سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/8/22 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 18ذی الحجہ(1440ھ)امیرالمومنین علی علیہ السلام کی تاج پوشی کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1440ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7 ذی الحجہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 30 ذی قعدہ (1440ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 11 ذی قعدہ(1440ھ)ولادت باسعادت حضرت امام رضا علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذی قعدہ(1440ھ)ولادت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کےموقع پر
  • 25شوال المکرم(1440ھ)امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 21رمضان المبارک (1440ھ)شہادت امیرالمومنین علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 15رمضان المبارک(1440ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • ماہ مبارک رمضان(1440 ہجری) میں استاد سید عادل علوی کے دروس
  • علم اور عالم کی یا د میں سالانہ"تین روزہ مجالس اباعبداللہ الحسین(ع)" کاانعقاد
  • 15شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)کےموقع پر
  • 11شعبان المعظم(1440ھ) ولادت حضرت علی اکبر عليه السلام کےموقع پر
  • 5شعبان المعظم(1440ھ)ولادت امام زين العابدين عليه السلام کےموقع پر
  • 4شعبان(1440ھ)ولادت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کےموقع پر
  • 3شعبان المعظم(1440ھ)ولادت باسعادت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27رجب المرجب(1440ھ)بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےموقع پر
  • 25رجب المرجب(1440ھ)شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کےموقع پر
  • 13رجب المرجب (1440ھ) ولادت حضرت علی علیہ السلام کےموقع پر
  • 10 رجب المرجب (1440ھ) ولادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    8ربیع الثانی امام حسن العسکری علیہ السلام کی ولادت کادن (1436)


    8ربیع الثانی امام حسن العسکری علیہ السلام کی ولادت کادن (1436)

    حضرت امام حسن عسکری (ع) آٹھ ربیع الثانی 232 ہجری بروز جمعہ مدینہ میں پیدا ہوئے آپ  آسمان امامت و ولایت  اور خاندان وحی و نبوت کے  گیارہويں چشم و چراغ ہیں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا مقابلہ بھی اپنے اجداد طاہرین کی طرح اس وقت کے ظالم و جابر و غاصب وعیار و مکار عباسی خلفا سے تھا ۔ آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آندھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے ۔ 

    یوں تو ائمہ معصومین (ع) کی زندگیاں ہمیشہ حکام وقت کی طرف سے مصائب و آلام اور مظالم کے نشانہ پر رہی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا حاکم رہا ہو جس نے اپنی حکومت کا ایک اہم مقصد آل محمد (ص) پر ظلم و ستم کو نہپ قرار دیا ہو، لیکن امام حسن عسکری (ع) کی زندگی ایک رجیب و غریب مصیبت کا نشانہ رہی ہے، جس کی مثال دیگر معصومین کی زندگیوں میں بھی نہیں ملتی ہے اور اس کا اہم ترین راز یہ ہے کہ عالم اسلام نے دور پیغمبر اسلام سے ہی یہ بات سن رکھی تھی کہ میرا بارہواں وارث وہ حجت خدا ہوگا جو ظلم و طور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے معمور کر دے گا اور دنیا کے ہر نظام ظلم کا تختہ اُلٹ دے گا، اس بناء پر حکام وقت ہر دور میں اس نکتے کی طرف متوجہ رہے کہ وہ مہدی دوراں منظر عام پر نہ آنے پائے، امام حسن عسکری (ع) کے دور تک یہ اطمینان تھا کہ مہدی اولاد حسین (ع) کا نواں ہوگا، اور ابھی اولاد حسین (ع) کے آٹھ رہنما پورے نہیں ہوئے ہیں، لیکن امام حسن عسکری (ع) کا دور آنے تک ہر صاحب علم و خبر کو یہ اندازہ ہوگیا کہ اب وجود مہدی برحق کا دور قریب آگیا ہے اور وہ انہی کی اولاد میں ہوگا، چنانچہ امام عسکری کی خصوصی نگرانی شروع ہوگئی اور آپ کے گھر کے ساتھ وہی سلوک طے کیا گیا، جو فرعون نے بنی اسرائیل کے ساتھ روا رکھا تھا، صرف اس خوف سے کہ وہ فرزند دنیا میں نہ آنے پائے جو فرعون کے تخت و تاج کو تباہ و برباد کر دے گا۔

    ہدایت کی شعاعیں
    اس عنوان کے ذیل میں ہم اپنے مولا حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے چند کلماتِ مختصر فرامین اہل ایمان کے دلوں کی نورانیت کے لیے پیش کررہے ہیں۔
    ـ مَن رضی بدون الشّرف من المجلس لم یزل اللہ وملائکتہ یصلّون علیہ حتٰی یقوم۔
    یعنی جو شخص اپنی شایان شان جگہ سے کمتر پر بیٹھنے پر راضی ہوجائے تو خُداوندمتعال اور اُس کے فرشتے اُس پر اُس وقت تک سلام بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ کھڑا نہ ہو جائے۔
    ـ منِ التواضع السلام عليٰ کل من تمر بہ،والجلوس دون شرف المجلس۔
    یعنی تواضع یہ ہے کہ جس کے پاس سے گزرو اُسے سلام کرو اور محفل و مجلس کی مرکزی جگہ کی بجائے عام جگہ پر بینا ا پسند کرو۔

