السلام کے والد گرامی:

    آپ ؑ کے والد جناب ابوطالب ابن عبد المطلب ہیں اور حضرت عبداللہ( والد گرامی پیغمبراکرم ؐ )کے بھائی ہیں اور اسی طرح حضرت علی ؑ اور پیغمبر اکرم ؐ چچا زاد بھائی ہیں ۔حضرت ابو طالب کے نام پر اختلاف نظرہے کچھ حضرات نے آپ کے نام اور کنیہ کو ایک ہی لکھا ہے یعنی ابوطالب (مروج الذہب ج ٣ ص ٢٦٩الاصابہ جلد٤ ص ١١٥ ) مگرکچھ حضرات نے آپ کا نام عبدمناف ذکر کیا ہے ۔( انساب الاشراف ج ٢ ص ٢٣ السیرۃ الحلبیہ ج ١ ص ١٣٤ مروج الذہب ج ٣ ص ٢٦٩۔ ) اور کچھ نے عمر ان نام بتایا ہے (الاصابہ ج ٤ ص ١١٥ ۔) بعد میں آپ کے بڑے بیٹے طالب کی وجہ سے آپ کو ابو طالب کہنے لگے اور اتنا زیادہ استعمال ہوا کہ آپ کے اصل نام کی جگہ لے لی۔ بلکہ یوں کہیں کہ کنیہ اصل نام کے اوپر چھاگیا۔( دانش نامہ حضرت علی ؑ ج ٨ ص ٦٤۔)حضرت ابوطالب کے چار بیٹے طالب ، عقیل ، جعفر، علی اور آپ کی بیٹیوں کے بارے میں اختلاف ہے کچھ حضرات نے دو بیٹیاں بنام فاختہ (ام ہانی ) اور جمانہ لکھاہے (مروج الذہب ج ٤ ص ٢٩٠ ۔)اور کچھ نے تین بیٹیاں لکھی ہیں ربطہ کا نام اضافہ کیاہے ۔( الطبقات ج ٨ ص ٢٦٧،دانش نامہ حضرت علی ؑ ج ٨ ص ٦٨۔)

    عطا ،بن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو طالب کا انتقال ہواتو پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا : اے چچا آپ نے صلہ رحم کیا خداوند آپ کو جزاء خیر عنا یت فرمائے ۔( تاریخ بغداد ج ١٣ص ١٩٦۔)امام شامی سے منقول ہے کہ :حضرت ابوطالب نے وفات کے موقع پر فرمایا: میں تم لوگوں کو خانہ کعبہ کی تعظیم اور تکریم کی سفارش کرتاہوں البتہ خدا کی رضایت اور خشنودی بھی اسی تعظیم اور تکریم خانہ کعبہ میں ہے ۔اور آخری بات جو آپ نے فرمائی وہ یہ تھی کہ : میں عبدا لمطلب کے دین پر پابندہوں ۔( قصہ کوفہ (بنقل از سبیل الہدی ج ٢ ص٥٦٢،) ص٣٠۔)

    امام شامی کہتے ہیں : عبدالمطلب توحید پر اعتقاد کے ساتھ رخصت ہوا اور ابو طالب دین عبدا لمطلب پر پابند تھے اور انتقال کرگئے (قصہ کوفہ ص٣٠بنقل از سبیل الہدی)

    حضرت علی علیہ السلام کی والدہ:

    آپ کی والدہ گرامی فاطمہ بنت اسد ہیں ۔حضرت ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد دونوں ایک ہی قبیلہ سے ہیں ۔ مورخ حضرات نے آپ دونوں کی شادی کو قبیلہ ہاشمی کی ایک مرد اور عورت کے درمیان پہلی شادی قرار دی ہے اور اسی لحاظ سے یہ شادی خاص اہمیت کی حامل ہے ۔( الطبقات ج ٨ ص ٢٦٧،دانش نامہ حضرت علی ؑ ج ٨ ص ٦٨۔)حضرت فاطمہ بنت اسد بہت ہی خدا ترس خاتون تھیں پیغمبر اکرم ؐ آپ کو ماں کے طورپریاد فرماتے تھے کیونکہ آپ ؐ کو جناب فاطمہ سے ماں کی محبت حاصل ہوئی تھی۔

