سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2024/5/8 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • یکم ذیقعدہ(1445ھ)ولادت حضرت معصومہ(س)کےموقع پر
  • 25شوال(1445ھ)شہادت امام جعفر صادق (ع) کے موقع پر
  • 15 شعبان(1445ھ)منجی عالم حضرت بقیہ اللہ (عج) کی ولادت کے موقع پر
  • اعیاد شعبانیہ (1445ھ)تین انوار ھدایت کی ولادت باسعادت کے موقع پر
  • 25رجب (1445ھ)حضرت امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • 13رجب (1445ھ)حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر
  • 20جمادی الثانی(1445ھ)حضرت فاطمہ زہرا کی ولادت کے موقع پر
  • 13جمادی الثانی(1445ھ) حضرت ام البنین کی وفات کے موقع پر
  • 17ربیع الاول(1445ھ)میلاد باسعادت صادقین( ع) کے موقع پر
  • رحلت رسولخدا، شہادت امام حسن مجتبیٰ ؑاور امام رضا ؑکے موقع پر
  • 20صفر (1445ہجری) چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر
  • 10محرم (1445ھ)امام حسین( ع)اور آپکے با وفا اصحاب کی شہادت
  • مرحوم آیت اللہ سید عادل علوی (قدس سرہ) کی دوسری برسی کے موقع پر
  • 18ذی الحجہ(1444ھ) عید غدیرخم روز اکمال دین اوراتمام نعمت
  • 15ذی الحجہ(1444ھ)ولادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1444ھ)شہادت امام باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 15شعبان المعظم(1444ھ)ولادت امام مہدی (عج) کےموقع پر
  • 10 رجب (1444ھ)ولادت باسعادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم رجب (1444ھ)ولادت امام محمدباقرعلیہ السلام کےموقع پر
  • ولادت باسعادت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    20 صفرالمظفر(1437ھ) چہلم امام حسین علیہ السلام کےموقع پر

    20 صفرالمظفر(1437ھ) چہلم امام حسین علیہ السلام کےموقع  پر

    امام حسن عسکری علیہ السلام نے پانچ چیزوں کو مومن کی علامت قرار دیا ہے۔

     ۱۔انگوٹھی پہننا

    ۲۔اکیاون رکعت نماز پڑھنا کہ جو مستحب اور واجب نمازوں کا مجموعہ ہے ۔

    ۳۔نما ز اور سجدہ کی حالت میں پیشانی کا مٹی پر رکھنا۔

    ۴۔نماز میں بسم اللہ الرحمن الرّحیم کا اونچی آواز سے پڑھنا۔

    ۵۔زیارت اربعین۔

    چہلم سے مراد کیا ہے علماءنے اس موضوع پر کافی بحث کی ہے لیکن جس بات کا شیخ طوسی نے استخراج کیا ہے کہ زیارت اربعین سے مراد 20صفر کو امام حسین علیه السلام کی زیارت ہے کہ جو عاشورہ کے بعد چالیسواں دن ہے اس لئے اس بزرگوار نے اس روایت کو تہذیب کے زیارت کے باب میں اور اربعین کے اعمال میں ذکر کیا ہے اور اس دن کی مخصوص زیارت بھی نقل ہوئی ہے کہ مرحوم محدث بزرگ قمی نے مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے ۔ لیکن چالیس دن کے بعد ہی کیوں ؟کہنا چاہیے کہ عدد چالیس روایات میں حتیّ قرآن میں بھی اسکا خاص مقام ہے اور عدد چہل اسکی کچھ خصوصیات ہیں کہ جو دوسرے اعداد کے اندر نہیں ہیں ۔ مثال کے طور پر خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔"اذابلغ اشدّہ وبلغ اربعین سنة " (احقاف ۵۱) یعنی جس وقت وہ کمال کی حالت تک پہنچااور چالیس سال کا ہو گیا۔

    اسی طرح بعض انبیاءچالیس سال کی عمر میں مقام رسالت پر فائزہوے مثال کے طور پر حضرت علی علیہ السلام نے ایک ادمی کو جوا ب میں جب اس نے سوال کیا کہ عزیر کتنی سال کی عمر میں رسالت کے مقام پر فائز ہوئے۔ "بعثہ اللہ و لہ اربعون سنة"(بحارالانوار،ج۱ص۸۸ح۷)