    من وعظ اخاہ سِرّاً فقد زانہ ومن وعظ علانیۃً فقد شانہ۔
    یعنی جو شخص اپنے دینی بھائی کو علیحدگی میں وعظ و نصیحت کرے (گویا اُس نے اپنے بھائی کی زینت و تزئین کی اور جو لوگوں کے سامنے نصیحت کرے اُس نے اپنے بھائی کو عیب دار کیا۔
    ـ من مدح غیر المستحق فقد قام مقام المتھم۔
    یعنی جو شخص ایسے آدمی کی تعریف کرے جو تعریف کا حقدار نہ ہو یعنی جو بے جا تعریف کرے تو وہ اپنے آپ کو متہم کی جگہ پر لاکھڑُا کرتا ہے۔

     قال امام العسکری علیہ السلام:

    " اتَّقُوا اللَّہ وَ كُونُوا زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا شَيْناً جَرُّوا إِلَيْنَا كُلَّ مَوَدَّة وَ ادْفَعُوا عَنَّا كُلَّ قَبِيحٍ"[1]

    امام حسن عسکري (عليہ‏السلام) نے فرمایا:‏ تقوائے الہی اختیار کرو اورہمارے لئے زینت بنو اورہمارے لئے باعث ننگ وعار نہ بنو اورہر قسم کی مودت و محبت ہماری طرف کھینچ لاؤ اورہر قسم کی برائی اور قباحتیں ہم سے دور کرو۔

    امام علیہ السلام کے اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ " ہمارے لئے زینت کا سبب بنو اور برائیوں سے دور رہو ۔ معاشرے میں ایسا رویہ اختیارکرو لوگ آپ کو دیکھ کرہماری محبت و مودت دل میں بسائیں۔ اور برے اعمال سے پرہیز کرو تا کہ ہم پر برائی کا الزام نہ لگایا جاسکےیعنی تمہاری برائیاں دیکھ کر لوگ ہم سے بدظن ہوجاتے ہیں۔

    ہمیں چاہیے جہاں تک ممکن ہو سکے بہترین راستہ کا انتخاب کریں ، خدا بھی ہماری مدد کرےگا ، معاشرتی اور مقبول ادب کا لحاظ رکھے اور مخالفین کیساتھ  دلیل اور برہان کے ذریعہ بات کرے ، لوگوں کو  برا بھلا کہنے سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں اسی طرح گالیاں دینے اور لعن طعن کرنے سے بھی کوئی مسئلہ نہیں حل ہوتا اگر گالی دیں گے تو گالی سننے کو ملے گی دوسروں کو کافر کہیں گے تو وہ بھی ہمیں کو کافر کہیں گے اور اس کا نتیجہ خوں ریزی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا،  لیکن جو ہماری ذمہ داری ہے کہ وہ تولی اور تبرّا اور مسلمانوں کی جان کی حفاظت کہ جو دونوں ہمارے دین کے بنیادی رکن اور جز ہیں ۔
     ہم اکیلے اس دنیا میں  نہیں رہتےہیں، ہمیں مختلف قومی، علاقائی اور بین الاقوامی مسائل درپیش ہیں کہ جنہیں عاقلانہ طور پر حل کرنا چاہئے ۔

     ہماری عزاداریوں  کے دوران شیعوں کی چھوٹے چھوٹےمعصوم بچوں پر چھری چلانا اورزمین پر چوپایوں کی طرح چلنے  جیسے بعض  اعمال کودیکھ کر تشیع کو ایک غیر منطقی اورنامعقول مکتب قرار دیتے ہیں اور شیعوں کو احمق تصور کرتے ہیں،بلکہ ایک وحشی حیوان سے بھی بدتر تصورکرتے ۔

    سوال یہ پیداہوتاہے : کہ کیا ہمارےیہ اعمال  امام کیلئے زینت  کاباعث بنتےہے  یا ننگ وعار کا سبب بنتے  ہے ؟

    جو لوگ بدظنی کے سبب بنتے ہیں ایسے لوگوں کیلئے  امام  علیہ السلام فرماتے :کہ مت کہو کہ ایسا شخص ہمارے شیعوں میں سے ہے وہ جھوٹا ہے کیونکہ ہمارے شیعہ وہ ہیں جو ہمارے راستے پر گامزن ہوں اور اعمال میں ہمارے پیروکار ہوں۔

    دعوی کرنے کے لئے کسی زحمت و تکلیف کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن دعؤوں سے شیعہ بننا کافی نہیں ہے بلکہ شیعہ بننے کے لئے ایثار و قربانی دینی پڑتی ہے اوراپنے کردار رفتار اوراعمال سے ثابت کرناپڑتاہے۔


    [1] ۔ بحارالانوار:ج 75 ص 372