    عطاء بن ابی رباح نے ابن عباس سے نقل کیاہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام کی والدہ فاطمہ بنت اسد کا انتقال ہوا تو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے اپنی قمیض دی اور حکم دیا کہ اس سے کفن کریں ۔اور آپؐ خود قبر میں جا کر لیٹ گئے ۔ جب حضرت فاطمہ بنت اسد کی تدفین سے فارغ ہوئے تو کچھ افراد نے آپؐ سے سوال کیا :یارسول اللہؐ آپؐ نے کچھ ایسے کام انجام دیئے جو پہلے کبھی بھی انجام نہیں دیئے تھے ؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنی قمیص سے کفن دیاتاکہ بہشتی لباس آپ کو پہنایا جائے اور قبر میں اس لئے لیٹا تاکہ قبرکے فشار سے محفوظ رہ سکے کیونکہ انہوں نے ابوطالب کی رحلت کے بعد میری بہترین خدمت کی تھی۔ (قصہ کوفہ ص ٣١بنقل از فرائد السمطین ج ١ ص ٣٧٨ح٣٠٨۔)

    حضرت علی علیہ السلام کے اسماء القاب و کنیہ:

    حضرت علی علیہ السلام کی والد گرامی حضرت فاطمہ بنت اسد نے آپ ؑ کا نام حیدر رکھاتھا(بحار الانوار ج ٣٥ ص ٤٥٢، الارشادص٩۔)جیسا کہ آپ خود فرماتے ہیں : انا الذی سمتنی امی حیدرا۔ آپ کے کنیہ ابو الحسن ابو تراب اور آپ ؑ کے القاب بہت زیادہ ہیں جن میں سے سب سے مشہور امیر المؤمنین ہے اور اسد اللہ کالقب آپؑ کو پیغمبر اکرم ؐ نے عطا فرمایاتھا (ذخائر العقبیٰ ص٩٢۔)۔

    آپ کا سب سے مشہور و معروف نام علیؑ ہے ۔ اس نام گذاری کے سلسلے میں لکھا گیاہے کہ جب ابوطالب نے دیکھا کہ یہ فرزند ایک منفرد انداز میں دنیا میں آیا ہے تو اس کے نام کے سلسلے میں بھی بہت دقت کی ضرورت ہے ۔ اسی فکرمیں آپ نے بچہ کو گود میں لیا اور اپنی زوجہ فا طمہ بنت اسد کے ساتھ درّہ ابطح کی طرف حرکت کی ۔ دوران حرکت کچھ اشعار بھی پڑھ رہے تھے ۔ اسی دوران ایک شبیہ جو بادل کے مانند تھا ظاہر ہو ا ابوطالب نے اس کو پکڑا اور سینے سے لگاکر لوٹ آئے جب گھر میں دیکھا توا یک لوح تھی جس پر لکھا تھا : اے ابو طالب و فاطمہ ہم نے ایک پاک اور پاکیزہ بیٹا تم کو عنایت کیا ہے جس کا نام علی رکھا گیا اور یہ لوح آسمانی بھی دیوار کعبہ پر عبدالملک مروان کے عہد تک نصب تھی ۔

    (بحارالانوار ج ٣٥ ص ١٩، مناقب آل ابوطالب ص ٢٦٠۔)

    حضرت علی علیہ السلام کی تربیت :

    خدا کی ایک سب سے بڑی موہبت اور نعمت جو آپ کونصیب ہوئی وہ یہ تھی کہ حضرت علی علیہ السلام ابھی دس سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ آپ ؑ کی تربیت اور تذکیہ کا وظیفہ پیغمبر اکرم ؐ نے اٹھایا ۔پیغمبراکرم ؐ نے اپنے خلق خو اور اپنی بزرگواری اور بڑھائی کے ذریعے آپ ؑ کی تربیت شروع کی اور کسی بھی حالت میں پیغمبراکرمؐ آپ کو اپنے سے جدا نہیں کرتے تھے ۔( سیرہ ابن ہشام ج ٢ ص ٢٦٢، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج١ ص١٤۔)

