سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2024/6/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 7ذی الحجہ(1445ھ)شہادت امام محمد باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1445ھ)شہادت امام محمد تقی علیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1445ھ)ولادت حضرت معصومہ(س)کےموقع پر
  • 25شوال(1445ھ)شہادت امام جعفر صادق (ع) کے موقع پر
  • 15 شعبان(1445ھ)منجی عالم حضرت بقیہ اللہ (عج) کی ولادت کے موقع پر
  • اعیاد شعبانیہ (1445ھ)تین انوار ھدایت کی ولادت باسعادت کے موقع پر
  • 25رجب (1445ھ)حضرت امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • 13رجب (1445ھ)حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر
  • 20جمادی الثانی(1445ھ)حضرت فاطمہ زہرا کی ولادت کے موقع پر
  • 13جمادی الثانی(1445ھ) حضرت ام البنین کی وفات کے موقع پر
  • 17ربیع الاول(1445ھ)میلاد باسعادت صادقین( ع) کے موقع پر
  • رحلت رسولخدا، شہادت امام حسن مجتبیٰ ؑاور امام رضا ؑکے موقع پر
  • 20صفر (1445ہجری) چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر
  • 10محرم (1445ھ)امام حسین( ع)اور آپکے با وفا اصحاب کی شہادت
  • مرحوم آیت اللہ سید عادل علوی (قدس سرہ) کی دوسری برسی کے موقع پر
  • 18ذی الحجہ(1444ھ) عید غدیرخم روز اکمال دین اوراتمام نعمت
  • 15ذی الحجہ(1444ھ)ولادت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1444ھ)شہادت امام باقر علیہ السلام کےموقع پر
  • 15شعبان المعظم(1444ھ)ولادت امام مہدی (عج) کےموقع پر
  • 10 رجب (1444ھ)ولادت باسعادت امام محمدتقی علیہ السلام کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    بمناسبت ایام فاطمیہ سلام اللہ علیھا

    فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے/ فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے

    پیغمبراسلام نے فرمایا: فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور فاطمہ (س) کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور مجھے اذیت پہنچانے والا جہنمی ہے۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے۔

    فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ محمد صلی‏اللہ‏علیہ‏و‏آلہ‏وسلم کی بیٹی، علی علیہ‏السلام کی زوجہ اور حسنین کریمین علیہماالسلام کی والدہ ماجدہ ہیں اور دنیا کی عظیم ترین خاتون ہیں۔

    اقبال فرماتے ہیں :مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز            از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

    یعنی :مریم کی عظمت صرف ایک عیسی (ع) کے واسطےسے ہے جبکہ حضرت زہراء (س) تین واسطوں سے صاحب عزت و عظمت ہیں۔

    13جمادی الاول سنہ 11 ھ ق کو ایک روایت کے مطابق رسول اکرم (ص) کی دختر گرامی اور حضرت علی (ع) کی شریک حیات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت ہوئی ۔آپ کی زندگي بہت مختصر لیکن عظیم اخلاقی اور معنوی درس کی حامل تھی ۔ یہ عظیم خاتون اسلام کے ابتدائی دور مختلف مراحل میں رسول اکرم (ص) اورحضرت علی (ع) کے ساتھ رہیں۔آپ نے حضرت امام حسن (ع) اور حضرت امام حسین (ع) جیسے صالح فرزندوں کی تربیت کی کہ جو رسول اکرم (ص) کے قول کے مطابق جوانان جنت کے سردار ہیں ۔

    حضرت فاطمہ علیھا السلام نے اپنے بچپن سے لیکر شہادت تک کی مختصر زندگی کس طرح بسر کی ہے؟ اپنی شادی سے قبل کہ جب وہ ایک چھوٹی سے لڑکی تھیں تو انہوں نے نور و رحمت کے پیغمبر، دنیائے نور کو متعارف کرانے والی عظیم شخصیت اور عظیم عالمی انقلاب کے رہبر و مدیر کے ساتھ کہ جن کا انقلاب تاقیامت باقی رہے گا کہ جس دن سے اُنہوں نے اس پرچم توحید کو بلند کیا، حضرت زہرا علیھا السلام نے ایسا برتاو کیا کہ اُن کی کنیت ’’اُمّ اَبِیھَا‘‘ ، ’’اپنے والد کی ماں ‘‘رکھی گئی۔یہ تھی اُن کی خدمت ،کام، محنت و مشقت اور جدوجہد۔ بغیر کسی وجہ کے تو اُن کو ’’اُمّ اَبِیھَا‘‘ نہیں کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ مکے کے شب و روز ہوں یا شعب ابی طالب ٴکے اقتصادی و معاشی محاصر ے کے سخت ترین دن و رات یا وہ وقت کہ جب آپ کی والدہ حضرت خدیجہ، رسول اکرم کو تنہا چھوڑ گئیں اور پیغمبر کے قلب مبارک کو مختصر عرصے میں دو صدمے اٹھانے پڑے ، یعنی حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالبٴ کی پے در پے وفات۔ ایسے کڑے و مشکل وقت میں حضرت زہرا علیھا السلام آگے بڑھیں اور اپنے ننھے ہاتھوں سے رسول اکرم کے چہرہ مبارک پر پڑئے ہوئے غم و اندوہ کے گرد وغبار کو صاف کیا اور اپنے والد کی تسلی کا سبب بنیں۔ حضرت زہرا علیھا السلام کی جدوجہد یہاں سے شروع ہوئی۔ آپ دیکھئے کہ حضرت زہرا علیھا السلام کی شخصیت اور جدوجہد کا یہ بحر بیکراں کتنا عظیم ہے!

    اس کے بعد اسلام کا آفتاب طلوع ہوتا ہے اور اس کے بعد آپ حضرت علی مرتضی ٴسے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوجاتی ہیں۔ حضرت علی ابن ابی طالب ٴ ایک فداکار اورانقلابی رضاکار کا مصداق کامل ہیں۔یعنی اُن کا پور ا وجود اسلام کی تبلیغ اور اُسے مضبوط بنانے اور خدا اور رسول کی خوشنودی و رضا کے حصول کیلئے وقف تھا۔حضرت امیر المومنین ٴ نے اپنی ذات کیلئے کوئی سرمایہ نہیں چھوڑا۔ حضرت ختمی مرتبت کی حیات مبارکہ کے آخری دس سالوںمیں امیر المومنین نے جو کام بھی انجام دیا وہ صرف اسلام کی پیشرفت کیلئے تھا۔

    حضرت امیرالمومنین ٴ کی تمام جدوجہد کا ہدف، خوشنودی خدا کا حصول اور اسلام کی پیشرفت تھی، انہوں نے اپنے لیے کوئی ایک کام بھی انجام نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک رضاکار کا مصداق کامل ہیں۔

    حضرت زہرا علیھا السلام نے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد حضرت علی کے ساتھ اس طرح زندگی بسر کی کہ امیر المومنین ٴاُن سے پوری طرح سے راضی تھے۔ اپنی عمر کے آخری ایام میں حضرت زہرا علیھا السلام نے حضرت علی ٴ سے جو الفاظ اد اکیے وہ اسی چیز کی عکاسی کرتے ہیں ۔ انہوں نے صبر سے کام لیا، بچوں کی صحیح تربیت کی اور ولایت کے دفاع کیلئے تن من دھن ،سب کچھ قربان کردیا۔ اس راہ میں تمام صعوبتوں کو برداشت کیا اور اُس کے بعد خندہ پیشانی سے شہادت کااستقبال کیا او ر اُسے خوشی خوشی گلے لگایا۔