    یعنی اس سوال کے جواب میں کی جناب عزیر کی عمر رسالت کے آغاز میں کتنی تھی اسکے جواب میں فرمایاکہ رسالت کے آغاز میں انکی عمر چالیس تھی۔اور خود نبی اکرم ﷺ بھی چالیس سال کی عمر میں مقام رسالت پر فائز ہوے جیسا کہ معتبر روایات میں آیا ہے۔

    "صدع بالرسالةیوم السابع والعشرین من رجب و لہ یومئذاربعون سنة"(بحار الانوار ج۵۱ص۸۸۲ح۵۲

    یعنی حضرت محمّدبن عبداللہ خاتم انبیاء ص۷۲رجب کو چالیس سال کی عمر میں رسالت پر مبعوث ہوئے ۔اسی طرح دعاوں میں  اور بعض دینی معارف میں عددد چالیس کا ایک خاص مقام ہے مرحوم علاّمہ مجلسی اس دعا کو نقل کرنے کے بعد کہ جس میں خدا کے نام ہیں یوں نقل کرتے ہیں

    عن النّبی ﷺ :"لو دعا بہا رجل اربعین لیلة جمعةغفراللہ لہ"(بحار الانوارج۵۹ص۶۸۳ ح۶۲)

    اگر کوئی شخص چالیس جمعرات کو خداوند متعال کی بارگاہ اس دعا کو پڑہے خدا اسکو بخش دے گا۔

    خدا کو یاد کرنا مخصوص اذکار کے ساتھ اور عدد چالیس کے ساتھ اسکی بہت زیادی سفارش کی گئی ہے ۔جس طرح کہ رات کو جاگنا اور نما ز کا پڑہنا لگا تار چالیس رات تک اور نماز وتر کی قنوت میں استغفار کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ خداوندمتعال انسان کو جملہ سحر میں استغفارکرنے والے

    لوگوں کے ساتھ شمار کرے اور خداوند نے قرآن میں انکو نیکی سے یاد کیا ہے ۔

    آنحضرت نے فرمایا :"لا یجتمع اربعون رجلاًفی امر واحدالّااستجاب اللہ"(بحارالانوارج۳۹ص۴۹۳ح۶) یعنی چالیس مسلمان جمع نہیں ہوتے خدا سے کسی چیز کا چاہنے میں مگر یہ کہ خداوند متعال اسکو قبول کرتا ہے ۔

    ایک دوسری روایت میں وارد ہوا ہے کہ پیامبر اکرم ﷺ  سے منقول ہے کہ :" من اخلص العبادة للہ اربعین صباحاًجرت ینابیع الحکمةمن قلبہ علیٰ لسانہ "(بحارالانوارج۳۵ص۶۲۳ح۰۲) ۔یعنی اگر کوئی شخص چالیس دن اپنی عبادت صرف اور صر ف خدا کیلئے انجام دے اور اسکا عمل خالص ہو تو خداوند حکمت کے چشمہ اسکے دل سے زبان پر جاری کر دیگا۔

    حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ امام نے فرمایا:" من حفظ من شیعتنا اربعین حدیثاً بعثہ اللہ یوم القیامة عالماًفقیہاًو لم یعذّب"(بحارالانوارج۲ص۳۵۱ح۱)  ہمارے شیعیوں میں سے اگر کوئی چالیس حدیثوں کو حفظ کرے خداوند متعال اسکو قیامت کے دن عالم دانشمند اور فقیہ محشور کرے گا۔البتہ اس بات کیطرف توجہ رکھنا ضروری ہے کہ احادیث کو حفظ کرنے سے مرادصرف عبارات ہی کو حفظ کرنا نہیں ہے بلکہ جو چیز طلب کی گئی ہے کہ حدیث کو اسکے پورے ابعاد کیساتھ حفط کرناہے اور حقیقت میں وہ حدیث کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور اسکا رائج کرنا ہے ۔

    نبی اکرم ﷺ  سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے :"من صلّی اربعین یوماًفی الجماعة یدرک تکبیرة الاولیٰ کتب اللہ براءتان :براءة من النار و براءةمن النفاق"(بحار۔۔۔ج۸۸ص۴ح۵) یعنی وہ شخص جومرتب  چالیس دن ابتداءسے نماز جماعت میں شرکت کرے خداوند اسکو دو چیزوں سے محفوظ رکھے گا ایک آتش جہنم دوسرے نفاق اور دوروئی سے ۔