    حضرت علی علیہ السلام خود اسی بارے میں فرماتے ہیں : وضعنی فی حجرۃ وانا ولدٌ یضمّنی الی صدرہ ، وتکْنفنی فی فراشہ ویمسُّنی جسدہ، ویشُمُّنی عرفہ وما وجدلی کذبۃً فی قولٍ ، ولاخطلۃً فی فعل ... أریٰ نورالوصی والرسالۃ وأشمُّ ریح النبوۃ ۔( شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ١٣ ص ١٩٧ خطبہ ٢٣٨۔) ۔

    میں ایک چھوٹا بچہ تھا جب مجھے پیغمبر اکرم ؐ نے اپنی آغوش میں لیا اوراپنے سینے سے لگایااوراپنے بسترپہ اپنے نزدیک مجھے سلایا اور میرے بدن سے اپنے بدن کو ملایا اور مجھے نوازش دی اپنی خوشبو کو مجھے سونگھواتے تھے اور اپنے کھانے کو چبا کر مجھے کھلاتے تھے ۔ نہ کبھی جھوٹ بولا اور نہ ہی مجھ سے جھوٹ سنا ۔ میں ہمیشہ ان کی پیروی کرتا تھا ۔ اور ہر روز اپنے اخلاق میں سے کچھ مجھ کو سکھاتے تھے اور تاکیدفرماتے کہ اس پر عمل کروں ۔میں نے وحی کے نور کو دیکھا اور رسالت و نبوت کی خوشبوسے فیض یاب ہوا۔

    فضل بن عباس سے روایت ہے میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ پیغمبر اکرم ؐ اپنے بیٹوں میں سے کس سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ جواب دیا: حضرت علی علیہ السلام سے ۔ پیغمبر ؐ کے نزدیک سب سے محبوب کون تھے؟ جواب دیا کہ آپؐ کے نزدیک سب سے محبوب علی علیہ السلام تھے ۔ جب حضرت علی ؑ چھوٹے تھے تو کسی بھی صورت پیغمبرؐ سے جدا نہیں ہوتے تھے ۔میں نے پیغمبر اکرم ؐ سے زیادہ مہربان کسی با پ کو نہیں دیکھااور میں نے علی علیہ السلام سے زیادہ مطیع اور تابع بیٹا نہیں دیکھا۔( شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ١٣ ص ٢٠٠۔)

    امیر المؤمنین علی علیہ السلام پیغمبر اکرم ؐ کے خاندان اور اصحاب میں سب سے پہلے وہ فرد ہیں جنہوں نے خدا پر ایمان اور آپکی پیغمبری پر ایمان لائے ۔اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو تمام شیعوں اور اکثر اہلسنت کے مورخین نے قبول کیاہے ۔ خود حضرت علی علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں : پیغمبر اکرمؐ ہر سال کچھ مدت غار حرا میں گذارتے تھے ۔ ان ایام میں میرے علاوہ کوئی اور آپ ؐ کو نہیں دیکھتاتھا ۔ان ایام میں پیغمبرؐ اورحضرت خدیجہ کے علاوہ کوئی اور اسلام کی طرف نہیں آیا تھا اور میں تیسرا فرد تھا ۔ میں رسالت کے نور کو دیکھتا تھا اور نبوت کی بو کو سونگھتاتھا۔ میں فطرت اسلام میں پیدا ہوا ہوں اور ایمان اور ہجر ت میں سب پر مقدم ہوں ۔( الارشاد، ج١ ،ص٣ ،اسد الغابہ ، ج٤ ص٩١، نہج البلاغہ خطبہ ١٤٦۔)

