سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2018/12/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
آخری خبریں اتفاقی خبریں زیادہ دیکھی جانے والی خبریں
  • 8ربیع الثانی(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت کےموقع پر
  • 8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۹ صفر المظفر(1440ھ) امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر
  • ۲۸صفرالمظفر(1440ھ)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • ۲۸صفر المظفر(1440ھ)حضرت محمدمصطفی ﷺکی رحلت کے موقع پر
  • 25محرم الحرام(1440ھ)شہادت امام زین العابدین علیہ السلام کےموقع پر
  • محرم الحرام(1440ھ)کے پہلے عشرےمیں"مجالس عزا" کا انعقاد
  • 18ذی الحجہ(1439ھ)عیدغدیرتاج پوشی امیرالمومنین علیہ السلام کےموقع پر
  • 15ذی الحجہ(1439ھ)ولادت حضرت امام علی النقی علیہ السلام کےموقع پر
  • 7ذی الحجہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمدباقر علیه السلام کےموقع پر
  • 29ذیقعدہ(1439ھ)شہادت حضرت امام محمد تقی علیه السلام کےموقع پر
  • 11ذیقعدہ (1439ھ) ولادت حضرت امام رضاعلیہ السلام کےموقع پر
  • یکم ذیقعدہ(1439ھ)ولادت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکےموقع پر
  • 25شوال(1439ھ)شہادت حضرت امام صادق علیہ السلام کےموقع پر
  • ۲۱رمضان(1439ھ) امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر
  • 15رمضان(1439ھ)ولادت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کےموقع پر
  • سالانہ "تین روزہ مجالس"حسینی کاانعقاد
  • 15شعبان(1439ھ)ولادت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی(عج)کےموقع پر
  • 3شعبان (1439ھ)ولادت حضرت امام حسین علیہ السلام کےموقع پر
  • 27 رجب المرجب (1439ھ) عیدسعید مبعث کےموقع پر
  • آخری خبریں

    اتفاقی خبریں

    زیادہ دیکھی جانے والی خبریں

    8ربیع الاول(1440ھ)امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کےموقع پر

    8ربیع الاول(1440ھ) امام حسن عسکری  علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر

    امام حسن عسکری  علیہ السلامنے سنہ 232ق میں 10ربیع الثانی یا اسی مہینے کے آٹھویں یا چوتھے دن کو مدینہ میں آنکھ کھولی اور 28 سال تک زندگی فرمائی۔آپ سنہ 233ق اپنے والد کے ہمراہ بچپن میں سامرا آئے اور باقی زندگی ادھر ہی گزاری۔

    شیعوں سے رابطہ

    امام علیہ السلام نے جو زندگی سامرا میں گزاری، ان سالوں کے علاوہ جو قید میں تھے، باقی عادی زندگی تھی اگرچہ آپ کی ہر حرکت حکومت کے زیر نظر تھی واضح ہے کہ اگر امام عسکری علیہ السلام دوسرے اماموں کی طرح آزاد ہوتے تو اپنی زندگی سامرا کے بجائے مدینہ میں گزارتے، آپ کی سامرا میں زیادہ مدت رہنے کی وجہ اس کے علاوہ کہ سامرا کا خلیفہ آپ کو اپنے زیر نظر رکھنا چاہتا ہو کچھ اور نہیں ہے۔ بالخصوص اس مسئلے کی وجہ اہل تشیع کا ایک منظم اور متشکل گروہ جو کافی عرصہ پہلے وجود میں آیا تھا، جو کہ خلیفہ کی نظر میں بہت اہمیت رکھتا تھا اور پریشانی کا باعث بنا اور جس نے وحشت طاری کی۔

    اس لئے امام سے تقاضا کیا کہ ہمیشہ کے لئے حکومت کے سامنے رہیں جیسا کہ امام کے ایک خادم نے یوں نقل کیا، کہ آپ علیہ السلام کو ہر پیر اور جمعرات کو مجبور کیا جاتا تھا کہ دارالخلافہ (کچھ جگہ پر (دار العامہ) کہا گیا کہ جس کا مطلب وہی (دار الخلافہ) ہے) میں حاضر ہوں، یہ حاضر ہونا، اگرچہ ظاہری طور پر آپ کے احترام کے لئے تھا، لیکن حقیقت میں خلیفہ کی جانب سے آپکو کنٹرول کیا جاتا تھا (یعنی امام کو زیر نظر رکھا جاتا تھا)

    اہل تشیع کے لئے امام کو دیکھنا مشکل تھا، جیسا کہ ایک بار، ایسے موقع پر جب خلیفہ صاحب البصرہ (بصرہ کے والی) کو دیکھنے جاتا تھا اور امام علیہ السلامکو بھی اپنے ھمراہ لے جاتا تھا، امام علیہ السلام کے اصحاب اس تمام سفر میں خود کو امام علیہ السلام کے دیدار کے لئے تیار کرتے تھے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام کی زندگی میں ایسا دور بھی تھا کہ آپ علیہ السلامکو نزدیک سے دیکھنا ممکن نہ تھا۔

