سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
موضوعات کی ترتیب آخری سوالات کوئی بھی سوال زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

آخری سوالات

کوئی بھی سوال

زیادہ دیکھیں جانے والی سوالات

کیا علم الهی اور علم ائمه کے درمیان صرف ایک حرف کا فرق هے ؟

سوال : کیا علم الهی اور علم ائمه کے درمیان صرف ایک حرف کا فرق هے ؟ حسین بن محمد اشعری کی روایت میں آیا هے امام علیه السلام نے فرمایا: الله تعالی کے تهتر 73 اسم اعظم هیں جن میں سے آصف بن برخیا کے پاس ایک حرف تھا جس کی وجه سے پلک جپکنے سے پهلےاس کے اورملک سبا کے درمیانی زمین سمیٹ گئی اور تخت بلقیس کو حضرت سلیمان کے پاس حاضر کر دیا . اور همارے هاں بهتر حروف هیں اور ایک حرف الله کے هاں علم غیب میں مخفی هے .تو ایک حرف کے چھپا کر رکھنے کا کیا معنی هے کیا اس روایت کا یه معنی هے که علم خدا اور علم ائمه کے درمیان صرف ایک حرف کا فرق هے؟ تو کیا یه ایک حرف الله تعالی کے علم ذاتی کا تابع هے اگر ایسا هے تو الله تعالی پر حرف کیسے صدق آتا هے اور اگر وه حرف مخلوق هو تو کیسے اهلبیت علیهم السلام کو اس پر علم نهیں هے جبکه روایتیں اهلبیت علیهم السلام کو تمام مخلوقات پر علم حاصل هونےپر دلالت کرتی هیں ؟

جواب  : میں نے چند سال پهلے (ويسألونك عن الأسماء الحسنى) کے عنوان پرچھپنے والے اپنے رساله میں الله تعالی کے اسماء سے متعلق بعض مطالب کو بیان کیا تھا  که ان میں سے ایک اسم اعظم هےتفصیلی جواب کیلئے اس کا مطالعه کریں لیکن یهاں پر اس ایک حرف کے بارے میں یه کهنا کافی هو گا که  وه حرف حروف تهجی  جیسا  ایک حرف نهیں هےبلکه حروف تهجی آئینے کی مانند هے که جن میں حروف الهی کا انعکاس هوتا هے کلمات الهی حروف سے مرکب نهیں هیں چونکه عیسی بن مریم علیه السلام کلمۃ الله تھے انبیاء اور ائمه علیهم السلام سب کے سب الله کے کلمات هیں تو کلمة الله اور کلمات الهی سے مراد حروف تهجی والی کلمات نهیں هیں۔

الله اور  اس کے رسول کے درمیان میں ایک حرف کا فرق هے لیکن پوری کائنات  اسی ایک حرف میں غرق هےیعنی احد (جو که الله تعالی هےقل هو اللّه أحد) اور  احمد میں( جو که رسول اکرم حضرت محمد  صلى الله عليه وآله وسلم هے )ایک میم کا فرق هے لیکن پورا عالم اسی ایک حرف میں غرق هے چونکه یه اشاره هے ممکنات کے میم کی طرف جو تمام ما سوی الله سےعبارت هے اور ذات واجب الوجود احد اور واحد هے اس کے سوا سب ذاتا ممکن الوجود هے تو الله اور اسکے مخلوقات کے درمیان ایک حرف کا فرق هے جو ذات باری  تعالی نے اپنے لئے انتخاب کیا هے وه الوهیت هے تو وه الله هے اور صمد  هے غنی بالذات هے اس کے سوا سب ممکن فقیر اور اس کی طرف محتاج هیں اس کے سوا سب لاشیء هے صرف اسی کی ذات کل شیء هے باقی سب لاشیء اور عدم محض هے تو کیا عدم کو وجود کے ساتھ مقایسه کیا جاسکتا هے؟

بلکه الله( جل جلاله وعمّ نواله )کےساتھ کسی کو مقایسه هی نهیں کیا جاتا مجھے نهیں معلوم اس بارے میں آپ کی معلومات اور دقت کس حد تک هے لهذا میں اسی مختصر جواب پر اکتفا کرتا هوں هونا تو یه چاهیے تھا که آپ سامنے آکر ایسے سوالات پوچھتے  چونکه جو کچھ جانتا هے بولا نهیں جاتا اور جوکچھ بولا جاتا هے لکھا نهیں جاتا اور جو  کچھ لکھا جاتا هےتمام  مقصود اور مراد کو بیان  نهیں کرتا هے  لهذا علم کو لوگوں کی زبان سے سیکھو مخصوصا  ائمه علیهم السلام سے منقول اس جیسی روایات کے بارے میں وه خود بهتر جاننے والے هیں بلکه میں یه بھی بتا دیتا هوں که هر جاننے والے سے بهتر اور کوئی جاننے والا هوتا هے  ( اسی لئے آنحضرت  کو حکم هوا" وقل ربي زدنى علماً")

جو بھی الله کیلئے تقوا اختیار کرے تو الله اسے ایک معرفت  عطا کرتا هے اور ناشناخته علوم اسے سکھا دیتا هے اور اپنی رحمت رحیمیه کے ذریعه معرفت کے آفاق اس کے سامنے کھول دیتا هے اور وه رحمت احسان کرنے والوں کے قریب هے یه معارف جو که مکتب اهلبیت میں موجود هیں ان پر ایمان رکھنا چاهیے اگر هماری سمجھ میں نه آئے تو اسے اپنے اهل پر چھوڑ دیتے هیں .

تاریخ: [2015/4/21]     دوبارہ دیکھیں: [1063]

سوال بھیجیں