    یہاں پر حضرت علی علیہ السلام کے ان جملات سے مرحوم مولانا کوثر نیازی کی ایک بات یاد آتی ہے کہ مولانا موحوم اپنی کتاب مولا علی علیہ السلام میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ لڑائی کہ پہلے کون مسلمان ہوا تو میں کہتا ہوں کہ حضرت علی علیہ السلام کو اسی جھگڑے میں شامل نہ کریں کیونکہ پہلےمسلمان یا دوسرے مسلمان کی بحث وہاں آتی ہے جہاں پر کوئی شخص پہلے کسی دین یا مذہب میں رہے اور اس سے پلٹ کر دوسرا دین اختیار کرے لیکن حضرت علی علیہ السلام تو پہلے سے ہی مسلمان تھے کسی اور دین کو انہوں نے اختیار ہی نہیں کیا کہ بحث کریں پہلے مسلمان حضرت علی ؑ ہے یا نہیں ۔ کیونکہ خود حضرت علی ؑ نے فرمایامیں فطرت اسلام پر پیدا ہوا ہوں اور ایمان میں سب سے مقدم ہوں ۔( نہج البلاغہ خطبہ ١٤٦۔)

    حضرت علی علیہ السلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں : کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ میں وہ پہلا فرد ہوں جس نے خدا اور پیغمبر ؐ پر ایمان لایا اور میرے بعد تم لوگ دستہ دستہ اسلام کی طرف مایل ہوئے ۔( عیون اخبار الرضا ،ج ١، ص٣٠٣، دانش نامہ حضرت علی ؑ ،ج ٨ ،ص ١٥١۔)

    برہان الدین حلبی شافعی حضرت سلمان فارسی سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبراکرم ؐ نے فرمایا: میری امت میں سب سے پہلے وہ شخص حوض (کوثر ) پر آئے گا جس نے سب سے پہلے ایمان لایا ہو ؛یعنی حضرت علی علیہ السلام اور حضور نے ایک بات اس وقت کہی جب حضرت علی علیہ السلام کی شادی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے ہوچکی تھی پیغمبر ؐ نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا: تمہارا شوہر دنیا وآخرت میں تمام لوگوں کا سردار ہے کیوں کہ وہ اصحاب میں سے پہلا فرد ہے جو مجھ پر ایمان لائے ۔( السیرۃ الحلبیہ ،ج ١، ص٢٦٨۔)

    اعلان ولایت حضرت علی علیہ السلام:

    حضرت علی علیہ السلام جس دن سے پیغمبر اکرم ؐ کی زیر سرپرستی میں گئے اسی دن کے بعد سے لیکر شہادت کی رات تک کسی بھی وقت اور کسی بھی لمحہ دفاع از رسالت اور دین الہی سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ نبوت کے شروع ہوتے ہی پیغمبر اکرم ؐ کو مأموریت ملی کہ سب سے پہلے اپنے قبیلے والوں کو دعوت اسلام دیں ۔ آیہ شریفہ وانذر عشیرتک الاقربین (سورہ شعراء آیت ٢١٤۔)کے ذریعہ پیغمبراکرمؐ کو اس کام کی مأموریت ملی کہ قبیلہ والوں کودین خدا کی طرف بلاؤاور ان کو خدا کی نافرمانی سے ڈراؤ ۔

    پیغمبراکرمؐ نے حضرت علی ؑ کو حکم دیا کہ کھانا تیار کرو اور اولاد عبدالمطلب میں سے چالیس مرد اور خواتین کو دعوت دی کھانے کے بعد پیغمبراکرمؐ تین مرتبہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم میں سے کون ہے جو میری مدد کرے تاکہ وہ میرا بھائی وصی اور میرا جانشین بنے ؟ تینوں دفعہ سب نے اپنے سروں کوجھکادیا سوائے حضرت علی ؑ کے جو اس محفل میں سب سے چھوٹے تھے کھڑے ہوئے اور ہر تینوں دفعہ آپؐ کی تصدیق کی اور اعلان کی اس وقت پیغمبراکرمؐ نے فرمایا ؛ یہ علی ! میرا بھائی ، وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین ہے تم سب پر لازم ہے اس کے احکام کو سنو اور اس پر عمل کرو۔اس بات پر سب کے سب ہنسنے لگے اور حضرت ابوطالب کو مخاطب کرکے کہا : محمدؐ تجھے حکم دے رہا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی اطاعت کرو۔