    آداب دعا میں آیا ہے کہ ا گر آپ چاہتے ہیں کہ اپکی دعا قبول ہو جائے تو پہلے چالیس مومنوں کیلئے دعا کریں اور اسکے بعد خدا سے اپنی حاجت طلب کریں ۔"من قدّم اربعین من المومنین ثمّ دعااستجیب لہ" (بحار۔۔ج۶۸ص۲۱۲)

    روایات میں پڑوسیوں اور انکے حقوق کے بارے میں فرمایا ہے کہ پڑوسی چالیس گھر تک شامل ہوتا ہے یعنی جہاں وہ رہتا ہے اس سے ہر طرف سے چالیس گھر تک ۔

    امام علی علیه السلام نے ایک حدیث میں فرمایا:کہ" الجوار اربعون داراًمن اربعة جوانبھا" (بحار۔۔ج۴۸ص۳ح۳)      یعنی پڑوسی گھر کے ہر طرف سے چالیس گھر تک شامل ہو تا ہے ۔

    اسی طرح پیامبر اکرم ﷺ  سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے :کہ " انّ السماءولارض لتبکی علی المومن اذامات اربعین صباحاًو انّما تبکی علیٰ العالم اذا مات اربعین ھراً"(بحار۔۔ج۲۴ص۸۰۳ح۳۱)

    پیامبر اکرم ﷺ  نے فرمایا جس وقت ایک مومن دنیا سے رحلت کرتا ہے زمین اور آسمان چالیس دن تک اسکے لئے گریہ کرتے ہیں اور اگر کوئی مومن عالم اس دنیا سے رحلت کر جائے تو زمین اور آسمان اسکے فراق میں چالیس ماہ روتے رہتے ہیں ۔

    البتہ ہم جانتے ہیں انسان کامل اور واقعی مومن اور عالم کا مصداق ائمّہ اطھار علیھم السلام ہیں ۔

    جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکاہے واقعی مومن ،اور عالم کا مصداق رسول اکرم (ص) دوسرے انبیاءاور آئمّہ طاہرین ہیں کہ زمین اوراسمان چالیس مہینے انکے فراق میں گریہ کرتے ہیں خاص طور سے امام حسین علیه السلام کی شہادت ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور انکی شہادت اسقدر جانگداز ہے کہ روایات کے مطابق ہمیشہ رونا چاہیے۔

    اس لحاظ سے ایک روایت کہ جس کو محدّث قمی نے منتھی الامال میں ذکر کیا ہے کہ حضرت امام رضا علیه السلام نے ریّان بن شبیب سے کہا ،ای شبیب کے بیٹے اگر کسی چیز پر رونا چاہتے ہو تو میرے جدّکی مصیبت پر گریہ کروکہ جس کو پیاسا شہید کیا گیا ،ایک اور روایت میں وارد ہواہے وہ شخص جو خود روئے اور اور دوسروں کو رلائے یا رونے والوں جیسی حالت بنائے تو جنّت اس پر واجب ہو جائے گی ، یہ بات واضح ہے کہ کہ یہ ساری چیزیں اس وقت ہیں جب رونا معرفت اور اسکے دستورات کی پیروی کے ساتھ ہو ،اور ہمیں چاہیے کہ کربلا کے ہدف اور مقصد کو درک کریں اگر چہ خود رونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان امام علیه السلام کی معرفت حاصل کرے ،اس لئے کہ اگر امام حسین ع قیام نہ کرتے تو اسلام ختم ہو جاتا اور اسکا کوئی اثر باقی نہ رہتا ۔اور یہ ایسی بات صرف جسکا ادّعا ہم نہیں کرتے ہیں بلکہ مورّخوں حتّٰی وہ جو شیعہ نہیں ہیں وہ بھی اس بات کے معترف ہیں۔

    اور جو بھی قیام ظلم اور ستم کے مقابلہ میں ہوا ہے اس نے امام حسین کے قیام سے الہام لیا ہے۔ حتی گاندی جو ہندوستان کی آزادی کی رہبر تھے انھوں نے دنیا کو بتادیا کہ ہماری یہ حرکت اور نہضت اور ہماری یہ جنگ امام حسین علیه السلام کہ جنگ سے تاثیر پذیر ہے ۔