    اسماعیل بن محمد کہتا ہے: جہاں سے آپکا گزر ہوتا تھا میں وہاں کچھ رقم مانگنے کے لئے بیٹھا اور جب امام علیہ السلام کا گزر وہاں سے ہوا تو میں نے کچھ مالی مدد آپ سے مانگی۔

    ایک اور راوی نقل کرتا ہے کہ ایک دن جب امام علیہ السلام کو دار الخلافہ جانا تھا ہم عسکر کے مقام پر آپ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے، اس حالت میں آپ کی جانب رقعہ توقیعی (یعنی کچھ لکھا ہوا) ہم تک پہنچا جو کہ اسطرح تھا: کوئی مجھ کو سلام اور حتیٰ میری جانب اشارہ بھی نہ کرے، چونکہ مجھے امان نہیں ہے، اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ کس حد تک امام اور شیعیان کے درمیان روابط کو زیر نظر رکھتا تھا۔ البتہ امام اور آپ کے شیعہ مختلف جگہوں پر آپس میں ملاقات کرتے تھے اور (سرپوشھای) بھی اس رابطہ کے لئے تھے جو چیز آپ اور شیعوں کے درمیان رابطہ رکھنے میں زیادہ استعمال ہوئی وہ خطوط تھے اور بہت سے منابع میں بھی یہی لکھا گیا ہے۔

    حاکم کی طرف سے شدید محدودیت کی وجہ سے امام علیہ السلام نے اپنے شیعوں سے رابطہ رکھنے کے لئے کچھ نمائندوں کا انتخاب کیا ان افراد میں ایک آپ کا خاص خادم جو کہ بچپن سے ہی آپ کے پاس بڑا ہوا، اور آپ کے بہت سے خطوط کو آپ کے شیعوں تک پہنچاتا تھا۔

    اوروہ شخص جس کا کنیہ ابو الادیان جو کہ آپ کا خادم تھا، اور خط پہنچانا اس کے ذمے تھا۔ لیکن جو امامیہ منابع میں باب کے عنوان سے (امام کا رابط اور نمائندہ) پہنچانا جاتا تھا وہ عثمان بن سعید ہے اور یہی عثمان بن سعید امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے بعد اور غیبت صغریٰ کے شروع ہونے میں، پہلے باب کے عنوان سے یا دوسرے لفظوں میں سفیر، وکیل اور امام زمان(عج) کے خاص نائب میں سے تھا۔

    آٹھ ربیع الاول سنہ 260 ہجری کی صبح وعدہ دیدار آن پہنچا، دکھ و مشقت کے سال اختتام پذیر ہوئے۔ قلعہ بندیوں، نظربندیاں اور قید و بند کے ایام ختم ہوئے۔ ناقدریاں، بےحرمتیاں اور جبر و تشدد کا سلسلہ اختتام پذیر ہوئے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام ایک طرف سے قربِ وصالِ معبود سے شادماں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت اور آپ (ص) کی دو امانتوں [قرآن و عترت) کے انجام سے فکرمند، غریب الوطنی میں دشمن کے زہر جفا کی وجہ سے بستر شہادت پر درد کی شدت سے کروٹیں بدل رہے ہیں لیکن معبود سے ہم کلام ہونے کو پھر بھی نہ بھولے اور نماز تہجد لیٹ کر ادا کی وہ بھی شب جمعہ کو؛ جو رحمت رب العالمین کی شب ہے؛ وہی شب جو آپ (ع) کی پرواز کی شب ہے۔

    دیدار سے محرومی

    امام حسن عسکری علیہ السلام چھ سال کے مختصر عرصے تک منصب امامت الہیہ پر فائز رہے اور آپ (ع) کی امامت کا پورا دور محلہ عسکر میں گذرا۔ شیعیان غالبا آپ (ع) کے فیض دیدار سے محروم تھے اور شیعیان و پیروان اہل بیت (ع) کی خبریں اور معلومات چند ہی افراد کے ذریعے امام (ع) کو پہنچتی تھیں اور آپ (ع) کے فرامین اور احکامات بھی ان ہی افراد کے ذریعے شیعیان عالم کو پہنچا کرتے تھے۔ یہ لوگ خفیہ طور پر محلے کی نگرانی کرنے والے فوجی دستوں میں نفوذ کرچکے تھے یا مختلف طریقوں سے محلے میں آمد و رفت کیا کرتے تھے۔

    شہادت

    امام حسن عسکری علیہ السلام قیدوبندکی زندکی گزارنے کے دوران میں ایک دن اپنے خادم ابوالادیان سے ارشادفرماتےہے کہ تم جب اپنے سفرمدائن سے ۱۵/ یوم کے بعد پلٹوگے تو میرے گھرسے شیون وبکاکی آواز آتی ہوگی ۔
    الغرض امام حسن عسکری علیہ السلام کوبتاریخ یکم ربیع الاول ۲۶۰ ہجری معتمدعباسی نے زہردلوادیا اورآپ ۸/ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کو سامرامیں جمعہ کے دن بوقت نمازصبح خلعت حیات ظاہری اتارکر بطرف ملک جاودانی رحلت فرماگئے"اناللہ وانا الیہ راجعون" ۔آپ کو اپنے پدر بزرگوار کے جوار میں (آپ کے هی مکان میں)دفن کیا گیا۔