    پس یوم الانذار وہ پہلا دن ہے جس دن ولایت و جانشینی حضرت علی ؑ کا اعلان ہوا۔( تاریخ طبری ، ج٢ ، ص ٣٢٠، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،ج ١٣ ص ٢١٠، بحار الانوار ج ٥ ٣ص١٧٤۔)

    اس کے بعد تاریخ میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم ؐ بہت جگہ تصدیق اور بہت سی جگہ عملاً حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور جانشینی کا اعلان فرماتے رہے ۔ ہجرت سے لیکر غدیرتک تاریخ کے اوراق پیغمبر اکرم ؐ کی حدیثوں سے بھری ؎ہوئی ہیں جن میں آپ کی ولایت کا اعلان اور آپ ؑ سے محبت کی قدر و منزلت اور آپؑ کے دفاع اور پیروی کا حکم ملتا رہا۔مگر تاریخ اسلام کا سب سے تاریخی واقعہ ١٨ذالحجہ سال دس ہجری پیر کے دن غدیر کے میدان میں رونما ہوا ۔ پیغمبر اکرم ؐ مکہ سے مدینہ کی جانب حرکت میں تھے جب قافلہ غدیر خم پر پہنچا تو پیغمبر اکرم ؐ نے سواری کا رخ غدیر کے مقام کی طرف موڑا اور لوگوں سے فرمایا: یاایھاالنّاس اجیبوا داعی اللہ انا رسول اللّہ ۔ اے لوگوں دعوت الہی کی جانب اجابت کرو میں رسول اللہ ہوں ۔ان الفاظ میں جو بات چھپی تھی وہ یہ کہ وہ وقت آن پہنچا ہے جس کا حکم خدا کی طرف سے آیت یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک کے ذریعے دیا گیاہے ۔اور آج اسی حکم اور فرمان الہی کو لوگوں تک پہنچانے کا دن ہے ۔ تمام کاروانوں کو واپس بلایا اور پیچھے سے آنے والوں کا انتظار کیا اور اس کے بعد مقداد ،سلمان اور ابوذر وعمار کے ذریعے اونٹوں کے پلانوں کے ذریعے ایک بہت اونچا منبر بنایا(بحار الانوار ،ج ٢١،ص٣٨٧،ج٩٨،ص٢٩٨، تفسیر العیاشی ،ج٢ ص ٩٧ ، الاحتجاج ، ج١ ،ص٦٦ ۔) اور ظہر کے نزدیک اذان ظہر کے بعد نماز جماعت ادا فرمائی اور اس کے بعد منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ شروع فرمایا۔ اس اجتماع میں تاریخ نویسوں کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار افرادموجود تھے۔ اوریہ تاریخ اسلام کا سب سے تاریخی خطبہ تھا۔

    پیغمبر اکرم ؐ نے خطبے میں حمد الہی کے بعد تمام اوامر جوخدا کی طرف سے لوگوں کےلئے نازل ہوئے تھے ان کا تذکر دیا ۔ اور اس کے بعد ولایت اور امامت کا تذکرہ کیا اوروہ وقت پہنچ گیا جب پیغمبر اکرم ؐ نے حضرت علی ؑکو بازوں سے پکڑ کر اونچا کیا اور بلندآوازمیں فرمایا: من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ ۔ اور اس کے بعد فرمایا: اللّہم وال من والاہ و عاد من عاداہ یہ وہ موقع تھا کہ خدا کی طرف سے آیہ شریفہ : الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم السلام دیناً(مائدہ آیت ٣۔)کو نازل فرمایا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ولایت علی ؑ کو رسمیت الہی حاصل ہوئی اور ولایت علی ؑ کے ذریعے دین اسلام کو تقویت اور یہی ولایت نعمتوں کی انتہیٰ بنی ۔( احقاق الحق ج ٢١ ص ٥٣الی٥٧ اثبات الہداۃ ج ٢ ص ٢٦٧، اقبال الاعمال ص ٤٥٣، الاصابہ ج٢ ص ٢٥٧ ، اسد الغابہ ج ٣ ص٩٢ الارشاد ص ٨٩ الی ٩٣ بحارالانوار ج ٣٧ ص ٢٠١ الی ٢٠٧، الیقین ص ٣٤٣ باب ١٢٧،۔)

    فضائل علی علیہ السلام :

    فضائل ومناقب امام علی ؑ کسی کتاب یا نوشتہ جات میں نہیں سمائے جاسکتے اگر حضرت علی ؑ کے فضائل بیان کرنے کے لئے دریا سیاہی اور دنیا کے سارے درخت قلم کا کام انجام دیں تو پھر بھی کم پڑے گا اورکاغذ قلم سیاہی اتمام تک پہنچیں گے مگر علی ؑ کے فضائل ختم نہیں ہونگے ۔ ہم فقط تبرک کے طور پر چند فضائل بیان کررہیں ہیں تاکہ ثواب سے محروم نہ ہو۔

    بحارالانوار میں علامہ مجلسی  فرماتے ہیں :

    موثق افراد نے رسول اکرم ؐ سے نقل کیا ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا : یاعلی ؑ تمہارے لئے کچھ خصوصیات ہیں جو میرے لئے نہیں تمہارے لئے فاطمہ جیسی بیوی نصیب ہوئی جو مجھے نہیں ،تمہارے نسل سے دو بیٹے (حسن ؑوحسین ؑ) ہیں جبکہ میرے لئے نہیں ، تم کو خدیجہ جیسی ساس نصیب ہوئی مجھ کو نہیں تمہارے مجھ جیسا سسر نصیب ہوا جو مجھے نہیں ملا ،تمہارے لئے ایک ماںباپ سے جعفر جیسا بھائی نصیب ہوا جو مجھے حاصل نہیں ، اورتم کو خاندان بنی ہاشم سے فاطمہ بنت اسد جیسی ماں نصیب ہوئی جو مجھے نہیں ۔( بحار الانوار ج ،٤٠ص٦٨۔)اسی طرح اورایک وایت میں ہے

    ایک دن حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پیغمبراکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی تنگی اورضعف کی شکایت کی ۔پیغمبراکرمؐنے فرمایا : آیا تمہیں معلوم ہے کہ میرے نزدیک علی ؑ کیا منزلت ہے ؟ اس نے میرے اوامر کی اطاعت کی جبکہ وہ بارہ سال کے تھے ، اسلام کے لئے تلوار چلانے میں پہل کی جبکہ سولہ سال کے تھے ، بڑے بڑے بہادر اور پہلوان دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجبکہ وہ انیس سال کے تھے، بیس سال کی عمر میں اس نے میرے غم اور غصہ کو مٹایا اور میرے لئے مداوا بنے ، بائیس سال کی عمرمیں باب خیبر کو اکھاڑپھینکا( جبکہ یہ دروازہ پچاس آدمیوں سے اٹھنا مشکل تھا)جب یہ سنا تو حضرت فاطمہ کا چہرہ مطہر نورانی ہوا اور پیغمبرؐ کے حضور نہ بیٹھ سکیں اٹھ کر حضرت علی ؑ کے پاس گئیں اور سارا قصہ سنایا تو حضرت علی ؑ نے فرمایا: اگر رسول ؐ وہ تمام فضائل جو خدانے مجھے عنایت فرمائے ہیں بتاتے تو تم کیا کرتیں۔(بحار الانوار ج ٤٠ص٦۔)

    حضرت علی ؑ میں وہ تمام فضائل ایمان، تقوا، علم ، زہد، شجاعت ،سخاوت ...اور دیگر تمام فضائل نہایت اعلی درجہ کے موجودہیں ، یعنی میں اور آپ ان کے لئے جتنادرجہ دے سکتے ہیں دیں تو ان کا عالی ترین درجہ حضرت علی کے وجود شریف میں موجود ہے، اور یہ ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں دوستداران اور ماننے والے اور عاشق تو پہلے ہی سے قائل تھے مگر آپ ؑ کے دشمن اور آپ ؑ سے کدورت رکھنے والے بھی ان فضائل کا اقرار کرتے ہیں ۔